51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53 (part 1)

مہناز تقریبا رونے والی ہوگئ۔۔
میں کیوں ہٹاؤ ابھی تو تم نے کہا مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔۔
عثمان ۔ے اسکی کمرے کو سہلاتے ہوئے اورا سکے ڈوپٹہ کے نیچے سے جھلکتی دودھیا گردن پہ ہلکے سے اپنے لب رکھتے ہوئے کہا ۔۔
پلیز سوری ہٹادو تمہیں پتہ ہے نہ میں کتنا ڈرتی ہو ہٹا دو پلیز
۔۔
امممم ہٹاتا ہو۔۔
عثمان مدہوش ہونے لگا آہستہ آہستہ اس نے مہناز کا دوپٹہ اور زیادہ ہٹانا شروع کردیاے اپنے پورے لب اسکی گردن پہ جمانا شروع کردیا۔۔
مہناز جو ڈری کھڑی تھی اچانک اسکے جسم میں کرنٹ لگا ۔۔
اس نے عثمان کو خود سے دور کرنا چاہا مگر ناکام رہی۔۔
عثمان کی گرفت کافی مظبوط تھی۔۔
عثمان چھوڑے مجھے مہناز نے تقریبا چیختے ہوئے کہا۔
آج نہیں مہناز برسوں سے اس دن کی خواہش کی ہے میں نے کے پورے حق کیساتھ تمہیں اپنے سینے سے لگاو۔۔
عثمان مدہوش ہونے لگا اس نے شولڈر سے شرٹ نیچے کرکے وہاں اپنے لب رکھے ۔۔
مجھے چھوڑے عثمان کیا کررہے ہیں؟؟
مہناز نے عثمان کی باہنوں میں ٹرپتے ہوئے کہا۔۔
عثمان نے اسکے اپنی باہنوں میں بھر پور قید کیا ہوا تھا۔۔
عثمان نے مدہوشی کے عالم میں مہناز کا چہرہ تھاما اور کہا۔۔
تمہیں بچپن میں چھوڑ کے جانا میری مجبوری تھی ماہی دل میں دماغ میں روح میں صرف تم ہو یقین کرو میرا آج میں تمہیں اپنے ہر عمل سے ثابت کردونگا کے تم۔میرے لیے میرے دل میں کیا مقام رکھتی ہو۔۔
عثمان دھیرے سے مہناز کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے اور بہت آرام سے وہ اسکی سانسیں اپنے اندر اتار رہا تھا ۔۔
مگر مہناز اسے لگا اسکے ہونٹوں پہ کسی نے جلتے انگارے رکھ دیے اسکا سانس لینا مشکل ہونے لگا۔۔۔
اس نے عثمان کے ایک بار پھر خود سے دور کرنا چاہا اور اس بار وہ کامیاب ہوگئ۔۔
اپنے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔
صاف بولو نہ عثمان امجد کے مرتے ہی تمہاری لائن کلیر ہوگئ تم۔نے سوچا مفت کا مال تو ہے آگے پیچھے تو کوئ ہے نہیں ایک ماں ہے جیسے اپنے احسان تلے اتنا دبا لو کے وہ اپنی بیٹی بھیڑ بکری کی طرح تمہارے حوالے کردیگی۔۔
تو پھر ٹھیک ہے او کرلو جو کرنا ہے اس جسم۔کیساتھ اب نہیں روکونگی تمہیں مگر دل میں نفرت ہے تمہارے لیے۔۔
او پوری کرلو اپنی خواہش ۔۔
مہناز نے اپنی شرٹ دونوں شولڈر سے نیچے کردی تھی۔۔
عثمان نے آگے بڑھ کے ایک زور دار تھپڑ مہناز کے منہ پہ مارا اور اسکا منہ دبوچتے ہوئے کہا۔
تم قابل ہیی نہیں ہو مہناز محبت کے عزت کے تم قابل ہی امجد جیسوں کے تھی ۔
