51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37



شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کے زندگی میں پہلی وہ ڈرا تھا اس سے پہلے شاہ اسٹیج پہ چڑھتا امجد تیزی سے اٹھ کے اسکے سامنے آیا اور اپنے غصہ کو بہت دبا کے کہا۔۔
“میں یہاں کوئ تماشہ نہیں چاہتا شاہ عزت اسی میں ہے کے یہاں سے چلے جاؤ تم۔۔۔
مہناز بہت غور سے ان دونوں کی باتیں سننے کی کوشش کررہی تھی مگر ناکام تھی۔
تماشہ تم لگا رہے ہو امجد میں یہاں تمہیں اور بھابھی کو نکاح کی مبارک بعد دینے آیا ہو اور میرا کوئ غلط ارادہ نہیں اتنا تو تمہیں مجھ پہ بھروسہ رکھنا پڑے گا۔۔
شاہ کے بولنے پہ امجد کے غصے میں تنے اعصاب تھوڑے ڈھیلے پڑے اور اس نے شاہ کو اسٹیج پہ چڑھنے کا راستہ دیا
“اسلام۔وعلیکم بھابھی میں اپکا۔کیوٹ سا جیٹھ!
سوری بھابھی مجھے جانا تھا ارجنٹ ملک سے باہر اس لیے بس آپ سے ملنے چلا آیا یہ رہا آپکی شادی کا گفٹ ۔۔
شاہ نے ایک خوبصورت ساجیولری باکس مہناز کے آگے کیا جیسے مہناز نے امجد کے اشارے پہ تھام لیا۔۔
اچھا میں اب چلتا ہو بھابھی !!!
یہ بول کے شاہ ایک بار امجد کے روبرو آیا اور کہا۔۔
نکاح مبارک ہو میرے یار ۔۔۔
یہ بول کے شاہ امجد کے گلے لگ گیا اور کہا۔۔
ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا ۔
شاہ کے جاتے ہی امجد نے سکھ کا سانس لیا اور مہناز کے برابر میں بیٹھ گیا۔
شاہ کے جانے کے 5 منٹ بعد امجد کا موبائل بجنے لگا اس سے پہلے امجد کال اٹھاتا شمائلہ بیگم نے رخصتی کا بول دیا۔۔
امجد نے موبائل سائلینٹ پہ کیا اور اسٹیج سے اتر کر نیچے آگیا امجد کی ساری کزنوں نے مہناز کو سہرا باندھا اور رخصت کرکے گاڑی میں بیٹھایا۔۔
شمائلہ بیگم اور فائزہ بیگم تو گھر کو نکل گئ مہناز اور امجد کے استقبال کیلیے۔۔
مگر امجد جو کے خود گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اس نے گاڑی گھر کے راستے کے بجائے دوسرے راستے پہ ڈال دی اور یہ دیکھ کے مہناز جو کے امجد سے ناراض تھی امجد سے پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔
“ہم کہاں جارہے ہیں امجد؟
یہ گھر جانے والا راستہ تو نہیں۔۔۔
ہاں یہ گھر جانے والا راستہ ہے بھی اور نہیں بھی ۔۔۔۔
امجد نے گاڑی موڑتے ہوئے کہا۔
مطلب ؟
مہناز نے امجد کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
سارے مطلب سمجھا دونگا تمہیں گھر تو پہنچنے دو جانمن۔!!!!
!!!!!!!!
