Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے۔
اج 6 سال بعد سب کچھ جیسے بدل چکا تھا۔
سارے بچے جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکے تھے۔۔
فلک اج کل بزنس مینجمینٹ کا کورس کرہی تھی۔
احسان اور زریاب افسر بن کے اپنی ڈیوٹی جوائن کرچکے تھے۔۔
تاشہ فلحال یونیورسٹی کے پہلے سال میں تھی اور فلحال اصغر اس یونی میں نہیں تھا یہ ہی بات عمیر کیلیے سکون دے تھی۔۔
تیمور سیکنڈ ائیر میں اور گیجیٹ چیزوں میں ماہر تھا کوئ کوئ چیز کہاں کینیکٹ کرنی ہے ،کمپیوٹر کی فائل کاپی کرنے میں،کسی کے بھی کمپیوٹر میں گھس سکتا تھا بنا پسورڈ کے ساری ینگ جنڑیشن اسے بلڈی ہیکر کہتی تھی۔۔
دلنشن میڈیکل پڑھنے باہر گئ ہوئ تھی اور عثمان بھی ارمی میں تھی مگر اسکی پوسٹ کیا تھی یہ کوئ نہیں جانتا تھا عثمان کو اللہ نے ایک عدد بہن سے نوازا تھا جو ابنارمل ہونے کی وجہ سے 2 سال پہلے انتقال ہوگئ انابیہ کی ڈیٹھ نے رابعہ کے چہرے کی خوشی چھین لی تھی عثمان اور عفان اسے بہت سمجھاتے تھے کے اللہ کی امانت تھی اللہ نے واپس لے لی مگر رابعہ اصل افسوس اس بات کا بھی تھا کے وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔۔۔
عمیر حمزہ اور عمر کیساتھ فیشن ورلڈ میں قدم رکھ چکا تھا کئ جگہ اپنا برینڈ لانچ کرنے کیلئے اس نے خود مڈلنگ بھی کی۔۔۔
ایک بہت بڑے کانٹریکٹ ملنے کی خوشی میں اور دلنشیں کے اج واپسی انے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی رکھی گئ تھی سب اسی کی تیاریوں میں لگے تھے۔۔
زریاب کو کال کی کہاں رہ گیا وہ ؟
جنت نے نوکروں کو ہدایت دینے کے بعد اقراء سے پوچھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں بھابھی کیا تھا وہ اور احسان پارٹی کے ٹائم ہی پہنچینگے۔۔
عفان اور رابعہ کو تو اب تک اجانا چاہیے تھا زرا احساس نہیں انہیں کب سے بول رہی ہو ان دونوں کو جلدی اجاو وہاں اکیلے کیاں کروگے عثمان کی بھی پوسٹنگ ابھی دوسرے شہر ہوگئ ہے مگر وہ دونوں مانتے کب ہیں کسی کی۔۔۔۔
ہاں اس لیے خودی اب انکے کان کھینچ لو تم ۔۔
عمر کی اواز پہ جنت اور اقراء دونوں نے ایک ساتھ گھوم کے دیکھا تو عمر کیساتھ عفان اور رابعہ بھی تھے۔۔
جںت اور اقراء خوشی خوشی ان دونوں سے ملی جب انہیں ایک اور خبر ملی کے شام کی پارٹی میں عثمان بھی انے والا ہے۔۔
بات سنے ذرا مجھے گلستان جوہر تک جانا ہے۔۔
رکشہ ڈرائیور جو اپنے موبائل پہ گندی فلم دیکھ رہا تھا لڑکی کی اواز پہ ایک دم نگاہ اٹھائ ۔
انکھوں پہ موٹا موٹا چشمہ لگائے تائس اور گول کرتی میں دو چٹیاں بنائے وہ اسے صرف سولہ سال کی لڑکی لگی اور یہ ہی رکشہ والے جی سب سے بڑی غلطی تھی ۔۔
ہاں بیٹا لے چلونگا اجاو ::::
وہ لڑکی اس رکشہ میں بیٹھ گی مگر کافی ڈری ہوئ تھی۔۔
رکشے والے نے فرنٹ شیشہ اس لڑکی پہ فوکس کرا اور اسے دیکھنے لگا لڑکی کی گھبراہٹ رکشے والے کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ لے ائ۔۔
ایک ویران سڑک پہ رکشہ موڑتے ہی اچانک پلٹ کے لڑکی پہ اسپرے کرا اور لڑکی بیہوش ہوگی۔۔
رکشے والے نے ایک بندے کو کال کری ۔۔
رکشہ ایک ویرانے پہ روک کے رکشے والے نے اسے ایک کواٹر میں لیجاکے رسیوں سے باندھ دیا۔
