51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

شننے؟؟عفان نے ایک بار پھر دھیرے کہا
کیاہوگیا تمہیں ؟
تم ایسے رو کیوں رہے ہو؟؟ عمر نے ناسمجھی سے عفان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
عفان تیزی سے مڑا اور تقریبا بھاگتے ہوئے ہسپتال سے نکلا۔۔
عمر بھی اسی رفتار سے اسکے پیچھے بھاگااس سے پہلے عفان گاڑی میں بیٹھ کے جاتا عمر نے اسے بروقت پکڑ لیا اور کہا۔
کیا ہوا ہے عفان ایسے ریکٹ کیوں کررہے ہو ؟؟
جب سے تم نے رابعہ کو دیکھا ہے تمہارے انسووں نکلے جارہے ہیں کیا جانتے ہو تم رابعہ کو؟؟
عمر کے پوچھنے کی دیر تھی کے عفان نے عمر کے سینے پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھ کے اسے زور سے دھکا دیا اور تقریبا دبی دبی اواز میں چیختے ہوئے کہا۔۔
تجھے نہیں پتہ میرے اس ریکشن کی وجہ تو میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟
اتنا بڑا سچ تو نے مجھ سے چھپایا۔۔
کیا بولے جارہا ہے عفان مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہا ؟؟
تجھے میں نے شنے کی پک بھیجی تھی یاد ہے ۔۔
عفان کے پوچھنے پہ عمر نے کہا۔
ہاں بھیجی تھی مگر ان سب کا رابعہ سے کیا تعلق۔۔عمر نے نہ سمجھی کی حالت میں عفان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
واہ بھئ۔واہ کیا کہنے تیرے مجھے سمجھ نہیں ارہا تو کرکیا رہا ہے میرے ساتھ؟؟
عفان نے اسے دوبارہ دھکا دیتے ہوئے کہا۔
اور اب کی بار عمر کو بھی غصہ اگیا اس نے غصے سے عفان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
کیا کہنا چاہ رہا ہے عفان کھل کے بات کر ۔۔؟؟
بقول تیرے تونے شننے کو دیکھا تھا رائٹ جب میں نے تجھے اسکی پک بھیجی تھی؟؟
عفان کے پوچھنے پہ عمر نے ہاں میں گردن ہلائ ۔
عفان نے عمر کی بات سن کے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور کہا۔
تو 15 سال میں کیا انسان اپنی شکل بدل لیتا ہے جو تو شننے کو پہچان نہیں پایا ۔۔
عفان نے ایک بار پھر غراکے کہا۔
افف عفان ایک بار اور تونے گھما پھرا کے بات کی تو ایسا مکا تیری ناک پہ مارونگا کے ساری زندگی تو یاد رکھے گا عمر کا بھی اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا ۔
بقول تیرے تونے شننے کی پک دیکھی یہی بول رہا ہے نہ تو عفان نے اس بار تحمل سے عمر سے پوچھا۔۔
ہاں دیکھی تھی عمر ایک بار پھر عفان کی بات پہ ہاں کہا۔
تو اندھے کمیںنے کتے تو نےکیسے نہیں پہچانا کے رابعہ ہی شننے ہے ۔۔
کییااااااا۔۔
عمر کو لگا اس نے غلط سنا ۔۔۔
کیا بول رہا ہے تو عفان رابعہ ہی شننے ہیں سچ میں؟؟؟
عمر کی بات پہ عفان زمین پہ کچھ ڈھونڈنے لگا اور مطلوبہ چیز دیکھتے ہی عفان جیسی ہی اٹھانے لگا عمر نے فورا اسکا ہاتھ تھاما اور کہا۔
