51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

تیمور تیمور رکو تو اففف کتنا تیز چلتے ہو۔۔
عافیہ نے اسکے ساتھ تقریبا بھاگتے ہوئے کہا۔۔
تیمور نے ایک نظر اسے گھور کے دیکھا اور کہا ۔
تم جاؤ اپنے اس کزن عاقب کے پاس میرا پیچھا چھوڑو جاؤ اسکے ساتھ پاکستان ٹور کیا پوری دنیا گھوم کے او۔۔
تیمور کے بولنے پہ عافیہ ایک دم اسکے سامنے آگئ جسکی وجہ سے اسے اپنے قدم روکنے پڑے۔۔۔
یار میرا کزن ہے تمہیں کیوں اس سے جلن ہے وہ تم سے نہیں جلتا ۔۔
بات جلنے کی نہیں ہے اللہ کا شکر اللہ نے مجھے ہر چیز سے نوازا ہوا ہے تو پھر جلنے کا حسد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ تمہارے کزن ہے ٹھیک ہے مان لیا مگر محبت تو تم مجھ سے کرتی ہو اور میں تم سے کرتا ہو نہ تو کیا اتنا بھی میرا حق نہیں کے تم پہ تھوڑا حق جتا سکو ۔
میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود تم اسکے ساتھ چلی گئ۔۔
میں اکیلے نہیں گئ تھی تیمور ہمارے اور بھی ہمارے دوست گئے تھے۔۔
یار تم۔مجھ پہ شک کررہے ہو۔۔
رئیلی اس بات کو تم اتنا لائٹلی لے رہی ہو حد ہے عافیہ تمہیں میں نے منع کیا کے مجھے وہ تمہارا کزن شرابی مجھے بگڑا ہوا لگتا ہے سونے پہ سہاگا تم اس کے دوستوں کیساتھ چلی گئ۔۔
واہ کیا کہنے تمہارے۔۔
تو کیا ہوا میری اپنی دوستیں بھی تو گئ تھی ۔
عافیہ نے ایک اور ہلکا سے بہانہ بنایا۔۔
ٹھیک ہے جب تم اپنی غلطی مان ہی نہیں رہی تو پھر لاجک پہ لاجک کیوں دے رہی ہو ۔۔
تمہاری بھی تو دوست ہے ثانیہ میں نے تو کوئ ایشو نہیں بنایا۔۔
ثانیہ میری دوستی اسکول ٹائم سے ہے مگر آج تک ہم دونوں نہ دوستوں کیساتھ نہ اکیلے کہی گئے کبھی ایک دوسرے کے گھر نہیں گئے کبھی دوستوں کے ساتھ آؤٹ ڈور نہیں گئے یونی میں بھی بات ہوتی ہے صرف کام کی چپک چپک کے بیٹھے نہیں ہوتے ہم دونوں نہ فالتو گھنٹوں گھنٹوں ایک دوسرے کیساتھ کالز پہ مصروف ہوتے ہیں ۔۔
مجھے تمہاری دوستیوں سے کوئ اعتراض نہیں نہ میرا یہ شکوہ ہے عافیہ بات کو غلط رنگ مت دو دوستیاں ایک حد میں رہ کر اچھی لگتی خاص کر جب جب آپ کسی سے سے ریلیشن میں ہو ۔۔
تم میری محبت ہو بہت جلد ہم ایک ہونے والے ہیں عافیہ رانیہ میری خالی دوست ہے بس اور اسکے ساتھ دوستی ایک۔لیمٹ میں ہے میں اسکے ساتھ پاکستان ٹور پہ نہیں گیا نہ اسکے ساتھ اوٹنگ کرتا ہو عافیہ لمٹ ہر رشتہ میں ضروری ہے یہ بات یاد رکھنا اور میری ڈشنری میں لمٹ کراس کرنا نہیں۔
یہ بول کے تیمور وہاں سے چلا گیا جبکہ عافیہ جس پر تیمور کی کسی بات کا اثر نہیں ہوا الٹا وہ تیمور سے ناراض ہوگئ۔۔۔۔
تیمور کافی دیر بعد کلاس میں گیا تو عافیہ نے اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا پوری کلاس تقریبا فل تھی صرف ثانیہ کی برابر والی سیٹھ خالی تھی ۔۔
کوئ خاص دوست نہیں تھے ثانیہ کے اور وجہ تھا اسکا۔لین دین والا رویہ تیمور اسکا پچپن کا دوست تھا اس لیے اس سے بات چیت کرلیتی تھی ورنہ اپنے کام سے کام ۔۔۔
تیمور ثانیہ کے برابر میں آکے بیٹھا اور اپنا چشمہ اتار کے صاف کرنے لگا اس نے یہ عمل کوئ تین بار کیا تھا ثانیہ نے اس کے ہاتھ سے چشمہ لے کر اسکے سامنے رکھا اور کہا ۔
اب کس بات پہ لڑائ ہوگئ عافیہ سے۔۔۔؟
ثانیہ کی بات پہ تیمور نے اسے غور سے دیکھا اور کہا۔
تمہیں کیسے پتہ لگ جاتا ہے کے میں کسی سے لڑ کے آیا ہو ناراض ہو کسی سے کیسے پتہ لگتا ہے؟؟؟
کافی سالوں سے جانتی ہو تمہیں اچھی دوست ہیں ہم ۔۔۔
جب تم بار بار اپنا چشمہ صاف کرتے ہو تو مطلب کسی سے لڑ کے آئے ہو۔۔
بار بار اپنی گھڑی دیکھتے ہو تو بس بیزار ہو کسی چیز سے۔۔
ایک بہت زیادہ غصہ میں ہوتے ہو تو اپنے جوتے زمین پہ بجاتے رہتے ہو۔۔
اتنا سب جانتی ہو میرے بارے میں تم ۔۔۔
ہاں نہ کہا ہے ابھی کے دوست ہو تمہاری۔۔
عافیہ محبت ہے تمہاری تیمور اسے تھوڑا اسپیس دو
۔اب چشمہ پہنو سر آگئے ہیں ۔
ثانیہ کی باتوں سے تیمور کافی ریلکس تھا مگر اسکا دل اب بھی عافیہ سے ناراض تھا۔۔
!!!!!!!
