Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Last Episode ( part 1)
Rate this Novel
Last Episode ( part 1)
کہاں گئ میری وائف؟
آپ لوگ جانتے نہیں مجھے میں آپکے ہسپتال پہ کیس کردونگا ۔۔
سر سی سی ٹی فوٹیج میں آپ دیکھ سکتے ہیں آپکی وائف خود ہسپتال سے بھاگی ہے۔۔
وہاں کے ڈاکٹر نے انگلش میں بات کرتے ہوئے کہا۔۔
پولیس آفیسر کو ڈاکٹروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھاتے ہوئے کہا ۔۔
سوری سر آپکی وائف اپنی مرضی سے گئ ہے وہ بھی کھڑکی سے کودھ کے اپ چاہیے تو کمپلین کروا سکتے ہیں مگر اب آپ ہسپتال والوں کو قصور وار نہیں بول سکتے۔۔
حاشر کا بس نہیں چل کے آسمان چیر کے یہ پھر زمین کھود کے فلک کو نکال لے۔۔
حاشر چپ چاپ وہاں سے چلا گیا مگر جاتے جاتے اپنے ایک دو خاص بندوں کو مس روزی کے پیچھے لگاگیا۔
!!!!!!!!
زمان کی اصلیت جاننے کے بعد تاشہ نے خود کو کمرے میں بند کرلیا نہ کچھ کھا رہی تھی نہ پی رہی تھی گھر کے تمام افراد ہی دروازہ کھلوانے کی کوشش کر کے تھے۔۔
عمیر کی اصلیت جاننے کے بعد عمر کو تھوڑی شرمندگی ہوئ مگر غلط وہ بھی نہیں تھا۔جسطرح کے معاملہ اسکے سامنے آیا تھا وہ اپنی جگہ صحیح تھا۔۔
مگر عمر کو احساس ہوا اسنے جوان جہاں بیٹے پہ ہاتھ اٹھایا۔عمیر
جنت اور حمزہ سے معافی مانگ چکا تھا مگر انہوں الٹا عمیر کا شکریہ ادا کیا کے انہوں نے انکی بیٹی۔کو بچایا۔۔
اقراء عمیر کے کمرے میں آئ تو وہ آنکھیں موندیں لیٹا تھا۔۔
عمیر؟؟
اقراء کی آواز پہ عمیر نے فورا آنکھیں کھول کے اقراء کو دیکھا اور پوچھا۔۔
ماما کوئ کام تھا تو مجھے بلالیتی؟؟
نہیں کوئ کام نہیں تھا بس کچھ باتیں کرنے آئ تھی تم سے۔۔
جی جی ماما بولے۔۔
کیا تم واقعی میں تاشہ سے محبت ۔۔۔اگے کی بات بولتے بولتے اقراء رک گئ۔عمیر خاموشی سے اقراء کی گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گیا۔۔
ماما محبت نہیں عشق ہے آپکی بہو سے پاپا کے سامنے تاشہ کے سامنے تایو کے سامنے میرا گڑگڑانا ڈرامہ نہیں تھا۔۔
میں سچ میں اپنا نام اسکے نام سے الگ کرنا نہیں چاہتا۔۔
اگر صوفیہ نہیں آتی ماما تو میں ساری زندگی یہ الزام اپنے سر لے لیتا میں اس سے نکاح زمان سے بچانے کیلیے تو کیا کیا مگر میرا پنا مفاد بھی تھا پتہ نہیں دوبارہ ایسا موقع ملتا یہ نہیں۔۔یہ بول کے عمیر نے اقراء کو مسکرا کے دیکھا۔۔
۔
عمیر نے اقراء کی گودھ میں سر رکھے رکھے اپنے دل کی ساری باتیں اس سے شیئر کردی۔۔
جب اتنی محبت ہے اس سے تو اتنے بے خبر کیسے ہو؟
محبت کرنے والے اپنی محبت سے بے خبر نہیں ہوتے …
کیا مطلب آپکا ماما؟؟
جب سے زمان کی اصلیت تاشہ کو پتہ چلی ہے جب سے کمرے میں بند ہے نہ کھا رہی نہ پی رہی ہے دروازہ بھی نہیں کھول رہی۔
