Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 57 ( part 2)
Rate this Novel
Episode 57 ( part 2)
آج شام یہ کام ہوجاناچاہیے؟؟
ہاں ہاں ان میں سے تین لڑکیوں کو دبئ بھیج دو اور ہاں یہ کام بہت آرام سے ہونا چاہیے
نہیں نہیں انسپکٹر روبرڈ اس کام میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔۔
ہاں اور بلیو فلمز کا کیاہوا؟؟
شاہ کال پہ کسی سے بات کررہا تھا۔۔
جبھی کچھ ٹوٹنے کی آواز پہ وہ پلٹا۔۔
تو سامنے ڈری سہمی سی شاکڈ سی کیفیت میں فلک کھڑی تھی جو اسے چائے دیتے ہوئے ایک گڈ نیوز سنانے آئی جسے سن کے حاشر عرف شاہ بدل جائے گا ۔۔
ایسا فلک کو لگا ۔
اسے لگا جب وہ سنے گا کے وہ باپ بننے والا ہے تو شاید وہ اسکی عزیت کم کردے جو اسے وہ بنا سزا کے دیتا تھا۔۔
یہاں کیا کررہی ہو تم؟
حاشر اسکے پاس اکے غصہ سے پوچھنے لگا۔۔
مگر فلک وہ دم سادھے اسے دیکھنے لگی۔حاشر میں اسکی خوف بھری آنکھوں کے اندر جھانکنے لگا ۔۔
آپ اتنا گٹھیا کام کرتے ہیں حاشر؟
فلک بے یقینی سی حالت میں اس سے سوال کرنے لگی ۔
ہاں میری جان اس سے بھی ذیادہ گھٹیا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا بلکے میں نے تم سے شادی کی ہی اسی وجہ سے تھی پتہ ہے تمہیں جب تمہاری پک میں یہاں کے ریڈ لائٹ ایریا والوں کو دیکھائ تو وہ تمہاری تصویر ہی چاٹنے لگے سوچو تمہیں کتنا چاٹینگے۔۔۔مگر وہ کیا ہے نہ میرا دل تم پہ آگیا تو ان لوگوں کو تھوڑا صبر کرنے کو کہا ۔۔
ویسے اپنے اور تمہارے کافی پرسنل مومنٹ میں انہیں بھیج چکا ہو یہ بول کے حاشر نے آنکھ ماری۔۔
فلک میں نجانے اتنی ہمت کہاں سے آئے کے اس نے رکھ کے تھپڑ حاشر کے منہ پہ مارا۔
آپ انسان نہیں حیوان ہیں ایک منٹ بھی اب میں یہاں نہیں رہونگی۔۔یہ بول کے فلک جانے لگی تب
حاشر نے اسکو زور سے دھکا دیا۔۔
فلک کے زمین بوس ہوتے ہی اسکی ایک دلخراش چیخ نکلی مگر حاشر اسنے اسے پاگلوں کی طرح مارنا شروع کردیا ۔
ابھی جو اولاد دنیا میں آئ بھی نہیں تھی حاشر اسے مار چکا تھا ۔
فلک کے تکلیف سے تڑپنے پہ حاشر نے اسے اور مارا مگر جب اسکی باڈی سے بلڈ نکلتا دیکھ حاشر نے چونک کے فلک کو دیکھا۔۔۔
دوبارہ فلک کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جکڑتے ہوئے چیخ کے کہا۔۔
تم پریگننٹ تھی؟؟
فلک چپ رہی۔۔
فلللللککک میں کیا پوچھ رہا ہو تم پریگننٹ تھی؟
مگر فلک وہ ہوش میں ہوتی تو جواب دیتی نہ۔۔
!!!!!!!
