51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ماما ماما…
رابعہ کے بیہوش وجود کو عثمان کو سنبھالنا مشکل ہوگیا ۔۔
اس نے جیسے تیسے رابعہ کو صوفے پہ لیٹایا اور خان بابا کو بلانے بھاگا
بابا جو اپنی فیملی کیساتھ بنگلے کیساتھ بنے کواٹر میں رہتے تھے۔۔
خان بابا کی بیوی فورا بھاگتی ہوئ عثمان کیساتھ گھر میں داخل ہوئ جیسے تیسے کرکے وہ رابعہ کو ہوش میں لائ۔
ہوش میں اتے ہی رابعہ پھر بلک بلک کے رونے لگی۔۔
عثمان مجھے عفان کے پاس جانا ہے پلیز خان بابا معلوم کرے وہ کہاں ہیں ؟؟
کس کا معلوم کرنا ہے ؟
کون کہاں ہے ؟؟
ہال میں عفان کی اواز گونجی جیسے سن کے سب شاکڈ ہوگئے ۔۔
اپنے سامنے جب رابعہ نے عفان کو صحیح سلامت دیکھا .
تو وہ ڈورتی ہوئ عفان کے سینے سے لگ گئ اور زور زور سے اسے خود میں بھیچنے لگی عفان تو ساکن کھڑا تھا اس نے ایک منٹ کیلیے بھی اپنے جسم کو حرکت نہیں دی۔۔۔
رابعہ کی گرفت ایسی تھی جیسے بہت قیمتی شہہ کو رابعہ نے قید کرا ہوا ہے جیسے اگر زرا سا بھی وہ ہلی تو وہ قیمتی شہہ اس سے کھو جائے گئ
تم ٹھیک ہو؟؟
فون پہ تو کوئ کہہ رہا تھا تمہیں گولیاں لگی ہیں؟؟
رابعہ نے کسی بچے کی طرح اسکے جسم کو ٹتولتے ہوئے کہا۔۔
عفان اسکی زہنی کیفیت سمجھ بھی رہا تھا اور نہیں بھی۔۔
رابعہ رابعہ ادھر دیکھو میری طرف ۔۔
عفان نے پہلے اپنے دل کو سنبھالا اور پھر رابعہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کہا۔۔
میں ٹھیک ہو دیکھو تمہارے سامنے کھڑا ہو مجھے بتاو کس کی کال۔ائ تھی؟؟
عفان کو اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھ عثمان کی کیفیت بھی رابعہ سے مختلف نہیں تھی ۔۔
پاپا ابھی کچھ دیر پہلے گھر کے نمبر پہ کال ائ تھی انہوں ںے کہا افیسر عفان کو گولیاں لگی ہیں انکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔
اوہ یہ جنید بھی نہ بتاتا ہو میں کل اسسے کوئ کام دھنگ سے نہیں کرتا۔۔اپ ادھر او میرے پاس ۔۔
عفان نے جنید کو اچھی خاصی سنا کے عثمان کو اپنے پاس بلایا وہ سمجھ سکتا تھا عثمان کی بھی کیفیت ایک بار اسکے سر سے باپ کاسایہ اٹھ چکا تھا اور ماموں کا گھر اسکے لیے کسی جہنم سے کم نہیں تھا۔۔
اسنے اپنا ایک ہاتھ عثمان کے کندھے پہ رکھا اور دوسرا ہاتھ رابعہ کے جو صرف رونے میں مصروف تھی اور کہا۔۔
پہلی بات میں افیسر نہیں کیپٹن ہو دوسری بات عفان ہمارے بیچ کا ایک افیسر ہے اسکو گولیاں لگی ہیں مگر وہ بھی اب خطرے سے باہر ہے۔۔
اب اپ لوگ رونا بند کرو یہ کہہ کے عفان نے ان دونوں کو اپنے سینے سے لگایا مگر رابعہ کی طرف اس نے گھور کے دیکھا جو مسلسل اس سے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی اور عفان اسے اتنا ہی اپنے اپ سے لگا رہا تھا۔۔
