51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

میں نے رشتہ کی حامی بھری تھی نکاح کی نہیں ..
مہناز نے امجد سے کال پہ ہلکا سا شکوہ کیا۔۔
اپکو پتہ ہے امی اور میں اکیلے ہیں ایک دن میں کیسے کرینگے نکاح کا انتظام۔۔۔
ارے ماہی (مہناز)اتنی ٹینشن کس بات کی لے رہی ہو میں ہو نہ میں کل صبح اونگا پھر ہم دونوں شاپنگ پہ چلینگے ائ سمجھ اور رہا سوال نکاح کے انتظام کا تو امجد دلاور کا نکاح ہے کوئ معمولی نہیں ہو میں دیکھنے سے تعلق ہوگا نکاح۔
امجد ایک بات بولو اگر اپ غصہ نہیں کرے تو؟؟
ماہی میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نہ کے میں اب تم پہ کبھی بھی غصہ نہیں کرونگا بلا جھجک تم مجھ سے اپنی ہربات شیئر کرسکتی ہو بولو کیا بولنا ہے میری ماہی کو۔۔
امجد میں چاہتی ہو ہمارے نکاح میں خالی ہمارے اپنے شامل ہو کوئ باہر کا نہیں ۔۔۔
اچھا جی اپکا حکم سر انکھوں پہ ہمارے نکاح میں کوئ باہر کا شامل نہیں ہوگا سوائے میرے ایک دوست کے اور قاضی صاحب کے۔۔
اور اپکا دوسرا وعدہ ؟؟
مہناز کے بولنے کی دیر تھی کے فون کے دوسری طرف ایک دم خاموشی چھا گئ ۔
کچھ منٹوں بعد امجد کی اوازدوبارہ فون سے ابھری۔۔
دیکھو مہناز میں کون ہو کیا ہو سب تمہیں بتا چکا ہو ۔۔
میں جس جرم کے دلدل میں دھنسا ہو وہاں سے ایک دم نکلنا اسان نہیں اور اگر میں نکلنا بھی چاہو تو شاہ ایسا ہونے نہیں دے گا زبردستی کی صورت میں وہ تمہیں مجھ سے ہمیشہ کیلیے چھین لے گا اور ایسا بھی کبھی بھی ہونے نہیں دونگا کل رات کو میں شاہ کے پاس جاونگا اپنا فیصلہ سنانے میں تم سے وعدہ کرچکا ہو کے اب مزید کوئ غلط کام نہیں کرونگا مگر کچھ وقت لگے گا ماہی مجھے سب سمیٹنے میں ایک دم سب چھوڑ نہیں سکتا ۔
میں سمجھ سکتی ہو امجد میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کے اپنے برے کام چھوڑ رہے ہیں ۔۔۔
مہناز کو بھی اندازہ تھا یہ سب اتنا اسان نہیں امجد کیلیے چھوڑنا۔۔
چلو اب ساری دنیا بھر کی باتیں ہوگئ اب ایک پیاری سے کس دے دو۔۔
امجد اللّٰہ حافظ ۔۔
مہناز نے فون رکھتے ہی اپنا دل تھاما اور ادھر امجد نے خوشی سے اپنا موبائل ہی چوم ڈالا ۔
کیا سوچ رہی ہو دلنشین؟؟
زریاب جو سگریٹ پینے کے غرض سے چھت پہ ایا تھا دلنشین کو دیکھ کے ایک دم رک گیا اور اسے پلر سے لگ کے پیار بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا مگر دلنشین جب کافی دیر سے ایک ہی جگہ کو گھورتی رہی تب زریاب نے اندازہ لگایا کے شاید وہ کچھ سوچ رہی ہے تبھی اس سے پوچھ لیا۔۔۔