نہیں نہیں پلیز عمیر نہیں پلیز ایسا مت کرو میرے ساتھ ۔
پلیززززززز۔۔
تاشہ نے لیٹے لیٹے روتے ہوئے عمیر کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔
عمیر جسکا ارداہ صرف تاشہ کو ڈرانا تھا ۔۔
وہ اسمیں کامیاب بھی ہوچکا تھا۔۔۔
اسکے اوپر سے ہٹتے ہوئے عمیر نے صرف اتنا کہا۔
اگر چاہتی ہو میں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہ کرو تو خاموشی سے نکاح کیلیے مان جانا ورنہ تاشہ اپنے ساتھ ہونے والے انجام کی ذمیدار تم۔خود ہوگی۔۔
عمیر یہ بول کے تاشہ پہ سے اٹھا تو وہ اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپائے بلک بلک کے رونے لگی۔۔
عمیر نے اٹھ کے شرٹ پہنی اور باہر نکل۔گیا۔۔
!!!!!!!!!!!!
آج دو دن ہوگئے تھے مگر تاشہ کا کچھ پتہ نہیں چلا زمان کی فیملی نے بھی آکے کافی ناراضگی کا مظاہرہ کیا۔
جنت کی طبیعت مسلسل گرتی جارہی تھی مگر تاشہ کہاں تھی ابھی کوئ پتہ نہیں لگواپایا تھا انکے گھر کا اپنی ہی فرد انکا نقب زن تھا تو کیسے عثمان اور دلنشین کے مخبر تاشہ کا سوراغ لگا پاتے۔۔
سرخ لال جوڑا اسے کسی کفن کی طرح معلوم ہورہا تھا مگر اب کوئ فائدہ نہیں تھا وہ جس نے زمان کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزرانے کے خواب دیکھے اب مسسز عمیر بن چکی تھی۔۔
نکاح نامہ پہ سائن کر کے اسے لگا جیسے اس پر کسی نے تیزاب پھینک دیا ہو مگر اب اسکے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا اگر آج عمیر اس سے اپنا تعلق بنالے گا تو سارا معاملہ ہی ختم پھر تو وہ قابل ہی نہیں رہے گی زمان کے۔
انہیں سوچوں کے بھنور میں وہ پھنسی تھی جب عمیر کمرے میں آیا ۔
مگر اسنے نہ تو چہرہ اٹھا کے عمیر کو دیکھا نہ ہی کوئ اور رد عمل ظاہر کیا ابھی بھی وہ سرخ جوڑے میں تھی۔۔
فلحال عمیر کو اسکے نام کیساتھ اپنا نام جوڑنا تھا اسکے جسم کی خواہش عمیر کو کبھی نہیں رہی پچپن کا عشق جب بھانس بن کے حلق میں چھبنے لگا جب ہزار منتوں کے بعد ہر بار اسکا عشق دھتکارا گیا تب عمیر نے یہ قدم اٹھایا۔
تاشہ کچھ کھالو؟؟
عمیر نے کمرے میں آکے اس سے پہلا جملہ یہی کہا۔۔
مجھے گھر جانا ہے اب۔۔
تاشہ نے عمیر کی بات پہ صرف ایک ہی جملہ کہا۔۔
عمیر جانتا تھا ضد کی پکی ہے وہ نہیں کھائے گی کھانا عمیر یہ بھی جانتا تھا کے آج اسکے ساتھ گھر میں کیا سلوک ہوگا سب کے دل کتنے دکھے گے جب انہیں عمیر کی حرکت کا پتہ چلے گا مگر اسے یہ سب برداشت کرنا ہوگا صرف اپنی محبت پانے کے جرم میں۔۔
ٹھیک ہے چلو ۔
عمیر کے بولنے پہ تاشہ نے بنا اس پہ نگاہ ڈالے اسی سرخ جوڑے پہ اپنی چادر لپیٹی اور کمرے سے باہر نکل گئ۔۔
!!!!!!!!!!
