Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 30
Rate this Novel
Episode 30
اپنے سامنے دلنشین اور عثمان کو مانی اور مایا کہ روپ میں دیکھ کے جہاں احسان کے منہ سے نکل کر چائے باہر گری وہی ذریاب ابھی تک شوکڈ تھا ۔۔
یعنی کہ ابھی تک جو ان دونوں کو ہر مشن میں مات دیتے آئے تھے وہ دلنشین اور عثمان تھے ۔
زریاب اور احسان سے یہ بات ہضم کرنا بہت ہی مشکل ہو رہا تھا کے دلنشین اور عثمان سیکریٹ ایجنٹ ہیں۔۔
مگر عثمان اور دل نشین وہ دونوں بالکل سیریز انداز میں ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔
کمشنر صاحب نے جب احسان کو اس حالت میں دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکے۔۔
کیا آپ لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہو؟
جو ایک دوسرے کے ملنے کے بعد اتنے شوکڈ حالت میں بیٹھے ہو ۔۔
خیر اگر جانتے بھی تو یہ بات ابھی اہم نہیں اپنے طور پہ میں اپ لوگوں کو اپس میں انٹروڈیوس کروا دیتا ہوں۔۔
میٹ مایا اینڈ مانی انڈر کور اسپیشل ایجنٹ۔۔کمشنر صاحب نے زریاب اور احسان کو مخاطب کرکے کہا۔۔
اینڈ مایا مانی میٹ مائے اسپیشل افسر احسان اور زریاب ۔۔۔۔ ۔۔
ہاں واقعی اسپیشل ہیں جبھی ایک کیس بھی ڈھنگ سے solve نہیں کرتے ۔۔
مایا کی بات پہ مانی نے اسے گھور کے دیکھا جو زریاب کی نظروں نہ چھپ سکا۔۔۔
کمشنر صاحب کے انٹروڈیوس کروانے پہ ان چاروں نے کھڑے ہوکے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا دلنشین اور زریاب کی جب اپس میں ہاتھ ملانے کی باری ائ تو نہ صرف زریاب نے اسکا ہاتھ دو منٹ تک تھامے رکھا بلکے ہلکا سا دبا کے چھوڑا اور ادھر زریاب کی اس حرکت پر دل نشین صرف اپنا غصہ پینے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکی۔۔۔۔
عثمان اور احسان باتوں میں لگ چکے تھے تھے جب کے زریاب کی نگاہیں اپنے سامنے بیٹھی دلنشین پہ تھی جو موبائل پہ مصروف تھی۔۔
زریاب اسے دیکھ کے یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا تھا کہ جب اس کی پہچان اسکے سامنے نہیں ائ تھی جب وہ اسکی طرف دیکھنا تو دور بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی کھلے الفاظ میں اس سے نفرت کا اظہار کرتی تھی۔۔
اب جب کہ وہ ہر چیز میں ذریاب سے دو قدم آگے ہیں اب تو اسے اپنی محبت کا یقین دلانا اور بھی مشکل ہوگیا ہے ۔۔
اب اس بھپری ہوئی شیرنی کو قابو کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔۔
