51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

رابعہ نے اپنی پوری طاقت لگا کے عفان کو خود سے دور کیا اور رکھ کے اسکے منہ پہ تھپڑ مارا۔۔
رابعہ نے تھپڑ مار کے اپنا ہاتھ فورا اپنی منہ پہ رکھا عفان وہ تو ابھی تک شاکڈ تھا ںے یقینی کی کیفیت میں اس نے رابعہ کو دیکھا جو نفی میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
عفان نے ایک نظر رابعہ کو دیکھا اور کمرے سے چلا گیا ۔عفان کے جاتے ہی رابعہ جھٹکے سے زمین پہ بیٹھ گئ۔۔
پوری رات رابعہ عفان کا انتظار کرتی رہی مگر عفان نہیں آیا رابعہ کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا اگر دیکھا جائے تو عفان کا غصہ جائز تھا جو کچھ رابعہ بول چکی تھی وہ کسی مرد کیلے برداشت کرنا ناممکن تھا وہ بھی اس مرد کے لئے جو اس عورت سے سچی محبت کرتا ہو فجر کے وقت را بعہ کی انکھ لگی تھی کے تھوڑی دیر بعد کمرے میں کھٹنکے کی آواز پہ رابعہ ہڑبڑا کے اٹھی تو عفان کو نماز پڑھتے دیکھا عفان نے نماز پڑھ کے دعا مانگی اور خاموشی سے بیڈ کی دوسری طرف اکے لیٹ گیا۔۔
رابعہ اٹھی اور خاموشی سے نماز پڑھ کر دعا مانگنے لگی دعا مانگتے مانگتے رابعہ کی انکھوں سے انسو گرنے لگے اور وہ وہی سجدے میں سو گئ۔۔
الارم کی اوازپہ عفان کی انکھ کھلی ٹائم دیکھاتو 9 بج رہے تھے اج اسے افس میں ریپورٹنگ کرنی تھی اور کل ولیمہ تھاتو اسکی بھی تیاری کرنی تھی ایک لمبی سی انگڑائ لے کر عفان نے اپنے سائیڈ میں دیکھا تو اسے رابعہ نہیں دیکھی وہ واش روم میں ہوگی یہ سوچ کے وہ کھڑا ہوا جب اسکی نظر جائے نماز پہ سوئ رابعہ پہ پڑی گھٹری بنی نماز کی طرح ڈوپٹہ باندھے وہ ایک بار پھر عفان کا دل بے ایمان کرگئ۔۔
عفان اٹھ کے اسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھا اورغور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا عفان نے جیسی ہی اسے جھک کے اٹھانا چاہا تو رات میں رابعہ کا مارا ہوا تھپڑ یاد اگیا ۔
دومنٹ کیلیے اسکے ہاتھ پیچھے ہوئے پھر کچھ سوچتے ہوئے اسنے رابعہ کے اوپر پانی کا بھرا ہوا جگ الٹ دیا۔۔
پانی گرتے ہی رابعہ ہڑبڑا کے اٹھ گئ ۔۔
کیاکیا ہوا؟؟
رابعہ نے کہا۔۔
کچھ نہیں ہوا اٹھو میرا ناشتہ بناو مجھے جانا ہے۔۔
عفان نے بہت اٹیٹیوڈ سے کہا۔
تو یہ بات ارام سے اٹھا کے بھی تو کہہ سکتے تھے یہ۔کونسا طریقہ ہے کسی کو اٹھانے کا۔۔رابعہ نے اپنا غصہ کافی کنٹرول کرکے کہا۔۔
اوہ سوری رابعہ میڈم میرا یہی اسٹائل ہے اس لیے کل سے اگر الارم پہ نہیں اٹھی تو پھر میں دوسرا طریقہ اپناونگا تمہارے ساتھ اور یقین جانو وہ طریقہ تمہیں بیچین کرنے کیلے کافی ہوگا عفان نے رابعہ کے قدرے قریب ہوکے اسکے ہونٹوں کو فوکس کرتے ہوئے کہا۔۔
رابعہ نے گھبراتے ہوئے عفان سے کہا۔
نہیں نہیں میں اٹھ جاونگی ۔۔
گڈ اٹھو اب یہ کہہ کے عفان نے کھڑے ہوکر اسکے اگے ہاتھ دیا جیسے رابعہ نے فورا تھام لیا۔۔
دلنشین دلنشین ؟؟
دلنشین جو عمیر کیساتھ پرنسپل کے افس سے لیو دے کر نکل رہی تھی مہناز کی اواز پہ ایک دم رکی ۔۔