زریاب کی اواز پہ دلنشین نے گھوم کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
کچھ خاص نہیں تم جاو پہلے سٹٹا مار او پھر کرتے ہیں بات ۔۔
تمہیں کیسے پتہ میں سگریٹ پینے ایا ہو اوپر۔۔
زریاب نے اپنی چوری پکڑنے کے باوجود حیران کن انداز میں دلنشیںن سے پوچھا۔۔
جانتی ہو چوری چھپے تم یہ ہی کرتے ہو چھت پہ وہ بھی تب سے جب تم میٹرک میں تھے۔۔
ارے واہ مایا جی اپکی مایا کیا خوب ہے سب جانتی ہیں اپ۔
زریاب تمہیں میری پہچان پتہ لگ گئ اسکا یہ مطلب نہیں تم جب چاہو مجھے میری پہچان یاد دلاو دنیا کے سامنے میں صرف دلنشین ہو
اچھا اچھا سوری ویسے پاپا کا بھی جواب نہیں کتنے گھنے نکلے وہ انہیں کب سے پتہ ہے تمہاری پہچان مگر مجال ہو جو کبھہ بھنک لگنے دی ہو۔۔
ممم۔۔۔۔ ط۔لبب۔۔
پہلی بار زریاب کی بات سن کے دلنشین گھبرائ تھی۔۔
اوہ کم ان دلنشین میں بھی پولیس افیسر ہو۔جنت تایو تو کبھی تمہارے اس فیصلے میں تمہارا ساتھ دیتی نہیں ایک واحد پاپا ہیں جنہیں تم ہر رشتہ سے عزیز ہو اتنا تو مجھے اندازہ ہے مجھے کے عفان انکل نے پاپا کے تھرو تمہیں اندر کور افیسر ہی بنایا تمہاری ڈاکٹری کے بہانے سے باہر ملک میں پڑھنے یہ سب بہانے سب پاپا کا پلین تھا۔۔
ہاں جیسے ماما تمہیں ہر معملے میں سپورٹ کرتی ہیں ویسے عمر ڈیڈو نے میری کی مگر انہیں اپنی اولاد بھی عزیز ہے تمہاری تایو کی طرح نہیں جنہیں اپنی اولاد ا سب سے بگڑی سب سے ذیادہ بدتمیز لگتی ہے۔۔
ایسی بات نہیں ہے دلنشین تم تایو کی طرف سے بہت بدگمان ہو۔۔
زریاب نے جب دلنیشن کی سوچ سنی تو اسے ہلکا ہلکا سا سمجھ انے لگا کے دلنشین اس سے نفرت کیوں کرتی ہے۔۔
یہ ہی بات یے زریاب ۔۔
دل نشین نے گردن جھکا کے کہا ۔۔
جبھی کچھ سوچتے ہوئے زریاب نے کہا ۔
یہ ہی وجہ ہے نہ کے تم مجھ سے نفرت کرتی ہو ۔
زریاب کی بات پہ دلنشین نے گردن اٹھا کے اچانک اسے دیکھا اس سے پہلے دلنشیںن اسے جواب دیتی عمر نے وہاں اتے ہوئے کہا۔
یہ میری انکھیں کیا دیکھ رہی ہیں ٹام اور جیری ایک ساتھ ۔۔
عمر نے دلنشین کے ماتھے پہ پیار سے اپنے لب رکھتے ہوئے کہا اور زریاب کو کندھے پہ فخر سے ہاتھ رکھ کے کہا۔
کچھ نہیں پاپا اپکی مایا بہت گہری سوچ میں تھی تو سوچا اسکی سوچ کی وجہ پوچھ لو ۔
ماہ۔۔ایا۔۔کون۔ ما ۔۔۔یا۔۔
او کم ان پاپا میں جانتا ہو سب ایک ہی مشن پہ کام کرہے ہیں اب ہم ۔۔
اب لوگ بیٹھے میں چلتا ہو ۔
زریاب عمر اور دلنشین کو ایک ساتھ چھوڑ کے وہاں سے چاپ چاپ اٹھ کے اگیا مگر دلنشین کو اسکی خاموشی بہت چبی وہ جاتے ہوئے زریاب کی پشت کو گھور رہی تھی جب عمر نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ نفرت کے قابل نہیں ہے دلنشین۔۔۔