زریاب نے دھیرے سے خود سے مخاطب ہو کر کہا مگر اتنا بھی دھیرے نہیں کہا کہ برابر میں بیٹھا احسان سن نہیں پائے احسان نے جیسی ہیں زریاب کی بات سنیں فورا اس کے کان کے پاس آ کے کہا۔۔۔
ابھی بھی وقت ہے زریاب میں تو کہتا ہوں یہ لیڈی سنگھم تیرے ہاتھ نہیں انے والی راستہ بدل لے اپنا تو بول تو عروج سے بات کرو مجھے پورا یقین ہے اج بھی وہ تیری راہ تک رہی ہوگی ۔
احسان نے کافی معصوم شکل بنا کے زریاب کے کان میں یہ بات کہی۔۔
احسان کی بات سن کے زریاب نے اسی کے اندازمیں کہا۔۔۔۔
ویسے آپس کی بات ہے احسان۔۔
تو اتنی اچھی خاصی بکواس کیسے کر لیتا ہے۔۔
زریاب نے دانت تیز کر اس کی اچھی خاصی عزت افزائ کی مگر احسان نے زریاب کی بات سن کے فخریہ انداز میں اپنا سر جھکا کے زریاب سے داد وصول کی اور کہا۔۔۔۔۔
اپنا اپنا ٹیلنٹ ہے مسٹر زریاب ۔۔
ابھی وہ لوگ باتوں میں لگے تھے کے کمرے میں ایک اور اواز گونجی ۔۔
اسلام و علیکم ۔۔
ایوری ون سوری ائ ایم لیٹ۔۔
کوئ بات نہیں کیپٹن۔۔کمشنر صاحب نے مسکرا کے کہا۔
مگر احسان وہ تو عفان کو کیپٹن کے روپ میں دیکھ کے ایک بار پھر صدمہ میں چلاگیا اور بہت ہی افسردہ سی اواز میں کمشنر صاحب سے کہا۔
سر یہ ہیں کیا کیپٹن جن سے اپ ملوانے والے تھے۔؟؟
ہاں احسان ۔۔
کمشنر کی بات سن کے جہاں احسان نے ایک لمبی سانس لی وہی زریاب کی خاموشی سے عفان اندازہ لگا سکتا تھا کے وہ اس بات سے ناراض ہے جو اس سے سے سب کی پہچان چھپائ۔گئ۔۔۔
زریاب مجھے پتہ ہے تم ناراض ہو مگر تم جانتے ہو یہ بات کے ایک اسپیشل اندر کور آفیسر کی سب سے بڑی بات یہی ہے کہ وہ اپنی پہچان چھپاتا یے۔۔
مجھے تو بتا سکتے تھے نہ اپ اپکو مجھ پر بھروسہ نہیں تھا کیا۔۔
زریاب کی بات سن کے عفان ایک لمبا سانس لیا اور کہا۔۔
بیٹا اگر آپ لوگوں پر بھروسہ نہیں ہوتا تو اس مشن میں جس پہ ہم پچھلے دو مہینوں سے کام کر رہے آپ کو شامل نہیں کرتے آپ پر بھروسہ ہے جبھی کمشنر صاحب کو اپ لوگوں کا کہا۔۔
عفان زریاب اور احسان سے کیا تعلقات ہیں تمہارے؟
کمشنر صاحب کے پوچھنے پہ عفان نے ان سب کا اپس میں رشتہ کمشنر صاحب کا کلئیر کرا مگر اتنی دیر سے غصہ میں بیٹھی مایا جو کافی دیر سے ان لوگوں کی باتیں سن کے مسلسل اپنا ماتھا مسل رہی تھی دو انگلیوں سے ایک دم عفان کو گھور کہا۔۔
کیپٹن اگر دو خاندانوں کی مردم شماری ہوگئ ہو تو مشن ڈسکس کرے۔..
