Rate this Novel
Episode 9
دروازہ کھلتے ہی اسماء اور رابعہ کا بھائ اقبال کھڑا تھا۔۔
بھابھی مجھے بچالے اپکا بھائ میرے ساتھ اگے کی بات رابعہ سے بولی نہیں گئ اور وہ اسماء کے گلے لگ گئ ۔۔
دلاور جو اسکے پیچھے تیزی سے ایا تھا اقبال کو دیکھ کے پل بھر کیلیے گھبرایا اس سے پہلے دلاور کچھ بولتا دلاور کی سوئ غیرت جاگی اور اس نے اگے بڑھ کے دلاور کا گریبان پکڑ کے جھنجھوڑ کے کہا۔۔
بےغیرت انسان تیری ہمت کیسے ہوئ میری بہن پہ ہاتھ ڈالنے کی کمینے انسان اقبال نے ایک زور دار تھپڑ مارا۔
اسماء اقبال کا ایسا ریکشن دیکھ کے کافی ڈر گئ مگر اسے اگے کے پلین پہ عمل کرنا تھا اس سے پہلے اقبال اپے سے باہر ہوتا اسماء نے ان دونوں کو تیزی سے ایک دوسرے سے الگ کیا اور اقبال کو غصہ سے کہا۔۔
میرے بھائ کو الزام ٹہرانے سے پہلے اسکی پوری بات تو سنے۔۔
سچ سچ بتاو دلاور تم یہاں کیسے ائے ؟
اور کیا کیا ہے رابعہ کیساتھ۔۔؟؟
میں نے کچھ نہیں کیا اسماء ۔۔
دلاور نے غصہ میں اسماء کو گھور کے کہا۔۔
اسی نے مجھے یہاں بلایا کے اج گھر پہ کوئ نہیں ہے اور یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کئ بار یہ راتوں کو بھی مجھے چھت پہ بلا چکی ہے۔۔
جھوٹ بول رہا ہے یہ بھائ ۔۔
رابعہ ایک دم چیخ پڑی۔۔
میں نے کبھی اسکو نہیں بلایا بلکے الٹا اج یہ میری عزت کو روندھ کے مجھ سے اس بات کا بدلہ لیتا کے میں نے اس سے شادی کا منع کیوں کیا ۔۔
یہ دیکھے بھائ میری منہ پہ نشان رابعہ نے اپنا سیدھا گال اقبال کو دیکھایا جس پہ کچھ دیر پہلے مارے گئے دلاور کی انگلیوں کے نشان تھے ۔۔
اچھا میں جھوٹ بول رہا ہو ایک منٹ یہ دیکھو اقبال یہ تمہاری بہن کا ہی نمبر ہے نہ جس سے مجھے میسج ایا ہے ۔۔
خود پڑھ لو میسج کیا لکھا ہے اس میں کے اج گھر پہ کوئ نہیں ہے اج اجانا تم ۔۔
جیسے ہی دروازہ بجا اس نے خود اپنے منہ پہ تھپڑ مارا میں نے نے اسے روکا بھی کہا بھی کے میں اقبال کو منع لونگا شادی کیلیے مگر شاید تمہاری بہن کو میری ساتھ ناجائ۔۔۔۔۔۔۔
اب جھوٹ بول رہے ہیں میری ماما ایسی نہیں ہیں۔۔
اس سے پہلے دلاور اور کوئ الٹی سیدھی بات کرتا عثمان جو دروازے پہ کھڑا ہوکے ساراتماشہ دیکھ رہا تھا چیخ کے بول پڑا مگر عثمان اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ عمر جنت اور اقراء بھی تھے ۔۔
اقبال نے دلاور کے ہاتھ سے موبائل لے کے میسج پڑھا میسج پڑھتے ہی ایک زور دار تھپڑ اقبال نے رابعہ کے منہ پہ مارا۔۔
تھپڑاتنا شدید تھا کے رابعہ کانچ کی ٹیبل پہ گری۔۔
ماما ۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ کے گرتے ہی عثمان چیختا ہوا رابعہ تک ایا جنت اور اقراء بھی رابعہ تک ائ عمر کی تو سمجھ میں ہی نہیں ایا کے وہ کیا کرے۔۔
اپ میں انسانیت ہے یہ نہیں کوئ ایسا سلوک کرتا ہے اپنی بہن کیساتھ ۔۔
جنت نے رابعہ کے سر پہ گہرا زخم دیکھ کے جس سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا اقبال سے چیخ کے کہا۔
ایسی بے غیرت بہن کو زندہ زمین میں گاڑ دینا چاہیے۔۔
اقبال نے بھی حساب برابر کرتے ہوئے کہا۔۔
اور تم۔کون ہو بی بی ہمارے گھر کے مسئلے میں بولنی والی۔نکلو چلو یہاں سے ہمارے گھر کا معملہ ہے ہم خود نمٹ لینگے ۔اسماء نے بھی جنت کو دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔
جنت کو جیسی ہی دھکا پڑا اقراء اور عمر نے اسے فورا تھام لیا۔
عمر غصہ میں اسماء کے روبرو ایا اور کہا۔
ااپنے ہاتھ کو کنٹرول میں رکھو میڈم میرا ہاتھ اٹھا نہ تو ساری زندگی کیلیے معزور ہوجاوگی۔۔۔
اوہ چل یہان سے نکل اقبال نے رابعہ کو زخمی حالت میں بالوں سے پکڑا اور عثمان کو بھی گددی سے پکڑ کے باہر نکالا ۔۔