یار یہ تو تاشہ اور عمیر ہے دیکھو زریاب۔۔۔۔
زریاب اور دلنشین جو کے اچھے خاصے خوار ہورہے تھے تاشہ کو ڈھونڈنے میں ۔۔
سںگنل پہ گاڑی رکتے ہی دلنشیںن کی نظر سامنے پڑی جہاں لفٹ سائیڈ کی گاڑی پہ تاشہ اور عمیر بیٹھے تھے۔۔
ہاں یہ تو عمیر اور تاشہ ہیں ۔
سگنل گرین ہوتے ہی تاشہ اور نومیر کی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئ زریاب نے بھی گاڑی انکی گاڑی کے پیچھے لگادی ۔
مگر جب گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئی تو پتہ نہیں زریاب کا ماتھا ایک دم ٹھنکا کیونکہ کراچی شہر کی ایسی کونسی جگہ نہیں تھی جہاں ان لوگوں نے تاشہ کو نہ ڈھونڈا ہو تو پھر یہ عمیر کو کیسے ملی جبکہ وہ تو اسلام آباد میں تھا۔۔
کہی عمیر نے تو ہی تاشہ کو اغواہ۔؟؟
یہ بات خالی وہ اپنے دل میں ہی سوچ سکا ۔۔
گاڑی رکتے ہی تاشہ دروازہ کھول کے تیزی سے اندر بھاگی۔۔
مگر عمیر نے کوئ ردعمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ اب ہونے والے تماشہ کیلیے تیار تھا ۔
عمیر اندر بڑھنے لگا جب زریاب کی گاڑی اندر آئ مگر وہ رکا۔نہیں اندر بڑھ گیا۔۔
ماما ماما۔۔
تاشہ اندر پہنچتے ہی چیختے ہوئے جنت کو پکارنے لگی۔۔
جنت جو کے نیم دراز تھی تاشہ کی آواز پہ ڈورتی ہوئ نیچے ائ۔۔
سب ہی تاشہ کی آواز سن کے کمروں سے باہر نکل آئے تھے اقراء نے جب تاشہ کے پیچھے عمیر کو گردن جھکا کے کھڑا دیکھا بلاجھجک وہ اپنا دل تھام گئ اسکے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔۔
تاشہ میری بچی ۔۔
جنت تاشہ کے گلے لگ کے بلکنے لگی۔۔۔
زریاب اور دلنشین بھی روتی تاشہ کو گلے لگانے لگے۔
حمزہ عمر عثمان احسان سب کو ہی خبر کردی گئ کے تاشہ گھر آگئ ہے۔۔
ایک عدالت لگ گئ اور مجرم تھا عمیر۔۔۔
جنت کے کے پوچھنے پہ تاشہ نے سب بتایا ۔۔
وہاں موجود ہر نفوس کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔۔
عمر نے جیسی ہی سب سنا آگے بڑھ کے عمیر کے روبرو آگیا اور پوچھا ۔
تاشہ جو کہہ رہی ہے عمیر وہ سچ ہے؟؟
عمر کی گرجدار آواز آج پہلی بار دلنشیںن سمیت سارے بچوں نے سنی تھی عثمان بھی شاکڈ تھا کے عمیر نے ہی تاشہ کو اغواہ کیا۔۔
عمیر کی ہاں میں گردن ہلانی تھی کے ایک زناٹے دار تھپڑ عمیر کا دماغ سن کرگیا ۔اسکے قدم لڑکھڑائے مگر یہاں عمر نے بس نہیں کیا ایک کے بعد ایک تھپڑ عمر کو مارتا گیا ۔۔
عثمان زریاب احسان تیمور کسی میں ہمت نہیں تھی عمر کو روکنے کی یہاں تک کے ایک کے بعد ایک تھپڑ پڑنے سے عمیر کے گال سوجھ چکے تھے اسکے ہونٹ اور ناک سے خون بہنے لگا تھا ۔
حمزہ تو صرف گردن جھکا کے بیٹھا تھا نہ اس نے عمیر کو کچھ کہا نہ عمر کو روکا۔۔