ہاں ضرور عفان نے دلنشین کے گھورنے کا مقصد سمجھ کے مشن ڈسکس کرنے کا کہا۔۔ ۔۔
عفان کی اجازت ملتے ہی ایک دم کمرے کی لائٹ بند ہوئ اور وال اسکرین اسٹارٹ ہوئ۔۔
مایا ایک کے بعد ایک چہرہ اسکرین پر سب کو دیکھاتی گئ اور پھر ایک جگہ رک کے کہا۔۔
ان میں سے کون شاہ درانی ہے کوئی نہیں جانتا ہزاروں روپ اب تک یہ بدل چکا ہے کئ ملکوں کی پولیس انکے انٹیلجنس اسکو پکڑنے میں ناکام ہوچکی ہے اور وجہ کئ ملکوں کے غدار جو اپنے ہی ملک کو کھوکھلا کرہے ہیں۔
گینگ ریپ، لڑکیوں کی اسمگلنگ غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک میں اصلحہ پہچانا یہ سب اس کے پرانے کرتوت ہیں ۔۔
آج کل اس کا ٹارگٹ ہمارا ملک پاکستان بنا ہے ہماری انٹیلیجنس کے مطابق یہ اس وقت پاکستان کے اندر ہے ۔اور اس وقت اس یونی میں ہے ۔۔
مایا نے ایک یونی کا نقشہ اسکرین پہ شو کیا ۔۔
یہ یونی میں کس روپ میں موجود ہے یہ جاننا ناممکن ہے۔۔
یہ پیون،ٹیچر ،اسٹوڈینٹ کسی بھی روپ میں ہوسکتا ہے۔۔
ایک مہینے کے اندر یہ بھاری مقدار میں اصلحہ یہاں پہچانا والا ہے اور اس یونی سے دس لڑکیاں اسکے ٹارگٹ پہ ہیں۔۔
7 لڑکیاں اس یونی سے غائب ہوچکی ہیں ۔۔
کیسی غائب ہوئ؟کہاں غائب ہوئ کوئ نہیں جانتا نہ انکے ماں باپ نے کوئ کمپلین کی۔۔
اب جو تین لڑکیاں بچی ہیں جنہیں شاہ اس ایک مہینے کے اندر یہاں سے کہاں لیجانے والا ہے کوئ نہیں جانتا ۔۔
یہ رہی ان لڑکیوں کی تصویر۔۔۔
مایا نے تین لڑکیوں کی تصویریں باری باری اسکرین پہ چلائ اخری لڑکی کو دیکھ کے احسان اور زریاب باقاعدہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھے اور احسان نے مایا سے کہا۔۔۔۔
دلنشین یہ تو فلک اپی ہے۔۔
ہاں احسان یہ وجہ تھی تم لوگوں کو اس مشن میں شامل کرنے کی۔۔
عفان نے قریب اکے احسان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے ریلکس کرنا چاہا۔۔۔
تمہیں اس یونی میں داخل ہونا ہے احسان ۔۔۔
عثمان نے بھی اسے بارور کروایا۔۔
مگر اگر میں یونی میں گیا تو فلک اپی تو مجھے پہچان لے گی اور پھر اگر شاہ درانی اس پاس ہوا تو وہ ہوشیار ہوجائے گا ۔۔
جیسے ہم نے اسکی بارے میں اتنی معلومات رکھی ہے اس نے بھی تو رکھی ہوگی۔۔
احسان کی بات سن کے زریاب نے اپنا سر تھاما کچھ ایسا ہی حال مایا اور مانی کا بھی دونوں نے ہی صدمے میں ایک دوسرے کو دیکھا مگر مایا اس سے زیادہ ضبط نہیں کرسکی اور اس نے براہ راست کمشنر صاحب کو مخاطب کر کے پوچھا اچھا سر مجھے صرف اس بات کا جواب دیں کہ اس کو سلیکٹ کس نے کیا اس نے دانت پیس کے احسان کی طرف اشارہ کرکے کہا ۔۔
مایا کی بات سن کے احسان کا منہ لٹک گیا ۔
مایا بس کرو۔۔۔
