51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40


صبح ناشتہ کی ٹیبل پہ سب ناشتے میں مصروف تھے ۔اج چھٹی کا دن تھا ۔اقراء اور عمر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا عمر کے اشارہ ملتے ہی اقراء نے بات کا آغاز کیا۔۔۔
بھابھی آج میں اپ سے ایک بات کرنا چاہ رہی تھی سب کے سامنے۔۔۔
ہاں اقراء بولو ۔۔
بھابھی میری خواہش ہے کے میرے زریاب کی دلہن دلنشین بنے اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہو تو۔۔۔
اقراء کی بات پہ زریاب کے ہاتھ میں موجود اسکا چائے کا کپ چھلکا اور ادھر دلنشین جو ناشتہ کرنے میں مگن تھی رک کے جنت کا جواب سننے کی منتظر تھی۔۔
ارے اقراء تم نے یہ اپنی خواہش نہیں میری خواہش پوری کردی ہے ۔مجھے قبول ہے دلنشین کیلئے زریاب
مگر مجھے قبول نہیں۔۔
اچانک دلنشین کی بات سے ٹیبل پہ جیسے سناٹا سہ چھاگیا۔۔
دلنشین میں ماں ہو تمہاری تمہارے بارے میں اچھا برا سوچنے کا پورا حق ہے مجھے ۔۔
صرف اس بات میں آپکو یاد آیا آپ میری ماں ہے۔۔۔
دلنشین کے روبرو جواب دینے پہ سب ہی سناٹے میں آگئے عمر اور حمزہ بلکل چپ تھے انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کے جب بھی اس گھر میں زریاب اور دلنشین کے رشتہ کی بات چلے گی دلنشین جنت کے اس فیصلے میں روبرو اجائے گی۔۔۔۔
دلنشین۔ کے انکار پہ زریاب نے بہت بے بسی سے دلنشین کو دیکھا شاید اسے دلنشین سے ایسے جواب کی تواقع تھی۔۔۔۔
جب میں بیمار ہوتی تھی اسکول میں فنکشن ہوتا تھا میرا رزلت آتا تھا میں کوئ فرمائش کوئ خوائش کرتی تھی تب آپ کہاں تھی تب آپکو یاد نہیں ایا کے کے اپ میری ماں ہے مجھے مارتا ہوئے ہر بار ڈانٹے ہوئے میری ہر بات کو رد کرتے ہوئے آپکو یاد نہیں ایا کے اپ میری ماں ہے ۔
آپ صرف تاشہ اور تیمور کی ماں ہے زریاب کی اسکے گھر موجود ہر ایک کی ماں ہے سوائے میرے۔۔۔فلک آپکو عزیز زریاب آپکو عزیز سب آپکو عزیز سوائے میرے کیونکہ میں بچپن سے جو بدتمیز ہو بقول اپکے۔۔
مجھے نہیں منظور یہ رشتہ اس لیے نہیں کے مجھے زریاب نہیں پسند یہ پھر زریاب میں کوئ برائ ہے بلکہ اس لیے کیونکہ یہ آپکی خواہش ہے۔۔۔
یہ بول کے دلنشین غصہ میں گھر سے باہر چلی گئ اور ادھر جنت کی حالت ایسی کے کسی نے ہزاروں خنجر اسکے سینے میں پیوست کردیے ہو۔۔۔
عمیر تاشہ تیمور سب ہی دلنشین کا جنت کے ساتھ ایسا رویہ دیکھ کے شاکڈ تھے اقراء نے ڈور کے جنت کے گرتے وجود کو سنبھالا حمزہ نے اسے فورا گودھ میں اٹھایا اور ہسپتال لے کے بھاگا۔۔۔
زریاب نے دلنشین کے نمبر پہ۔کال کری مگر اسکا موبائل اوف جا رہا تھا۔۔
جنت کے پیچھے سب ہی ہسپتال پہنچ چکے تھے تاشہ کا تو رو رو کر برا حال تھا مگر حمزہ خاموش تھا ایک دم خاموش ۔۔
شاید غلطی اسی کی تھی جنت جو پہلے لڑکی پیدا ہونے پہ خوفزدہ تھی کے وہ اسکی پرورش کیسی کریگی جبکہ وہ دلنشین کے پیدا ہونے سے پہلے زریاب سے کافی اٹیچ ہوچکی تھی وہ زریاب کو ہی اپنی پہلی اولاد سمجھتی تھی دلنشین کے پیدا ہونے پر اسنے کوئ خاص ریکٹ نہیں کرا تھا دلنشین کی آدھے سے زیادہ دیکھ بھال اقراء اور عمر نے کری تھی عمر سے دلنشین سب سے زیادہ اٹیچ تھی حمزہ جنت کا دلنشین کیساتھ اسکا رویہ یہ سمجھ کے اگنور کرتا تھا کے وہ زریاب سے زیادہ اٹیچ ہے مگر شاید یہ ہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی شاید وہ جنت کو پہلے ہی دلنشین کے وجود کا احساس دلا دیتا تو شاید آج دلنشین جنت کی طرف سے یو باغی نہیں ہوتی۔۔۔
احسان لائبہ نومیر سب ہی ہسپتال میں موجود تھے ۔۔
نومیر کے پاس اب صرف جنت ماریہ اور لائبہ کا ہی رشتہ بچا تھا اسکے والدین اسکے تایا تائی عمر سے واپسی پہ ایک ایکسیڈنٹ میں اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔۔
ایسا کیا ہوا حمزہ بھائ جو جنت کی ایسی حالت ہوئ ؟؟؟
حمزہ نے نومیر کی بات پہ آج صبح کا سارا واقعہ نومیر کو سنا دیا ۔۔
بھائ اب کیا ہوگا ؟جنت کی حالت تو دیکھے !!!