کیا اور آپ مجھے اب بتارہی ہیں؟؟
میں سمجھی تم اب جب اصلیت کھل گئی ہے زمان کی تو اسے اگنور ۔
اوہ۔کم۔اون۔ماما محبت کرتا ہو اس سسے مرسکتا ہو پر تاشہ سے غافل نہیں ہوسکتا ابھی درست کرتا ہو اسکا دماغ ۔۔
کھانا لے کر آئے اپ۔۔۔
یہ بول کے نومیر کمرے سے باہر چلا گیا۔
دروازہ کھولو تاشہ؟
جاؤ یہاں سے ۔۔
تم شرافت سے دروازہ کھول رہی ہو یہ پھر میں کھولو اور اگر میں نے دروازہ کھول لیا تو جو دھمکی نکاح سے پہلے دی تھی۔اس پہ آج عمل کرکے دیکھاونگا۔۔
سارے گھر کے میمبرز یہ جنگ کافی انجوائے کررہے تھے۔۔
ٹھیک ہے نہیں کھولو دروازہ شاید تم چاہتی ہو کے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی عمیر کی بات پوری بھی نہیں ہوئ تھی کے کلک کی آواز کیساتھ کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔
عمیر نے اپنے پیچھے ہاتھ کرکے ویکٹری کا نشان بنایا۔۔
سب کے چہرے پہ دبی دبی سی ہنسی تھی۔۔
عمیر اندر داخل ہوا تو کمرے میں گھپ اندھیرا تھا ۔
صوفے پہ وہ گردن جھکا کے بیٹھی تھی عمیر نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور آرام سے چلتا ہوا تاشہ کے پاس پہنچ کے اسے پکارا۔۔۔
تاشہ؟؟
عمیر کی آواز پہ اسنے گردن اٹھا کے اسے دیکھا ۔۔
اسکی حالت دیکھ کے عمیر کا دل کٹ کے رہ گیا بکھرے بال آنکھوں نیچے رات بھر جاگنے اور رونے کی وجہ سے ڈارک سرکل پڑھ چکے تھے عمیر کو وہ کافی بیمار لگ رہی تھی ۔
کیا دیکھنے آئے ہیں آپ ؟؟.
اپنی جیت کا اعلان کرنے آئے ہیں ۔۔
یہ پھر یہ بتانے آئے ہیں کے میں آپکی ملکیت ہو اب ۔۔
عمیر اسکے سامنے اسکے سارے الزام سن رہا تھا۔۔
یہ بول کے تاشہ رونے لگی۔
جیت گئے آپ ۔
آپ منائے اپنی جیت کی خوشی بتائے کیسے منائینگے۔۔
ایک منٹ لیٹ جاتی ہو ۔۔
یہ بول کے تاشہ اپنا ڈوپٹہ اتار کے پیڈ پہ لیٹنے کیلیے جانے لگی جب عمیر نے اسکا ہاتھ تھام لیا نیچے گرا ڈوپٹہ اٹھایا اور اسے پہناتے ہوئے کہا۔۔
بیشک من چاہی محبت پلس عشق اور بیوی کے روپ میں اگر سامنے ہو تو واقعی اس مرد کو اپنی جیت کا جشن منانا چاہیے۔۔
مگر جب اپ ایک غلط آدمی کی زندگی میں شامل ہونے سے بچ جاؤ تو اللہ کا۔شکر ادا کرنا چاہیے۔۔
یہ بول کے عمیر نے اسے پانی کا گلاس تھاما جو اس نے پینے سے انکار کردیا۔۔
مجھ سے نفرت ہے دور رہ تو رہا ہو تمہاری نظروں سے مگر اپنے ماں باپ کو تو اذیت نہ دو ۔۔
میرے کیے کی یہ زمان کے دھوکے کی سزا ان دونوں کو مت دو۔۔۔۔
کمرے کی ناکک پہ عمیر کی باتوں کا تسلسل توٹا۔۔
دروازہ کھلتے ہی جنت اور اقراء کھانے کی ٹرے لے کر اندر آئ۔
عمیر نے ان سے ٹرے لے کر تاشہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔۔
زندگی اللہ کی امانت ہے اسے کسی بھی کسی قسم کی تکلیف بوجھ کے دینے کا ہمیں حق نہیں۔۔