یہ کہہ کے عثمان نے اس کے ہاتھ سے اسکرین کا ریموٹ لیا اور اسے کلک کرا ۔
ایک اور شکل اسکرین پہ۔نمودار ہوئ ۔۔
جسے دیکھ کے عثمان نے کہا۔۔
یہ ہے امجد۔۔
اگر ہم نے اس کو پکڑ لیا ہے تو سمجھو ہمارے قبضے میں شاہ درانی بھی اگیا۔
میں اس کو پکڑ بھی لیتا مگر یہ میرے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کی وجہ سے میری ایک بہت قیمتی شہے مجھ سے دور ہو گی۔۔
ایک ثبوت میرے ہاتھ لگا جسمیں موجود NIC میں جو اسکی شناخت تھی وہ غلط تھی۔۔
تم نے اس کو دیکھا ہے تو اس کی شکل پہچانتے ہو تو تم نے اس کو ابھی تک پکڑا کیوں نہیں تمہارے تو اتنے اندر کور آفیسر ہیں کوئی بھی انٹیلیجنٹ اس کے پیچھے لگا کر تم اس کو کڈنیپ بھی کروا سکتے ہو کچھ بھی کروا سکتے ہو آئی تھنک۔۔۔۔
عثمان کی بات کا جواب جو زریاب نے دیا سب ہی اسکی بات پہ خاموش تھے۔۔
زریاب تمہاری بات سو فیصد صحیح ہے مگر اس پر ہاتھ میں جب ڈالو جب مجھے پتہ ہو کہ یہ ہے کہاں میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اسکے خلاف۔۔
انٹیلی جنس کی انفرمیشن پر ہم اس کے پیچھے لگے ہیں اور کافی ثبوت ہمارے ہاتھ جو لگے تھے وہ بے مقصد ہیں شاہ درانی اور امجد دلاور اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑتے۔۔
مگر ان لوگوں کی کوئی کمزوری تو ہوگی ہر انسان کمزور ہوتی ہے زریاب نے ایک بار پھر کہا ۔۔
ہاں زریاب شاہ کی بہت زیادہ معلومات کے بعد ہمیں یہ پتا چلاکہ شاہ کی ایک ماں ہے جو کہا ہے کدھر ہے کچھ پتہ نہیں اور امجد کی بھی ایک فیملی میں ایک ماں ہے ایک بھائی کہاں ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں یہ لوگ اپنا جرم کرنے کے بعد اتنی صفائی سے اپنا نام و نشان مٹاتے ہیں کہ اگر وہ لوگ ہمارے سامنے اجائے تب بھی ہم انہیں پہچان نہیں پائیینگے۔۔۔
چلی جاؤ مہناز کب سے مامی بلا رہی ہیں۔۔۔
آپ کو پتہ ہے میں وہاں اکیلے نہیں جاتی اور آپ کو یہ بھی پتہ ہے میں وہاں کیوں نہیں جاتی ۔۔۔
مہناز کی بات کا مطلب سمجھ کے نازنین نے کہا۔۔
بیٹا مجھے پتہ ہے تم وہاں کیوں نہیں جاتی مگر امجد اس وقت گھر پہ نہیں ہے شہر سے باہر گیا ہوا ہے جبھی تو میں نے بھابھی کو حامی بھری ہے تمہارے انے کی۔۔
تھوڑی دیر کے لئے ہو او مہناز۔۔
پھر آپ بھی ساتھ چلے۔۔
بیٹا میں چلی جاتی تمہارے ساتھ اگر مجھے برابر میں تعزیت کرنے نہیں جانا ہوتا شمیم خالہ کی نواسی کا انتقال ہوگیا ہے ڈیلوری کے دوران تمہیں پتا تو ہے۔۔
ٹھیک ہے ماما میں چلی جاتی ہوں مگر میں شام تک واپس آ جاؤں گی۔۔
آج اپنی مامی کے گھر جا کے ان کی حالت دیکھ کے اسے بہت افسوس ہوا بے شک اسکی مامی محلوں میں رہ رہی تھی مگر ان کی حالت کسی فقیرنی سے کم نہیں تھی۔۔