نہیں نہیں بھائ میں کہاں جاونگی مجھ پہ رحم کرے میں اپنے بیٹے کی قسم کھاتی ہو دلاور جھوٹ بول رہا ہے۔۔
رابعہ اپنے زخم کی پرواہ کیے بغیر اقبال کے پیروں پہ جھک گئ مگر اقبال کو اس پہ رحم نہیں ایا اس نے رابعہ کے زخمی سر کو اپنے پیر سے ہٹایا اور کہا۔۔
تیری جیسی بدچلن بہن سے تو اچھا تھا میری کوئ بہن ہی نہیں ہوتی اگر اتنی ہی اگ تھی اپنی جوانی کی تو کیوں منع کررہی تھی دلاور سے شادی کیلیے عزت کی زندگی نہیں تجھے عیاشی کی زندگی جو گزارنی تھی بیوگی کی چادر اوڑھ کے نکل میرے گھر سے ۔اقبال نے رابعہ اور عثمان کو دھکے مار کے گھر سے نکالا جنت اقراء اور عمر کےساتھ بھی کافی بدتمیزی کی ۔
ان سب کو گھر سے نکال کے دروازہ انکے منہ پہ بند کردیا۔
رابعہ نے ایک نظر بند دراوزے کو دیکھا اور بیہوش ہوگئ۔۔
اپنی ماما کو بیہوش ہوتا دیکھ عثمان چیخے مار مار کے رونے لگا جنت نے فورا عمر کو رابعہ کو ہسپتال لیجانے کوکہا۔۔
جنت اور اقراء نے رابعہ کو جیسے تیسے گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال کی طرف چل پڑے۔۔
رابعہ کو ایمرجنسی میں لیجایا گیا ۔۔
سر کا زخم کافی گہرا تھا خون بھی بہت بہہ چکا تھا ۔عثمان جنت سے لگ کے بری طرح رو رہا تھا۔
انٹی میری ماما ٹھیک ہوجائے گی نہ؟؟
عثمان کے سوال پہ جنت اور اقراء کا دل۔کٹ کے رہ گیا۔
ہاں میری جان اپکی ماما بلکل ٹھیک ہوجائے گی بس اپ دعا کرو انکے لیے۔۔
جنت نے عمر کو سختی سے منع کرا تھا حمزہ کو کچھ بھی بتانے کو اگر حمزہ کو زرا بھی بھنک پڑجاتی اقبال کے سلوک کی جو اس نے جنت کیساتھ کیا اپنے گھر پہ کیا تو اقبال کا حال حمزہ کیا کرتا یہ جنت اچھی طرح جانتی تھی۔۔۔
عمر بھی ہاسپٹل کے کویڈر میں بیچینی سے ٹہل رہا تھا جب اسکے نمبر پہ کال ائ ۔۔
ارے یار عمر کب سے تیرا کلب میں ویٹ کررہا ہو تونے کہا تھا شام میں ملنے کا کہاں ہے تو؟؟
ارے عفان سوری یار ایک بہت ایمرجنسی ہوگئ اگر تو مائنڈ نہ کر ہاسپٹل اسکتا ہے؟؟
ہاسپٹل کونسے ؟؟
کیا ہوا کون ہے وہاں سب خیریت تو ہے نہ؟؟
ارے ہاں یار تجھے میں ایڈریس بھیج رہا ہو تو ا میں سب سمجھاتا ہو۔۔
اچھا ٹھیک ہے اتا ہو۔۔
دس منٹ کے اندر عفان ہاسپٹل میں موجود تھا گیٹ پہ ہی اسے عمر دیکھ گیا اور اسے لے کے قریبی کیفے ٹیریا میں اگیا ۔
ہاں اب بتاو کیا ہوا ؟؟
اور یہاں کون ہے سب خیریت تو ہے نہ عفان کے پوچھنے پہ عمر نے اسے بلانے کا مقصد اور رابعہ اور عثمان کے بارے میں ایک ایک بات بتادی جیسے سن کے عفان کو چپ لگ گئ۔
دیکھ عفان میں تجھ پہ زور نہیں دونگا مگر ایک شانو کے جانے سے زندگی رک نہیں جاتی کب تک اکیلے زندگی گزارے کا انکل انٹی کو گزرے ہوئے بھی 2 سال ہوگئے ۔۔
یہ مت سمجھنا کے میں تجھ پہ دباو ڈال رہا ہو بس چاہتا ہو تیرا بھی گھر بس جائے تیری جیسی لائف ہے شانو کے جانے بعد جسطرح تو غصہ کا تیز ہوگیا ہے کیا پتہ رابعہ ہی وہ ہو جو تیری ساتھ سوٹ کرے۔۔
رابعہ لفظ سن کے عفان نے کرب سے اپنی انکھیں بند کی اس سے پہلے وہ عمر کو جواب دیتا عمر کے نمبر پہ کال ائ جیسے سن کے وہ۔پریشان ہوگیا اور تیزی سے ٹیبل پہ سے اٹھنے لگا۔
کیا ہوا کس کا فون تھا عمر کو پریشان دیکھ کے عفان نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔۔
یار رابعہ کی حالت بلڈ ضائع ہونے کی وجہ سے بہت خراب ہوگئی ہے بلڈ کا بندوبست کرنا ہے
۔کونسا بلڈ ہے انکا؟؟
عفان کے پوچھنے پہ عمر نے کہا۔
او نگیٹف ہے ۔۔
بلڈ گروپ سن کے ایک بار پھر عفان کے دل میں ٹیس اٹھی اور اس نے عمر سے کہا۔
میرا بلڈ سیم ہے چل میں دے دیتا ہو ۔۔
جاری ہے۔۔