جس نے نجانے کتنی لڑکیوں کو برباد کیا وہی صحیح تھا جو گناہوں کے دلدل میں اتنا پھنسا تھا کے موت ہی اسے چھٹکارا دلا پائ۔۔
میں نے تمہاری بہت منتیں کی کے میرا بچپن میں کیا عمل میری مجبوری تھی مگر تم تو پتہ نہیں کس گمان ہو ۔۔
مجھے اگر تم سے اپنی خواہش ہی پوری کرنی ہوتی تو بہت سے موقع پہ آئے جب تم بے بسی کی انتہا پہ تھی۔۔
خاص کر جب جب وہ تمہارے گندے سے محلہ کا دکاندار تمہیں راشن دینے کے بدلے تمہاری عزت مانگ رہا تھا۔۔۔
یہ بول کے عثمان نے مہناز کا منہ چھوڑا تو وہ ہونقوں کی طرح عثمان کا چہرہ دیکھنے لگی۔
ہو کیا تم اوقات کیا ہے تمہاری عثمان عفان پہ۔اج بھی ہزاروں لڑکیاں قربان ہونے کو تیار ہے بولو تو ابھی ڈیمو دو۔۔۔
مگر یہ میں تھا جس نے اس بھرم میں تمہاری ہر بدتمیزی برداشت کی کیونکہ مجھے لگتا تھا تم صرف غصہ میں ہو ناراض ہو تھوڑی اپسیٹ بھی ہو مگر مجھ سے محبت کرتی ہو ۔
تم تم قابل نہیں عثمان کی محبت کے آج کے بعد کوشش کرنا یہ شکل میرے سامنے کم ہی لانا۔۔
یہ بول کے عثمان نے اپنے سامنے کھڑی مہناز کو دھکا دیا اور واش روم میں گھس گیا۔۔
ادھر مہناز کو اپنا آپ بے ظر سا محسوس ہوا۔۔
وہ وہی بیڈ پر جھٹکے سے بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔
یہ سچ تھا اسے امجد سے محبت نہیں تھی صرف اسنے اسکی پسندیدگی کے آگے سر خم کیا تھا ۔
مہناز اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب واش کا دروازہ کھلا عثمان نے اپنا تکیہ اٹھایا اور صوفے پہ غصے سے پھینک کے وہی کروٹ لے کر لیٹ گیا ۔۔
مہناز کو اپنی کیے پر اب پچھتاوا ہونے لگا مگر اب کوئ فائدہ نہیں تھا ۔
!!!!!!!!
بہت ساری منتوں کے بعد تیمور آخر رافیہ کو منا چکا تھا دونوں ایک ساتھ کینٹین میں بیٹھے جب عاقب وہاں ایا۔۔
یار رافیعہ تم یہاں بیٹھی ہو ۔۔
ہمیں جانا تھا شاپنگ پہ یاد نہیں آج آنٹی کی برتھڈے ہے۔۔
اوہ میں تو بلکل بھول گئ۔۔
چلو چلو ۔۔۔
سوری تیمور رات میں ملتے ہیں۔۔
یہ بول کے رافیعہ تیزی سے عاقب کیساتھ چلی گئ اور ادھر تیمور ایک بار پھر تنہا رہ گیا اس نے ایک لمبی سانس لے کر آنکھیں موند لی۔۔
تھوڑی دیر گزری تھی کے اسے اپنی ناک میں چائے کی خوشبو آنے لگی تیمور نے جھٹ اپنی آنکھیں کھولیں تو اسکے سامنے چائے کا کپ رکھا تھا اور سامنے رانیہ بیٹھی تھی۔۔
اسے دیکھ کے تیمور مسکرایا اور چائے کا گرما گرم کپ اپنی ہونٹوں سے لگا کے کہا۔
تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔۔
وہی ہوتا جو مجنوں کا ہوتا۔۔
رانیہ کے جواب پہ رانیہ خود بھی ہنسی اور تیمور بھی ہنسا۔۔
!!!!!!!!!!