مامی اپ اپنا بالکل بھی دیھان نہیں رکھتی ہے اتنے نوکر ہے مگر کیا فائدہ جو اپکا دیھان نہیں رکھتے ۔۔مہناز نے انکے بال بناتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے بیٹا پہلے اپکے ماموں زندہ تھے تو دیھان بھی رکھ لیتی تھی ۔ ان کے جانے کے بعد تو بس جی رہی ہوں اللہ نے دو بیٹے بھی دیے ایک اپنی بیوی اور بچے کو لے کر چلا گیا۔۔
۔
ایک ہے پتا نہیں اپنے اپکو کن کاموں میں پھنسائے رکھتا ہے۔
کئ کئ دن گھر نہیں آتا ہے چار دن گھر میں تو پورا پورا مہینہ گھر سے باہر۔۔
کوئی بیٹی ہوتی تو رکھتی میرا دیھان احساس ہوتا اسے میرا۔۔
مامی کی بات کا مطلب سمجھ کے مہناز نے گردن جھکالی ان کا اشارہ کس طرف تھا اچھی طرح سے سمجھ رہی تھی وہ۔۔
وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے کہ باہر سے امجد کی چیخنے کی آواز آنے لگی جو شاید نوکروں پہ غصہ ہو رہا تھا۔۔
امجد کی آواز سنتے ہی مہناذ کا دل ڈر سے کاپنے لگا مگر پھر اسے تسلی ہوئی کہ چلو ابھی وہ اس وقت مامی کے کمرے میں ہے مگر جب تھوڑی دیر بعد سفید کاٹن کی شلوار قمیض میں امجد کمرے میں ایا تو مہناز کے باقی بچی ہمت بھی جواب دے گی ۔
مگر امجد اپنے سامنے اس وقت مہناز کو تصور نہیں کررہا تھا خاص کر اپنے گھر میں اس لیے اسے دیکھ کے کافی۔ شاکڈ ہوا ۔۔
اپنی ماں کے گلے لگتے ہوئے انکے برابر میں بیٹھی ڈرک بیلو کلر کے سوٹ میں ملبوس مہناز کو اپنی انکھوں میں سمائے شکوہ کیا۔۔
کیا بات ہے ماں آج تو بہت بڑے بڑے لوگ ہمارے گھر آئے ہیں ۔۔
امجد کے طنز پر شمائلہ بیگم مسکرایئ مگر مہناز گردن جھکا گی۔۔
مہناز کی جھکی گردن دیکھ کے امجد کے لب دیھر سے مسکرائے بشک امجد ایک خوبصورت لڑکا تھا کوئی بھی لڑکی اسکا ساتھ آسانی سے قبول کر سکتی ہے مگر مہناز کو وہ بچپن سے ہی ناپسند تھا اور وجہ تھی اس کا بے وجہ کا غصہ کرناہے اس کو تنگ کرنا۔۔
ہاں اتو گئی ہے مگر اب تم امجد اس کو تنگ نہیں کرنا۔۔
ارے میری کیا مجال ہے کے میں اپکی شہزادی کو تنگ کرو۔۔
مجھے تو لوگوں نے خاماخائ میں بدنام کیا ہوا ہے ۔۔
اچھا اچھا باتیں نہیں بناو ماں کی یاد اگئ تمہیں۔۔۔؟؟
ارے ماما اپکو تو پتہ ہے میرے کام کا۔
ان دونوں کو باتیں کرتا دیکھ مہناز کمرے سے جانے لگی جب امجد نے اس سے کہا۔
۔اج ا ہی گئ ہو تو اپنے ہاتھ کی چائے پلا دو۔۔
امجد کے کہنے پہ مہناز چاہ کر بھی مامی کے سامنے انکار نہیں کرپائ اور چائے بنانے کچن میں چلی گئ۔۔
تھوڑی دیر بعد امجد بھی اپنے کمرے کی طرف جانے لگا جب اس نے کچن کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا۔۔
مہناز چائے میرے کمرے میں لے انا ۔۔
ماما ارام۔کررہی ہیں تو چائے میں اپنے کمرے میں ہی پی لونگا۔۔۔
