Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 54 (part 2)
Rate this Novel
Episode 54 (part 2)
موبائل بجنے سے عثمان کی آنکھ کھلی۔۔۔
موبائل پہ کیپٹن اسامہ کی کال آرہی تھی ۔۔
عثمان نے جلدی سے کال پک کرکے انکی ڈیٹیل سنی اور ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔۔
اسامہ امریکہ میں موجود شاہ کا پتہ اسکی فیملی کا پتہ ڈھونڈنے کے مشن پہ تھا۔۔
وہاں پر بھی اسامہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔
شاہ کی ایک ماں ہی نے تھی ۔۔
جو کبھی کبھی اپنی ہوش وحواس میں نہیں رہتی تھی ۔
باپ نے اسکی خودکشی کری تھی ۔
شاہ کا جو گھر کا ایڈریس ٹریس ہوا تھا وہ بھی غلط تھا ۔۔
شاہ نے بہت کمال مہارت سے امریکہ کے ہاوسنگ سسٹم کو بھی۔ مات دی ہوئ تھی۔۔
اوکے کیپٹن اسامہ اب دیکھے ہماری قسمت میں کب اب بیغیرت کو پکڑنا ہے۔۔
دونوں نے درمیان باتیں طویل ہوئ۔۔
جی جی کل ہے شادی۔
جی جی بس اچانک ہوگئ ہماری تو۔۔
عثمان اسامہ کے سوالوں کے جواب دے کی فارغ ہوا۔
ابھی وہ مہناز کو آواز دیتا کے واش روم کا دروازہ کھلا اور ڈارک بیلو کلر کے سوٹ میں مہناز نہا کے نکلی ۔۔
نکھری نکھری سی مہناز کانپتی ہوئ باہر ائ۔۔
کیا ہوا ٹھنڈ لگ رہی ہے؟
ہاں مانی پانی کافی ٹھنڈا تھا۔
۔تو گیزر اون کرلیتی۔۔
میں بھول گئ نہ جب نہانے گھس گئ جب یاد ایا۔۔
یہ ساری باتیں مہناز بنا عثمان کی طرف دیکھے بول رہی ۔۔
عثمان اسکی شرم و حیا کو کافی انجوائے کررہا تھا اسے پتہ تھا مہناز ابھی اسکی طرف بلکل بھی نہیں دیکھے گی۔۔
کل رات کی مہناز کی سپردگی نے عثمان کو نہال کردیا تھا ۔
ادھر عثمان نے بھی مہناز پہ اپنے عمل سے یہ بات ظاہر کردی تھی کے واقعی مہناز اسکا عشق ہے۔۔۔
مہناز کانپتی کانپتی ڈریسنگ کے پاس جارہی تھی جب عثمان نے آواز دی۔۔
مہناز ادھر او۔
عثمان کے بلانے پہ مہناز نے بنا اسکی طرف دیکھے نفی میں گردن ہلائ۔۔
تم آرہی ہو یہ میں او پھر اور جب میں آیا تو تمہیں ایک بار پھر نہانا پڑ جائے گا۔۔
عثمان کی شرارتی جملے پہ مہناز نے اسے گھورا اور دھیرے دھیرے چل کے عثمان کے پاس ائ۔۔
عثمان جو بنا شرٹ کے کمفرٹر میں لیٹا تھا۔۔
مہناز کے پاس آنے پہ تھوڑا سا کمفرٹر اٹھایا اور مہناز کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔
مہناز دھیرے سے کمفرٹر کے اندر گھسی عثمان مہناز کے گھستے ہی اسے اپنے سینے سے لگاکے کمفرٹر پورا اوڑھ لیا۔۔
مہناز کو ایک سکون سا ملا اسکے سینے میں چھپ کے اور کیوں نہیں ملتا اب وہ اسکا شریک حیات جو تھا اسکا محافظ جو تھا اسکی محبت جو تھا۔۔
عثمان نے اسے بھر پور طریقے سے اپنے سینے میں چھاپا اور اسکی کمر سہلانے لگا ۔۔
مجھے دیکھ کیوں نہیں رہی۔۔؟؟
دیکھ تو رہی تھی میں۔۔۔
مہناز کی بات سن کے عثمان نے اسکا چہرہ اوپر کیا اور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔
عثمان نے بہت عزت اور احترام سے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
