Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 33
Rate this Novel
Episode 33
زریاب کے کمرے کا دروازہ ناک کرکے دلنشین نے لاک گھما کے کمرے کے اندر جھانکا ۔۔
دلنشین نے پورے کمرے کا جائزہ لیا مگر زریاب اسے کہی نہیں ملا دلنشین واپس جانے لگی جب اسکی نظر ڈیسنگ پہ پڑی ایک چیز پہ پڑی جو کافی چمک رہی تھی ۔۔
دلنشین نے پاس جاکے وہ چیز اٹھائ تو حیرت سے اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
وہ جیسی ہی مطلوبہ چیز لے کر پلٹی اسکا سر زریاب کے سینے سےٹکرایا۔۔
تم اس وقت میرے کمرے میں مجھے تو یقین نہیں ارہا ہ۔
زریاب کے لہجے سے دلنشین اندازہ لگا سکتی تھی کے وہ اس وقت اسے اپنے کمرےمیں دیکھ کے کتنا خوش ہے۔۔
ہاں وہ میں تمہیں یہ بولنے آئی تھی کہ جو تم سوچ کر چھت پہ سے خاموشی سے اگئے تھے ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔
اچھا میں چلتی رات بہت ہوگئ ۔
یہ بات بول کے دلنشین جیسی ہی جانے لگی زریاب نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔
دل نشین تیزی سے اس کے سینے سے اکر لگی ۔۔
زریاب کی اس حرکت پہ دلنشیںن نے غصہ سے زریاب کو گھور کے کہا۔۔
یہ کیا حرکت تھی زریاب؟؟
یہی تو میں آپ سے پوچھ رہا ہوں دلنشین میڈم یہ کیا حرکت ہے ۔
شاید تمہارا دماغ اضافی چل رہا ہے زریاب ڈفر تم نے مجھے اپنی طرف کھینچا ہے میں نے نہیں جو تم مجھ سے پوچھ رہے ہو ۔۔
ہاں مجھے پتہ ہے مگر میں اس حرکت کی بات کررہا ہو جو اپنے ابھی کچھ دیر پہلے کی میری ڈریسنگ سے میری بہت قیمتی چیز چرا کے۔۔
دلنشین ابھی بھی زریاب کے بے حد قریب کھڑی تھی اور زریاب اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو بہت پیار سے دیکھ رہا تھا دل اسکا خواہش کررہا تھا اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو چھونے کی۔۔
میرے سامنے چوری اور اوپر سے سینہ زوری تو کرنا نہیں وہ چیز میری ہے اور تم نے کب اس کو چرایا مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔۔
سالوں سے میں اپنی وہ چیز ڈھونڈ رہی ہو۔۔
دلنشین کے بولنے پہ زریاب نے اسے ایک دم گھمایا تو اسکی پشت زریاب کے سینے سے ٹکرائ ۔۔
زریاب نے اسکے ہاتھ سے بریسلٹ لیا اور خاموشی سے دلنشین کو پہنا دیا۔۔
دلنشین تو ساکن سی زریاب کی یہ ساری کروائ دیکھ رہی تھی اس میں ہمت ہی نہیں ہوئ کے جس شخص سے وہ پچپن سے نفرت کے دعوے کرتی ائ ہے اج اس نے اسے چھوا بنا اس کی اجازت کے تو وہ روک کیوں نہیں پائ۔۔
یہ لو پہنا دی تمہیں تمہاری قیمتی چیز اور کچھ۔۔
زریاب کی اس حرکت پہ دلنشین نہ غصہ ہوئ اور نہ اسے ایسا کرنے سے روکا ۔۔
زریاب سینے پہ ہاتھ باندھے غور سے دلنشین کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ رہا تھا مگر وہ یہ دیکھ کے حیران تھا اس سے نفرت کا دعوا کرنے والی لڑکی ڈھونڈنے سے بھی اج اسکے چہرے پہ نفرت نہیں دیکھی ۔۔
دلنشین نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں موجود اپنے بریسلٹ کو ددیکھا اور پھر زریاب کو الٹے قدم اٹھاتے ہوئے وہ اسکے کمرے سے نکل گئ۔۔