تمہیں چین نہیں اپنے گھر میں؟
دروازہ کھولتے ہی عثمان کی نگاہ سامنے کھڑی دلنشین پہ پڑی جسے دیکھ کے عثمان نے کافی بیزاریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اگر تم میری کال ریسیو کرلیتے تو شاید مجھے یہاں تمہاری منحوس پلس مجنوں شکل دیکھنے آنا نہیں پڑتا۔۔
دلنشین نے عثمان کو سائیڈ میں کرتے ہوئے فلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
کمینی پلس ڈائن تو تم بھی ہو جو لوگوں کا سکھ چین انکی پرائویسی کا خون چوسنے آجاتی ہو ارے ڈائن بھی ساتھ گھر چھوڑ کے وار کرتی ہے ڈائن بی بی اوہ میرا مطلب مایا بی بی۔۔
عثمان یہ بولتے ہوئے جیسے ہی صوفے پہ بیٹھنے لگا دلنشین نے فورا کہا۔۔
ہاں بیٹھنا نہیں ایک ہاٹ کافی اینڈ کوکونٹ کوکیز پلیز جلدی۔۔۔
یہ بول کے مایا اپنے موبائل میں بزی ہوگئ اور ادھر عثمان جو صوفے پہ بیٹھنے لگا تھا مایا کا آڈر سن کے اسی پوزیشن میں رہا ۔۔
اوہ آئ سی مگر وہ کیا ہے نہ یہ کوئ کیفے نہیں میرا گھر ہے ورنہ ہاٹ کافی اور کوکونٹ کوکیز کیساتھ ساتھ آپکو زہر بھرا مشروم سینڈوچ بھی کھلاتا۔۔
مانی کے بولنے پہ مایا نے افسوس بھری نظر مانی پہ ڈالی جو سینے پہ ہاتھ باندھے کافی ریلکس انداز میں کھڑا تھا
تو پھر کیفے چلتے ہیں ابھی تو صرف رات کے نو بجے ہیں جلدی جلدی مانی تیارہوجاو ۔۔۔۔
مایا نے مانی کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے ساتھ گھسیٹے ہوئے کہا۔۔
نہیں مایا آج نہیں قسم سے موڈ نہیں میں تھک گیا ہو ۔۔
میں ویٹ کررہی ہو گاڑی میں جلدی انا۔۔
مایا بولتی ہوئے نیچے اتر گئ اور مانی کو نہ چاہتے ہوئے بھی مایا کی بات ماننی پڑی۔۔۔
!!!!!!
گاڑی ایک بہت ہی خوبصورت گھر کے پاس رکی امجد نے گاڑی سے اتر کے مہناز کی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔
امجد نے اسکے آگے ہاتھ کیا جیسے ماہی نے شرماتے ہوئے امجد کا ہاتھ تھام لیا مگر امجد جس نے اسے فورا اپنی بانہوں میں اٹھالیا۔۔
امجد یہ۔کیا کرہے ہیں ؟؟
نیچے اتارے دیکھے واچ مین دیکھ رہا ہے ۔۔
دیکھنے دو مجھے فرق نہیں پڑتا اپنا سامان اٹھایا ہے کسی دوسرے کا ۔۔
کیا کہا میں سامان ۔؟؟؟
ماہی نے افسوس بھری نظر اپنے محرم پہ ڈالتے ہوئے کہا۔۔
ہاں تو کیا میرا سامان نہیں ہو وہ بھی ایسا سامان جسے کوئ اور ہاتھ لگانا تو بہت دور کی بات نظر اٹھا کے نہیں دیکھ سکتا ۔
میرے جینے کا سامان،میری سانس لینے کا سامان، مجھے مکمل کرنے کا سامان،میرے چاہت کا سامان،میرے عشق کرنے کا سامان نہیں ہو کیا تم۔۔۔
امجد کے جواب پہ ماہی نے ایک لمبی سانس لی اور ماہی جو ابھی تک امجد کی بلیک شیروانی کو کالر سے تھامی تھی امجد کے باتوں پر اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کے اسکے سینے پہ سر رکھ چکی تھی۔۔
