Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 57 ( Part 3)
Rate this Novel
Episode 57 ( Part 3)
کب تک میری مسسز ٹھیک ہو جائینگی ؟؟
دیکھے سر آپ مجھ سے کوئ دسیوں دفعہ یہ سوال پوچھ چکے ہیں اور میں آپکو دسیوں بار یہ جواب دے چکی ہو کے انکی حالت سدھرنے میں ٹائم لگے گا۔۔
آپ نے کیا کنڈیشن دیکھی نہیں تھی انکی جب آپ انکو یہاں لائے بقول آپکے انکا بہت سیریس ایکسیڈینٹ ہوا ہے مگر حیرت ہے آپ انکے ساتھ تھے مگر آپکو ایک بھی چوٹ نہیں آئ ۔
نرس روزی نے بھی شاہ کا دماغ درست کرا۔۔
ابھی فلحال شاہ یہاں ہاسپٹل میں تماشہ کرنا نہیں چاہتا تھا فلحال اسے فلک کو یہاں سے لیجانے کی جلدی تھی اور وجہ تھی اسکی ماں ۔۔
روزی کی باتیں سن کے حاشر چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔۔
روزی فلک کو انجیکشن لگانے کمرے میں آئ تو فلک نے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا۔۔
شکریہ آپکا نرس ..
شکریہ کی بات نہیں ہے فلک آب آپکے ہسبینڈ کو شک ہونے لگا ہے تمہیں جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا ۔۔
میں کیا کرو سسٹر مجھے پاکستان میں اپنی فیملی میں سے کسی کا بھی نمبر یاد نہیں ۔۔
یہ بول کے فلک رونے لگی۔۔
کچھ کرے سسٹر مجھے یہاں سے کہی اور بھیج دیں میں اس جہنم میں واپس جانا نہیں چاہتی وہ شخص جانور ہے وحشی درندہ ہے ۔
روزی کو بھی اب اس لڑکی کی فکر ہونے لگی مگر وہ کیا کرسکتی تھی خود کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور اسکی مالک مکان مس جینفر کافی اکڑو تھی۔۔
فلحال وہ فلک کو تسلی دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئ۔۔
!!!!!!
دو ہفتوں سے وہ روز رات کو ہمیشہ کی طرح چھت پہ فلک کا ویٹ کر رہا تھا مگر وہ گھر میں ہوتی تو چھت پہ آتی نہ۔۔
نجانے کہاں چلی گئ پتہ نہیں دوبارہ ملاقات ہوگی بھی نہیں۔۔
اسامہ ابھی انہیں سوچوں میں گم تھا جب زوری کیبن میں ائ۔۔
ارے اسامہ تم کب ائے۔۔
بس روزی ابھی ایا۔۔
تم بتاؤ اتنی پریشان کیوں ہو؟؟
کچھ نہیں یار اسامہ ایک لڑکی ہسپتال آئ تھی بہت خراب کنڈیشن میں ۔۔
پھرمس روزی نے فلک کی ساری ڈیٹیل اسے دے دی جسے سن کے جہاں اسامہ کو فلک کی حالت پہ بہت افسوس ہوا وہی وہ اسے اسکے شوہر پہ بھی اچھا خاصا غصہ ایا۔۔
اب بتاؤ میں اسے آگر ہسپتال سے چوری چھپے نکال بھی دو تو رکھونگی کہاں اسکا تو کوئ ٹھکانہ بھی نہیں ہے اور تمہیں پتہ ہے میری مالک مکان کا۔۔
روزی اسامہ کے ماموں کی بیٹی تھی ایک اپنے والدین کی ڈیتھ کے بعد وہ جاب کررہی تھی نرس کی اور ایک اولڈ لیڈی کیساتھ رہتی تھی وہ۔اولڈ لیڈی تھی تو بہت اکڑو مگر روزی کے بغیر رہتی بھی نہیں تھی۔۔
روزی تم اسے کیسے بھی کرکے ہسپتال سے باہر نکالو باقی مجھ میں چھوڑ دو اج رات تمہیں کال کرکے میں اپنا پلین بتاونگا۔۔