پلیز کھانا کھالو خود کے لیے نہ صحیح تو اپنے ماں باپ کی خوشی کی لیے۔۔
عمیر یہ بول کے جانے لگا تاشہ جو چپ چاپ خاموشی سے عمیر کی ساری باتیں سن رہی تھی بول پڑی۔۔
مجھے آپکے ساتھ نہیں رہنا؟؟
عمیر سن کے اسکے قریب آیا اور اپنا ایک ہاتھ اسکے چہرے پہ رکھ کے کہا۔۔
فلک آپی ساتھ خیریت سے واپس گھر اجائے پھر جو تم بولوگی وہی ہوگا۔۔مجھ سے تعلق ختم۔کرنا چاہوگی بنا کوئ ضد بحس کیے میں تم سے علیحدگی اختیار کرلونگا
ابھی سب ویسے ہی بہت ٹینشن میں ہے پلیز ۔۔
یہ بول کے عمیر کمرے سے باہر جانے لگا جب دوبارہ تاشہ نے کہا۔۔
اگر آپ مکر گئے اپنی بات سے ۔۔
تمہاری قسم نہیں مکرونگا۔۔
جو تم بولوگی وہی ہوگا ۔۔
تمہارا ہر فیصلہ فلک آپی کے آنے کے بعد مانا جائے گا اور کوئ بھی تمہارے اس فیصلہ سے انکار نہیں کرے گا۔۔
جنت اور اقراء نے پہلے جاتے عمیر کو دیکھا اور پھر خاموشی سے کھانا کھاتی تاشہ کو۔؟
اقراء اور جنت دونوں نے ہی انکے حق میں بہتری کی دعا مانگی۔۔
!!!!!!!!!!!!
واہ بھئ واہ دھوپ کے مزے لیے جارہے ہیں ۔؟؟
تیمور نے ثانیہ کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں بھئ آج مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔۔
ہاں آج ٹھنڈ ہے بھی۔۔۔
تم بتاؤ آج عافیہ تمہارے ساتھ نہیںں۔۔
پتہ نہیں نہ میرے کال اٹھارہی ہے نہ یونی آرہی ہے سوچ رہا ہو ہو اسکے گھر کا چکر لگالو۔۔
آج بھی یونی نہیں ائ۔۔
مگر۔۔۔۔
ثانیہ بات بولتے بولتے رک گئ ۔
کیا مگر؟؟
تیمور نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا ۔
کچھ نہیں وہ میں کہہ رہی تھی میں زرا کینٹین جارہی ہو بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔
یہ بول کے ثانیہ اٹھ کے جانے لگی جب تیمور نے اسکا ہاتھ پکڑ کے خود بھی کھڑے ہوتے ہوئے ہوچھا۔۔
مگر کیا ثانیہ ؟
تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو ۔۔؟؟
تمہیں میری قسم سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے۔۔
عافیہ تمہیں دھوکا دے رہی ہے وہ یونی روز آرہی ہے اور روازنہ تم سے بچتی بچاتی عاقب کیساتھ ہوتی ہے اور آج بھی وہ یونی آئ ہے مگر اسٹور روم کی طرف گئ ہے عاقب کیساتھ۔۔
ثانیہ کی بات سن کے تیمور نے غصہ میں۔ اپنے مٹھیاں بند کری اور غصہ میں اسٹور روم کی طرف جانے لگا ۔
تیمور رکو میری بات سنو تیمور پلیز۔۔۔
ثانیہ اسکے پیچھے تیز تیز ڈور رہی تھی مگر تیمور رکنے کا۔نام ہی نہیں کے رہا تھا۔۔
اسٹور روم کے پاس پہنچ کے تمیور نے عافیہ کو کال۔ملائ تو اسکے موبائل رنگ کی آواز اسٹور روم کے اندر سے آنے لگی۔۔
تیمور نے اسٹور روم کے ادھ کھلے دروازہ سے اندر جھانکا ۔۔
مگر اندر کا نظارہ دیکھ کے اسکے اوسان خطا ہوگئے اسےاپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا ۔۔
