Rate this Novel
Episode 8
حمزہ سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑا بہت غور سے زریاب کو دیکھ رہا تھا۔
ادھر زریاب کا نگاہ اٹھانا محال تھا ہاتھ میں پکڑی دلنشین کی فیورٹ چیز وہ اہستہ اہستہ حمزہ کی نظر سے چھپا کے اپنے ٹراوزر کی پاکٹ میں رکھ چکا تھا ایسا زریاب کو لگا مگر حمزہ دلنشین کی فیورٹ چیز اسکے ہاتھ میں دیکھ چکا تھا۔۔
زریاب نے اپنا حلق تر کیا اور کہا۔
وہ بڈی میں میر۔۔مطل۔۔۔زریاب کا بولنا محال تھا اسے سمجھ میں نہیں ارہا تھا کے وہ کیا جواز پیش کرے رات کے اس پہر دلنشین کے کمرے سے نکلنے کا حمزہ کو۔۔
کچھ کہنا چاہتے ہو؟
حمزہ کے پوچھنے پہ زریاب جو بہت ہمت کرکے کچھ بولنے والا تھا خالی نفی میں گردن ہلا پایا۔۔
چلو جاو سوجاو صبح نکلنا بھی ہے تمہیں۔۔حمزہ کے بولنے پہ زریاب نے ہاں میں گردن ہلائ اور جیسے جانے کیلیے اگے بڑھا حمزہ نے پیچھے سے کہا۔
چڑیلوں کو سنبھالنا اسان نہیں برخوردار۔۔۔
حمزہ کی بات کا مطلب پہلے تو زریاب کی سمجھ میں نہیں ایا جب ایا تو زریاب شاکڈ ہوکے حمزہ کو دیکھنے لگا۔۔
سچ میں ؟؟
زریاب نے یقین دہانی کیلیے دوبارہ حمزہ سے پوچھا تو اس نے مسکرا کے زریاب کو اپنے سینے سے لگا کے الگ کیا اور کہا۔۔
زریاب جانتا ہو نارمل لڑکیوں جیسی نہیں اسکے خواب بہت اونچے ہیں جنکو پورا کرنے کیلیے اسکا ساتھ اسکا ڈیڈیو دے رہا ہے جھیل پاوگے اسے ۔۔
حمزہ نے زریاب کی انکھوں میں جھانک کے پوچھا۔۔۔
تایو پہلی محبت یہ تو سمندر کی طرح گہری ہوتی ہے یہ پھر تپتے صحرا کی طرح۔۔
اب دیکھے تایو ڈوب کے ابھرتا ہو یہ پھر نصیب میں صرف اسکا انتظار کرنا ہے۔۔
بے فکر رہو زریاب دلنشین تمہاری ہے۔۔حمزہ نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا ۔۔
نہیں ڈیڈیو وعدہ کرے اپ اس پہ کبھی زور نہیں ڈالے گے میں خود اپنی قسمت ازماونگا مگر انے کے بعد ابھی چلے سونے صبح جانا بھی ہے۔
اگلے سنڈے تھا دلنشیں جب ناشتہ کی ٹیبل پہ ائ تو سب خاموش تھے دلنشیں سمجھ چکی تھی کے زریاب جاچکا ہے۔۔۔دلنشیں نے بہت ہی خوشگوار موڈ کیساتھ ناشتہ کیا عمر کے برابر میں بیٹھی دلنشین نے زارداری سے جنت کو دیکھتے ہوئے عمر کے کان میں سرگوشی کی۔۔
لگتا ہے ڈیڈو چمکاڈر مجاہد مینشن سے اڑ گیا۔۔
جنت کی سرگوشی پہ عمر کا چائے کا کپ اسکے ہاتھ میں چھلکا۔
عمر نے گھور کے دلنشین کو دیکھا اور چپ رہنے کو کہا۔
جنت جو زریاب کے جانے سے کافی اداس تھی دلنشین کو منہ نیچے کرکے ہنستا دیکھ بھڑک پڑی اور دلنشین کو ڈانٹے ہوئے کہا۔
چپ چاپ ناشتہ کرو دلنشین جب دیکھو ہنسی مزاق میں لگی رہتی ہو۔۔
جنت کے ڈانٹنے پہ دلنشین نے ایک خفگی بھری نگاہ حمزہ پہ ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور ناشتہ کرنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔
افف دیکھنا ڈیڈو اب یہ ہٹلر لیڈی اس چمکاڈر کے جانے کا بدلہ مجھ سے لینگی جیسے میں نے اسے کہا تھا جانے کو۔۔
تو تم بھی تو چپ کرکے ناشتہ۔کرو نہ۔جاںتی ہونہ تایو بھائ سے کتنی محبت کرتی ہیں کبھی انکے بغیر نہیں رہی اج اداس ہیں وہ بہت ذیادہ۔۔
دلنشین کے برابر میں بیٹھے عمیر نے اسکی بات سن کے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
ناشتہ کرکے سب اپنی اپنی مصروفیات میں مصروف ہوگئے جب موقع دیکھ کے عمر نے جنت سے عثمان اور رابعہ کے متعلق بات کی۔۔