فلک یار فیورل پارٹی کا کیا سوچا ہے کونسا ڈریس پہنو گی۔۔۔؟؟
فلک کی دوست نے کینٹین میں بیٹھے سموسے سے انصاف کرتے ہوئے کہا۔۔
یار ابھی تو ڈیسائیڈ نہیں کرا دل نیشن کا اج لاسٹ پیپر ہے اس کو بولا ہے اج چلنے کا مال۔جاکے دیکھونگی جو سمجھ میں ائے گا وہ لے لونگی۔۔
ہم ویسے تیرے پیچھا بیٹھا شاہویز مسلسل تجھے دیکھ رہا زرا ایک بار پلٹ کر اسے دیکھ تو لے یار جب سے تونے کالج میں ایڈمیشن لیا ہے جب سے وہ تجھے دیکھتا رہتا ہے اور قسم سے میں نے اسے اج تک کسی اور لڑکی کو گھورتے نہیں دیکھا۔۔
یار مجھے نہیں پسند وہ شکل دیکھے ہے عجیب سے بھوندی شکل ہے اب میرے اتنے برے دن بھی نہیں ائے کے شاہویز جیسا لڑکا میرے لیے رہ گیا ہے۔۔میرے لیے تو کوئ ایسا ائے گا جیسے دیکھتے ہی میں پلک جھپکانا بھول جاو وہ اتنا خوبصورت ہو کے بس کیا بتاو۔۔۔۔
بس کردو فلک شاہویز کوئ بھوندا ٹائپ لڑکا نہیں ہے ہاں بس موٹا ہے تھوڑا اور فلک باہری خوبصورتی کوئ معنے نہیں رکھتی انسان کا دل خوبصورت ہونا چاہیے کیا پتہ جیسے تم پسند کرو بھلے وہ بہت خوبصورت ہو مگر اسکا دل کالا سیاہ ہو پھر کیا کروگی تم؟
تو میں اپنی محبت سے اسکا دل صاف کردونگی اور بات سنو تم میری دوست ہو یہ دشمن حد ہے یار ۔۔
اوہ بھئ میں تو صرف تمہاری بات کا جواب دیا ہے ناراض کیوں ہوتی ہو۔۔۔
تاشہ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی کے اخری سیڑھی پہ اسکا پاوں مڑا اس سے پہلے وہ گرتی باہر سے اتے ہوئے عمیر نے اسے تھام لیا ۔۔
تاشو انکھیں بند کرکے زور سے نومیر کی شرٹ پکڑ کے اسکی گلے لگی تھی اور ادھر نومیر کا تو دل اچھل کے حلق میں اگیا تھا ۔۔
تاشو ٹھیک ہو تم گری نہیں ہو۔۔انکھیں کھولو اپنی۔۔
نومیر کی اواز سن کے تاشہ نے جھٹ اپنے انکھیں کھولی اور خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔
ہائے نومیر بھائ اپنے مجھے بچا لیا گرنے سے۔۔
میں کبھی تمہیں گرنے نہیں دے سکتا تاشو ویسے تم اتنا تیار ہوکے کہاں جارہی ہو؟؟
نومیر نے اسے خود سے الگ کیا اور اسکی تیاری پہ ایک نگاہ ڈالی جو وائٹ فیری میکسی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
نومیر بھائ اج اصغر کی بہن کی برتھ ڈے پارٹی ہے وہاں جارہی ہو ماما کو بول چکی ہو۔۔۔
اوہ۔
کاش میں بھی کسی کی برتھ ڈے پارٹی میں جاتا میرا بہت دل کررہا تھا اج کہی جانے کا خیر تم جاو اور انجوائے کرو۔۔
نومیر یہ کہہ کے اوپر جانے لگا جب تاشہ نے کچھ سوچتے ہوئے نومیر کو اواز دی اور کہا۔۔
نومیر بھائ اپ میرے ساتھ چلے ۔۔
ارے نہیں نہیں تاشہ تم جاو میں وہاں جاو کہی تمہارے دوست کو برا نہ لگ جائے۔۔
کیوں برا کیوں لگے کا اپ میرے ساتھ جائینگے اسکے گھر ۔۔
شیور ؟؟.