بی خودی کے عالم میں اسکا بیگ چھوٹ کے نیچے گر گیا۔۔
ثانیہ نے تیمور کے دیور سے نیچے بیٹھتے چلے وجود کو سنبھالا۔
وہ بلکل سن تھا اور ثانیہ اسے افسوس ہورہا تھا اپنے اگر بولنے پہ۔۔
اتنے میں اسٹور کا دروازہ کھلا اور عاقب اور عافیہ روم سے باہر نکلے مگر جب عافیہ نے زمین پہ بیٹھے تیمور کو دیکھا تو وہ سٹپٹا گئ اور وہ ہی نہیں کچھ ایسا ہی حال عاقب کا بھی تھا۔۔
عافیہ کیلیے تیمور ایک کریڈٹ کارڈ تھا ۔محبت کے نام پہ وہ اسے پچھلے دو سالوں سے بیوقوف بنا رہی تھی۔۔
خود بھی عیاشی کرتی عاقب کو بھی کراوتی۔۔۔
عاقب کے اشارہ کرنے پہ عافیہ نے جیسی تیمور کو آواز دے کے اسے چھونا چاہا۔۔
ایک زناٹے دار تھپڑ عافیہ کا کان سن کرگیا۔۔
ثانیہ کا ہاتھ بے ڈھرک اسکے منہ پہ گیا ۔
تیمور نے عافیہ کی گردن پکڑی اور کہا۔۔
دیر آئے پر درست ائے۔۔
جیسے کو تیسا ٹکراتا ہے۔۔
دوبارہ یہ چہرہ مجھے مت دیکھانا عافیہ ورنہ ساری زندگی اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھنے کیلیے ترسوگی۔۔۔
یہ بول کے تیمور نے اپنا بیگ اٹھایا اور وہاں سے چلا گیا۔۔
ثانیہ بھی اسکے پیچھے بھاگی مگر آج اسکی اسپیڈ اتنی تیز تھی کے ثانیہ بھی اسکے قدم سے قدم ملا نہیں پائ۔۔
!!!!!!
آج تین دن ہوگئے تھے اسے اسامہ کے گھر ائے۔۔
جتنا محفوظ وہ اپنے آپکو اس گھر میں کررہی تھی اتنا تو اپنے شوہر کے گھر میں بھی نہیں کرتی تھی۔۔
اسکی ضرورت کی ہر چیز روزی نے اسے لاکر دی تھی ۔۔
اسامہ سے کبھی کھانے کی ٹیبل پہ ٹکراؤ ہو بھی جاتا تو اسکی نگاہیں ہمیشہ جھکی ہی ہوتی۔۔
فلک کے دل میں یہ سوال مچلتا رہتا ۔۔
کیوں کیوں ایک انجان شخص نے اسے بنا مطلب کے پنا دی۔۔
اسکی حفاظت کیلیے ہر وقت چوکنا رہتا۔۔
اج بھی فلک انہیں سوچوں میں تھی کے اسکے کمرے کا دروازہ ناکک ہوا۔۔
اجائے۔۔۔
اجازت ملتے ہی اسامہ کمرے میں آیا اور کہا۔۔
دراصل مجھے اپنے چند دوستوں کو لینے ائیرپورٹ جانا ہے۔۔
جب تک میں نہ آجاؤ آپ کمرے سے باہر نہیں نکلیے گا ۔۔
روزی کو میں انفارم کرچکا ہو کوئ بھی آئے گیٹ پہ اپنے گیٹ نہیں کھولنا میں انشاللہ آدھے گھنٹے میں اجاونگا۔۔
یہ بول کے اسامہ مڑنے لگا جب پیچھے سے فلک نے کہا۔۔
ایک بات پوچھو آپ سے؟؟
اسامہ نے بنا پلٹے کہا
پوچھے؟۔
میں آپکے لیے انجان ہو پھر بھی اپنے مجھے بچانے کا رسک لیا یہ جانتے ہوئے بھی کے جس دن حاشر نے مجھے ڈھونڈ لیا اس دن وہ آپکو بھی نہیں چھوڑے گا۔۔ایک۔انجان لڑکی کیلے اپنے اپنی جان کا رسک کیوں لیا۔۔؟؟
کچھ رشتوں کے نام نہیں ہوتے فلک پھر بھی وہ نبھائے جاتے ہیں ۔میں بھی یہ ہی کررہا ہو اور دوسری بات آپ میرے لیے غیر نہیں۔۔
اسامہ کے جاتے ہی فلک سوچ میں پڑ گئ اتنا سوچنے پہ بھی وہ اسامہ کی باتوں کا مطلب سمجھ نہیں پائ۔۔
!!!!!!!!!
