51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43


زریاب نے لان میں آکے لمبی سانس لی اور سگریٹ جلا کے وہی بنی بینچ پہ بیٹھ کے پینے لگا۔ ایک کے بعد جب دوسری سگریٹ جلانے لگا ۔
تب اسکے پیچھے کھڑے حمزہ نے کہا ۔
اتنی سگریٹ پینا یہ تو چرسیوں کی علامت ہے یہ پھر انکی جو اس غلاظت کو منہ لگاتے ہوئے اپنے ماں باپ کا نہیں سوچتے۔۔۔
حمزہ کی بات پہ زریاب نے سگریٹ نیچے پھینک کے اپنے پاؤں سے مسل ڈالی۔۔
دونوں کے درمیان خاموشی تھی ۔۔
حمزہ چاہ رہا تھا کے زریاب خود بات کا آغاز کرے اور حمزہ کی چاہت مکمل ہوچکی تھی ۔۔
زریاب خود ہی بول پڑا۔۔
ایک بات پوچھو بڈی؟
ہاں پوچھو ۔۔۔
ایس کیوں ہوتا ہے بڈی کے ہمیں ہمیشہ اس اس انسان سے محبت ہوتی ہے جیسے ہماری قدر نہیں ہوتی ۔۔اسے کیوں ہماری آنکھوں میں سچائ نہیں دیکھتی ،محبت نہیں دیکھتی۔۔
اتنے بے حس کیوں ہوتے ہیں وہ جنہیں سچی محبت کرنے والے لوگ محبت کرتے ہیں انہیں نظر ہی نہیں آتی ہماری محبت اپنی آنا اور غرور کے اکے۔۔
زریاب کسں کے متعلق بات کررہا تھا حمزہ جانتا تھا مگر وہ مجبور تھا وہ دلنشین کو فورس کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
زریاب تھوڑا وقت دو میں سمجھاؤں گا دلنشین کو۔۔۔
نہیں بڈی آپکو میری قسم اب آپ میرے لیے اس سے بھیگ نہیں مانگے گے میں نے اپنا معاملہ اللہ پہ چھوڑا یہ سچ ہے میں دلنشین سے بہت محبت کرتا ہو ۔ مگر اب میں اسکے پیچھے نہیں جاؤنگا اب جو اللہ نے میرے لیے سوچا ہوگا بہتر سوچا ہوگا۔۔
یہ بول کے زریاب تیزی سے اندر بڑھ گیا ۔۔
جہاں زریاب کی باتیں سن کے حمزہ کافی آپ سیٹ ہوگیا تھا وہی کوئ اور بھی تھا جس نے زریاب کی ساری باتیں سنی اور خاموشی سے چلا گیا۔۔
!!!!!!!!!!
ہاں ہاں حاشر آپکو بھی مبارک ہو اب ہم جب ملینگے جب آپ برات لے کر ائیگے ۔۔
فلک 20 دن تک تم سے دوری کیسے برداشت کرونگا۔۔
اوہ زرا مسٹر مجنوں کو تو دیکھے ۔۔
کیا کہا مجنوں ایک بار آجاؤ میرے پاس پھر بتاؤنگا میں کون ہو۔۔
اچھا جی چلے اب آپ بھی آرام کرے مجھے بھی کرنے دے اللہ حافظ ۔۔۔
!!!!!!!
آج حاشر کے گھر والے شادی کی ڈیٹ فکس کرگئے تھے 20 دن بعد کی ڈیٹ رکھی گئ تھے سب ہی خوش تھے مگر نومیر اور لائبہ کو اوپری خوشی تھی انہوں نے حاشر کے حق میں ہاں صرف فلک کی وجہ سے کی تھی۔۔
فلک تاشہ اور دلنشین سب ہی کچن میں مصروف تھی ۔سب کیلیے کافی بنانے میں جب دلنشین نے پوچھا۔۔
یار فلک آپی آج آپکی دوست نہیں آئ زارا ۔۔۔؟
وہ کسے آتی ایک ہفتے بعد اسکا نکاح ہے اور جمال انکل کا تو پتہ ہے تمہیں کچھ زیادہ ہی سخت مزاج ہیں۔۔
فلک کی باتوں سے دلنشین کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔
زارا اور احسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اس راز سے عثمان زریاب دلنشین تینوں واقف تھے تو پھر زارا کا نکاح کسی اور اسے کیسے کیوں؟؟
ہزاروں سوالوں نے ایک دم دلنشین کے دماغ میں کھل بالی مچا دی ۔
اسے اندازہ نہیں تھا کے اسکا کزن اتنی بڑی عزیت میں مبتلا ہے۔۔
گھر آکے اسنے فلک سے زارا اور اسکے ہونے والے شوہر کی پک مانگی۔۔
اور کچھ سوچتے ہوئے کسی کو کال کی۔۔
جیسے جیسے زارا کی نکاح کا دن قریب آرہا تھا احسان کی چپ بڑھتی جارہی تھی آنکھیں رات بھر جاگنے کا شکوہ کرتی تھی۔
اور زارا تو بس کتھ پتلی بنی ہوئ تھی کوئ احساسات کوئ جزبات کچھ نہیں تھا اسکے اندرر۔
دلنشین نے بھی احسان کی حالت دیکھ کے اسے کریدنا مناسب نہیں سمجھا۔ ۔
آج زارا کا نکاح تھا سب ہی اسکے نکاح میں شامل تھے سوائے دلنشین عثمان احسان اور زریاب کے۔
دلنشین۔ اور عثمان کی میٹنگ تھی زریاب ایک کیس کے سلسلے میں شہر سے باہر تھا۔۔
احسان کو آج بہت تیز بخار تھا ۔۔
وہ گھر پہ ہی تھا۔۔
!!!!!!!!!!
