51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

جلدی کرو سب جنت اچکی ہوگی گھر۔۔۔
شبنم بیگم نے پورا گھر سر پہ اٹھایا ہوا تھا ۔اج جنت کا ہاسپٹل سے اوف ہورہا تھا ۔سب جنت کے گھر جارہے تھے حمزہ نے شام میں ہاتھ کے ہاتھ پارٹی رکھی تھی ۔جسکا سارا ارینجمنٹ عمر اور اقراء نے کیا تھا۔
فلحال جنت کے ہاتھ میں پلسٹر تھا جو اسکے شولڈر تک کو کور کیا ہوا تھا۔حمزہ ایک پل کیلیے بھی جنت سے دور نہیں ہوا تھا ۔مجاہد صاحب کے ڈانٹنے پہ وہ گھر جاتا ریلکس کرنے مگر ایک دو گھنٹہ سے ذیادہ نہیں رکتا۔
حمزہ کا حلیہ بھی کافی رف تھا جو جنت کو کافی برا لگ رہا تھا کئ بار وہ حمزہ کو شیو بنانے کا بول چکی تھی مگر حمزہ ایسا ہوگیا جیسے سنا ہی نہیں۔۔
چلو جنت ۔۔
حمزہ روم میں ہاسپٹل کا سارا بل کلیئر کرکے آیا اور جنت کا سامان سمیٹتے ہوئے کہا۔۔
عزت سے حمزہ اج اپکی کی یہ دہشت گردوں والوں جو لک ہے نہ وہ چینج ہوجانے چاہئے ۔۔
حمزہ جو جنت کی چادر اسے اڑا رہا تھا جنت کی وارننگ پہ گھور کے اسے دیکھا اور کہا۔۔۔
عزت سے تو میں بہت کچھ لینے اور دینے والا ہو ۔۔
“جان حمزہ”۔۔
مطلب؟۔
جنت نے چلنے کیلیے قدم بڑھاتے ہوئے حمزہ کے روبرو اکے پوچھا۔۔
مطلب یہ جان حمزہ پیار دو پیار لو ۔۔۔
حمزہ نے جنت کو آنکھ مارتے ہوئے اسے اپنے باہنوں میں اٹھا کے باہر کا رخ کیا۔
اور جنت نے اسے گھور کے دیکھا اور اسکے بازو پہ ہلکا سا مکا مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اپ بہت خراب ہیں ۔۔
بلکل میں مگر یہ مت سمجھنا کے میں تمہیں نئچے اتارونگا ابھی۔۔
جانتی ہو حمزہ مجاہد کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔۔
سب ہی نے جنت کا پرتپاک استقبال کیا تھا اور کیوں نہ کرتے موت کو جو مات دے کے ائ تھی۔۔
اسکے سارے ہی گھر والے اس کے اگے پیچھے تھے شبنم بیگم خالدہ بیگم حمزہ کی والدہ سب نے ہی حمزہ اور اسکا صدقہ دیا معصوم بچوں کو بھر پور کھانا کھلایا گیا۔۔
ماریہ بسمہ فلک کو گھیرے بیٹھی تھی۔اقراء اور لائبہ کچن میں بزی تھی باقی ساری اولڈ لیڈیز اپنی باتوں میں حمزہ اور نومیر بھی باتوں میں لگے تھے جب عمر نے موقع دیکھ کے اپنی برابر میں بیٹھی جنت کے کان میں کہا۔۔
او لیڈی ڈائنہ جلدی ٹھیک ہوجانا تمہاری وجہ سے میری ویڈنگ نائٹ اور ولیمہ رکا ہے ۔۔
جنت جسکا دیھان اپنے کچھ فاصلے پہ بیٹھی شبنم بیگم کی باتوں پہ تھا عمر کی باتوں پہ فورا چونک کے عمر کو دیکھا اور اسکو گھور کے کہا۔۔۔
اتنے سیدھے لگتے تو نہیں تم اور شرم کرلو ابھی مریضہ ہو میں ابھی سے اپنی ڈیمناڈیں گنوارہے ہو مجھے ۔افف کیسا بھائ ملا ہے مجھے میرے تو بھاگ ہی پھوٹ گئے۔۔جنت نے کمال معصومیت پلس افسردہ لہجہ میں عمر سے کہا۔۔
عمر نے ایک آئیبرو اٹھا کے جنت کو دیکھا اور کہا۔
فلحال تمہاری اس تھرد کلاس ایکٹنگ پہ میرا کوئ ارادہ نہیں تمہیں ایوارڈ دینے کا اور کیا کہا مریضہ وہ زرا دیکھنا عمر نے حمزہ۔کی طرف اشارہ کرکے کہا۔۔
ا اپنے مجنوں پلس رانجھا پلس فرہاد جیسے شوہر نامدار کو سارے عاشقوں کے ریکارڈ جنہوں نے توڑے ہیں تمہیں کیا لگتا ہے وہ تمہیں اب مزید بخشنے والے ہیں ۔۔
عمر شرم کرلو بھابھی پلس بہن ہو تمہاری کیسی باتیں کررہے ہو۔۔جنت نے بہت مشکل سے اسکے ہاتھ میں چٹکی بھرتے ہوئے کہا۔۔….
