Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 38
Rate this Novel
Episode 38
آج نکاح ہے اسکا۔۔
پتہ ہے ۔۔
دلنشین کے کہنے پہ عثمان نے کافی کا مگ منہ سے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
دل نہیں دکھ رہا رونے کو دل نہیں چاہ رہا ۔۔؟؟
دلنشین نے عثمان کے اتنے ریلکس انداز پہ حیران ہوکے پوچھا۔۔
ان سب چیزوں کیلیے میرے پاس وقت نہیں ہے مایا وہ جسکے نصیب میں تھی مل گئ اسے بہتری اسی میں ہے کے ہم اس ٹوپک پہ بات نہ کرے۔۔۔
مگر مانی۔۔۔
اس سے پہلے مایا کچھ اور بولتی اسکے سامنے رکھا موبائل پل بھر کیلیے بجا اور خاموش ہوگیا۔۔
مایا نے اپنے موبائل پہ آیا وائس کلپ اون کرکے سنا سنتے کے ساتھ مایا اور مانی تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف لپکے جتنی اسپیڈ سے مانی گاڑی ڈرائیو کرسکتا تھا کررہا تھا مگر شاید آج قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ہر جگہ اسے ٹریفک جام ہی مل رہا تھا۔۔
مایا نے اسی دوران احسان اور زریاب کو بھی کال کرکے لوکیشن پہ پہنچنے کو کہا۔۔
!!!!!!!!!
ااااااااا۔۔۔گولی لگتے ہی امجد کی درد ناک چیخ نکلی اسنے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا تو امجد لڑکوں کیساتھ کھڑا تھا ۔۔
اوہووو۔۔۔
نشانہ مس ہوگیا چچچچچچچ۔۔
ماجد یہ بول۔دھیرے دھیرے امجد کی طرف بڑھنے لگا امجد نے تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نیچے گری ہوئ پسٹل تیزی سے اٹھائ اور ماجد پہ فائر کرا مگر گولی ماجد کے سائیڈ پہ نکل گئ۔۔۔
اس گھر کا ایک ایک۔کمرہ تلاش کرو جہاں وہ حرام زرادی ملے بالوں سے کھینچتے ہوئے باہر لاو شاہ بھائ کا آڈر اسکے ساتھ جو ہمارا دل کرے ہم وہ کرے۔۔
ماجد کے بولتے ہی لڑکے جیسے آگے بڑھے امجد نے انہیں روکنے کیلیے انہیں مارنا شروع کردیا گولی لگنے کے باوجود امجد ہر ممکن کوشش کررہا تھا کے کوئ کسی بھی کمرے میں نہ پہنچ سکے مگر اسکی کوششیں ناکام ہونا شروع ہوگئی اسکے ہاتھ میں درد بڑھنے لگا لڑتے لڑتے وہ۔نڈھال ہونے لگا جب امجد نے ایک اور گولی اسکی پسلیوں میں ماری ایک گولی ٹانگ پہ ماری امجد گولیاں لگتے ہی زمین پہ بیٹھ گیا ۔۔
ماجد اسکے قریب آیا اسنے پسٹل اسکے ماتھے پہ رکھی امجد نے اپنی آنکھیں بند کی تو مہناز کا چہرہ اسکے سامنے آیا اسکی آنکھوں سے آنسوؤں نکلنے لگے۔۔
کاش تم ایک۔لڑکی کے پیچھے شاہ سے بغاوت نہیں کرتے تو شاید آج معملات دوسرے ہوتے امجد مگر تم پہ تو عشق کا بھوت سوار ہے تو چل تو اوپر جانے کی تیاری کر ہم تیری مہناز کیساتھ۔۔
آگے کی بات ابھی ماجد کی پوری بھی نہیں ہوئی تو کے امجد نے اتنی تکلیف کے باوجود کھڑے ہوکے اسکی گردن اپنی بازؤں میں دبا کے کہا۔۔
اسکی پرچھائ تک کو تو چھووو نہیں سکتا زخمی ہو مرا نہیں جو اپنی محبت کی حفاظت نہیں کرسکتا۔۔۔
امجد کے اس عمل سے ماجد نے اسکی پسلی پہ جہاں گولی لگی تھی وہاں زور سے کونی ماری امجد نے تکلیف کی شدت سے امجد کی۔گردن چھوڑی۔۔۔
امجد اپنی پسلی کی جگہ پہ ہاتھ رکھ کے تکلیف سے کراہنے لگا۔۔
ماجد نے اسکے کندھے پہ زور سے لات مار کے اسے گرایا اور کہا ۔۔
اب دیکھ تیری آنکھوں کے سامنے کیا کرتا ہو اسکے ساتھ ۔۔۔
جلدی ڈھونڈو اس لڑکی کو۔۔
ماجد کے بولنے پہ۔امجد نے گڑگڑا تے ہوئے اپنے رب سے فریاد کی ۔۔
“یاللہ اگر میں نے کوئ بھی نیکی کا کام کیا ہے تو اسکے بدلے میری مہناز کو آج بچالے”
سر یہ رہی یہ واش روم میں چھپی تھی سالی۔۔۔۔
ماجد کا۔ایک بندہ مہناز کو بالوں سے پکڑ کے نیچے لاا رہا تھا مگر مہناز اسکی نظریں تو زمیں پہ زخمی پڑے امجد پہ تھی اس نے تیزی سے اس لڑکے سے اپنے بال چھڑوائے اور دوڑتی ہوئے امجد کے پاس اکے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر روتے ہوئے کہا۔۔
“
امجد یہ یہ کیا ہوا آپکو آپ تو بول رہے تھے کچھ نہیں ہوگا امجد کچھ تو بولے امجددددددد”
امجد نے اپنے خون میں لبریز ہاتھ مہناز کے گال پہ رکھ کے جیسی ہی کچھ کہنا چاہا۔۔
ماجد نے آکے مہناز کے بالوں کو اپنی میٹھی میں دبوچا ۔۔
چھوڑو مجھے چھوڑو امجد۔۔۔
مہناز نے ماجد کو مارنا شروع کردیا اور اپنے آپکو چھڑوانے لگی۔۔۔
ماجد چھوڑدے اسے میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتا ہو چھوڑدے یار اسے وہ معصوم ہے۔۔۔
امجد نے ماجد کے آگے جوڑتے ہوئے کہا مگر ماجد کو رحم نہیں ایا اس نے مہناز کا دوپٹہ پہ جیسے ہی ہاتھ رکھا ایک گولی اسی وقت اسکے ہاتھ پہ آکے لگی۔۔
ماجد نے مہناز کو فورا چھوڑا اور پلٹ کے دیکھا تو مانی اپنے گن سنبھالے کھڑا تھا مایا نے مہناز کو تھام۔کے کھڑا کیا مگر وہ دور کے ماجد کے پاس آئ ۔۔
مایا اور مانی نے کے حملہ کرتے ہی زریاب اور احسان بھی انہیں کور کر چکے تھے تقریبا ماجد کے ساتھ اسکے تمام ساتھی ڈھیر ہو چکے تھے۔۔
مانی نے آگے بڑھ کے امجد کو باہنوں میں اٹھانا چاہا تو اس نے اشارے سے روکا اور اسکا ہاتھ تھام کے کہا۔۔۔
نہیں عثمان میرے پاس اب وقت نہیں بس تم مہناز کا خ۔۔
امجد اپنی۔پوری بات بھی کہہ نہیں پایا اور اسکا ہاتھ عثمان کے ہاتھ چھوٹ گیا۔۔
نہیں امجد نہیںںںںںںںںںںںں۔
مہناز کے چیخنے پہ مایا نے اسے سینے سے لگایا اور عثمان نے ساکن نظروں سے پہلے امجد کی کھلی آنکھوں کیساتھ اسکے بے جان وجود کو دیکھا اور پھر دلہن بنی مہناز کی طرف ایک درد کی لہر اسکے دل میں اٹھی زریاب اور احسان دونوں بھی کافی شاکڈ تھے
۔عثمان نے آگے بڑھ کے امجد کی آنکھیں بند کی ۔۔
نہیں امجد آپ مجھے چھوڑ کے نہیں جاسکتے امجدد آنکھیں کھولے امجد۔۔۔
مہناز چیخنے کے ساتھ بیہوش ہوچکی تھی۔۔
اپنی دوست کی یہ حالت دیکھ مایا کا بھی تو رو رو کے برا حال تھا۔۔۔۔۔
تم لوگ یہاں سب سنبھال لینا میں امجد کی باڈی لے کر جارہا ہو مایا تو مہناز کا دیھان رکھنا۔۔
مگر مانی مہناز کو اس حالت میں کیسے سنبھالو ۔۔۔؟
میں چلتا ہو تمہارے ساتھ مانی زریاب مایا کیساتھ مہناز کو ا اسکے گھر لے جائے گا ۔۔
احسان نے یہ کہہ کے پولیس میں موجود اپنے قریبی دوست کو چند حوالدار کے ساتھ یہاں بلایا ۔۔
وہ چاروں وہاں سے نکل چکے تھے۔۔۔
امجد کی ڈیڈ باڈی لے کر جب مانی امجد کے گھر پہنچا تو شمائلہ بیگم سکتے کی حالت میں آگئ کچھ ایسا ہی حال فائزہ بیگم۔کا بھی اپنی بیٹی کے اجرے دلہن کے سراپے کو دیکھ کے تھا۔
مانی نے کال کرکے عفان کو سب بتا دیا تھا اور جلد از جلد رابعہ کو لے کے یہاں پہنچنے کو کہا۔۔
مایا نے عمر کو کال کرکے بتایا تھا آج گھر نہ آنے کی وجہ جیسے سن کے وہ بھی ہاں پہنچ گیا۔۔۔
امجد کے دوسرا بھائ بھی وہاں پہنچ گیا تھا امجد کی لاش دیکھ کے وہ بھی بلک بلک کے روپڑا۔
امجد اسے بہت عزیز تھا۔۔
امجد کی تدفین جلد از جلد کردی گئ کیونکہ امجد کی لاش کا پوسٹ مارٹم مایا اور مانی نے ہونے نہیں دیا۔۔
مہناز ابھی بھی بیہوش تھی اس صدمے سے نکلنے میں اسے کتنا وقت لگے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتا پائے گا۔۔
جاری ہے۔۔
