Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
دل نشین تمہیں کس نے کہا تھا لڑنے کے لیے پرنسپل تھے نہ اسکول کے اندر تمہیں کیا ضرورت تھی اس طریقے سے ہاتھا پائی کرنے کی ؟؟
عمر گاڑی میں مستقل دلنشین کو ڈانٹے جا رہا تھا جبکہ اس کے برابر میں بیٹھا اسکا دوست دلنشین کو دیکھ کر کچھ اور ہی سوچ رہا تھا اور اپنی سوچ کا ذکر عمر کے دوست نے دلنشین کو گھر چھوڑنے کے بعد عمر سے کرا۔۔
عمر نے اپنے دوست کی بات سنی تو غصے میں اسے گھور کے کہا تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔۔
بگ بی کبھی بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے عمر کے دوست نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا دیں گے ضرور دیں گے بس اس سال جب دلنشین اپنے پیپر سے فارغ ہوجائے تو جیسا میں بولوں ویسا ہی کر کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا ۔
۔ تو سمجھ نہیں رہا ہے یہ لڑائ اسکول تک تھی دل نشین کبھی بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تو اس کو پہنچانا چاہ رہا ہے۔۔
عمر نے اپنے دوست کو سمجھانا چاہا۔۔
چل ٹھیک ہے ہوسکتا ہے میرا نظریہ غلط ہو۔۔ ایک ڈیمو دیکھ لیتے ہیں ۔ دلنشین کی کوچینگ سے واپسی کب تک ہوتی ہے ؟؟؟
یہ ہی یار آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب۔
عمر نے اپنے دوست کو جواب دیتے ہوئے کہا۔
۔
لینے کون جاتا ہے اس کو؟؟؟
کبھی میں چلا جاتا ہوں کبھی عمیر چلا جاتا ہے ٹھیک ہے آج اس کو کوئی لینے نہیں جائے گا تجھے ڈیمو دیکھنا ہے آج وہی دیکھ لیتے کہ میں جہاں دل نشین کو بھیجنا چاہ رہا ہوں اور دلنشین کو لے کے جانا چاہ رہا ہوں کیا وہ اس جگہ کے قابل ہے یا نہیں۔۔
یہ بول کے عمر کے دوست نے ایک کال کری اور کال رکھنے کے بعد عمر کو انکھ مار کر کہا ہم دل نشین کو لینے ضرور جائیں گے لیکن اس کے سامنے نہیں جائیں گے چپکے کہی گاڑی میں بیٹھے رہینگے ۔۔
تو دیکھ لے ڈیمو۔۔
ویسے میرا نظریہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔۔
یہ بول کے عمر کا دوست بھرپور مسکرایا جبکہ عمر کو ایک نئی ٹینشن نے ان گھیرا۔۔
ابھی ابھی احسان اور ذریاب500 پش اپ کر کے بیٹھے تھے جب احسان نے زریاب کو دیکھ کے کہا ویسے زریاب مجھے لگتا ہے اپنی بیچ کی جو عروج ہے نہ ۔۔
ائ تھنک وہ تجھ میں انٹرسٹڈ ہے؟؟
زریاب جو آنکھیں بند کرکے دلنشین کا چہرہ یاد کر رہا تھا احسان کی بات پہ فورا انکھیں کھول کے احسان کو دیکھا اور کہا۔
تیرا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا اور اگر انٹرسٹڈ ہے بھی تو اس میں میں کیا کر سکتا ہوں ۔۔
میں یہاں صرف ٹریننگ کرنے ایا ہو اور ٹریننگ کے بعد میں کہیں اور وہ کہی اور میں ان فضول کے چکر میں پڑنا نہیں چاہتا۔۔
ہو ہو ہو بھائی ذرا ہولے ہاتھ رکھ میں نے تو ایسی بات بولی تو ہاپر ہوگیا۔۔۔
تو تو اپنی بات بھی تو دیکھ کیا بول رہا ہے۔۔
تجھے میں نے بتایا ہے نہ میں دلنشین میں انٹرسٹڈ ہو اور یہ بات بڑے پاپا جانتے ہیں۔
۔ ہائے میرے بھائی کو دیکھو پسند بھی کس کو کرا ہے۔۔
شاید تو جانتا نہیں ہے وہ تیرا سایہ بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی اور وہ تجھے ساتھ دیکھے گی اپنے شوہر کے روپ میں وہ بھی ساری زندگی ۔۔۔
یہ خواب دیکھنا چھوڑ دے میری بات مان لے عروج اچھی لڑکی ہے تو بولے میں بات چلاؤ احسان کے کہنے پہ زریاب نے زور دار گھونسا اسکی کمر پر مارا اور کہا ۔۔
تیرے جیسا دوست ہو تو دشمن کی کس کو ضرورت ہے ۔
لگتا ہے مجھے 500 پش اپ کرکے کافی سکون ملا ہے تجھے جبھی اس طرح کی باتیں کررہا ہے کوچ کو بولو کے احسان کا دل۔1000 پش اپ کا چا رہا ہے۔۔