جزبات محبت کے تحت مہناز نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
عثمان نے مہناز کے چہرے بال اسکے کان کے پیچھے کیے اور اسکا سر سہلاتے ہوئے پوچھا۔۔
ویسے بتایا نہیں مجھے ؟
کیا؟
دیکھ کیوں نہیں رہی تھی میری طرف یہ بول کے عثمان مسکرانے لگے۔۔
مہناز نے عثمان کی بات پہ اسکے سینے پہ کاٹا اور کہا ۔
بس نہیں دیکھا میری مرضی۔۔۔
اچھا جی ۔۔
اچھا بات سنو آج فلک آپی کی برات میں کیا پہنوگی۔؟
پتہ نہیں ڈیسائیڈ نہیں کیا۔۔
مانی؟
ہممم۔۔
دلنشین بھی انڈر کور آفیسر ہے۔؟
ہاں بھئ اور ایسی ویسی نہیں جب آفیسر کی ڈیوٹی پہ ہوتی ہے تب اسکا غصہ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔۔
اب کی بہت اچھی دوست ہے نہ؟
نہیں میری جگر ہے یار ہے میری۔۔۔
مگر تم۔تو عشق ہو دوستی کا اصول ہو میرا۔۔
مہناز کے لب کھل کے مسکرائے تھے عثمان کے آخری جملے پہ دلنشین آن دونوں کے دل میں ایک الگ مقام رکھتی تھی آج وہ دونوں ایک ہیں تو وجہ صرف دلنشین ہے اور یہ بات یہ دونوں جانتے تھے۔۔
مانی فریش ہو جائے مجھے بھوک لگی ہے؟؟
مانی جو کسی اور موڈ میں اس پہ جھکنے والا تھا اپنے ارادے ترک کرکے مہناز سے کہا۔۔
اوکے میڈم جیسی آپکا حکم ۔۔
یہ بول کے عثمان مہناز کے لبوں پہ جھک چکا تھا اپنی پیاس بجھاکے وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔
!!!!!!
یار ماما میری باری میں آپ ایسا کرتی ہیں اب مجھے بھی تو پالر جانا ہے میں کس کے ساتھ جاو؟۔
5 بج چکے تھے سب ہی پالر جانے کیلیے نکل چکی تھی۔۔
تاشہ جو کے سو کے اپنا وقت برباد کرچکی اب جنت کا دماغ خراب کررہی تھی ۔
تو کس نے کہا تھا کے سوجاو۔۔۔
اب کوئ بھی نہیں ہے گھر پہ کس کے ہاتھ بھیجو تمہیں۔
کیا ہوا بھابھی ؟
اقراء جو ماسی سے سب کے کپڑے ائرن۔کروا رہی تھی جنت کے غصہ کرنے پہ لانج میں آکے پوچھا۔۔
میڈم نے سو کے اپنی نیند پوری کرلی اب سب کاموں میں لگے ہیں ان میڈم کو اب پالر جانا ہے کس کے ہاتھ بھیجو۔۔
میں چھوڑ آتا ہو ہو تایو؟؟
عمیر کی آواز پہ سب ہی اسکی طرف متوجہ ہوئے سوائے تاشہ کے۔۔
عمیر کو آج تک پتہ نہہیں چلا کے یہ لڑکی جو اس سے اتنا ڈرتی تھی آج اس سے بنا خوف کے بات کیسی کرلیتی ہے۔
عمیر اپنے پاپا کے برینڈ انٹروڈیوس کروانے کیلیے کی بار ماڈلنگ کرچکا تھا۔۔
وہ گھر میں سب سے حسین لڑکا تھا یونی میں بھی کافی لڑکیاں اس سے دوستی کی خواہشمند تھی۔۔
ماڈلنگ ورلڈ میں بھی اسی سب سے خوبصورت کہا جاتا تھا مگر تاشہ کو وہ پسند نہیں پہلے پہل تو وہ اسکے کام بھی کردیتی تھی مگر اب بات تو بہت دور کی بات ہی اسکی شکل بھی نہیں دیکھتی تھی ایک یہ ہی بات تھی جس نے عمیر کو پاگل کرنا شروع کردیا تھا اور اب یہ پاگل مجاہد مینشن میں کیا طوفان لانے والا تھا یہ تو وقت ہی بتاتا۔۔
رہنے دیں میں ماما میں صنوبر کو بولتی ہو اپنے پالر میں میری بکنگ کرلے اور جاتے ہوئے مجھے لے جائے۔
یہ بول کے تاشہ اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ اور ہر بار کی طرح عمیر خالی اپنی مٹھیاں ہی بھینچ سکا۔۔
!!!!!!!!!!