جتنی اسپیڈ سے وہ چل سکتی تھی چل کے اپنے کمرے میں پہنچ کے اس نے سانس لیا بے بے ڈھرک اسکا ہاتھ اپنے دل پہ گیا اسے نہیں یاد اسکا دل اتنی اسپیڈ پہ اج سے پہلے کب ڈھرکا تھا ۔
کیا بکواس کررہے ہو مانی ایسے کیسے وہ مرسکتی ہے ؟ کل تک تو وہ ٹھیک تھی۔؟؟
مایا نے فون پہ تقریباً چیختے ہوئے کہا۔۔
جتنی رش ڈرائیونگ کرکے وہ ٹارچر سیل پہنچ سکتی تھی پہنچی۔۔
صبح جب مانی صائمہ کے کمرے میں اسے پانی دینے گیا تو وہ مرچکی تھی ۔
میں نے کہا تھا تم سے کے وہ الیکٹرک شاکٹ برداشت نہیں کرپائے گی مگر تم سنتی کب ہو کسی کی۔۔
مانی نے ایک زور دار لات پاس پڑی ٹیبل پہ مارتے ہوئے کہا ۔
مایا اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرائے بیٹھی صائمہ کی موت انکے لیے بہت بڑا نقصان ثابت ہوئ تھی ۔۔
شاہ تک پہنچنے کی جو راہ انہیں اتنی مشکل سے ملی تھی وہ انکی غلطی کی وجہ سے اب مٹ چکی تھی۔۔۔
خبر کردو اپنے سارے مخبر کو مانی سب کو بھیج دو امجد کی تصویر ہوگا کوئ تو ہوگا جو اسکی خبر دے گا کوئ تو دیکھے گا اسے اللّٰہ ہماری مدد ضرور کرے گا انشاء اللہ۔۔
مایا تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو؟؟
زندگی میں ایک رسک تو لینا پڑتا ہے مانی ۔۔
اس بار یہ تو شاہ ہمیشہ کیلے نکل گیا ہہ پھر اللہ نے اس بار اسکی رسی کھینچ لی ۔
احسان زریاب مایا مانی ان چاروں نے اپنے اپنے مخبروں کو خبر کردی امجد کی۔۔۔
امجد یہ بہت مہنگا ہے ..
تو تم بھی تو انمول ہو بس تم یہ ہی لوگی ۔۔
امجد نہیں نہ ۔۔۔
ماہی چپ چاپ اسے ٹرائ کرو جاکے۔۔
ہائپر اسٹار کے ایک مہنگے بوتیک میں امجد مہناز کو لایا تھا اسکے نکاح کا جوڑا پسند کروانے۔۔۔
اتنے بڑا مال دیکھتے ہی مہناز امجد کو گھسیٹتے ہوئے واپس گاڑی میں لیجانے لگی۔۔
جب امجد اسے کمر سے تھام کے مال کے اندر لے گیا ۔
ڈارک بلڈ ریڈ اور ڈارک پنک کلر کے لانگ ٹیل شرارہ پہنے جب مہناز ٹرائل روم سے باہر نکلی ۔۔
فون پہ بات کرتے امجد کا موبائل اسکے ہاتھ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔۔۔
امجد نے جن نظروں سے مہناز کو دیکھا تھا ان نظروں کا مفہوم مہناز اچھے سے سمجھتی تھی امجد کی نگاہوں سے مہناز کا چہرہ بلش کرنے لگا۔اور وہ نگاہ جھکا گئ ۔
شدت محبت کے احساس کے تحت امجد تیزی سے مہناز کے پاس پہنچا اس نے مہناز کے سر پہ برائیڈل ڈوپٹہ اڑایا اور کہا۔
مجھے نہیں پتہ تھا ماہی مجھ جیسے گنہگار بندے کو اللہ اتنی حسین نظارا کروائے گا۔۔
یہ بول کے امجد کی انکھیں بھیگنے لگی۔۔
اس نے اپنے انسوں اپنے اندر ہی اتارے اور اسے کہا۔
یہ ڈریس پہن کے اب تم دلہن بنوگی۔۔
پیک کرو اسے امجد نے سیل مین کو اشارہ کیا۔
اسکے بعد جسطرح سے امجد نے اسے باقی شاپنگ کروائ مہناز کی سوچ سے برعکس تھی اسے اندازہ نہیں تھا اسکی ایک ہاں امجد کو اتنی خوشی دے سکتی ہے اسے اندازہ نہیں تھا وہ امجد کیلیے اتنے معنے رکھتی ہے
شوز کی دکان پہ جب سیلز مین مہناز کو شوز پہنانے لگا امجد نے اسے روک کے اسکے ہاتھ سے شوز لے کے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے مہناز کو خود شوزپہنایا ۔۔