مگر دلنشیںن نے ہمت کرکے عمر کو روکا۔
بس چاچو بس اسکی حالت دیکھے۔۔
تمہیں اب بھی اسکی حالت دیکھ رہی ہے یہ جانتے ہوئے بھی اس نے کتنا گھٹیا کام کرا ہے۔۔
تمہیں پتہ ہے اس بغیرت نے کیا کیا زمانے بھر میں میری تربیت کو سوالیہ نشان بنا ڈالا یہ بول کے عمر کی آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے۔۔
چاچو یہاں بیٹھے ادھر آئے۔
دلنشیںن نے عمر کو اتنا ہوتا ہوا کبھی نہیں دیکھا۔۔
“صحیح کہا کہ ہے کسی نے کے بڑے سے سے بڑا سورما اولاد کے آگے بے بس ہوجاتا ہے”
عمیر کو روتا دیکھ کے زریاب کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی مگر ایک حمزہ تھا جو بت بنا بیٹھا تھا۔۔
پاپا میں بہت محبت کرتا ہو تاشہ سے بچپن سے اگر وہ کسی اور کی ہوتی تو میں مرجاتا میں نے جو کچھ بھی کیا تاشہ کو پانے کیلیے کیا باقی میں نے کوئ گناہ نہیں کیا ایک نکاح کے علاؤہ آپ پوچھ لے تاشہ سے ۔۔
عمیر نے روتے روتے عمر کے پاؤں پکڑتے ہوئے کہا۔۔
ماما آپ بتائے نہ میں نے آپ سے کہا تھا تایو سے بات کرنے کو ماما بتائے نہ عمیر نے اقراء کو بھی جھنجھوڑ ڈالا۔۔
وہاں کھڑے سب عمیر کا بلکنا ٹرپنا دیکھ رہے تھے تاشہ کیلیے اسکا عشق سب پہ واضح ہوچکا تھا مگر عمیر کا طریقہ غلط تھا ۔
عمیر نے منہ اور ناک سے نکلنے والا خون اسکی شرٹ کو داغدار کرچکا تھا۔۔
مگر ابھی کوئ بھی فلحال اس سے ہمدردی کرنا نہیں چاہتا تھا۔
تیمور سے اس سے زیادہ برداشت نہیں ہوا اور وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
میں تم سے نفرت کرتی ہو سنا تم نے ۔۔۔
تاشہ نے ایک دم چیخ کے کہا۔۔
نہیں رہنا تمہارے ساتھ مجھے تاشہ نے آگے بڑھ کے اسے دھکا دیتی ہوئے کہا۔
ابھی کے ابھی مجھے طلاق چاہیے تم سے ۔۔
تاشہ کا ایسا ریکٹ دیکھ کے مہناز نے عثمان کی جیکٹ کو تھاما احسان اور زارا بھی افسوس میں تھے۔۔
نومیر اور لائبہ نے جنت کو سنبھالا ہوا تھا۔۔
دلنشین نے فورا آگے بڑھ کے تاشہ کو سنبھالا۔۔۔
تاشہ دیکھو مجھے معاف کردو دیکھو مجھ سے الگ جانے کا نہیں بولو۔
عمیر نے پہلے تاشہ کا چہرہ تھام کے کہا اور پھر اسکے پاؤں پکڑ لیے۔۔
تیمور جو بظاہر تو اوپر چلا گیا تھا مگر اپنے کمرے کھڑکی میں کھڑا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔۔
تاشہ نے ایک دم اپنے پاؤں پیچھے کیے اور کہا۔۔
میں مرجاونگی مگر اپنا نام تمہارے نام کے ساتھ کبھی جڑنے نہیں دونگی۔۔
نہیں پلیز تاشہ مانتا ہو میرا طریقہ غلط تھا امگر میں نے تمہاری کتنی منتیں کی تھی تمہارے آگے ہاتھ تک جوڑے تھے مگر پھر بھی تم نے میرا ساتھ قبول نہیں کیا میری محبت کو قبول نہیں کرا ۔۔