مگر تم کیوں خاماخائ میں اس چکر میں پڑھ رہے ہو جانتے ہو نہ اگر اسکے ہسبینڈ کو پتہ چلا کے تم۔نے اسے غائب کروایا ہے تو جانتے ہو نہ سزاا۔۔
تم کیوں اسکی اتنی فکر کررہے ہو چھوڑ و میں آج اس سے صاف صاف بول دو گی کے میں اسکی مدد نہیں کرسکتی۔۔
میں تم سے جو کہہ رہا ہو وہ کرو تم روزی۔۔
کیوں بھئ فضول میں کیوں عزاب لے رہے ہو اپنے سر پہ نہ اسے دیکھا نہ بات کی پھر بھی اسکی اتنی فکر کرہے ہو۔۔
دیکھ چکا ہو میں اسے اور آج سے نہیں 5 سال پہلے سے ۔۔
ایک منٹ ایک منٹ کہی یہ وہی فلک تو نہیں جیسے تم یونی میں۔
چلو دیر آئے درست ائے درست آئے اسامہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مگر تم نے اسے دیکھا تو نہیں کیا پتہ وہ کوئ اور فلک ہو۔۔
اچھا چلو دیکھ لیتے ہیں یہ وہم۔بھی دور کرلیتے ہیں ۔۔مگر جو تم نے بتایا ہے وہی سب فلک کیساتھ ہوتا تھا اسی فلک کیساتھ جو میرے ساتھ یونی میں تھی اور وہ میری نیبر ہے ۔۔
تمہارے کہنے پہ ایک نظر ڈال لیتے ہیں اس پہ ورنہ دل تو یہی گواہی دے رہا کے وہی ہے۔۔۔
!!!!!!!!!!!!
جتنی جلدی ہو ہمیں امریکہ پہنچنا چاہیے پتہ نہیں اس نے فلک آپی کیساتھ کیا کرا یوگا۔۔
وہ سب ٹارچر سیل میں موجود تھے ۔۔
مگر دلنشیںن ہمارے پاس صرف شاہ کا چہرہ ہے یہ ہمیں پتہ ہے کے شاہ کتنا بڑا مجرم ہے مگر ہمارے پاس ثبوت نہیں ہے۔۔
احسان کے کہنے پہ سب ایک بار تھک۔ہار کے بیٹھ گئے کیونکہ واقعی میں ہمارے پاس شاہ کے خلاف کوئ ثبوت نہیں۔۔
پتہ نہیں میری بہن کا کیا حال ہوگا ۔۔
احسان کے لہجہ میں موجود نمی ان تینوں نے صاف محسوس کی۔۔
اللہ پہ بھروسہ رکھ یار انشاء اللہ بہت جلد ہم فلک آپی کو صحیح سلامت واپس لائینگے۔۔۔
!!!!!!!
کھانا لاو آپکے لیے ؟؟
عثمان کمرے میں آیا تو مہناز نماز پڑھ رہی تھی نماز ختم کرتے ہی اس نے عثمان سے پوچھا۔۔
نہیں یار ابھی موڈ نہیں۔ ہے تم آؤ یہاں میرے پاس ۔۔
ہمیشہ کی طرح اس نے بیڈ پہ لیٹتے ہی اپنی باہینں کھول کے مہناز کو پکارا۔۔
مہناز مسکراتے ہوئے اسکے پاس چلی گئ ۔
عثمان۔ نے بہت احترام سے ڈوپٹہ میں قید اسکا چہرہ تھاما اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور اپنے قریب کرکے آنکھیں موند گیا۔۔
مانی۔؟؟
ہممم۔۔
پریشان ہیں اپ؟؟
نہیں بس کچھ ایسا خاص نہیں۔۔
بتائے نہ کیا پریشانی ہے۔۔؟
ماہی فلک آپی کی طرف سے پریشان ہیں ہم یہ جانتے ہوئے بھی وہ شاہ کی گرفت میں اور کہاں ہے پھر بھی ہم شاہ پہ ہاتھ نہیں ڈالا سکتے پتہ نہیں فلک آپی کا وہاں کیا حال ہورہا ہوگا۔۔؟؟
امجد نے کہا تھا وہ شاہ کے خلاف ہمیں ثبوت دے گا مگر اس سے پہلے ہی شاہ نے اسے جان سے ماردیا۔۔۔
عثمان کی ساری باتیں سن کے مہناز بیڈ پہ سے اٹھ کے الماری کی طرف بڑھی۔۔
کہاں جارہی ہو ادھر آؤ یار..