بس میں نے کہہ دیا جلدی ٹھیک ہوجاو بس یار۔۔
اچھا نہ ہوجاونگی انشاءاللہ۔۔
رات کی چھوٹی سے پارٹی جو جنت کے گھر انے کی خوشی میں دی گئ تھی کافی اچھی رہی ۔۔۔
جنت چینج کرنے کیلیے کب سے ایک ہاتھ سے اپنے سائیڈ ڈوپٹے پہ لگی پن کھولنی کی کوشش کررہی تھی مگر ناکم رہی۔۔
جبھی حمزہ جو اسی وقت کمرے میں داخل ہوا تھا جنت کو ایسے تکلیف میں دیکھ کے تیزی سے اگے بڑھا اور اسکا دوپٹہ اسکے تن سے اذاد کرتے ہوئے کہا۔۔۔
میں ارہا تھا نہ صبر نہیں تھا۔۔
افف حمزہ یہ اتنا ہیوی سوٹ تھا اس پہ ڈوپٹہ بھی کافی ہیوی تھا صرف ڈوپٹہ ہی کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔۔
اچھا جی حمزہ نے اپنا بلیک کوٹ اتار کے سائیڈ پہ رکھا اور جنت کے انگھ رکھے کی ڈوری کھول کے اسکی شرٹ تبدیل کروائ خود چیج کرکے اکے جنت کو میڈیسن دی ۔۔
اب تو بلش کرنا چھوڑ دو شوہر ہو تمہارا یار تمہاری ہر تکلیف میں میں ہی تمہارا ساتھ دونگا شرٹ چینج کروائ ہے کوئ تمہیں کس نہی کری ۔۔
حمزہ اتنا بول کے چپ ہوا اور جنت کو طریقے سے لٹاکے کے اس سے چپک کے لیٹ گیا اج کتنے ٹائم بعد وہ اسے سکون سے لیٹا تھا مگر جنت اج بے سکون ہونے والی تھی حمزہ کی آنکھوں کا خمار اج اسے بہت کچھ بتا رہا تھا اور وہ بیغام سچ تھا حمزہ پورے استحاق سے اسکے لبوں پہ جھک چکا تھا۔۔
جنت بہت تیزی سے ٹھیک ہو رہی تھی اور فائنلی دو دن بعد عمر اور اقراء کا ولیمہ تھا ۔۔
ڈارک مرجنڈا اور بلیک کلر کی کنٹراس ساڑھی میں جنت کا حسن لاجواب تھا تو ادھر حمزہ بھی ڈارک مرجنڈا کوٹ پینٹ میں غضب ڈھا رہا تھا عمر اور اقراء۔نے بھی اج میچنگ کی تھی لائٹ پیازی کلر کے شرارے میں اقراء پہ کمال کا روپ آیا تھا اور عمر تو مانو اج آسمانوں پہ۔اڑ رہا تھا۔۔
سب ہی خوش تھے اج مجاہد مینشن میں ایک بار پھر خوشیوں کا سماں تھا۔۔
سب ہی ولیمہ میں کافی تھک۔گئے تھے جلد ہی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔
اقراء بھی کافی تھک گئ تھی مسلسل فوٹو سیشن سے اقراء چینج کرنے واش روم جانے لگی جب عمر کمرے میں آیا مگر اقراء کو جینچ کرتے جاتا دیکھ تیزی سے اسے کمر سے تھاما اور اور اسکے ہاتھ میں موجود کپڑے ہوا میں اچھال دیے۔۔
افف عمر کیا ہوا ہے اپ اسطرح سے اقراء گھبرائے لہجے میں عمر سے پوچھنے لگی۔۔
واہ بھی واہ ایک مہینہ میں اپنی بیوی سے دور رہا بیچینی سے اپنی ویڈنگ نائٹ کا انتظار کررہا تھا اور ادھر میری ظالم بیوی کو دیکھو فورا چینج کرنے چلی۔۔
عمر اقراء کو باہنوں میں بھر کے بیڈ پہ لایا اور اسکی جیولری اتار کے اسے ریلکس کیا۔۔
دراز میں سے اسکی رونمائ کا تحفہ دیا جو ایک خوبصورت کنگن تھے۔۔
عمر پتہ ہے میں بہت تھک گئ ہو پلیز سونے دے اقراء عمر کے ارادے کافی اچھی طرح سمجھ رہی تھی جبھی بات بناتے ہوئے کہا۔۔
ہاں تو میری جان ملکے سوئینگے نہ مجھے بھی تو اپنی تھکن اتارنی یہ بول کے عمر نے کمر سے تھام کے اقراء کو خود سے قریب کیا اور جھک کے اسکے لبوں سے اپنی پیاس بجھانے لگا گردن میں پر عمر دیوانہ وار چوم رہا تھا اقراء کا پورا وجود عمر کے قبضے میں تھا۔ اقراء کے صحیح مانو میں اوسان خطا ہوئے جب عمر نے اسکی شرٹ کے بیک ڈوری کھولی اور وہاں اپنے لب رکھے عمر کی قربت سے اقراء کا۔کانپتا وجود اب عمر کے حصار میں تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