ساتھ خیریت سے فلک حاشر کیساتھ رخصتِ ہوگئ سب ہی آبدیدہ تھے مگر فلک کی آنکھ سے ایک آنسو نہیں گرا اسے لگا اسے حاشر مل گیا اور کسی کی ضروت نہیںںں۔
پوری رات فلک دلہن بنی حاشر کا انتظار کرتی رہی۔۔
ہزاروں خواہشیں ہزاروں خواب لے کر وہ دلہن بنی بیٹھی مگر اسکے سارے خواب چکنا چور ہوچکے تھے ۔۔
پوری رات اسنے آنکھوں میں کاٹ کے گزرای۔۔۔
صبح کی کرنیں نمودار ہوئے تو حاشر نے کمرے میں قدم رکھا۔۔
سامنے ہی اسے وہ ظلم حسینہ دیکھی دلہن کے لباس میں سجی سنوری سورہی تھی ۔
حاشر کے لب دل کھول کے مسکرائے اس نے فلک کے پاس بیٹھ کے اسکے لبوں کو چھو لیا۔۔
فلک ایک دم ہڑبڑا کے اٹھی ۔۔
اپنے سامنے حاشر کو دیکھ کے فلک نے اپنا رخ موڑا اور چینج کرنے جانے لگی مگر ناکام ہوگئی ۔۔
کیونکہ حاشر اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔۔
کیا بات ہے ابھی تو میں نے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں اور میڈم چلی چینج کرنے۔۔۔
آپ جائے نہ آپکو کیا فکر ہے کے کوئ دلہن بنی آپکی راہ دیکھ رہی ہے ۔۔
فلک نے کافی غصہ میں کہا۔۔۔
ارے ارے میری رانی ناراض ہوگئ جانی کام تھا بہت ارجنٹ کام تھا یقین مانو ورنہ ایسے کوئ جاتا ہے اپنی ویڈنگ نائٹ اسپوئل کرکے۔۔
حاشر نے اسے سینے سے لگا کے کہا۔۔
حاشر ایسا کونسا کام تھا ؟؟
یار دادی کی طبیعت بہت خراب ہوگئ ہے کل رات ۔
ماما اور پاپا تو لندن چلے بھی گئے ہیں کل شام میں ہماری بھی فلائٹ ہے ۔
کیا کل شام کی ؟
حاشر کل میرے بھائ کی برات ہے اور ہمارا ولیمہ میرے بھائ کا ولیمہ یہ کیا بول رہے ہیں ہم ایسے کیسے جاسکتے ہیں۔۔
تمہیں ان سب کی پرواہ میری دادی کی نہیں ۔
میری دادی زندگی اور موت کے درمیان ہے اور تمہیں ولیمہ براتوں کی لگ رہی ہے۔۔
میرا ایک ہی بھائ ہے حاشر آپ یہ تو سوچے۔۔
ہاں تو برات لیجانا نہ اپنے بھائ کی میں نے کب روکا ہے ۔
اور اگر نہیں جانا میرے ساتھ تو ٹھیک ہے میں کل اکیلے چلا جاؤنگا جب تمہارا تمہاری فیملی سے پیٹ بھر جائے تو آجانا میں ویزا لگوا دوںگا۔۔
اب لائٹس بند کرو سونا ہے مجھے اور ہاں اپنے گھر والوں کو یہ ناشتے کی فضول سی رسم کا منع کردینا۔۔
حاشر کروٹ لے کر سوچکا تھا اور ادھر فلک اپنا بے جان وجود گھسیٹتے ہوئے واش روم چلی گئ ئ۔۔
!!!!
دلنشین اور زرا پہ دلہن بن کے کمال کا روپ آیا تھا ۔
تو زریاب اور احسان بھی کسی سے کم نہیں لگ رہے تھے۔۔
عثمان نے دوست ہونے کیساتھ ساتھ ایک بھائ کا فرض بھی نبھایا۔۔
دلنشین کے سر پہ قرآن رکھ کے اسے رخصتِ کرا۔۔
دونوں دلہنیں رخصت ہونے لگی۔۔
جب احسان نے حاشر سے کہا۔۔
حاشر بھائ آج کی رات فلک کو چھوڑ دے کل ولیمہ کرکے اجائے گی ۔
احسان اپنی بہن سے پوچھ لو کیا چاہتی ہے وہ۔۔
فلک اپنے بھائ کو بتا کے آجانا میں گاڑی میں ویٹ کررہا ہو۔۔
حاشر کا روڈ رویہ فنکشن میں ہر کسی نے نوٹ کیا تھا نومیر کو تو وہ ویسے ہی ناپسند تھا اسنے اسے برداشت کیا تھا تو صرف اپنی بیٹی کی وجہ سے۔۔
حاشر کے جانے کے بعد فلک نے انہیں حاشر کا پلین بتایا جسے سن کے سب ہی۔ خاموش ہوگئے۔۔
فلک نے ایک نظر اپنے گھر والوں کو دیکھا احسان کے گلے لگی ماں کے گلے لگی نومیر کے گلے لگنے لگی تو نومیر نے اسے روکا بس سر پہ ہاتھ رکھ کے آگے بڑھ گیا۔۔
فلک آنکھوں میں انسو لیے حاشر کیساتھ چلی گئ۔۔
!!!!!!!