ایک منٹ مانی ۔۔
یہ بول کے مہناز الماری میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی اور مطلوبہ چیز ملتے ہی وہ مانی کے پاس آئ اور کہا۔۔
مانی یہ چابی مجھے امجد نے دی تھی بس اتنا کہاں تھا اگر کبھی مجھے کچھ ہوجائے تو یہ چابی دلنشیںن کو دے دینا۔
ماہی کی بات پہ مانی ایک جھٹکے سے بیٹھا اور چابی کو غور غور سے دیکھنے لگا۔۔
ماہی کیا تم جانتی ہو یہ چابی کسی جگہ کی ہے؟؟
ہاں مانی جہاں جس گھر امجد کی موت ہوئ تھی وہاں موجود ایک تیجوری کی چابی ہے ۔۔
تمہیں پتہ ہے وہ تیجوری کہاں ہے ؟؟
نہیں مانی بس اتنا پتہ ہے وہ اس گھر میں کسی تصویر کے پیچھے ہے۔۔۔
اوہ شکریہ یار ماہی یہ بول کے مانی نے خوشی میں مہناز کے لبوں کو چوم ڈالا۔۔
تم نہیں جانتی ماہی آج تم نے کتنا بڑا احسان کرا ہے مجھ پہ
۔۔
ایک منٹ۔۔
۔اس نے دلنشیںن کو زریاب کو احسان کو سب کو میسج کرکے فورا ٹارچر سیل میں آنے کو کہا۔۔
مانی اپنی خوشی میں خوش تھا مگر مہناز افسردہ تھی۔۔
اےےے کیا ہوا ماہی ؟؟
عثمان شاہ نے جیسے امجد کو ماردیا اگر اس نے آپکو بھی تو میں تو مرجاونگی۔۔
یہ بول کے ماہی رونے لگی۔۔
عثمان نےا گے بڑھ کے اسے سینے سے لگالیا۔
ماہی موت تو برحق مگر میرا وعدہ ہے تم سے کم از کم شاہ میرا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔۔
ادھر دیکھو میری طرف ابھی ہمیں بہت جینا اپنے بچے دیکھنے ہیں انہیں بڑا کرنا ہے۔۔
بچوں کا نام سن کے مہناز شرما کے دوبارہ مانی کے گلے لگ گئ۔۔
اچھا اب تم سوجانا مجھے لیٹ ہو جائے گا پہلے اس گھر میں گھسنا پڑے گا پھر وہ تیجوری بھی ڈھونڈنی ہے ایسا نہ ہو شاہ پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہو۔۔
!!!!!!!!
کیا بات کررہے ہو مانی سچ میں۔۔
احسان اور دلنشین دونوں نے ایک ساتھ چیخ کے کہا
یہ آج مجھے ماہی نے دی ہے سو گائز کچھ ایڈ وینچر ہوجائے۔۔
ہاں یار کافی دن ہوگئے کوئ دیوار پھیلانگے ہوئے۔۔
دلنشیںن کے بولنے پہ سب کا ہی قہقہ گونجا زریاب نے دھیرے سے اسکے کان میں کہا۔
مگر میں تو تمہیں گودھ میں لے کر کودنے کا ارادہ رکھتا ہو۔۔
اوہ مجنوں ہڈیاں تڑوانی ہے۔۔
احسان جس نے زریاب کی سرگوشی سن لی تھی فورا بول پڑا۔
زریاب نے ایک گھونسا اسکی کمر پہ مارا اور کہا۔۔
“کمینا’
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
پورے گھر کی تلاشی لے کر وہ لوگ خوار ہوچکے تھے مگر کہی بھی ان لوگوں کو وہ سیو نہیں ملی۔۔
یار اب کہاں ڈھونڈے ڈھونڈتے ڈھونڈتے صبح ہوگئ ۔
دلنش نے تھک ہار کے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
یار ماہی نے کہاں تھا کسی تصویر کے پیچھے ہیں سیو۔۔۔
یار ہر تصویر تو دیکھ لی یہاں اب کونسی باقی ہے۔۔
اوپر دیکھا ؟
ہاں عثمان دیکھ لیا ہے یار وہی صرف مہناز کی پک لگی ہے ایک وہ بھی بچپن کی اسکی۔چھوٹی سی تصویر ہے اسکی اب اسکو میں کیا دیکھتا۔۔
زریاب یہ کہہ کے بیٹھا مگر عثمان اس نے اوپر کو ڈور لگائ باقی سب بھی اسکے پیچھے بھاگے۔۔عثمان نے جیسی ہی اس تصویر کو پلٹا ۔۔
تو اس نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ اسی کے پیچھے تھی۔تیجوری۔
چابی سے تیجوری کھولی تو انکے کام کے ساری چیزیں بھی ملی ان چیزوں کو حاصل کرکے ان چاروں کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ ہی نہیں تھا کچھ تصویریں بھی تھی۔۔
ان چاروں نے سارے ثبوت سمیٹے اور وہاں سے روانہ ہوئے۔۔
!!!!!!!!!!!