شاپ پہ کافی لڑکیاں ایسی تھی جنکی نگاہوں کا مرکز صرف امجد تھا مگر امجد وہ تو صرف مہناز کا دیوانہ تھا۔۔
زمانے کی پراوہ کیے بغیر امجد نے اسے اپنے ہاتھوں سے شوز پہنائے ۔۔
شوز کے بعد باقی کی ساری شاپنگ کے دوران امجد کا ہر انداز جنون محبت والا تھا۔۔
کئ بار مہناز کی انکھیں امجد کی اتنی محبت پہ بھیگی ایک پل کیلے بھی اسے کہی سے بھی وہ پرانہ امجدنہیں لگا جو ہمیشہ اسے ڈانٹا تھا یہ اپنا روب جماتا تھا۔۔
شاپنگ سے فارغ ہوکے انہوں نے ایک اچھے سے ہوٹل میں ڈنر کیا ۔۔
ڈنر کے بعد ایک کال انے پہ امجد کا اچھا خاصا موڈ بگڑ گیا کیونکہ اسکا ارادہ مہناز کیساتھ ساحل سمندر پر جانے کا تھا ۔۔
مہناز کو گھر کے گیٹ پہ اتار کے امجد نے بنا مہناز کی بات سنے بغیر تیزی سے گاڑی گھمائ۔۔
ایسے اچانک بلانے کی وجہ جان سکتا ہو شاہ ؟
جبکہ تمہیں پتہ ہے میں ان دونوں مصروف ہو۔۔
امجد نے اتے ہی دھاڑ سے شاہ کے روبرو اکے پوچھا۔۔
میں نے سنا ہے تم نکاح کررہے ہو ۔؟
شاہ جو بلیک شلورا قمیض میں کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا امجد کے روبرو اکے پوچھا۔۔
صحیح سنا ہے شاہ اور میں یہ بھی جانتا ہو کس سے سنا ہے۔۔
امجد نے گردن گھما کے ماجد کو گھور کے دیکھا ۔
گھورنا بند کرو اسے امجد تم۔جانتے ہمارے کاروبار میں اس قسم کے رشتہ کی کوئ جگہ نہیں ہماری ایک کمزوری ہماری دھجیاں اڑا سکتی ہے ۔۔
وہ کمزروی نہیں محبت ہے میری شاہ اسے بیچ میں مت لاو۔۔
وہ بیچ میں اچکی ہے ہے کون وہ جس نے تمہیں شاہ سے بغاوت پہ اکسایا ہے ۔۔
اس نے مجھے نہیں میں نے اسے بغاوت پہ اکسایا ہے خود سے۔ بچپن سے وہ مجھے ٹھکراتی ائ ہے اب جاکے اسکا ساتھ مجھے ملا ہے اور میں کسی قیمت پہ اسکا ساتھ نہیں چھوڑنگا۔۔
بھلے ہم اس لڑکی کی وجہ سے جان سے جائے ہمارا برسوں پرانا کاروبار بربادی کی نظر ہوجائے۔۔
نہیں امجد نہیں اس لڑکی کو تمہیں چھوڑنا ہوگا شرافت سے نہیں تو بدمعاشی سے میں اس لڑکی کا وہ۔۔
اگے کی بات شاہ بولتا امجد کی دھاڑ سے پورا ہال گونج اٹھا۔۔
شاہ اس کی طرف انکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھنا شاہ ورنہ ساری زندگی اپنے کیے پہ پچھتاوگے امجد نے اسکا گریبان پکڑ کر کہا۔۔
وہاں کھڑا ہر بندہ دو جسم ایک جان شاہ اور امجد کو دست گریبان ہوتے دیکھ رہا تھا۔۔
شاہ نے ایک نظر امجد کو دیکھا اور ایک نظر اپنے گریبان کو ۔
میں یہ کاروبار چھوڑ رہا ہو میں اسسے وعدہ۔کرچکا ہو اسےلے کر میں یہاں سے بہت دور چلا جاونگا شاہ کسی کو بھی تمہارے بارے میں نہیں بتاونگا اتنا بھروسہ تمہیں مجھ پہ رکھنا ہوگا یہ بول کے امجد جیسے ایا تھا ویسے چلا گیا۔۔
مگر شاہ جسطرح واجد کو گھور رہا تھا واجد سمجھ چکا تھا اگے کیا کرنا ہے۔
امجد اپنی ہی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا جب اگے پیچھے سے اسے دو گاڑیوں نے کور کیا ایک گاڑی تیزی سے امجد کے اگے اکے رکی۔۔
دو نفوس اس میں نکل کر امجد کی گاڑی میں اکے بیٹھے اور کہا۔۔
کیا خیال ہے امجد ایک ملا قات ہوجائے مایا مانی کی دنیا سے۔۔۔
جاری ہے۔۔