تو اسکا مطلب تو ایسے کرے گا اسکے انکار کرنے پراسکا حق ہے وہ کسے اپنی زندگی میں شامل کرے کسے نہیں۔۔ زریاب نے عمیر کو ایک دم کالر سےپکڑ کر کھڑا کیا۔۔
بھائ وہ عشق ہے میرا نہں دیکھ سکتا اسے کسی اور کا ہوتے ہوے۔۔
عمیر نے ایک دم چیخ کے کہا۔
ابھی کے ابھی اسے طلاق دے ابھی کے ابھی عمر نے ایک بار پھر عمیر کا گریبان پکڑ کے کہا۔۔
کبھی نہیں دونگا پاپا کبھی نہیں بھلے میری جان لے لیں مرجاؤ تو بھلے اسکا ہاتھ دی دیجیے گا کسی کے ہاتھ میں مگر میرے زندہ رہتے ہوئے ہر گز نہیں نہیں۔۔۔
عمیر نے روتے ہوئے کہا۔۔
ٹھیک ہے اگر تم نے ابھی کے ابھی تاشہ کو طلاق نہیں دی تو میں تمہاری ماں کو طلاق دیے دونگا ۔۔اقراء نے عمر کی بات پہ فورا اسے بے یقینی کی کیفیت میں دیکھا۔۔
عمیر اور زریاب بھی سن ہوگئے ۔
حمزہ جو اتنی دیر سے چپ بیٹھا تھا ایک دم کھڑے ہوکے اس نے عمر کے منہ پہ رکھ کے چماٹ مارا۔۔
عمر کے چماٹ پڑتے ہی سب کے ہاتھ اپنے منہ پہ گئے ۔
ہمت بھی کیسے ہوئ تیری ۔۔۔
اتنا بڑا ہوگیا جو تو اتنے بڑے بڑے فیصلہ کرے گا ابھی بگ بی زندہ ہے تیرا اس گھر کا ہر فیصلہ میں کرونگا ۔
مجھے فیصلہ کرنا ہے تاشہ کی زندگی کا اب کوئ کچھ نہیں بولے گا سب اپنے اپنے کمروں میں جاو ۔۔
حمزہ کی دھاڑ عمر سے بھی اونچی تھی۔۔
تایو دیکھے میں معافی مانگتا ہو آپ سے پاؤں پکڑتا ہو آپکو جو سزا دینی ہے مجھے دیں میں ساری زندگی سزا بھگتنے کیلیے تیار ہو بس میری تاشہ کو مجھ سے دور نہیں کرے میں مرجاونگا۔۔
یہ بول کے عمیر حمزہ کے سینے سے لگا اور پھر نیچے اسکے پاؤں کے پاس بیٹھتا چلا گیا۔۔
حمزہ نے عمیر کو اٹھا کے کھڑا کیا اور اسکے ناک سے نکلتا خون اپنے ہاتھوں سے صاف کرکے کہا۔۔
زبردستی کسی رشتے میں نہیں چلتی عمیر ۔۔
مجھے پتہ ہے مجھے کیا فیصلہ کرنا ہے تم جاؤ ابھی اپنے کمرے میں۔۔
مگر تایو ۔
میں نے کہا نہ عمیر جاؤ عثمان اسے لے کر جاؤ اسکے کمرے میں۔۔
حمزہ کے بولنے پہ عثمان عمیر کو اسکے کمرے میں لیجانے لگا۔۔
عمر بھی گھر سے باہر چلا گیا اور اقراء اسکی تو ساری زندگی کو عمر نے ایک سوالیہ نشان بنا دیا اولاد کی ایک غلطی پہ اس نے اقراء کی 25 سال کی محبت کو ریزہ ریزہ کردیا۔۔
پاپا مجھے اس سے طلاق چاہیے میں صرف زمان سے شادی کرونگی آپکا فیصلہ میرے حق میں ہونا چاہیے میں اس گھٹیا انسان کے ساتھ اپنا نام ایک منٹ کیلیے بھی برداشت نہیں کرونگی۔۔
عمیر جو عثمان کیساتھ جاری تھا اس نے پلٹ کے بے بسی سے تاشہ کو دیکھا اور پھر اوپر چلا گیا۔۔
مجاہد مینشن میں آج جو طوفان آیا ہے کیا وہ ان میں رہنے والوں کی۔اپس کی محبت کی بنیاد ہلا دے گا۔۔۔
جاری ہے