افف عفان پتھر سے مت مار میرے بھائ میں تجھے سب سمجھاتا ہو اصل میں میں نے تجھ سے جھوٹ بولا تھا تونے مجھے شننے کی پک بھیجی تھی مگر میں اسے دیکھ نہیں پایا تھا وجہ حمزہ بھائ کا ایکسیڈنٹ جسکا تجھے میں نے بتایا تھا اسی دوران میرا موبائل بھی کھوگیا تھا قسم سے جبھی تو اتنا عرصہ تجھ سے رابطہ نہیں کیا تھا ۔
تو اتنی دیر سے جھوٹ کیوں بول رہ تھا سچ بولتا نہ۔عفان نے سے گھور کے کہا۔
یار ڈر رہا تھا تو ناراض نہ جائے۔۔عمر نے کمال۔کی معصومیت چہرے پہ سجاتے ہوئے کہا۔۔
ویسے تو تو بول رہا تھا کہ شادی کی بات چل رہی ہے میں سب کچھ سنبھال لوں گا مجھ سے بہت محبت کرتی ہے تو یہ کیسے ہوا ؟؟عمر نے کمر پہ ہاتھ رکھ کے لڑاکا عورتوں کی طرح عفان سے پوچھا۔۔
ساری باتیں بعد میں کریں گے ابھی اندر چل عثمان اکیلا ہے دیکھتے ہیں ڈاکٹر کیا جواب دیتے ہیں اگر آج رات ڈاکٹر نے اس کو اسٹے کرنے کا بولا روم میں تو میں رہوں گا تو کسی طریقے سے بھی عثمان کو اپنے ساتھ لے کر جانا اور خبردار اگر تو نے رابعہ کو بتایا ہوگا کے میں نے کون ہو یہ بات اب جب اسے پتہ چلے گی جب وہ میرے نکاح میں اجائے گی۔۔عفان نے ہسپتال کے اندر بڑھتے ہوئے عمر سے کہا ۔۔
او بھائی زرا آسمان سے نیچے زمین پر آجا یہ صرف ابھی ہم گھر والوں نے فیصلہ کیا ہے جنت نے اقراء نے میں نے اصل ایسا میری دلنشین چاہتی ہے وہ چاہتی ہے اسکے سب سے عزیز دوست کو بھی باپ جیسی محبت ملے۔
ابھی بگ بی سے مشورہ نہیں کیا لیکن اگر آپ کے دماغ میں یہ بات ہے کہ اس کی شادی اپ سے ہو تو عثمان کو راضی اپ کرینگے۔
۔۔
بھائی مگریہ میرا وعدہ ہے یہ بات رابعہ کو نہیں پتہ چلے گی کہ اس کا نکاح کس سے ہورہا ہے اگر وہ شادی کیلیے مانی تو یہ میرا آپ سے وعدہ ہے لیکن ابھی فی الحال اس ٹوپیک کو بند کرو ابھی ہم سیدھا عثمان کی طرف جا رہے ہیں عثمان کو میں کسی طریقے سے بھی گھر لے جاؤں گا لیکن تو اکیلے کیسے مطلب سمجھ رہا ہیں نہ میری بات عثمان 13 سال کا بچہ ہے اب اتنا بھی نہ سمجھ نہیں ہے تو سمجھ رہا ہے نہ میری بات اگر اس نے کوئ سوال کیا تو۔۔؟؟
عمر نے بہت ہی سنجیدہ انداز میں عفان سے کہا اور اسکے پریشان ہونے کی وجہ عفان بھی سمجھ سکتا جبھی عفان نے عمر سے کچھ کہا جیسے سن کے عمر نے گھور کے عفان کو صرف اتنا کہا ۔۔
“پکا تو ارمی میں ہے نہ مجھے تو پکا ٹھرکی لگتا ہے “
یہ کہہ کے جہاں عمر نے منہ بنایا وہی عفان کا قہقہ نکلا۔۔
جنت اور اقراء کے گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے دلنشین نے انہیں گھیرا اور سوال پہ سوال کرنے لگی۔۔
ماما انٹی اور عثمان نہیں ائے ؟
وہ لوگ ٹھیک تو ہیں؟
اپ نے بات کی انٹی سے؟؟