گڈ لک فلک آپی کو لے کر انا۔۔۔
عمیر نے ان سب سے گلے ملتے ہوئے کہا۔۔
تیمور کی طرف بڑھتے ہوئے وہ تھوڑا گھبرایا کے آیا وہ اسے گلے لگائے گا بھی نہیں۔۔
مگر اکثر ہماری نگیٹویٹی ہمیں ہمارے بہت سے رشتوں سے دور لیجاتی ہے ۔
عمیر سوچ ہی رہا اور ادھر تیمور اسکے گلے لگ گیا تھا۔۔
خیال رکھنا تاشہ کا خوش قسمت ہے وہ جیسے اتنا چاہنے والا ساتھی ملا۔۔بیوقوف ہے مگر ڈرتی آج بھی ہے تم سے تیمور نے یہ بول کے عمیر کو آنکھ ماری۔۔۔
تیمور کی بات سن کے عمیر نے اسے اور زور سے گلے لگایا۔
سبھی نکل چکے تھے امریکہ کیلیے۔۔۔
نومیر اور لائبہ کی آنکھیں اب اپنی بچی کی واپسی کی راہ میں بچھی تھی۔۔
یہاں کی بلکل فکر مت کرنا مگر شاہ کو چھوڑنا نہیںں۔۔
عفان کے حوصلہ پہ وہ پانچو ائیرپورٹ کیلیے نکل گئے۔۔
!!!!!!!!
اسامہ ان لوگوں کو اپنے ساتھ اسی گھر میں کے آیا تھا جہاں فلک تھی۔۔۔
کیسا رہا سفر۔۔
اسامہ نے سب کو کافی سرو کرتے ہوئے کہا۔۔
بس ٹھیک تھا بس دعا ہے واپسی کا سفر بھی ہمارا خوشگوار ہو۔۔
احسان کی بات پہ اسامہ نے نہ سمجھیں کی حالت میں۔ ان پانچوں کو دیکھا اور کہا۔۔
مطلب میں سمجھا نہیں۔۔
اسامہ کے کہنے عثمان نے ایک تصویر اسامہ کے سامنے رکھی ۔
جیسے دیکھ کے اسامہ پہلے چونکا اور پھر ان پانچو کو دیکھ کے کہا۔۔۔
یہ۔۔؟
یہی شاہ ہے اسامہ جو حاشر بن کے ہم سے ہماری بہن لے گیا شادی کرکے۔۔احسان نے مایوسی سے جواب دیا ۔
فلک اپکی بہن ہے احسان۔۔۔؟؟
تم انکا نام جانتے ہو مطلب تم فلک آپی کو جانتے ہو۔۔؟
زریاب کے سوال پہ اسامہ نے گردن ہلائی اور کہا۔۔
فلک کو میں بہت پہلے سے جانتا ہو کیسے جانتا ہو یہ سوال مت پوچھنا ۔۔مگر مجھے یہ نہیں پتہ تھا کے وہ تمہاری بہن ہے۔۔
شاہ کہاں ہے یہ بھی شاید مجھے پتہ ہے۔۔
ہاں مگر فلک ابھی بلکل سیو ہے۔۔
کہاں کیسے؟؟؟
دلنشیںن نے بے چین ہوکے پوچھا۔۔۔
دلنشیںن کے پوچھنے پہ اسامہ نے شروع سے لے کر ابھی تک سب ان سب کا بتایا۔
احسان اسامہ کے گلے لگ کے روپڑا۔۔
میں تمہارا یہ۔احسان کبھی نہیں بھولنگا۔۔
کہاں ہیں فلک اپی؟؟
اوپر والے کمرے میں۔۔
وہ۔سب ہی تقریبا بھاگتے ہوئے اوپر پہنچے۔۔
فلک کے کمرے کا دروازہ بجایا۔
کون ؟؟
میں ہو فلک اسامہ۔۔۔
اسامہ کی آواز پہ فلک نے گیٹ کھولا ۔۔
مگر گیٹ کھلتے ہی جب فلک کی نظر اپنی بھائ پہ پڑی تو وہ شاکڈ سی کیفیت میں آگے بڑھ کے اپنے بھائ کو چھونے لگی ۔۔
فلک ۔۔احسان نے جیسی ہی فلک کو پکارا ۔۔
وہ وہی احسان کی باہنوں میں بیہوش ہوگئ۔۔۔