سارے ثبوت عفان کے سامنے پڑے تھے سی ڈی لیپ ٹاپ میں لگ۔ چکی تھی مگر کھلنے کا نام ہی لے رہی تھی ۔۔
جب اچانک کمپیوٹر ہیکر نے اینٹری ماری جیسے دیکھ کے احسان اور زریاب اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے ۔
رئیلی کیپٹن۔۔
آرمی ہیکر تیمور ہے۔۔
جی اور یہ آپ لوگوں کیساتھ امریکہ کے مشن پہ جائے گا یاد رہے شاہ کو پکڑنا نہں مارناہے جان سے سے گوٹ اٹ۔۔
اب آپ لوگ امریکہ جانے کی تیاری کرے یہاں میں سب سنبھال لونگا ٹھیک 4 دن بعد آپ لوگوں کی فلائٹ ہے ۔۔
!!!!!!!!!!!
گھر میں دلنشین اور تیمور کے بارے میں جان کے سب ہی حیران تھے ۔۔
جنت کو آج اپنی بیٹی پہ پہلے سے بھی ذیادہ فخر ہورہا تھا ابھی وہ سب باتوں میں مصروف تھے کے دو لیڈیز اندر ائ۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔
ان میں سے ایک نے سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔
جنت نے سلام کا جواب دیا سب ہی حیران نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
بیٹا کس سے ملنا ہے اپکو؟
عمر نے ایک اور سوال کیا۔
انکل مجھے عمیر سے ملنا ہے میرا نام صوفیہ ہے۔۔
اچھا ایک منٹ میں بلاتا ہو ۔
تھوڑی دیر میں عمیر نیچے تھا اور بہت خوش اسلوبی سے صوفیہ سے مل رہا تھا۔۔
تاشہ نے بلکل نارمل انداز میں بیٹھی تھی اس نے کوئ ریکٹ نہیں کیا عمیر کو دیکھ جبکہ آج وہ 5 دن بعد اسے دیکھ رہا تھاا۔
صوفیہ تم یہاں کیسے سب خیریت ہے نہ؟
ہاں سب خیریت ہے تم نے مجھے اس لالچی انساں سے بچایا ایک وہی ناسور تھا میری زندگی کا جس سے تم نے مجھے رہائ دلائی تو بس اڑان بھرنے جارہی ہو اپنے سپنوں کے ملک پیرس ۔
یعنی تم نے آصف کا پربوزل ایکسپٹ کرلیا۔۔
ہاں بیٹا اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے بیٹا ہمیشہ خوش رہو صدا آباد رہو اللہ تمہاری جیسی اولاد سب کو دے۔۔
صوفیہ کی امی نے عمیر کو ڈھیروں دعائیں دے ڈالی ۔۔
مجاہد مینشن کے سارے افراد پر تجسس سے یہ جاننے کیلیے کے یہ لڑکی کون ہے؟؟عمیر نے باری باری سبکا تعارف کروایا۔
مگر جب تاشہ کی باری آئی تو صوفیہ تاشہ کو دیکھتے ہی پہچان گئ اور اس نے عمیر سے کہا۔۔
ان سے تعارف میں خود کرونگی۔۔
رہنے دو صوفیہ کوئ فائدہ نہیں اسے یقین آنے والا نہیں۔۔
میرے پاس ثبوت ہے عمیر تم نے میرا اتنا ساتھ دیا ہے اب میری باری۔۔
ہیلو مس تاشہ ۔۔
مس۔نہیں مسسز عمیر۔۔
بیوی ہے میری۔۔۔
عمیر نے کافی ۔مسکرا کے کہا جس پہ تاشہ کو اچھی خاصی آگ لگ گئ۔۔
تاشہ اٹھ کے جانے لگی جب صوفیہ نے اچانک اسکا ہاتھ تھام کے کہا۔۔
تاشہ میں ہو صوفیہ زمان کی پہلی بیوی۔۔