نومیر نے ایک بار پھر کہا۔
ہاں بھائ چلے ۔۔
یہ بول کے تاشہ باہر کی طرف بڑھ گئ اور ادھر نومیر کے چہرے پہ ایک شیطانی مسکراہٹ ائ ۔
بلا شہبہ اس نے اج تاشہ کی معصومیت کا فائدہ اٹھایا تھا مگر ایک اچھی نیت سے بری نیت سے نہیں کیونکہ وہ کسی قیمت پہ بھی اصغر کیساتھ تاشہ کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔
رابعہ سارے کام نبٹا کے اوپر ائے تو عفان کیسی سے کال پہ بات کررہا تھا ۔۔
مگر نگاہیں اسکی رابعہ کے اوپر ہی تھی ۔
رابعہ عفان کی نگاہوں سے کافی کنفیوز ہورہی تھی اور وجہ تھی اج جو اسکا رویہ تھا عفان کیساتھ اسکی موت کا سن کے عفان بھی کافی شاکڈ تھا اسے اندازہ نہیں تھا کے رابعہ کی ایسی حالت ہوگی۔۔
رابعہ بلا وجہ الماری کھول کے ادھر ادھر دیکھنے لگی عفان سمجھ رہا تھا کے وہ اس سے گھبرا رہی ہے۔۔
شنے؟؟
ا
برسوں بعد یہ نام سن کے رابعہ کے ہاتھ کپکپانے لگے کیونکہ اج عفان کے لہجے میں وہی پیار تھا جو یونی کے زمانے میں تھا۔۔۔
رابعہ نے ایک نظر عفان کو دیکھا اور کہا۔
جی…
ادھر او مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔
رابعہ خاموشی سے عفان کے سامنے اکے بیٹھ گئ۔۔
عفان نے دھیرے سے اسکے دونوں ہاتھ تھامے اور کہا۔۔
مجھے پتہ ہے اج تم میری موت کا سن کے کافی ڈر گئ تھی ۔مگر شنے تمہیں مضبوط بننا ہوگا میرا پروفیشن ایسا ہے تم جانتی ہو ارمی والے اپنے وطن کیلیے جیتے ہیں انکے لیے پہلے انکا وطن پھر فیملی۔۔
رابعہ نے عفان کی بات سن کے بہت مشکل سے اپنے انسووں روکے اور کہا۔
بس اب ہمت نہیں کوئ رشتہ کھونے کی اس لیے بس ڈر گئ تھی۔۔
اچھا ادھر دیکھو میری طرف عفان کے کہنے پہ رابعہ نے نگاہ اٹھا عفان کو دیکھا۔۔
“کہتے ہیں انکھیں دل کا حال بیان کرتی ہیں”
ہمیشہ کی طرح اج بھی رابعہ کی انکھیں ہر جھوٹ سے فریب سے پاک تھی۔۔
میں ایک بات پوچھو سچ سچ بتاوگی۔۔
ہاں ۔۔
رابعہ صرف اتنا کہہ پائ اور دوبارہ نگاہ جھکا گئ۔۔
تم نے مجھ سے کبھی محبت کی تھی شنے؟؟؟
یہ ایسا سوال تھا جس سے رابعہ سالوں پہلے بھی بھاگ رہی تھی اور اج بھی بھاگ رہی تھی۔
سچ بولنا شنے مجھے سچ سننا ہے۔۔عفان نے اسے خاموش دیکھا تو کہا ۔
سالوں پہلے تمہارا جواب دینے کیلیے بیچینے سے صبح کا انتظار کررہی تھی میں بھی تمہیں بتانا چاہتی تھی کے میں بھی تم سے بہت محبت کرتی ہو ۔۔
مگر ہر بار ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہوتا نہیں اففی ۔۔۔
صبح جب میں یونی انے لگی تو میرے بھائ مجھے لینے اگئے مجھے گھر جاکے پتہ چلا میرے بابا کو کینسر ہے انکی اخری خواہش یہ ہی تھی کے میں اپنے گھر کی ہوجاو انکی زندگی میں میں اپنے بابا کا مان تھی انہوں نے میرے لیے رشتہ دیکھا ہوا تھا اففی بس اسی وجہ سے میں نے اپنے بابا کی عزت کو چنا اور شادی کیلیے ہاں کردی اور سوچ لیا تھا کے کبھی تم پہ یہ ظاہر نہیں کرونگی کے میں تم سے محبت کرتی ہو مگر دیکھو شاید تمہارا دل توڑنے کی سزا اللہ نے مجھے دی کے میں بیوہ ہوگئ زندگی کا کوئ ایسا لمحہ نہیں تھا عفان جب تم یاد نہیں ائے مگر میں اقبال کیساتھ مخلصی سے رشتہ نبھانا چاہتی تھی ہر لمحہ بس یہ ہی دعا کی کے تم جہاں رہو خوش رہو ،اباد رہو۔۔