اقراء تو اتے ہی فریش ہونے چلی گئ تھی مگر جنت وہ کچھ دیر کیلیے صوفے پہ انکھیں موند کے لیٹی تھی تبھی جنت نے اکے سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔۔
دلنشین جاؤ پہلے پانی کا ایک گلاس کے کر او۔۔
جنت نے دل نشین کے سوالوں کو اگنور کر کے دھیمے لہجے میں دلنشیں کو پانی لانے کا کہا۔۔
پہلے بتائیں آپ کی وہاں کیا بات ہوئی ۔دل نشین بضد ہوتے ہوئے کہا ۔۔
ایک دفعہ کی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی بولانہ پانی کا گلاس لے کر او ہر وقت فضول کاموں میں گھسی رہتی ہوں دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے اتنی بڑی ہوگئی ہو تم میں ذرا سی بھی تمیز نام کی چیز نہیں ۔۔
جنت کی ڈانٹنے پر دلنشین کی انکھیں انسووں سے بھر گئیں اس نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور ز اپنے کمرے میں جا کے زور کمرے کا دروازہ بند کیا جنت نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا۔۔
دروازے پر کھڑے ہو کے حمزہ نے یہ منظر دیکھا اور ایک لمبی سانس لے کر جنت کے برابر میں آ کے بیٹھ گیا اپنے برابر میں کسی کا وجود محسوس کر کے جنت نے اپنی آنکھیں کھولیں تو حمزہ کو خود کو تکتا پایا پایا ۔۔
آپ کب ائے حمزہ ؟؟
رکے میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہو۔۔
جنت تمہیں نہیں لگتا کے تم دلنیشن کے ساتھ زیادہ روڈ ہو جاتی ہوں مانا کہ تم اس کو لے کر بہت پریشان رہتی ہو لیکن ہماری بچی کوئی کمزور نہیں ہے وہ عمر کے زیر سایہ رہتی ہے تم عمر کی نیچر کو اچھی طرح جانتی ہے ۔۔وہ دل نشین کو کسی صورت کمزور نہیں بنائے گا ۔دل نشین کو ایک ایسی لڑکی بنائے گا جو حالات کا مقابلہ کرنا زمانے کا مقابلہ کرنا جانتی ہوں ۔تاشہ بھی تمہاری بیٹی اس سے تم کبھی ایسے بات نہیں کرتی اگر دلنشین ضد کررہی تھی تو بتا دیتی وہاں کیا معاملہ ہوا۔۔
بعض اوقات ہم خود اپنی رویے سے اپنے بچوں کو باغی کرتے ہیں کہ وہ اپنے دوست باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ اپنے گھر والوں کو اپنا دوست نہیں بناتے جنت یہ بات تم یاد رکھنا۔۔
یہ بول کے حمزہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا اور وہاں جنت کو سوچتا چھوڑیا گیا۔
جسے تیسے کرکے عمر عثمان کو سمجھا کر اپنے ساتھ لے گیا بظاہر تو وہ عثمان کے سامنے نہیں آیا مگر وہ وہی تھا ۔
مشینوں میں جکڑا رابعہ کا وجود بیہوشی میں تھا ڈاکٹر نے اسے نیند کا انجکشن لگایا تھا تو صبح ہی اس کو ہوش انا تھا ۔۔
عفان اس کے پاس کھڑا ہو کے بہت غور سے اسکے چہرے کے نقوش کو دیکھنے لگا ۔۔
چند آنسو کے قطرے عفان کے گالوں سے پھسلے جنہیں بے دردی سے عفان نے پونچھ ڈالا۔۔
رابعہ کی شکل دیکھ کے عفان دھیرے دھیرے ماضی میں کھونے لگا ۔۔۔
جاری ہے۔۔