دیکھو عمر میں رابعہ سے بات کرتی ہو مجھے یقین ہے اپنے لیے نہ صحیح مگر عثمان کیلیے شاید وہ شادی کیلیے مان جائے ایسا کرتے ہیں اج شام میں اقراء میں رابعہ سے ملنے چلے جاتے ہیں تم ہمیں چھوڑ دینا ۔۔۔
ٹھیک ہے بھابھی۔۔۔
تم اقراء کو ریڈی ہونے کا بولو اور خبردار اگر اپنی چمچی کو ساتھ لیا۔
ارے یار پارٹنر لےچلتے ہیں اسے کیا پتہ وہ عثمان کو منالے۔۔۔
اوہ تو ایسا کرتے ہیں نہ اسے ہی کولے جاو وہ سنبھال لے گی معملہ سارا ۔۔
جنت نے طنزیہ لہجہ میں عمر کی بات پہ چڑ کے کہا۔۔
افف ایک تو تم پتہ نہیں میری پھول جیسی بچی سے کیوں جلتی ہو۔۔عمر نے بھی اج چڑ کے جواب دیا۔۔
افف عمر مزاق اپنی جگہ مگر دلنشین اب بچی نہیں ہے عمر بالغ ہوچکی ہے جسطرح سے اسکا چلنا پھرنا ہے اٹھنا بیٹھنا ہنسی مزاق لڑکوں سے پنگا لینا مجھے ڈر لگتا ہے عمر کہی اسکا یہ ابالی پن اسکے لیے کوئ نقصان کا باعث نہ بن جائے۔۔
اوہ جنت تم خاماخائ میں پریشان ہورہی ہو دلنشین اج کے زمانے کی لڑکی ہے ڈر اور خوف کی انکھوں میں انکھیں ڈال کے چلنے والی لڑکی ہے اسکی فکر نہیں کرو تم مجھے فخر ہے اپنی دلنشین پہ ۔۔
افف میں بھی کس پتھر سے سر پھوڑ رہی ہو جنت چڑ کے وہاں سے چلی گئ۔
رابعہ اج ہم لوگ زرا گھومنے جارہے ہیں رات ہوجائے گی یہ پیسے رکھو کچھ منگاگے کھا لینا۔۔
رابعہ کی بھابھی نے اسے پیسے دیے جنہیں دیکھ کے پل بھر کیلیے رابعہ حیران ہوئ اج اسکی بھابھی کا لہجہ ضرورت سے زیادہ میٹھا تھا پہلے بھی کئ بار اسکا بھائ اور بھابھی گھومنے پھرنے جاتے تھے جب پورا پورا دن وہ ماں بیٹے اکیلے رہتے تھے چائے پاپا کھاکے گزارا کرتے مگر اج اسکی بھابھی کا انداز نرالہ تھا۔۔
بھابھی کے جانے کے بعد رابعہ نے مکمل گھر کی صفائ کی ۔عثمان اج کرکٹ کھیلنے گیا تھا اس لیے رابعہ نے پہلے نہانے کا سوچا اور پھر عثمان کیلیے میکرونی بنانے کا سوچا ۔۔
اج کام ہوجانا چاہیے بھائ اسکے بعد کوئ موقع نہیں ملے گا اج عثمان بھی میچ کھلینے گیا ہوا ہے گھر میں اکیلی ہے وہ جوکرنا ہے جلدی کرو میں 6 بجے تک اجاونگی بچوں کولےکر اسما رابعہ کی بھابھی نے اج پلینگ کے تحت رابعہ کو گھر میں اکیلا چھوڑا تاکے اسکا عیاش بھائ اسکی تنہا کا فائدہ اٹھا سکے جس کی بھاری رقم وہ اپنی بہن کو ادا کرچکا تھا اس سارے معملے کا علم رابعہ کے بھائ کا بھی نہیں تھا۔۔
رابعہ 6 بجے کے قریب نہاکے نکلی جب دروازے پہ دستک ہوئ۔
رابعہ جو گیلے گیلے سراپے میں عثمان کیلیے میکرونی بنارہی تھی ٹائم دیکھتے دیکھتے جاکے گیٹ کھولا مگر دلاور کو دیکھ کے وہ فورا دروازہ بند کرنے لگی مگر دلاور نے فل اسپیڈ میں دروازہ پہ لات ماری دروازہ رابعہ کے منہ پہ لگا اور وہ اوندھے منہ زمین پہ گری۔۔
دلاور نے اسے اسے بالوں سے پکڑا اور کمرے میں لیجانے لگا رابعہ ایڑیاں زمین پہ رگڑنے لگی اور زور زور سے چیخنے لگی دلاور نے اسکے منہ زور دار تھپڑ مارا اور کہا۔
بہت اکڑ ہے نہ تجھ میں مجھ سے شادی کو منع کیا تھا نہ اج دیکھ تیری اکڑ کو کیسے دھول چٹاتا ہو اسکے بعد ساری زندگی تجھے اپنی رکھیل بناونگا اور تیرے بیٹے کو اپنا کتا۔۔
یہ بول کے دلاور نے جیسے اسے کمرے میں دھکیلنا چاہا رابعہ نے اسکے ہاتھ پہ زور سے کاٹا اور کمرے سے نکلی دروازہ کے پاس پہنچ کے دروازہ کھولنے ہی والی تھی کے دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔۔
