51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


جنت ابھی بیہوش تھی درد کے باعث ڈاکٹر نے اسے بیہوش رکھا تھا عمر اور اقراء کو فلحال حمزہ نے بہت اصرار کرکے گھر بھیج دیا تھا۔
وہ جو چند دنوں پہلے جنت کے ریکشن سے مایوس ہوچکا تھا ۔مگر اج جنت کے پیش رفت سے حمزہ مجاہد دوبارہ جی اٹھا مگر اس سے پہلے حمزہ جی بھر کے جنت سے پیار بٹورتا تمنا اور درانی نے اسکی جنت کی جان لینے کی کوشش کی۔
بس کردو شبنم اب ٹھیک ہے جنت۔۔
جمال صاحب شبنم بیگم کو مسلسل دلاسہ دے رہے تھے۔۔
جانتے ہیں جمال میرے سامنے ایک بار پھر یوسف کا کفن میں لپٹا چہرہ آیا جب حمزہ نے مجھے کال کرکے جنت کو گولی لگنے کا بتایا۔۔
دیکھو شبنم اللہ نے ہماری بیٹی کی زندگی بخش دی یہ ہی بہت ہے ورنہ ڈاکٹر نے بتایا تھا کے گولی بلکل دل کے پاس لگی تھی۔۔اب چلو چھوڑو ٹینشن لینا تمہاری اپنی طبیعت خراب ہوجائے گی چلو آرام کرو کل پھر چلینگے دوبارہ ہاسپٹل یہ کہہ کے جمال صاحب نے کمرے کی لائٹ اوف کردی۔۔
فلک کا دودھ بنانے لائبہ آدھی رات کو اٹھی تو نومیر کی جگہ خالی تھی وہ جانتی تھی نومیر جنت کی وجہ سے بہت پریشان تھا اور یہ سوچ کے اسے نیند نہیں ارہی ہوگی لائبہ نے فلک کو فیڈر دے کے سلایا اور نومیر کے پیچھے چھت پہ گئ کیونکہ لائبہ یہ بات جانتی تھی جب بھی نومیر بہت پریشان ہوتا اکثر وہ پوری رات آسمان تکتے ہوئے گزارتا۔۔
نومیر گم سم سا چھت پہ موجود جھولے پہ بیٹھا آسمان تک رہا تھا۔جب لائبہ نے پیچھے سے اسکی گردن میں اپنی باہنوں کا ہار ڈالا بہت پیار سے نمیر کے گالوں پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
ابھی تک جاگ رہے ہیں اپ نمیر کس بات پہ پریشان ہیں؟
اب تو کل جنت کو بھی ہاسپٹل سے چھٹی مل جائے گی۔۔
نمیر نے اپنے گلے میں موجود اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے گھما کے اپنی گودھ میں بیٹھایا اسکی کمر کو تھام کے کہا۔
“جنت کی وجہ سے پریشان تھا مگر ابھی جاگنے کی وجہ جنت نہیں ۔۔
تو پھر ؟لائبہ نے اسکے ماتھے پہ ائے بال اپنی دو انگلیوں سے سنوارتے ہوئے کہا۔۔
اج تائ جان اور امی دونوں نے ہی اپنا بیپی ہائ کرلیا تھا جنت کی بینڈیج سے بہتے خون کو دیکھ کے بہت مشکل سے ماما اور تائ کا بلڈپریشر نیچے آیا ہے۔۔۔
اوہ نومیر اپکو تو پتہ دونوں دیورانی جیٹھانی بہت کمزوردل کی ہے اپکو لیے کرہی نہیں جانا تھا انہیں ہاسپٹل ایک دفعہ مل آئ تھی نہ۔۔
یار میں کیا کرو لائبہ تائ جان کے اگے میری چلتی نہیں اور ماما میری سنتی نہیں۔۔
افف چلے اب میں انکی میڈیسن کا دیھان رکھونگی اب اپ نیچے چلے مجے نیند ارہی ہے۔۔
یہ بول کے لائبہ نمیر کی گودھ سے اتر کے نیچے جانے لگی جب نومیر نے اچانک اسے اپنی باہنوں میں اٹھالیا۔۔
ارے نومیر نیچے اتارے مجھے پتہ چلے نیچے کوئ جاگ رہا ہو اور اپکو اور مجھے ایسا دیکھ لے ..
ہاں تو دیکھنے دو میں نے کونسا اپنی کسی گرل فرینڈ کو اٹھایا ہوا ہو یہ بولتے ہوئے نومیر لائبہ کو باہنوں میں اٹھائے ہوئے اپنے کمرے میں پہنچا۔۔فلک مزے سے سورہی تھی ۔نومیر کے نیچے اتارنے پہ لائبہ جیسی ہی جانے کیلیے مڑی تو نومیر نے نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کہا۔۔
تمہیں نہیں لگتا اب فلک کا دوسری بہن یہ بھائ اجانا چاہیے؟؟
نومیر کی بات کا مطلب اس سے پہلے لائبہ سمجھتی نومیر اسے اپنی گرفت میں لے کے اسکے لبوں پہ جھک چکا تھا۔۔
اٹھ جائے عمر کب سے سورہے ہیں ؟؟
اقراء تقریبا ایک گھنٹہ سے عمر کو اٹھا رہی تھی مگر اقراء کو لگا جیسے عمر اج گوڑے گدھوں کو پورا استبل بیچ کے سورہاتھا۔۔
عمر ؟؟؟؟
اب کی بار اقراء نے اسے پورا جھنجھور ڈالا۔۔
عمر نے اپنی نیند میں ڈوبی آنکھیں کھول کے اپنے سامنے کھڑی اپنی پھول جڑی ٹائپ بیوی کو دیکھا اور لمحہ لگا عمر کو اقراء کو اپنی طرف کھینچنے میں اقراء بہت ریلکس انداز میں کھڑی تھی اس عمل کیلیے ہرگز تیار نہیں تھی عمر کے کھینچنے پہ فورا اس کے اوپر گری اس سے پہلے وہ سنبھالتی عمر اپنی پوزیشن بدل چکا تھا۔۔
عمر کیا بدتمیزی ہے یہ اپکو کچھ اندازہ ہے ٹائم کیا ہورہا ہے؟؟
عمر جو اسکی گردن پہ جھکے اپنی پیاس بجھا رہا تھا ایک دم گردن اٹھا کے اسے دیکھا اور کہا۔
نہیں اور نہ مجھے جاننا ہے ۔۔
افف عمر اج جنت بھابھی ائینگی ہاسپٹل سے بہت تیاری کرنی ہے انکے ویلکم کی اور اپ ہیں اپکا رومینس کا کیڑا مر کے ہی نہیں دے رہا ۔۔ہٹے میرے اوپر سے اقراء نے بھر پور زور لگا کے عمر کو اپنے اوپر سے ہٹایا اور فورا بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔
واہ بھئ واہ ایک تو میری ویڈنگ نائٹ اس لیڈی ڈائنا کی وجہ سے رکی ہے اوپر سے یہ میری بیوی ہے کے زرا سا بھی یہ احساس نہیں ہونے دے رہی کے میں اب شادی شدہ ہو عمر نے اتنا سڑا ہوا منہ بنا کے کہا کے اقراء کی ہنسی نکل گئ ۔۔
اس نے کمرے سے باہر جاتے ہوئے صرف اتنا کہا۔۔
ہوجائے گی ویڈنگ نائٹ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے سوئیٹ ہسبنڈ ۔۔
اچھا صبر کا پھل اتنا بھی میٹھا نہ ہوجائے کے مجھے شوگر ہوجائے عمر نے یہ کہہ کے واش روم کا رخ کیا اور اقراء نے ہنستے ہوئ نیچے کا۔۔