مہناز بنا چینج کیے ایسی ہی سوگی تھی۔۔
صبح اسکی آنکھ کسی آواز سے کھلی اسکے کمرے میں موجود ایک اور کمرے سے کچھ رکھنے اٹھانے کی آوازیں آرہی تھی اور دروازہ بھی آدھا کھلا تھا۔۔
مہناز نے اس ادھ کھلے دروازے میں سے جھانکا ۔۔
جہاں عثمان دمپر اٹھائے ورزش کررہا تھا۔۔
کبھی پنچنگ بیگ پہ مکے برسا رہا تھا۔۔
کسرتی بدن اور اس پہ موجود سکس پیک بالوں سے ٹپکتا پسینہ مہناز کو نظریں چرانے پہ مجبور کرگیا۔۔
مہناز نے وہاں سے نگاہ ہٹائے تو اسے اپنے ڈریس کا خیال آیا اس نے الماری سے اپنا ڈریس نکالا اور فریش ہونے چلی گئ۔
فریش ہوکے آئ تو عثمان بیڈ پہ آنکھیں موندیں لیٹا تھا۔۔
کسی احساس کے تحت مہناز اسے دیکھنے لگی۔۔
مگر بولی کچھ نہیں عثمان نے اپنی آنکھیں کھولیں تو مہناز نگاہوں کا راستہ بدل گئ ۔
عثمان اس پہ بنا نگاہ ڈالے واشروم میں گھس گیا۔۔
مہناز تیار ہوکے بیڈ پہ بیٹھ گئ شاید عثمان کے نکلنے کا ویٹ کرنے لگی ۔
دس منٹ بعد عثمان وائٹ کاٹن کے سوٹ میں واپس ایا۔۔
ڈریسنگ پہ۔کھڑے ہوکے اس نے اپنی تیاری مکمل کی اور نیچے چلا گیا۔۔
مہناز اچھے سے جانتی تھی عثمان غصہ کا کتنا پکا کے اسے منانا دنیا کا مشکل کام ہے اس لیے بنا بہس کے وہ بھی نیچے چلی گئ ناشتہ کرنے۔۔
!!!!!
لائٹ بے بی پنک کلر کی میکسی میں مہناز بہت حسین لگ رہی تھی ادھر بلیک کلر کے ڈنر سوٹ میں عثمان نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہا تھا ۔۔
صرف فوٹو سیشن کیلیے ہی مہناز اور عثمان ساتھ کھڑے ہوئے باقی پورے ولیمہ میں عثمان نے مہناز کی طرف نگاہ تک اٹھا کے نہیں دیکھا یہ بات وہاں کسی نے محسوس کری۔ہو یہ نہیں۔ مگر دلنشین نے ضرور کی۔۔
مہناز جب ولیمہ سے فری ہوکے کمرے میں آئ تو پیچھے پیچھے دلنشین بھی آگئ اور آتے ہی اس نے تیزی سے مہناز کا رخ اپنی طرف موڑا اور کہا ۔
کیا ہوا ہے تم دونوں کے درمیان ۔۔
مہناز نے کہا۔۔
مطلب ؟؟
مطلب وطلب کو چھوڑو آج میرے دوست کی خوشی کا سب سے بڑا دن تھا کیا بولا تم نے اسے کے آج کے دن اسکےچہرے پہ خوشی کے کوئ آثار نہیں تھے۔
مجھ سے جھوٹ مت بولنا مہناز۔۔
دلنشین کا بولنا تھا کے مہناز رونے لگی اور روتے اس نے کل رات کا سارا قصہ اسے سنا دیا ۔
افف مہناز کیا ہو تم۔پاگل تو نہیں ہو ۔۔
ہزار بار وہ تم سے شرمندہ ہے اپنے رویہ پہ اب کیا مرجائے تمہارے لیے یار۔۔
کیا چاہتی ہو ایک بار پھر گزرانا چاہتی ہو تنہا زندگی۔۔
وہ تم سے بچھڑا ضرور تھا تمہں کڑوے لفظ ضرور بولے تھے مگر مہناز وہ آج بھی تم سے دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہے آج بھی اسکے پاس تمہاری وہ تصویر ہے جو اس نے خود پھاڑی تھی پتہ ہے تمہیں تمہارے محلہ میں سب بگڑے ہوئے لوگ سیدھے ہوئے تھے خاص کر وہ دکاندار سب عثمان کی وجہ سے تمہارے گھر کے آگے ہمیشہ جو تمہیں پیسے ملتے تھے وہ رحم دل انسان کوئ اور نہیں عثمان تھا۔۔
ہاتھ جوڑتی ہو تمہارے آگے یار سکون دے دو اسے اب کے اگر وہ بکھرا وہ کہاں غائب ہوگا میں بھی ڈھونڈ نہیں پاونگی۔۔
پلیز ماہی پلیز یہ بول کے دلنشین خود بھی رونے لگی اور کمرے سے باہر چلی گئ ۔
جاری ہے۔۔