Rate this Novel
Epiosde 4
کیا بات ہے بھائ بڑے بڑے لوگوں کا منہ کیوں بناہے؟
احسان کھانے کی پلیٹ لے کے دلنشین کی ٹیبل پہ آیا جو خاموش بیٹھی اپنے موبائل میں گیم کھیل رہی تھی۔
کیوں بڑی جلدی یاد اگئ پوری ہوگئ تمہاری چمچہ گیری اس چمکاڈر سے ،،۔
زریاب زریاب کرتے پھر رہے تھے۔
دلنشین نے اسے اسطرح گھورا کے پل بھر کیلیے احسان کو لگا وہ واقعی چمچہ ہے۔۔
یار ایک بات بتاو تم کبھی سیدھے منہ بات کرسکتی ہو؟
احسان کا تو مانو چمچہ کہنے پہ دل ہی بھر آیا۔۔
احسان کی بات سن کے دلنشین نے موبائل سائیڈ میں رکھا اور احسان کی لائ ہوئ بریانی کی پلیٹ اپنے اگے کرتے ہوئے اس میں سے اپنا پیٹ بھرتے ہوئے کہا۔۔
یہ جو چمکاڈر ہیں نہ جو اسکے ساتھ ساتھ رہتا ہے مجھے زہر لگتا ہے تمہیں اندازہ نہیں احسان کتنا میسنا ہے یہ دلنشین نے بریانی سے بھرا چمچ اپنے منہ ڈالتے ہوئے کہا۔۔
افف دلنشین زریاب بلکل ایسا نہیں ہے بہت انٹلیجیٹ ہے اب دیکھو ہم دنوں کا نام آیا ہے پولیس ٹرینگ میں جب کے میں دو سال سے ٹرائ کررہا تھا مگر اب جاکے میرا نام آیا اور اسکو دیکھو اسی سال اس نے اپلائے کیا اور اگیا نام ۔۔
اوہ پلیز اپنی پھوپھی کے سامنے اسکی تعریفوں کے پل نہ باندھ دینا ورنہ میرا میری پھپھو کا ایونٹ خراب ہوجائے گا ابھی ہال اتے ہوئے اس نے اچھی خاصی میری ڈانٹ پروائ۔۔
کیا ہوا بھئ کس کو ڈانٹ پڑی۔۔
فلک جو ڈارک ریڈ کلر کا انگ رککھا پہنے لمبے بال کو کرل کیے کوئ پری لگ رہی تھی ان کی ٹیبل پہ اپنی کھانے کی پلیٹ رکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔
دلنشین نے فلک کو ٹیبل پہ بیٹھتے ہوئے دیکھا اور احسان کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی۔۔
“لو اگئ اس کی سب سے بڑی حمایتی اب تو اگر زریاب چمکاڈر کی شان میں کوئ گستاخی کی تو فلک اپی ایسا لیکچر دینگی کے بندے کا فلک پہ جانے کا ہی دل چاہے گا۔۔
دلنشین نے ایسا منہ بناکے یہ بات کہی کے نہ چاہتے ہوئے بھی احسان کا قہقہ نکل گیا۔۔
فلک نے ایک نظر احسان کو گھور کے دیکھا اور کہا۔
کس بات پہ ڈانٹ نکل رہے ہیں مجھے تو بتاو۔۔ارے کچھ نہیں فلک اپی یہ تو ایسا ہی ہے پاگل ۔۔
اپ بتائے اج تو رکے گی نہ گھر پہ؟؟
ارے نہیں یار دلنشین کل کالج میں ہم فرسٹ ائیر والے سیکنڈ ائیر والوں کو پارٹی دے رہے ہیں تو جانا لازمی ہے۔۔
اوہ اچھا چلو پرسوں تو مجاہد مینشن میں بھی سکون ہوگا ۔دلنشین نے کولڈ ڈرنک کیساتھ انصاف کرتے ہوئے کہا۔۔
کیون بھئ ایسا کیا ہوگا پرسوں عمر نے اچانک انکو جوائن کرتے ہوئے کہا۔
باقی سب بھی ٹیبل پہ اگئے تھے ساری ینگ جنریشن کی عمر اور اقراء سے خوب بنتی تھی بس فلک اور زریاب یہ شخصیات ایسی تھی جنکی صرف حمزہ مجاہد سے بنتی تھی۔۔
اس سے پہلے کے دلنشین عمر کو بولتی زریاب بھی ٹیبل آگیا ۔۔
دلنشین نے خونخواد نظروں سے زریاب کو دیکھا اور عمر کو رازداری سے کہا۔
کبھی پوچھیےگا ڈیڈو چھوٹی موم سے کے اسکے پیدا ہونے میں کونسی سڑی ہوئ چیز کھائ تھی۔۔.