سب ہی ناشتہ کررہے تھے سوائے تیمور اور تاشہ کے جنکو یونی جلدی جانا تھا۔۔
دلنشین نے ایک نگاہ اٹھا کے بھی زریاب کو نہیں دیکھا تھا زریاب سمجھ گیا تھا اسکے نہ دیکھنے کی وجہ اسلیے ہلکا۔ہلکا۔مسکر رہا تھا۔۔
ادھر احسان نے فلک سے زارا کو ناشتہ کرنے کیلیے بلاوایا تھا نکھری نکھری سے لائٹ یلو کلر کے سوٹ میں زارا احسان سے کترا رہی تھی شاید کل رات جو کچھ ہوا زارا کی سوچ کے بر عکس تھا تو شرمانہ تو بنتا تھا۔۔
دلنشین ناشتہ کرکے اپنے کمرے میں جانے لگی تیار ہونے آج دوپہر کا لنچ عثمان نے دیا تھا ان چاروں کو ۔۔
دلنشین جیسی ہی کمرے میں گھسی کے کلیون کی کی خوشبو اسکی ناک سے ٹکرائی اس سے پہلے دلنشین کچھ سمجھتی زریاب نے اسے آکے کمر سے تھام کے خود سے لگالیا۔
کیا بات ہے میڈم۔نے تو آج ہم بھی ایک نگاہ محبت کی نہیں ڈالی۔۔۔
زریاب پلیز چھوڑو مجھے کوئ اجائے گا ۔۔
اففف کوئ نہیں آتا میں نے دروازہ بند کردیا ہے ۔۔
زریاب پلیز مجھے تیار ہونا ہے چھوڑے مجھے۔۔۔
زریاب نے اسکی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا تو دلنشین ایک بار پھر کانپنے لگی زریاب نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور کہا۔۔
قسم سے مجھے نہیں پتہ تھا تم جو دومنٹ میں مجرموں کی ایسی تیسی کردیتی ہو جرم کی دنیا کے بڑے بڑے مجرموں کی ۔۔
اتنی شائے ہوگی یقین جانو دل چاہتا ہے تمہاری اس ادا پہ میں مرجاو۔۔
زریاب آپ شوہر ہیں میرے اپکا حق ہے مجھ پہ۔
سچ میں تو پھر ایک کسس دو ابھی
۔اوہ۔ائے اقراء چاچی۔۔
زریاب جو دلنشین سے کس کی ضد کررہا تھا دلنشین کے بولنے پہ فورا پیچھے ہو اور اسی بات کا فائدہ دلنشین نے اٹھایا اور فورا واش روم میں بند ہوگئ۔۔
زریاب کو جب دلنشین کی چالاکی سمجھ میں آئ تو وہ مسکراتا ہوا کمرے سے چلا گیا۔۔
!!!!
احسان کے اشارے پہ زارا نہ چاہتے ہوئے بھی سب سے بچتی بچاتی اسے کمرے میں پہنچی۔۔
احسان کیوں بلایا اپنے مجھے سب باہر بیٹھے ہیں پاپا بھی ویٹ کررہے ہونگے ۔۔
مجھے تیار بھی ہونا ہے جانا بھی۔۔
زارا کی بولتی احسان اپنے لبوں سے بند کر چکا تھا زارا نے احسان کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کیا اور کہااحسان بہت خراب ہیں آپ ۔۔
میں جا رہی ہو اس سے پہلے زارا باہر نکلتی احسان اسے دوبارہ قابو کرچکا تھا۔
اسکی گردن کو چومتے ہوئے کہا۔۔
کب گزرینگے یہ 15 دن جانی میں پاگل ہوچکا ہو اب۔۔
اففف احسان چھوڑے مجھے ۔۔۔
زارا نے خود کو آزاد کروایا اور تیزی سے کمرے سے نکل۔گئ۔۔
!!!!
مہناز واش روم میں تھی اسکا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے دروازہ ناک کرنے کی آواز آئ ۔۔
اففف آج نہانہ مشکل ہوگیا۔۔
مہناز جلدی جلدی نہا کے باہر نکلی تبھی اسکے کمرے کا دروازہ کھول کے عثمان اندر داخل۔ہوا۔
ڈوپٹہ سے بے نیاز نہائ ہوئ مہناز کو دیکھ کے عثمان نگاہیں چرا گیا۔۔
مہناز ڈور کے اپنا ڈوپٹہ بھی نہیں لے سکتی تھی جو عثمان کے سامنے پڑا تھا۔۔
آئ ایم سو سوری وہ دلنشین کب سے تمہیں کال کرہی تھی تم اٹھا نہیں رہی تو میرے نمبر پہ کیا ۔۔
ابھی بھی کال پہ ہے ۔۔
مہناز نے گردن ہلا کے موبائل عثمان کے ہاتھ سے لیا۔۔
وہ بات کرنے لگی تو عثمان کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
پانچ منٹ بعد وہ کمرے میں آیا تو مہناز بات کر چکی تھی ۔۔
مہناز کے بیڈ کے پاس اکے جیسے ہی عثمان موبائل اٹھانے ایا ایک دم اسکا پاؤں سلپ ہوا اور وہ مہناز کے اوپر گر پڑا۔۔
جاری ہے۔۔