دلنشین کل تم جارہی ہونہ پھپھو کے ولیمے میں؟؟
ہاں مہناز اسی لیے میں لیفف دینے ائ تھی مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟
میرا ایک کام کروگی؟؟
ہاں مہناز بولو ۔۔
یہ عثمان کو دے دینا میری طرف اور بولنا اسے چاہے تو رکھ لے چاہے تو پھیک دے مہناز یہ بول کے خاموشی سے پلٹ گئ
اور دلنشین اپنے ہاتھ میں موجود گفٹ کو دیکھ کے ایک بار پھر مہناز کی پشت کو گھورنے لگی۔۔۔۔
عفان ارمی یونیفارم میں ناشتہ کی ٹیبل پہ ایا تو پہلے سے موجود عثمان نے اسے دیکھ کے خوشی سے کہا۔۔
پاپا اپ تو ارمی یونفارم میں بہت خوبصورت لگ رہے ہیں۔۔
عثمان کی بات پہ عفان کھل کے مسکرایا اور کہا۔۔
یہ وردی ہے ہی ایسی چیز جو اسے زیب تن کرتا ہے خود بخود خوبصورت لگنے لگتا ہے اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کے تمہیں بھی یہ وردی پہننے کا بہت شوق ہے ۔۔
اپکو کیسے پتہ پاپا؟؟
بس ہے اپکا کوئ رزدار جس نے مجھے بتایا..
اوہ پاپا مجھے پتہ ہے دلنشین کے علاوہ اور کوئ نہیں ہوگی۔۔
ہاہاہاہاہا ہاں وہی ہے۔۔
وہ۔دونوں باتوں میں مصروف تھے جب رابعہ ان دونوں کیلے ناشتہ لے ائ عفان کے سامنے جب اس نے ناشتہ رکھا تو پل بھر کیلیے وہ چونکا کیونکہ سارا ناشتہ عفان کی پسند کا تھا ایک نظر اس نے اپنی سامنے بیٹھی رابعہ کو دیکھا تو اور حیران ہوا لائٹ فیروزی کلر کے سوٹ میں لمبے بال کمر پہ چھوڑے ہاتھوں میں تھوڑی تھوڑی چوڑیاں پہنے وہ بہت خوبصورت لگی رہی اپنے اوپر عفان کی نظروں کی تپش رابعہ بااسانی محسوس کرسکتی تھی رابعہ نے نگاہ اٹھا کے عفان کو دیکھا تو وہ ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
مگر زیادہ دیر تک رابعہ عفان سے نظریں ملا نہیں پائ۔۔۔۔۔
عفان اور رابعہ کا ولیمہ شاندار رہا وائٹ اور گولڈن کلر کی میکسی میں رابعہ بہت خوبصورت لگی رہی تھی اقراء اور جنت نے بھی اسے خوب سراہا عفان عثمان کو اپنے بیٹے کی۔حیثیت سے وہاں موجود تمام مہمان سے ملوارہا تھا حمزہ اور عمر بھی رابعہ اور عثمان کو خوش دیکھ کے کافی مطمئن تھے۔
عثمان اور دلنشین جب اکیلے بیٹھے تب دلنشین نے مہناز کا گفٹ اسے دیا جیسے دیکھ کے عثمان بل پھر کیلیے خاموش ہوگیا۔۔
اس نے مجھے دیتے ہوئے یہ بات کہی تھی کے عثمان کو کہنا رکھنا ہے تو رکھ ورنہ پھینک دے۔۔۔
عثمان نے اپنے گھر کے ایک ملازم کو بلا کے یہ گفٹ اسے اپنے کمرے میں رکھنے کو کہا۔۔
دلنشین خاموشی سی عثمان کی ساری کاروائ دیکھ رہی تھی ملازم کے جاتے ہی دلنشین نے عثمان سے کہا۔۔
عثمان ویسے مہناز بے قصور ہے تم نے اسکو اس دن بلاوجہ سنائ تم ہی کہتے تھے نہ کے ایک وہ ہی تمہاری مامی کے ہاں جو تمہارا ساتھ دیتی ہے ۔
دلنشین میں پرانی باتیں دہرانا نہیں چاہتا پلیز ۔۔
اور دلنشین خاموش ہوگئ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کے عثمان کی خاموشی اگے بہت بڑا طوفان لانے کیلیے ہے۔۔