دلنشین گھونگھٹ ڈال کے بیٹھی تھی جب دروازہ کھول کے زریاب اندر ایا۔
دلنشین نے روبرو بیٹھ کے اسنے اسکا گھونگھٹ اٹھایا اور کہا۔۔
ماشاءاللہ ۔۔
بہت پیار سے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
دلنشین نے بھی مسکرا کے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ کی رنگ منہ دیکھائ میں دلنشین کو پہنائ۔۔
زریاب تھوڑا پریشان تھا مگر اس نے دلنشین پہ ظاہر نہیں کیا مگر دلنش سمجھ گئ اور پوچھ بیٹھی۔۔
فلک آپی کی وجہ سے پریشان ہو؟؟
ہاں دلنشین حاشر بھائ اچانک کیسے روڈ ہوگئے۔۔۔
یار انکی دادی کی طبیعت بہت خراب ہے فلک آپی بتا رہی تھی ۔
تم پریشان نہ ہو وہ جلد واپس آجائیں گی۔۔
دلنشین کی بات پہ زریاب نے مسکرا کے اسکے لبوں کو چھوا ۔
آہستہ آہستہ زریاب نے اسے جیولری کیساتھ ساتھ دلہن کے ہیوی ڈریس سے بھی آزاد کیا۔
اب دلنشن نارمل سی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں تھا۔۔
زریاب کی آنکھوں کا پیغام دلنشیںن سمجھ چکی تھی ۔۔
زریاب نے آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا اور دلنشین پہ جھک گیا۔۔
!!!!!!
زارا کی آنکھ دروازہ کھلنے پہ کھلی۔۔
کافی دیر سے وہ احسان کا ویٹ کررہی تھی جو فلک کو سی اوف کرنے ائیر پورٹ گیا تھا۔۔
اسلام و علیکم۔۔
احسان کے سلام پہ زارا نے سر ہلا کے جواب دیا۔۔
احسان نے اپنی شیروانی اتاری اور آکے زارا کی گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گیا ۔
زارا نے جھک کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے اور اسکے بال میں انگلیاں چلانے لگی۔۔
فلک آپی جلدی اجائینگی ۔۔۔احسان۔۔۔
میرا دل بہت گھبرا رہا ہے زارا ۔۔
فلک آپی کی طرف سے۔۔۔
حاشر بھائ ان سے بہت محبت کرتے ہیں تم پریشان مت ہو۔۔
زارا کی بات پہ احسان اسکی گودھ سے اٹھا اور سائیڈ ٹیبل پہ سے ایک باکس اٹھا ۔۔
جسمیں خوبصورت سے گولڈ کے کنگن تھے۔۔
احسان نے زارا کو کنگن پہنائے اور اسکے دونوں ہاتھ چوم لیے۔۔
زارا خود میں سمت گئ۔۔
احسان نے بہت احتیاط سے اسکی جیولری اتاری اور اسکے لبوں کو بہت آرام سے چھوا۔۔
زارا نے بے خودی میں احسان کا کالر تھام لیا ۔۔
دونوں کے پیچ کے تمام پردے گرتے چلے گئے ۔
احسان نے آج اس پہ بے شمار پیار لوٹایا ۔۔
زارا احسان کے سینے کے اندر چھپتی چلی گئ۔۔
احسان نے بھی اسے اپنی بازؤں میں قیمتی موتی کی طرح چھپا لیا۔
احسان زریاب دلنشیںن زارا ایک تو ہوچکے تھے انکی محبت کو ایک نام مل چکا تھا مگر کیا ان چاروں کی زندگی آگے خوش باش رہ پائے گی یہ نہیں اسکا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔۔
جاری ہے ۔۔