عمر کی بات پہ اچانک دلنشین نے گردن گھما کے عمر کو دیکھا جب عمر نے دوبارہ کہا ۔۔
یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا کے وہ میرا بیٹا ہے بس اس لیے کہہ رہا ہو وہ بچپن سے تم سے دوستی کا خواہش مند ہے دلنشیںن ۔۔
زندگی میں تو ایک موقع سب کو دینا چاہیے ۔۔
ویسے ہے وہ بہت چپکو۔۔
دلنشین نے عمر کی بات پہ اس ادا سے یہ بات کہی کے عمر کا قہقہ پوری چھت پہ گونجا ۔۔
چلے میں اپکے بیٹے کے پاس سے ہوکے اتی ہے اج پہلی بار وہ خاموش ہوا ہے ۔۔
اوکے بیسٹ اوف لک۔۔
عمر نے انگھوٹے کا اشارہ کیا اور موبائل پہ مصروف ہوگیا ۔
یہ مسس جینی سے جو اپکی میسجوں پہ بزنس کی باتیں ہوتی ہے نہ جس دن اقراء ماما نے دیکھ لیا نہ اس دن اپکے جینے کے لالے پڑجائینگے۔۔
دلنشین نے عمر کو یہ بول کے نیچے کو ڈور لگائ اور جب تک عمر کو دلنشین کی بات سمجھ میں ائ اس نے صدمے سے اپنے لاک موبائل کو دیکھا اور خودی سے کہا ۔
میں کیوں بھول جاتا ہو اس گھر میں کافی ہیکر لوگ رہتے ہیں۔۔۔۔
ہاں ماما میں ٹھیک ہو اپ پریشان مت ہوا کرے ۔۔
عثمان کب تک ایسے رہوگے مان کیوں نہیں لیتے میری بات ۔۔
ماما پھر وہی ٹوپک لے کر بیٹھ گئ اپ۔۔
عثمان نے ایک لمبی سانس لے کر کہا ۔۔
میرا بھی ارمان۔ہے تمہارے سر پہ سہرا دیکھنے کا مان جاو میری بات یہ بول کے رابعہ رونے لگی۔۔۔
اوہ ماما اس میں رونے کی کیا بات ہے اپکو پتہ ہے نہ اپکا رونا مجھے اچھا نہیں لگتا..
پھر مان لو میری بات ۔۔
اچھا ٹھیک ہے پہلے اپ رونا بند کرے اور اب جب میں یہ مشن پورا کرکے اونگا تو ڈھونڈ کے رکھیے گا اپنی مرضی کی لڑکی کرلو گا شادی۔
تم سچ کہہ رہے ہو نہ عثمان۔۔
ہاں ماما اپکی قسم اپ میں فون رکھ رہا ہو اپنا خیال رکھیے گا ۔
فون بند کرتے ہی عثمان نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو 12 بج رہے تھے عثمان ںے بیڈ پہ بیٹھ کے ایک تصویر نکالی اور اسے دھیرے سے کہا۔۔
سالگرہ مبارک ہو مہناز۔۔
خوش رہو اباد رہو۔
یہ بولتے ہوئے عثمان کی انکھ سے ایک انسو تصویر پہ گرا۔
ائ لو یو مائ ایجل تجھے نہ کبھی میں بھلاونگا۔۔
عثمان کے انکھیں روتے روتے مسکرانے لگی ۔
اپنی اور مہناز کی پک کو اس نے احتیاط سے اپنے وولٹ میں رکھا ۔
جان بوجھ کے عثمان نے 6 سال پہلے مہناز سے ہر تعلق توڑا تھا وہ چاہتا تھا وہ اپنی زندگی میں اگے بڑھ جائے اور شاید اسکی یہ چاہت پوری ہو بھی چکی تھی ۔۔
مگر وقت اور حالات صدا ایک جیسے نہیں رہتے۔۔
جاری ہے ۔