ولیمہ ساتھ خیریت سے نمٹ گیا مجاہد مینشن کے لوگ رات کو ہی ریٹرن ہوگئے تھے اور وجہ تھی حمزہ اور عمر کی ایک بہت ہی اہم میٹنگ ۔۔
عفان نے اج فیصلہ کرلیا تھا کے اب رابعہ سے اور دوری برداشت نہیں کرے گا اج ہی سارا معملہ سوٹ اوٹ کرلے گا مگر جب وہ کمرے میں پہنچا تو اسے ایک بہت اہم کال اگئ اسے ایک مشن پورا کرنے کیلیے اج رات کو ہی کراچی کیلیے نکلنا تھا وہ رابعہ کا ایک موبائل دے کے کریڈٹ کارڈ دے کے عثمان اور باقی تمام ملازموں کو ہدایت دے کے چلا گیا کوئ نہیں جانتا تھا اسکی واپسی ہوگی بھی یہ نہیں یہ تو انے والا وقت ہی بتائے گا۔
اج دلنشین تین دن بعد اسکول ائ تھی اور اسکول اتے ہی اسے خبر ملی تھی کے چند لڑکوں نے نیو ایڈمشن لیا ہے اور کافی ہائے فائے انکا بیک گراونڈ ہے نہ صرف ہاسٹل کی لڑکیوں کو بلکے اسکول کی لڑکیوں کو بھی کافی تنگ کیا ہوا ہے مگر اصل جس بات نے دلنشین کو غصہ دلایا تھا وہ یہ تھی کے ان لڑکوں نے اپنا اگلا ٹارگٹ مہناز کو بنایا تھا اور اج ہی اسکے ساتھ کافی بدتمیزی کی تھی اور مہناز گروانڈ میں بیٹھ کے کافی رو رہی تھی دلنشین غصہ میں ان لڑکوں کے پاس پہنچی اور جس لڑکے نے مہناز کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اسے گھسیتی ہوئ گراونڈ میں لے ائ۔
دلنشیں چھوڑ دے اسے ۔۔
مہناز کب سے روتے ہوئے اسے بول رہی تھی مگر دلنشین پہ تو جیسے خون سوار تھا۔اس میدان میں تقریبا سب ہی اسٹوڈینٹ کھڑے تھے مگر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کے ایک پندرہ سال کی لڑکی سے سترہ سال کے لڑکے کو چھڑواسکے۔۔۔
کمینے بہت شوق ہے تجھے لڑکیوں کے واش روم میں جھانکنے کا اج تیرا وہ حال کرونگی کے آئیندہ کبھی خود کو بھی نہاتے ہوئے نہیں دیکھے گا۔۔۔
دلنشین نے اس ادھ موئے لڑکے کو دوبارہ منہ پہ گھونسا مارتے ہوئے کہا۔۔
انف از انف دلنشین اچانک پرنسپل کی آواز پہ دلنشین کا ہاتھ تھما مگر پھر بھی اس نے زمین پہ پڑے لڑکے کی کمر پہ ایک زور دار لات رسید کردی ۔۔
ابھی کے ابھی میرے آفس میں آو۔۔
اور اپ سب اپنی کلاسس کلاسس میں جائے سارے اسٹوڈینٹ پرنسپل کی اواز پہ فورا کلاسوں میں بھاگے۔۔
پرنسپل صاحب کے آفس میں دلنیشن بنا ڈر خوف کے کھڑی تھی مگر جب اس نے آفس کا دروازہ کھول کے کسی کو اندر اتے دیکھا تو فورا اپنی آنکھیں بند کی۔۔
آئیے مسٹر عمر ۔۔
پرنسپل صاحب نے عمر سے ہاتھ ملایا اور کہا۔
اج پھر دلنشین نے ہاتھا پائ کی ہے اپکو اندازہ نہیں اس لڑکے کے فادر کتنے پاورفل ہیں ۔یہ لاسٹ وارننگ ہیں اپکی بھتیجی کو اج کے بعد ۔۔اس سے پہلے پرنسپل صاحب اگے کچھ بولتے دلنشین بول پڑی۔۔
اج کے بعد اگر اس نے دوبارہ لڑکیوں کے واش روم میں جھانکنے کی کوشش کی یہ چلتے ہوئے اسکا ہاتھ کسی بھی لڑکی کے جسم سے ٹچ ہوا تو سر آئندہ اسکا وہ حال ہوگا کے وہ یہی سوچتے سوچتے اپنی زندگی گزار دے گا کے وہ مرد ہے یہ عورت۔۔
دلنیشن کے بولنے پہ عمر نے اپنا سر تھاما مگر عمر کیساتھ ائے اسکے دوست نے بہت دلچسپی سے دلنشین کو دیکھا
جاری ہے۔۔۔