عمر جو زریاب سے کچھ پوچھنے والا تھا صدمے کی حالت میں پہلے زریاب کو دیکھا اور پھر دلنشین کو وہ جو ان لوگوں کیلیے سوچ رہا تھا وہ کام اسے ہوتا ناممکن دیکھ رہا تھا۔۔
ارے ارے دیکھ کے تاشو گر جاتی ابھی۔۔۔۔
عمیر نے اپنے سے تین سال چھوٹی اور دلنیشن سے ایک سال چھوٹی تاشہ کو کمر سے سنبھالتے ہوئے کہا۔۔
جو ایک ہاتھ سے اپنا شرارہ سنبھالے دوسرے ہاتھ سے کوک سنبھالے چل رہی تھی۔۔
کالی آنکھوں والی تاشہ بچپن سے عمیر کو پسند تھی اسکی معصومیت اسکا بھولا پن عمیر کو کہی اور بھٹکنے نہیں دیتا۔
افف شکر عمیر بھائ سنھال لیا اپنے ورنہ میں گرتی الگ اور ماما سے ڈانٹ الگ پڑتی۔۔
ہم دیھان سے چلا کرو نہ تاشو عمیر نے سینے پہ ہاتھ باندھے اسے اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے کہا۔
15 سال کا وہ لڑکا جو محبت لفظ سے بھی ناآشنہ تھا 12 سال کی تاشہ کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا۔۔
ساتھ خیریت سے بسمہ کی۔انگیجمنٹ نمٹ گئ نہ۔۔
جنت نے اپنی جیولری اتارتے ہوئے حمزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ماشاءاللہ سب کو ہی عمان بہت پسند آیا ۔۔حمزہ نے مسکر اکے جنت کی بات کا جواب دیا۔۔۔
جنت ابھی اپنی چوڑیاں اتار ہی رہی تھی کے پیچھے سے اسے حمزہ نے اکے پیٹ سے تھام کے خود سے لگایا اور شیشے میں خود کا اور جنت کا عکس دیکھتے ہوئے کہا۔۔..ت
شادی کے اتنے سالوں کے بعد بھی ویسی کی ویسی ہو تم ۔۔
“جان حمزہ”
افف حمزہ رومینس میں کچھ کمی لائے 13 سال کی بیٹی ہے اپکی۔۔
لو تم کمی بات کررہی ہو مین تو سوچ رہا ہو 1 اور سمپل اجائے ہمارا ۔۔
حمزہ نے اسکے کندھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
کیا کہا حمزہ اپنے سوچیے گا بھی نہیں جنت نے غصہ میں حمزہ کے ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹائے اور اسے گھورتے ہو کہا۔۔
تم نے خود سے دور کیا اب تیار رہو سزا کیلیے اس سے پہلے جنت حمزہ کی بات کا مطلب سمجھتی حمزہ اسے اپنی بانہوں میں لے کے اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
افف اج تو بہت تھک گئ اب کل زریاب کی بھی پیکنگ کرنی ہے ہائے میرے بچہ کتنی محنت کرے گا پتہ نہیں کیسا کھانا پینا ملے گا۔
اقراء نے بیڈ پہ بیٹھ کے اپنے ہاتھوں پہ۔لوشن ملتے ہوئے کہا ۔۔
۔ارے اسکی پیکنگ کی ٹینشن نہ لو اسکی تائیو ہیں وہ۔کردے گی اور رہاں سوال وہاں کھانے پینے کا تو جانم ٹریننگ پہ جارہا ہے محنت تو لگے گی۔۔