امجد مہناز کی اس حرکت پہ نہال ہوچکا تھا اس نے مزید اور مہناز کی کمر کو مظبوطی سے تھاما ۔ا گھر اندر داخل۔ہوتے ہی ان دونوں پر پھولوں کی بارش ہونے لگی کمرے تک جانے کا راستہ پورا گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا امجد نے کمرے میں پہنچ کے دھیرے سے اسے نیچے اتارا ۔۔۔
مہناز نے گھوم کے پورا کمرا دیکھا کمرے کا کوئ ایک کونا ایسا نہیں جیسے پھولوں سے خوب صورت کینڈلو سے نہ سجایا ہو۔۔۔
امجد نے دھیرے سے آکے مہناز کو۔کمر سے تھاما اور کہا۔۔
پتہ ہے یہ گھر میں جب سے تھوڑا تھوڑا بنا رہا ہو جب سے مجھے معلوم ہوا کے میں تم سے محبت نہیں عشق کرنے لگا ہو ۔۔۔
یہ بول کے امجد نے مہناز کا رخ اپنی طرف موڑا اور دھیرے سے اسکے لبوں پہ جھک گیا ۔۔
امجد کی اس جرات پہ مہناز سر تہ پاؤں لرز گئ ۔۔۔
امجد نے اسکے لب دھیرے سے آزاد کیے اور کہا۔۔
“میرا پہلا جنون۔۔
عشق آخری ہے تو ۔۔۔
میری زندگی ہے تو”
یہ بول کے امجد نے مہناز کو اپنے سینے میں چھپا لیا ۔۔۔
مہناز آج میں بہت خوش ہو مجھے نہیں پتہ کے اللہ تعالیٰ نے کس نیکی کے بدلے مجھے تمہیں دے دیا ۔۔
امجد ایک بات پوچھو آپ سے ۔۔؟
ہاں پوچھو امجد نے اسے خود سے الگ کیا اور ہاتھ پکڑ کے بیڈ پہ۔لایا۔۔
جب اپ مجھے اسٹیج پہ چڑھا رہے تھے تو اپکی۔انکھوں میں آنسوؤں تھے کیوں؟
تمہیں پانے کی خوشی کے آنسوؤں تھے یقین ہی نہیں آرہا تھا مجھے کے تم میرے لیے اتنا سج سنور کے آرہی ہو۔۔
یہ بول کے امجد نے مہناز کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تبھی اسکا سائلینٹ ہوا مو بائل پھر وائبریٹ ہوا۔۔
امجد نے مہناز کو اپنے بانہوں کے گھیرے میں لیا اور کال ریسیو کی تو آگے سے کاشف اس کے دوست کی گھبرائ آواز گونجی ۔۔
امجد کب سے کال کرہا ہو شاہ نے مہناز کو اور تجھے مارنے کیلیے تیرے اس گھر پہ آدمی بھیجے جو تو اپنے اور بھابھی کیلیے بنوا ر رہا تھا تو فلحال ابھی اس گھر پہ نہیں جانا سمجھا تو میں کچھ کرتا ہو شاہ پہ۔خون سوار ہے جب سے تو نے بھابھی کیلیے اسے چھوڑا ہے
تو ابھی اپنے گھر مت جانا امجد پلیز غصہ میں نہیں ہوش سے کام لینا۔۔
کاشف اور نجانے کیا کیا بولے جارہا تھا مگر امجد کی تو مانو سانسیں بند ہوگئ آج صحیح مانو میں اسے موت کے خوف کا احساس ہوا ۔۔۔
اس نے مہناز کو کھڑا کرکے تیزی سے اپنے آپ سے لپٹایا چند آنسوؤں اسکے گال پہ پھسلے اس نے مہناز کو اپنے کمرے کے واش روم میں چھاپا اور کہا۔۔
مہناز جب تک کوئی لڑکی تمہارا نام لے کر یہ دروازہ نہ بجائے تم دروازہ نہیں کھولنا ۔تمہیں میری قسم ہے۔۔
ہوا کیا ہے امجد آپ آپ کہاں جارہے ہیں؟؟
کچھ نہیں ہوا تم ڈرو نہیں میں ہو نہ بس برے کاموں سے رہائی اتنی آسانی سے نہیں ملے گی تم بس یہاں چھپ جاؤ ۔۔
یہ بول کے امجد نے اسے وش روم کا دروازہ لاک کیا کمرے کے پردے برابر کیے اور اپنی۔پسٹل۔نکل کے لوڈ کرکے کسی کے نمبر پہ ایک وائس چھوڑئ۔۔۔
امجد بہت احتیاط سے سے نیچے اتر رہا تھا تبھی ایک گولی اسکے ہاتھ میں آکے لگی۔۔
اسکے ہاتھ سے پسٹل چھوٹ کے نیچے گری۔۔
جاری ہے