میں تمہاری گنہگار ہو میں نے تمہیں بہت تڑپایا ہے مجھے معاف کردو عفان میں اپنا بابا کا بھرم نہیں توڑ سکتی تھی یہ بول کے رابعہ نے روتے ہوئے عفان کیے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ کے رونے لگی۔
مگر رابعہ نہیں عفان بھی رورہا تھا کہتے ہیں مرد روتے نہیں ہیں مگر جو بھی یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے مرد روتے ہیں صرف اس عورت کے اگے جو مان ہوتی ہیں انکا۔۔
عفان نے تیزی سے رابعہ کو اپنے سینے سے لگالیا۔
اج دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے کی دل کی ڈھرکن سنی تھی۔۔
عفان نے رابعہ کو خود سے الگ کیا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے۔۔
مجھے نہیں تھا اندازہ شنے کے مجھے ٹھکرانے کی پیچھے تمہاری کوئ مجبوری ہوگی۔
مگر اب بس اب میں اپنی محبت کو کسی مجبوی کی نظر ہونے نہیں دونگا ویسے بھی میری انابیہ بہت لیٹ ہوگئ ہے۔۔
اخری کی بات عفان نے بہت شوخ انداز میں کہا۔
انابیہ کون؟؟
رابعہ نے ناسمجھی انداز میں عفان کے سینے لگے لگے کہا۔۔
ارے ہماری انے والی بیٹی بھئ بیٹا تو اللہ نے دے دیا اب بیٹی بھی جلد از جلد اجانی چاہیے ۔۔
عفان کی بات کا مطلب سمجھ کے رابعہ نے اسکے سینے پہ ہلکا سا مکا مارا اور کہا۔
بہت بدتمیز ہو اففی تم یہ بول کے رابعہ اٹھ کے جانے لگی جب عفان نے اسکا ہاتھ تھام کے اپنے اوپر گرایا اور کہا۔
سوچنا بھی نہیں دور جانے کا اج مجھے میری محبت تم پہ لٹانے دو شننے میں بہت ترسا ہو تمہاری محبت کیلیے یہ بول کے عفان نے پوزیشن بدلی اور رابعہ کے ہونٹوں پہ جھک گیا۔۔
رابعہ نے بھی کوئ مزاحمت نہں کی عفان نے دھیرے دھیرے اسکی گردن پہ اپنے لب رکھنا شروع کردے رابعہ کی کپکاہٹ عفان واضح طور پہ محسوس کرسکتا تھا عفان نے شولڈر سے نیچے رابعہ کی شرٹ کی وہاں اپنے لب رکھنے سے پہلے مسکراکے رابعہ کو کہا۔۔
پلیز اج اپنے تھپڑ کا استعمال مت کرنا قسم سے بہت بھاری ہاتھ ہے تمہارا عفان نے مسکرا کے یہ بات کہی تو شنے شرم سے نگاہ جھکا گئ۔۔
عفان نے شننے کی اس حرکت پہ اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور اس پر اپنا پیار نچھاوڑ کرنے لگا۔۔
سالوں بعد ہی صحیح اج دونوں کو انکے محبت مل گئ تھی سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی اور کسی مجبوری کی نظر ہوجائے تو انکا رتبہ اور بڑھ جاتا ہے اور سچی محبت کرنے والوں کا ساتھ تو اللہ بھی دیتا ہے۔۔
جاری ہے۔۔