ہمم یہ تو ہے بھابھی مجھے کچھ کرنے کہا دیتی ہے زریاب کا ۔۔
اوہ ہو دیکھو میں بھول گئ کل مجھے خاص کر دلنشین نے کہا تھا کے کل وہ شاپنگ پہ جائے گی میرے ساتھ اور دیکھو میں ابھی تک جاگ رہی ہو ۔۔
چلو بھئ سو جاو اقراء فورا سونے کیلیے عمر کی طرف سے کروٹ لے کر لیٹ گئ وہ عمر کی۔مخمور آنکھیں پڑھ چکی تھی۔
اس لیے جھوٹ موٹ کا شاپنگ کا بہانہ کیا۔۔۔
ہائے میری بیوی تھک گئ کتنی معصوم ہو تم۔پتہ ہے تمہاری اسی معصومیت پہ تو میں فدا ہوا تھا ۔
عمر نے اسے کھینچ کے اپنی باہنوں میں بھرا اور اسکے اوپر جھکتے ہوئے کہا۔
نہ کرے عمر شرم کرلے تھوڑی جوان بیٹے ہیں اپکے مگر مجال ہے اپکو اس کا احساس ہو۔۔
نہیں بھئ مجھے تو احساس نہیں مگر میں اج رات تمہیں یہ احساس بھر پور طریقے سے دلانے والا ہو کے میں اب بھی جوان ہو یہ بولتے ہوئے عمر نے اقراء کی شہہ رگ پہ اپنے لب رکھے ۔۔
افف عثمان تم یہاں ہو میں پورے اسکول میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی ایک خبر سناو تمہیں مزے دار کل وہ۔چمکاڈر 3 سال۔کی ٹریننگ کے لیے جارہا ہے ہائے کتنے مزے کے سال ہونگے یہ اسکے بغیر۔۔
دلنشین اپنی ہی دھن میں بولے جارہی تھی یہ جانے بغیر کے عثمان گردن جھکا کے رونے میں مصروف تھا۔۔
دلنشین کی کلاس میں عثمان کا اج سے ایک سال پہلے نیو ایڈمیشن ہوا تھا ۔بڑے بڑے گلاسس لگائے یہ لڑکا بہت ہی سیدھا لگا تھا دلنشین کو مگر جب اس نے اسکول کے سینئر کے ہاتھوں اسکی ریگنگ ہوتی دیکھی جسمیں سنیئر نے اسے بنا شرٹ کے مرغا بنایا ہوا تھا اور باری باری سنیئر کے گروپ کے لڑکے عثمان کے ہپس پہ اسٹک مار رہے تھے اس وقت دلنشین نے نہ صرف ان سنیئر کی ویڈیو بنا کے پرنسپل کو دے انکی اچھی خاصی عزت افزائ کروائ اور عثمان کا ساتھ دیا بلکے اب وہ عثمان کو بلکل اپنی طرح بنا رہی تھی بلکل۔بے خوف زندگی گزارنے والی اپنے حق کیلیے لڑنے والی کافی سنیئر اسے تھے اسکول میں جو دلنشین سے ڈرتے تھے اور اب عثمان کا بھی احترام کرتے تھے ۔دلنشین عثمان کو کئ بار اپنے گھر لیجا چکی تھی اسکے گھر والے بھی اس سے کافی متاثر ہوئے تھے عثمان کو زریاب کافی سلجھا ہوا لگا ایک دو بار اس نے دلنشین سے کہا بھی مگر اس کے بعد دلنشین نے جو عثمان کی درگت بنائ وہ عثمان کو اب تک یاد تھی۔۔۔
اےے میں کب سے بولی جارہی ہو عثمان تم چپ کیوں ہو کیا ہوا؟؟؟
عثمان نے گردن اوپر کرکے دلنشین کو دیکھا اور کہا۔۔
میں کل سے اسکول نہیں اونگا۔۔
مگر کیوں عثمان اور تم رو کیوں رہے ہو۔۔؟؟؟
جاری ہے۔۔
