51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

کب نکلنا ہے صبح تمہیں؟
جنت جو زریاب کے کمرے میں بیٹھی اسکے سر میں تیل ڈال رہی تھی زریاب سے پوچھنے لگی۔۔
ہاں صبح 6 بجے گاڑی لے ائے گا احسان۔۔
اپنا اور احسان کا بلکل اچھے طریقے سے دیھان رکھنا ٹریننگ پہ مکمل فوکس کرنا زریاب کوئ شیطانی نہیں اب ارام کرو میں بھی سونے جارہی ہو ۔۔۔
جنت کے جاتے ہی زریاب نے اپنا باقی کا سامان رکھا اور الارم لگا کے سونے کیلیے لیٹ گیا مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی انکھوں کے سامنے بس دلنشیں کا چہرہ تھا ایک عجیب سے بیچینی تھی زریاب کو کہاں تو اسے ایک منٹ کیلیے بھی دلنشین کا چہرہ برداشت نہیں ہوتا تھا اور اب دل کی ہر وقت بس یہی خواہش رہنے لگی تھی کے ایک بار اسے دیکھو اپنے پاس اسکی خوشبو محسوس کرو ۔۔۔۔
افف زریاب عمر مجاہد ہوش کے ناخون لے وہ ایک چڑیل ہے ڈائن ہے خون کیساتھ ساتھ دماغ کا دہی بنانے والی۔۔
زریاب جو جانے سے پہلے ایک بار دلنشین کو دیکھنے کا ارادہ رکھتا تھا رات کے اس پہر اسکے کمرے میں جاکے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکے دوبارہ بستر پہ لیٹتے ہوئے دل کے اگے دماغ کی دلیلیں رکھنے لگا۔۔
ایک بار دیکھنے میں کیا ہرج ہے کونسا وہ جاگ رہی ہوگی ؟
ایک اور دل کی معصومانہ دلیل پہ زریاب نے اپنے اوپر کمفرٹر اتار پھینکا۔۔
ہمت کرزریاب دیکھ دل کا معملہ ہے اب دل ائے چڑیل پچھل پیری پہ تو شہزادی کیا چیز ہے شاباش پولیس ٹریننگ کیلیے جارہا ہے چل چل بہادر بن۔۔
زریاب نے ائینہ کے سامنے کھڑے ہوکر خود سے کہا اور چل پڑا دلنشین کے کمرے کی طرف۔۔
احسان رات کے ادھی پہر خاموش سا چھت کی دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا جب کسی کی موجودگی اپنی برابر میں محسوس کرکے اسکے لب مسکرائے وہ جانتا تھا وہ کبھی اسے منع نہیں کرتی پچھلے 2 سالوں سے تو اس پہ انکشاف ہوا تھا کے وہ اپنی پڑوسن پہ مر مٹا تھا زارا کب اسکے دل کے تخت پہ براجمان ہوئ احسان خود بھی انجان رہا جب محلے کی شادی میں اس نے محلے کے ایک لڑکے سے جو انہی کیساتھ کھیل کے بڑا ہوا زارا کا فرینک ہونا احسان کو زارا کا اسکے اتنا کلوز ہونا اچھا نہیں لگا بس وہ رشتہ جسے اج تک وہ دوستی کا نام دیتا ایا تھا اس لمحہ کے بعد احسان پہ انکشاف ہوا کے زارا اس کے لیے کیا ہے احسان نے جب اپنے دل کی بات زارا سے کہی تو یہ جان کے شاکڈ ہوا کے وہ پچپن سے اسے پسند کرتی ہے۔۔
اتنی دیر سے کیوں ائ جانتی ہونہ مجھے صبح نکلناہے؟
احسان نے زارا کو مخاطب کرکے کہا۔۔
مہرون کلر کے سمپل ڈریس میں اسکی ہاف استینوں سے جھلکتے دودھیا بازو چٹیا میں قید لمبے بال جن میں سے چند اوارہ لٹیں اسکے اداس چہرے کا طواف کررہی تھی چاند کی رشنی میں زارا کی چاندنی سراپا احسان کو نظریں چرانے پہ مجبور کرگیا۔۔۔
سںب کے سونے کے بعد ہی اسکتی ہو اوپر جانتے ہو پاپا کی نیچر کو۔۔
ہمم مس کروگی مجھے احسان نے اسکے روبرو اکے پوچھا۔۔۔
نہیں ا..