اس رکشے والے کی تلاش پولیس پچھلے دو مہینے سے کررہی تھی کئ جگہ ناکاہ بندی بھی کی مگر ہر بار رکشے والا بچ جاتا کبھی رکشے کا کلر چینج کرکے کبھی کبھی نمبر پلیٹ بہت مشکل سے ایک دو عینی شاہیدین جہنوں نے اس رکشے میں لڑکیوں بیٹھا دیکھا وہ بھی اسکی شکل جو بتاتے پورے شہر میں اس شکل کا کوئ رکشے والا نہیں ملتا۔۔
اکیلی رکشے میں بیٹھی لڑکیوں کو رکشے والا سنسان جگہ پہ لےجاکے انکو بیہوش کرکے زیادتی کا نشانہ اسکے بعد ان لڑکیوں کا کیا کرتا کوئ نہیں جانتا ۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی رکشہ والے کا ساتھ ایا اور کرسی سے بندھی بیہوش لڑکی کو دیکھ کہا۔
واہ یار اج تو بڑا زبردست مال تیرے ہاتھ لگا ہے اج تو مزے ہوجائئنگے مگر اب کی بار پہلے مزہ میں لونگا اس سے اسکے بعد اسے چاندنی کے کوٹھے پہ بیچ دینگے کیا بولتا ہے۔۔
ارے میرے یار جیسے تیری خوشی۔۔۔
دونوں کا قہقہ بلند ہوا ۔۔
جیسی ہی ان میں سے ایک نے لڑکی پہ ہاتھ ڈالنا چاہا۔۔
لڑکی نے پت اپنی انکھیں کھولی ۔۔
اچانک وہ کرسی کے بل نیچے گری جسکی وجہ سے کرسی توٹھ گئ۔
لڑکی نے اتنی تیزی میں رسیاں کھولی کے رکشے والا اور اسکا ساتھ دیکھ کے حیران ہوگیا ۔۔
لڑکی ںے اپنی ناک میں سے کچھ نکالا اور پھر اپنے چہرے پہ سے نقاب اتارا نقاب اتارتے اس لڑکی کی شکل ایک دم بدل گئ۔
دونوں رکشے پہلے تو کافی حیران ہوئے مگر جیسے ہی انہوں ںے اسے قابو کرنا چاہا لڑکی نے اگے بڑھ کے دونوں کے ایسی جگہ لات ماری کے دونوں کی دردناک چیخیں نکلی جبھی اچانک زور سے دروازہ کھلا اور کسی نے اندر اکے کہا۔۔
واہ میری شیرنی گڈ جاب۔۔
اتنا بول کے انے والا نے انہیں بیلٹ سے کتے کی طرح مارا ۔۔
اور گھسیتا ہوا باہر لیجاکے کسی کو کال کری۔لڑکی نے باہر اکے کہا۔۔
مانی اب مجھے تم مطلوبہ جگہ پہ چھوڑو پھر ملتے ہیں۔۔
اوکے۔۔۔
یار کچھ پتہ چلا احسان اس رکشے والے کا۔۔؟؟
زریاب نے احسان کو اپنے کیبن میں بلاتے ہوئے کہا۔۔
نہیں زریاب ہر جگہ پولیس کی چیکنگ کے باوجود ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ایا۔۔
سر اپ دونوں کو کمشنر صاحب بلا رہے ہیں ۔
ایک کانسٹیبل نے اکے ان دونوں کو کہا۔ ۔۔
دونوں نے کمیشنر کو سلوٹ کیا اور کہا۔۔
سر اپنے بلایا؟؟
ہاں بیٹھو تم دونوں ۔۔
رکشے والا کیس کہاں تک پہنچا۔۔
سر ہم کوشش میں لگے ہیں انشاءاللہ بہت جلد وہ اپکے سامنے ہوگا۔۔
زریاب نے بہت کانفیڈینس سے یہ بات کہی۔۔
اب تم لوگوں کو یہ زحمت کرنے کی ضرورت نہیں کمیشنر صاحب نے کافی طنزیہ لہجے میں یہ بات کہی جو احسان اور زریاب دونوں نے یہ محسوس کی۔۔
مطلب سر ہم سمجھے نہیں اپکی بات۔۔
کوئ بات نہیں میں سمجھادیتا ہو اپ دونوں کو ۔۔
ہر بار کی طرح تم لوگ کیس ہینڈل کرنے کی۔کوشش کرتے ہو اور مایا اور مانی کیس ہینڈل کردیتے ہیں۔۔
رکشے والا اور اس کا ساتھی اس وقت ٹارچر سیل میں ہے اور مایا مانی نے انکا وہ حال کرا ہے ساری زندگی وہ کسی لڑکی کی عزت پہ تو کیا اپنی خود کی بیوی کے پاس جاتے ہوئے بھی ہزار بار سوچینگے۔۔
اس لیے اپ لوگ ارام کرے کیس ختم ہوچکا ہے اپ لوگ جاسکتے ہیں۔۔
کمیشنر کے افس سے نکلتے ہی زریاب نے اپنا سارا غصہ دیوار پہ مکا مار کے نکالا۔۔
کون ہے یہ مایا مانی کہاں سے اجاتے ہیں اچانک ایسے کیسے حل کرلیتے ہیں یہ کیس۔۔زریاب نے غصہ میں کہا۔۔
یار مایا مانی ایک اسپیشل ایجنٹ ہیں۔۔
کون ہے ؟
کہاں ہیں کیسے دیکھتے ہیں کوئ نہیں جانتا۔۔
انکے اتنے روپ ہیں کے اگر میرے اور تیرے سامنے بھی اجائے تو ہم بھی پہچان نہیں پائینگے ۔۔
جاری ہے۔۔