تم دیکھ لو یار یہ بہت رسکی کام ہے۔۔
رسکی کام میں ہی تو مزہ ہے ڈونٹ وری میں پوری تیاری کیساتھ اندر جاونگی۔۔۔
دیھان رکھنا ویسے کوئ تمہیں پہنچان تو پائے گا نہیں۔
شکریہ جناب ۔۔
ناؤ گیم اس بیگن۔۔۔۔
!!!!!!!
زارا بنت جمال کیا آپکو دانیا خان سے نکاح قبول ہے۔۔
قاضی صاحب کے لفظ زارا کا دل بند کرنے کیلیے کافی تھا۔۔
زارا نے اپنی آنکھیں بند کی اور جیسی ہی قبول کہنے لگی حال میں آواز گونجی۔۔
ایک منٹ قاضی صاحب یہ نکاح نہیں ہو سکتا یہ شخص پہلے سے شادی شدہ ہے اور ایک بچے کا باپ ہے ۔
حال میں موجود سب نے اس لڑکی کو دیکھا دانیال کے ماں باپ تیزی سے اس لڑکے تک پہنچے اور کہا۔۔
ایےےے لڑکی کیا بکواس کررہی ہو تم ہو کون تم؟؟
میں بکواس نہیں کررہی آنٹی انکل میرے پاس پروف ہے یہ دانین نام کی لڑکی کا شوہر ہے اور ارحم نام کے بچے کا باپ ۔۔
یہ کیا بکواس ہے خان صاحب کون ہے یہ لڑکی اور کیا بول رہی ہے ۔؟
جمال صاحب نے غصہ سے پوچھا ۔۔
پتہ نہیں جمال بھائ کون ہے یہ لڑکی پتہ نہیں کیا کیا بکواس کری۔جارہی ہے۔۔۔
دانیال اس سارے ڈارمے میں خاموش کھڑا رہا جبکہ زارا کو فلک نے سنبھالا ہوا تھا۔۔۔
میں جھوٹ نہیں بول رہی ثبوت ہے میرے پاس ۔۔
یہ بول۔کے وہ لڑکی باہر گئ اور اپنے ساتھ دانین اور ارحم کو لے ائ۔۔
دانین اور ارحم کو دیکھ کے دانیال تیزی سے نیچے آیا اور ان دونوں کو اپنے سینے لگا لیا اور جمال صاحب سے کہا ۔
انکل یہ میری بیوی اور بیٹا ہے میں یہ نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا مگر پاپا نے مجھے دھمکی دی کے اگر میں نے کوئ بھی تماشہ کرا تو وہ میرے بیوی بچہ کو غائب کروادینگے
مجھے معاف کردے انکل اوراپ۔پاپا آج کے بعد آپکا اور میرا کوئ تعلق نہیں میری بیوی غریب اور بے سہارا پہلے تھی مگر اب میں اسکا سہارا ہو ہم لوگ ہمیشہ ہمیشہ کیلیے آپ لوگوں کی جھوٹی شان وشوکت سے دور جارہے ہیں ۔
یہ بول کے دانیال اپنی فیملی کو لے کر چلا گیا اور وہ لڑکی جس نے اچانک کسی آندھی کی طرح آئ اور سب جگہ تباہی مچا کے کہاں غائب ہوئ کسی کو پتہ نہیں۔ چلا ۔
جمال صاحب تو وہی کرسی پہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ادھر خان صاحب نے جو بھری محفل میں منہ کی کھائی وہ بھی اپنے مہمانوں کیساتھ چپ چاپ چلے گئے ۔
فلک زارا کیساتھ گھر آئ فلک کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا اسے کیا دلاسہ دے انکو ابھی جو ڈرامہ حال میں ہوا اسکی سمجھ سے تو باہر تھا ۔
زارا کے پاس اسکی امی آئ اور اسے گلے لگا کے کہا۔
کوئ بات نہیں بیٹا جو ہوتا ہے اچھے کیلیے ہوتا ہے اللہ کے ہر کام میں کوئ نہ کوئ مصلحت ہوتی ہے۔۔
رات زیادہ ہونے کی وجہ سے فلک لائبہ بھی گھر پہنچ چکی تھی ۔
جاری ہے۔۔