اوہ وہ کیوں ؟
احسان جانتا تھا وہ رورہی ہے گردن نیچی کرکے مگر فلحال وہ اسکے انسووں کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔۔
چلو تم اگر مجھے مس نہیں کروگی تو فائدہ میرا یہاں تمہارے ساتھ بیٹھنے کا ہ۔۔
یہ بول کے احسان جانے لگا جب زارا نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے روکا اور کہا۔۔
نہیں کرو تنگ احسان پلیز مت جاو نہ ۔۔
احسان نے اپنے سامنے کھڑی اس جھلی کو دیکھا اور اور اسکے قریب اکے کہا۔
میرا خواب ہے یہ تم جانتی ہونہ زارا بس تین سال تو ہے چٹکیوں میں گزر جائینگے۔۔
اب مسکراکے دیکھو میری طرف ۔۔
احسان کے کہنے پہ زارا نے مسکراکے احسان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
چلو اب جاو اس سے پہلے کوئ دیکھ لے۔۔
احسان کے کہنے پہ زارا نے ہاں میں گردن ہلائ اور اپنی اور احسان کی ملی چھت کے پاس گئ جہاں صرف ایک مندیر کا فاصلہ تھا چھت کے اس بار جاکے زارا نے مڑ کے احسان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اشارہ سے زارا نے احسان کو اپنی طرف بلایا احسان زارا کی چھت کی مندیر کے پاس گیا۔۔
دونوں ایک دوسری کے اتنے قریب تھے کے ایک دوسرے کو اسانی سے چھو سکتے تھے ۔۔
ہاں بولو کیا ہوا؟؟
احسان نے زارا کے قریب جاکے کہا ۔
زارا ہمت کرکے اگے بڑھی اور اچانک احسان کے گال پہ تیزی سے اپنے لب رکھ کے ہٹائے اور کہا۔
مس یو جان اور نیچے کو ڈور لگادی۔۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا کے احسان شاکڈ ہوئے بغیر نہیں رہ پایا اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کے مسکرایا اور نیچے چلا گیا۔۔
دلنشین کے کمرے کی ڈبلیکیٹ چابی لےکے زریاب نے اہستہ سے دلنشین کا روم کھولا۔۔
سامنے بیڈ پہ وہ دنیا جہاں سے بے خبر ہوکے سورہہ تھی۔۔۔
زریاب نے بہت اہستہ اہستہ قدم اٹھائے کیونکہ یہ بات مشہور تھی کے دلنشین کی نیند بہت کچی تھی زرا سی اہٹ پہ کھل جاتی تھی۔۔
زریاب نے غور سے سوتی ہوئ دلنشین کو دیکھا دنیا جہاں کی۔معصومیت اسکے چہرے پہ تھی ایسا زریاب کو لگا ۔۔
چند سیکنڈ گزر گئے زریاب کو دلنشین کوتکتے تکتے ۔۔
زریاب نے جانے کیلیے قدم بڑھائے وہ کمرے سے نکلنے لگا جب کچھ یاد انے پہ وہ دوبارہ دلنشین کی طرف گیا بہت کوشش کے بعد بھی وہ اپنی خواہش کا گلا نہ گھونٹ سکا اور دھیرے سے دلنشین کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے فورا ہٹائے اور دھیرے سے کہا۔۔
تم صرف میری ہو دلنشین ۔۔
یہ کہہ کے کمرے سے جانے لگا مگر دلنشین کی موسٹ فیورٹ چیز اٹھانا نہیں بھولا کمرے سے نکل کے دروازہ بند کرکے جیسی پلٹا سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ کے زریاب کا دل حلق میں اگیا۔۔
جاری ہے۔۔