صوفیہ کے منہ سے یہ سںن کے عمیر ریلکس انداز میں سامنے صوفے پہ بیٹھ گیا اور باقی سب کا یہ عالم تھا کے سب نے ہی صوفیہ کی طرف پتھرائی نظروں سے دیکھا۔۔۔
کیا بکواس کرہی ہو تم؟؟
اوہ اب سمجھی میں یہ سب تم اسکے کہنے پہ بول رہی ہو جسے کسی کی عزت کی کوئ پراوہ نہیں بلکہ اپنا شوق پورا کرنا ہے ڈرا کے دھمکاکے۔۔۔
تاشہ نے غصہ میں عمیر کو گھورتے ہوئے کہا ۔
عمیر نے ایک کرب بھری نظر تاشہ پہ ڈالی ۔۔
یہ لڑکی اتنی نفرت کرتی ہے مجھ سے۔۔
عمیر خالی ایسا سوچ سکا۔۔
نہیں تاشہ میرے پاس ثبوت ہے زمان سے پیچھا چھڑایا ہے عمیر نے جب عمیر نے اس سے گن پوائنٹ پہ خلا کے پیپر سائن کروائے تھے ۔تب سے وہ عمیر کا دشمن ہے اوراس سے دشمنی وہ تم سے شادی کرکے نکال رہا تھا کیونکہ کے وہ جانتا تھا کے تم سے عمیر محبت کرتا ہے۔۔
زمان اور اسکی فیملی کا یہی پیشہ ہے امیر لڑکیوں کو پھسانا پھر انکی جائیداد ہرپ کرنا اور بہن امیر لڑکوں کو عمیر پہ وہ کئ بار ٹرائ کرچکی ہے۔۔جس دن تم گڈنپ ہوئ ہو اس دن کی ایک ویڈیو ہے میرے پاس جو میں نے ایک ریسٹورنٹ میں بنائ تھی جب زمان کسی اور لڑکی کیساتھ شادی کے وعدہ کررہا تھا وہاں کے ویٹر نے چند روپے لے کر میری مدد کی ہے دیکھو ۔اور یہی ویڈیو دیکھ کے عمیر نے السلام آباد جانا کینسل کرکے تمہیں بچایا تھا جو تمہاری نظر میں کڈنیپ تھا۔۔
صوفیہ نے ویڈیو اون کرکے تاشہ کے آگے کردی جیسے جیسے ویڈیو چلتی جارہی تھی تاشہ کے پیروں کے نیچے سے زمیں کھسکتی جارہی تھی ویڈیو کے اختتام پہ تاشہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔
جس گھر میں عمیر نے تمہیں رکھا تھا وہ میرا تھا میں دوسرے کمرے میں موجود تھی۔مگر مجھے ضروری کام سے اسلام آباد جانا پڑا تو مجھے یہ نہیں پتہ تھا کے عمیر نے تم سے نکاح کرلیا۔
تمہاری کوئ نیکی کام آئ ہے تاشہ جو تم زمان کے چنگل سے بچ گئ۔۔
عمیر جیسا لڑکا قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے میرے نصیب میں یہ ہے۔ ایک بھائ کی صورت میں۔۔۔
اچھا اچھابہنا بہت لیکچر دے چکی فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے عمیر نے مسکرا کے کہا۔۔۔
صوفیہ سب سے مل کے چلی گئ۔
عمیر اوپر اپنے کمرے میں جانے لگا جب عمر نے سوال کیا ۔۔
مجھے اعتماد میں لے کر بات کرسکتے تھے میں سمجھا دیتا تاشہ کو ۔۔
اس خاندان کی لڑکیوں میں ایک نفسیات ہے سیدھی سی بات انکے سمجھ میں نہیں آتی خود کو سمجھتی ہیں بہت بڑی دماغ والی جب تک ٹھوکر نہیں لگتی انکا دماغ جگہ پہ نہیں اتا۔۔۔۔اور جب ٹھوکر لگتی ہے تو رونا دھونا شروع کردیتی ہیں
پاگل نفسیاتی لڑکیاں ۔۔
عمیر نے جہاں فلک کو نشانہ بنایا وہی تاشہ کو بھی آئینہ دیکھایا۔۔
جاری ہے۔۔
