51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

امجد کو گئے آج دس دن گرد چکے تھے۔
اس دوران دلنشین نے مہناز کو بہت سنبھالا ۔وہ زندگی کی طرف تو نہیں لوٹی تھی ہاں مگر اتنا ضرور ہوا تھا کے وہ کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی تھوڑا بہت کھانا کھانے لگی تھی مگر رونا نہیں بھولی تھی اپنی شادی کا جوڑا روز نکالتی روز پہنتی اور زور زور سے امجد کو آوازیں دیتی ۔۔۔
دلنشین سے اپنی دوست کی یہ حالت دیکھنا ناقابل برداشت تھا اسنے کئ بار عثمان سے کہا کے وہ اس سے بات کرے اسے بتائے کے وہ کون ہے ؟
مگر عثمان ہر بار دلنشین کو یہ کہہ کر منع کر دیتا کے جب پچپن سے اب تک اسکی پلٹ کے خبر نہیں لی تو اب اسکا سامنا کیا بول کے کرو ۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم اپنے چھوٹے بیٹے کیساتھ چلی گئ تھی ادھر رابعہ فائزہ بیگم اور مہناز کو اپنی ساتھ کراچی والے فلیٹ میں اپنے ساتھ شفٹ کر چکی تھی۔۔
فائزہ بیگم نے اپنے ہر رویہ کی معافی رابعہ سے مانگی انہیں اندازہ ہوچکا تھا انکا کیا انکی بیٹیاں بھگت رہی تھی ۔۔
رابعہ بھی اپنی بھائ کی موت پہ بہت غم زدہ تھی ۔فائزہ کو اس نے دل سے معاف کردیا تھا ۔۔
مہناز کی جان کو اب بھی شاہ سے خطرہ تھا تبھی عثمان کے کہنے پہ دلنشین نے اپنے بہت ہی خاص مخبر مہناز کی نگرانی کیلیے چھوڑے ہوئے تھے۔
مہناز نے اپنی پھپھو سے مل کے ایک بار بھی عثمان کا نہیں پوچھا شاید وہ ناراض تھی عثمان سے جو وہ بچپن میں اسے دھتکار کے جو گیا تھا۔۔..
!!!!!!!!!
آج تقریبا گیارہ دن بعد احسان نے گھر میں سکھ کا سانس لیا تھا ۔
ماجد کی سانسیں چل رہی تھی وہ مرا نہیں تھا اس لیے عفان کی زریاب اور احسان کو خاص ہدایات تھی کے کسی سائے کی طرح ماجد کی نگرانی ہو ۔ مگر شاہ وہاں بھی اپنا کام دیکھا گیا تھا ہاسپٹل کے ہی کسی بندے نے ماجد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا شاہ تک پہنچنے کی ایک آخری امید بھی دم توڑ گئ تھی۔۔۔
احسان شام میں اپنی نیند پوری کرکے اٹھا تو فلک کیساتھ پورے گھر کو بھی تیار پایا ماسی کو چائے کا بول کے وہ لانج میں آکے بیٹھا تو موبائل میں مصروف فلک کو مخاطب کرکے کہا۔۔۔
“کسی کی شادی میں جارہے ہو تم لوگ؟؟؟؟
ہاں تم تو گھر پہ تھے نہیں اس لیے تمہں پتہ نہیں ہوگا آج زارا کی منگنی ہے 6 دن پہلے ہی اسکا رشتہ لگا اسکے کسی ریلیٹیو سے۔۔۔
فلک ناجانے کیا بولے جارہی تھی مگر احسان اسکے دل کے دھڑکنے کی رفتار ایک دم کم ہونے لگی فرض کے آگے وہ محبت بھول گیا۔۔۔۔
وہ کسی اور کی ہونے جارہی ہے احسان سچ کہا تھا اس نے تجھے اس سے محبت نہیں ۔۔۔
دل کے کسی کونے سے آواز آئ تو احسان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ نے لگی۔۔
احسان نے بہت مہارت سے اپنے آنسوؤں چھائے اور اپنے سامنے رکھی ٹھنڈی چائے پینے لگا جو ہمیشہ ٹھنڈی چائے پہ۔چڑتا تھا آج اسے وہ اور آرام سے پی رہا تھا۔۔
ارے احسان بیٹا تم اٹھ گئے ہو تو چلو ہمارے ساتھ ؟
لائبہ نے احسان کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی جیسے ااس نے فورا قبول کرلی وہ بھی اس بیوفا کو دیکھنا چاہتا تھا جس نے بچپن کی محبت کو دو دن کے وعدے کی سولی پہ لٹکایا تھا کیسے اس نے اسکی مجبوری نہیں سمجھیں کیا اسے اندازہ نہیں ہوا کے وہ