سب ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان نہیں ہو نومیر عمر دلنشین کا سمجھائے گا ۔۔
آپکو نہیں لگتا یہ کام آپکا ہے آپ باپ ہیں اسکے ۔۔۔
شاید کاروبار کی بھاگ ڈور میں بھول گیا کے پیسوں سے نہیں بچے ساتھ رہنے سے وقت دینے سے پلتے ہیں ایک اکیلے ماں کی زمیداری نہیں ہوتی کے وہ ہی بچوں کی تربیت کرے ۔۔۔
دلنشین کے شخصیت میں یہ خلا ہے اسکی وجہ جنت کیساتھ ساتھ میں بھی ہو ۔۔
تیمور اور تاشہ کی شخصیت ایسی کیوں نہیں کیونکہ انہیں ماں باپ دونوں کی توجہ ملی کیوں کیونکہ وہ کمزور تھے ۔۔
دلنشین ہماری پہلی اولاد تھی اسے ہماری اٹینشن کی ضرورت تھی ۔۔۔
بھائ آپ جو بھی کرے سوچ سمجھ کے کرے کیونکہ دلنشین اب سمجھانے یہ زبردستی کے عمل سے بہت آگے پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!
زریاب یہ کیا بول رہے تم مجھے کیوں نہیں بتایا تم نے؟؟؟
مانی جو کے ابھی ابھی جاگنگ کرکے آیا تھا زریاب
کی کال پک کرتے ہی اسے جو خبر سننے کو ملی وہ اسے پریشان کرنے کیلیے کافی تھی۔۔
یار میں نے تمہیں تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا یار !!
تمہیں پتہ ہے وہ اس وقت کہاں ہوگی۔؟؟
ہاں زریاب تم پریشان نہیں ہو میں دس منٹ میں اسے لے کر ہسپتال پہنچتا ہو۔۔۔..
!!!!!!!!!!
دلنشین اپنا سارا غصہ پنچنگ بیگ پہ نکال رہی تھی ۔۔
مانی بلکل اسکے سامنے آکے بیٹھ گیا اور کہا ۔
کس کا غصہ اس معصوم پہ نکال رہی ہو؟
مانی اس وقت میرے منہ نہیں لگنا میں بتا رہی ہو ورنہ اسکی جگہ تمہارے گھونسے پڑھ رہے ہونگے۔۔۔۔
اتنا برا بھی نہیں ہے زریاب اچھا خاصا خوش شکل خوش اخلاق لڑکا ہے۔۔۔
تمہیں زریاب نے کچھ کہا۔۔۔
مایا نے ا اس کے روبرو آکے پوچھا۔۔
نہیں عمر انکل کی کال آئ تھی تم جو جنت آنٹی کو سنا کے آئ ہو نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے انکا مایا ۔۔
کیا ماما میری ماما کیا ہوا انکو؟؟؟
او پلیز جسٹ شٹ اپ ۔۔۔
کون ماما کسی ماما شرم نہیں آئ تمہیں اپنی ماں سے اس طرح بات کرنے کی ۔۔۔
مانی نے انتہائ غصہ میں مایا کو۔کہا۔۔
مانی تمہیں کچھ نہیں پتہ تم کچھ نہیں جانتے ماما نے ہمیشہ زریاب ۔۔
مایا کیا زریاب زریاب لگا رکھا کیا عمر انکل نے تم۔پر زریاب کو ترجیح نہیں دی کیا زریاب نے تو کبھی برا نہیں مانا۔۔
ماں کو اپنی پہلی اولاد سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے مایا۔۔
آج تم نے انہیں اتنا ہرٹ کیا کے وہ سہ نہیں پائی دعا کرو انکو ہوش اجائے مایا ۔۔
مجھے ماما کے پاس جانا ہے پلیز مانی۔۔
چھوڑو کیا کروگی جاکے ؟
چلو پلیز مایا کے چیخ کے کہنے پہ مانی نے نے نفی میں گردن ہلائی اور اسے کے کر ہسپتال پہنچا۔۔
جاری ہے