امجد کی بات سن کے مہناز کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے مگر اسنے کافی ہمت کرکے چائے بناکے امجد کے کمرے کا رخ کیا۔
دروازہ ناک ہوا تو مہناز کو اندر انے کی۔اجازت ملی۔۔
مہناز کو اندر اتا دیکھ امجد جو کال پہ بات کرہا تھا اس نے کال کٹ کی اور مہناز سے چائے لے کے ایک گھونٹ پی
چائے کا گھونٹ پیتے ہی امجد نے مسکرا کے کہا۔۔
واقعی مہناز چائے تم لاجواب بناتی ہو۔۔
امجد کی کسی بات کا جواب مہناز نے نہیں دیا اور وہ خاموشی سے کمرے سے جانے لگی۔۔
جب امجد نے اچانک اسکا ہاتھ پکڑا۔۔
امجد کا ہاتھ پکڑنا تھا کے مہناز رونے لگی۔۔
ارے یار بات کرنی ہے تم سے جبھی ہاتھ پکڑا ہے تمہارا کچھ غلط نہیں کررہا تمہارے ساتھ اتنا تو بھروسہ رکھو۔۔
بیٹھو یہاں امجد نے اسے کندھے سے تھام کے اپنے سامنے صوفے پہ بیٹھایا اور خود اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے کہا۔۔
جانتا ہو میں تمہیں پسند نہیں مہناز مگر مجھے تم پچپن سےپسند ہو بلکے اب تو تم سے محبت کرنے لگا ہو۔۔
میں یہ بھی جانتا ہو کے تمہیں عثمان پسند ہے اور شاید اس سے محبت بھی ہو۔۔
مگر مہناز وہ تو ایسا گیا کے اس نے پلٹ کر تمہاری خبر بھی نہیں لی۔۔
مہناز مجھ میں بہت برائیاں ہے ہر عیب ہے مگر میری محبت میں کوئ خامی کوئ عیب نہیں میں تمہیں بہت چاہتا ہو تھک گیا ہو اپنی زندگی سے میں مہناز ایک بار میرا ساتھ قبول کرلو ہر برا کام ہری برائ اپنے اندر سے جڑ سے ختم کردونگا تمہاری قسم یہ کہہ کے امجد نے مہناز کے سر پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھائ مگر امجد یہ دیکھ کے کافی حیران ہوا کے اسکا ہاتھ رکھنے پہ مہناز نے کوئ ریکٹ نہیں کرا۔۔
اور مہناز وہ تو امجد کا یہ روپ دیکھ کے بلکل ساکن اتنی ساکن کے کب امجد نے ہاتھ بڑھا کے اسکے انسووں صاف کیے اسے پتہ نہیں۔چلا۔
ایک بار میرا ساتھ قبول کرلو مہناز وعدہ ہے تم سے تمہارا بھروسہ کبھی نہیں توڑنگا۔۔
مجھے گھر جانا ہے امجد۔۔
مہناز کے بولنے پہ امجد نے ایک لمبی سانس لی اور اسکے سر سے ڈھلکتا ڈوپٹہ اسے اڑایا اور کہا۔۔
اجاو میں ویٹ کررہا ہو گاڑی میں۔۔۔
پورے راستے وہ دونوں خاموش رہے مہناز کے دل دماغ میں امجد کی باتیں گونج رہی تھی۔۔گھر کے باہر گاڑی رکتے ہی وہ ہوش میں ائ اور ایک نظر امجد پہ ڈال کے وہ گاڑی سے اترنے لگی جب امجد نے ایک بار پھر روک کے کہا۔
میں بھیجو پھر ماما کو گھر تمہارے ؟؟
مہناز نے ہاں میں گردن ہلائ اور تیزی سے گاڑی سےنکل کے گھر میں داخل ہوگئ۔۔
مہناز کا ہاں کہنا کے امجد نے اتنی تیزی میں گاڑی اگے بڑھائ کے اسکا بس نہیں چلا رہا تھا کے بس کسی طرح سے یہ رات گزرے اور صبح اجائے ۔
جاری ہے