ارے نہیں نہیں میرے باپ میں تو مذاق کر رہا تھا ارے میرے یار تو تو سیریس ہو جاتا ہے احسان نے نقلی مسکراہٹ سجا کے زریاب کو کہا ۔۔
یہ مذاق ہی ہونا چاہیے میرے بھائی ورنہ تو مجھے جانتا نہیں زریاب یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گیا زریاب کے جاتے ہی احسن نے گردن موڑ کے درخت کے پیچھے چھپی عروج کو دیکھ کے نفی میں گردن ہلائ۔۔
دلنشن کو کوچنگ میں انتظار کرتے کرتے 9.30 ہوگئے مگر کوئ اسے لینے نہیں ایا دلنشین نے روڈ تک پیدل جانے کا سوچا کیونکہ موبائل تو کوچنگ میں وہ لاتی نہیں تھی اور عمر نے گھر میں سب کو بول دیا تھا کے دلنشین کو لینے میں جاونگا اس لیے گھر میں سب بے فکر تھے۔۔
روڈ سنسان تھا دلنشین نے ایک نظر سنسان روڈ کو دیکھا اور اپنی پوکٹ میں رکھا پین اپنے ہاتھ میں دبا لیا۔۔
دلنشین خاموشی سے چلنے لگی جب اسے لگا اسکے پیچھے کوئ ارہا ہے ہے اس نے مڑ کے دیکھا تو دو لڑکے اسکے پیچھے چل رہے تھے دلنشین کو پل بھر کیلے ڈر لگا اس نے تیز تیز چلنا شروع کردیا ان لڑکوں کی اسپیڈ بھی تیز ہوگی جب دلنشین رکی اور ایک دم پلٹ کے کہا۔
کیا بات ہے کوئ مسئلہ ہے اپکے ساتھ کیوں پیچھا کررہے ہیں میرا؟؟
ارے اپ اکیلی جارہی ہیں میڈم وہ بھی اس سنسان سڑک پہ ائے ہم اپکو چھوڑ دیتے ہیں ۔۔
دلنشین اب بالغ ہوچکی تھی اچھی بری نظریں پہچان سکتی تھی۔۔
اس لیے وہ لڑکوں کی نیت اچھے سے پہچان گئ تھی اس نے جیسی ہی الٹے قدم اٹھایا ایک لڑکے نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور شاید یہی اس بچارے سے غلطی ہوگئ۔۔
دلنشن نے گھوم کے ایک الٹی لات اس لڑکے کے منہ پہ ماری۔۔۔
لات پڑتے ہی وہ لڑکا ذمین بوس ہوگیا دوسرے لڑکے نے جیسے ہی لڑکے کو ذمین بوس ہوتے دیکھا اس نے بھی دلنشین پہ حملہ کرنا چاہا مگر ہائے اس بچارے کی قسمت دلنشین نے اس لڑکے ہاتھ پکڑا اور گھوم کے اسکا ہاتھ تیزی سے اپنے کندھے پہ رکھا اور جھٹکا دیا ۔۔
چٹاخ کی اواز ائ اور وہ لڑکا اپنا ہاتھ لے کے تکلیف سے بل بلا اٹھا زمین بوس لڑکے نہ اٹھ کے جیسے ہی دلنشین پہ دوبارہ وار کرنا چاہا دلنشین نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پین سیدھا اسکے ہاتھ پہ گھونپ دیا لڑکے کی چیخییں دور گاڑی میں بیٹھے عمر تک کو سنائ دی دلنشین نے ایک ایک لات بونس میں ان دونوں کو دی اور تیزی سے روڈ کراس کرکے رکشے میں بیٹھ کے چلی گئ۔۔
دلنشین کے جاتے ہی عمر نے سکتے کی حالت میں پہلے اپنے دوست کو دیکھا اور اپنے سر پہ زور سے ہاتھ مارا اور ادھر اسکے دوست کا قہقہ گاڑی میں گونجا۔۔
اج عفان کو گئے دوہفتے ہوگئے تھے ۔عثمان کا داخلہ عفان پہلے ہی ارمی اسکول میں کرواچکا تھا ۔عفان نے مشکل سے ایک دو بار ہی رابعہ کو دیے ہوئے موبائل پہ کال کی تھی عثمان کا حال احوال پوچھنے کیلیے۔۔
ایک ایسا ہی روز معمول کا دن تھا جب عثمان اسکول سے تھکا ہارا اکے ہال کے صوفے پہ بیٹھا اسکے برابر میں رکھا فون ایک دم بجا عثمان نے فون اٹھا کے کان سے لگایا مگر جو خبر اسکو سننے کو ملی اسکے ہاتھ سے فون چھوٹ کے نیچے گرگیا اور وہ زور زور سے چیخنے لگا۔۔
ماما ماما؟؟
رابعہ جو عثمان کیلیے کچن میں کھانا نکل رہی تھی عثمان کے چیخنے پہ تیزی سےہال میں ائ تو عثمان کو روتے دیکھا۔۔
کیاہوا عثمان تم رو کیوں رہے ہو؟؟
اچانک اسکی نظر نیچے گرے فون پہ گئ اور یہ فون نیچے کیوں گرا ہے؟؟
کس کا فون تھا عثمان۔۔؟؟
رابعہ کے پوچھنے پہ عثمان تیزی سے رابعہ سے لپٹ گیا اور کہا۔۔۔
ماما پاپا کو گولیاں لگی ہیں انکی حالت بہت خراب ہے رابعہ کا اتنا سننا تھا کے وہ زمین بوس ہوگئ۔۔
جاری ہے