ہ گیارہ دنوں سے بہت مشکل سے دو سے تین بار گھر آیا تھا۔۔
احسان بھی تیار ہوکے زارا کی منگنی میں پہنچا ۔۔
زارا اسے گم سم سی اسٹیج پہ بیٹھی دیکھائی دی شاید وہ اس پاس کی دنیا سے بے خبر تھی اور کیوں نہ ہوتی اسکی محبت نے اسکی محبت کا بھرم جو نہیں رکھا ۔۔
لائٹ فیروزی سوٹ میں احسان کو وہ کوئ مرجھائ ہوئ کلی لگی۔۔۔
احسان کے سامنے وہ کسی کی اور کی ہوگئ ۔۔
دانیال سے انگھوٹی بدلنے کیساتھ جب وہ فلک سے گلے ملنے لگی اسی وقت احسان اسٹیج پہ چڑھا جیسے دیکھ کے زارا کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
مگر چپ تھی ماں باپ کی عزت کی خاطر اسکی۔انکھوں میں احسان کی لیے ہزاروں شکوے تھے غصہ تھا ناراضگی تھی ۔۔
احسان اسکے روبرو آیا اور اس سے کہا۔۔
منگنی بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔
یہ بول کے اس نے زارا کے آگے ایک چھوٹا سا گفٹ کیا جسے کانپتے ہاتھوں کیساتھ زارا نے تھام لیا دانیال کو مبارک دینے کے بعد احسان اسٹیج سے اترا تو اس نے دوبارہ پلٹ کے زارا کو نہیں دیکھا جبکہ زارا کی نظروں نے اس کا دور تک پیچھا کیا۔۔
!!!!!
تاشو ؟؟
ہاں عمیر بھائ۔۔
وہ مجھے ایک کپ کافی بنادو۔
سوری عمیر میں ایکسٹرا کلاسس لینے جانا ہے کوچنگ ابھی صنوبر اپنے بھائ کیساتھ مجھے پک کرنے آنے والی ہی کوچنگ کیلیے مجھے لیٹ ہورہا ہے ۔
یہ بول کے تاشہ نے اپنا سامان سمیٹا اور باہر کیطرف بڑھ گئ ۔۔
عمیر غصے میں اپنے کمرے میں آیا اور اپنا موبائل زور سے بیڈ پہ پھینک کے کہا۔۔
کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ چپکائے رکھتی ہے پتہ نہیں کیا اسے مجھے اسکا کسی غیر آدمی کیساتھ اسکا آنا جانا پسند نہیں اب یہ صنوبر کا بھائ کون آگیا اسے بھی ٹھکانہ لگانا ہوگا۔۔
!!!!!!!
رابعہ ایک بات پوچھو؟؟
ہاں بھابھی پوچھے۔۔
میں جب سے یہاں آئ ہو میں نے ایک بار بھی عثمان کو آتے نہیں دیکھا کیا وہ میری وجہ سے۔۔
ارے نہیں نہیں بھابھی ایسی بات نہیں اصل میں وہ آرمی آفیسر ہی کم ہی گھر آتا ہے ۔مگر کل اسکا فون آیا تھا انشاء اللہ وہ ایک دو دن میں گھر اجائے گا۔۔۔۔
!!!!!!!!!!
مجھ میں اسکا سامنا کرنے کی۔ہمت نہیں مایا۔۔
مگر کب تک مانی کبھی نہ کبھی تو کرنا پڑے گا حالات کا سامنا کرنا چاہیے ان سے چھپنا نہیں چاہیے۔یہ بات تم نے ہی مجھے بولی تھی۔۔
ہوسکتا ہے وہ تم سے ناراض ہو مگر میں اتنا جانتی وہ نفرت نہیں کرتی ہوگی تم سے ۔۔۔
مانی اسے ضرورت ہے شاید ایسے کندھے کی جسے پہ سر رکھ کے رو سکے اپنے دل کا غبار نکال سے ۔۔
ہممممم۔!!!
مایا سے بات کرکے مانی کافی ریلکس ہوچکا تھا۔۔۔
تقریبا رات کی تین بجے وہ گھر پہنچا تھا ۔۔
اپنے کمرے سے فریش ہوکے وہ کھانا کھانے کی نیت سے کچن میں آیا تو مہناز کو پانی پیتے دیکھا ۔۔
مہناز جیسی ہی پانی پی کے پلٹی اپنے سامنے عثمان کو دیکھ کے پل بھر کیلیے ڈری کیونکہ اس نے ابھی تک عثمان کو نہیں دیکھا تھا۔۔
مگر پھر اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھنے کے بعد وہ تیزی سے وہاں سے جانے لگی جب پیچھے سے عثمان نے کہا۔
کیسی ہو ماہی؟؟
عثمان کے اسں سوال پہ مہناز نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور بنا پلٹے کہا۔۔
میرا نام ماہی نہیں مہناز ہے مسٹر عثمان اور آج کے بعد مجھے مخاطب نہیں کرنا۔۔
جاری ہے۔۔