Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 45( part 1)
Rate this Novel
Episode 45( part 1)
مبارک ہو تمہیں زریاب بڈی بتا رہے تھے رشتہ پکا ہوگیا ہے تمہارا ؟؟
خیر مبارک ۔۔
زریاب نے گھور کے دلنشین کو دیکھا اور کہا۔۔
وہ اصل میں میں تم سے ایکسکیوز کرنے آئ تھی تمہارے نکاح والے دن میرا ایک۔بہت پرسنل کام ہے تو میں ا نہیں پاونگی۔۔
اوکے ۔۔
زریاب کے لیے دیے رویہ کو دیکھ کے دلنشین وہاں سے چلی گئ ۔۔
زریاب کی نگاہوں نے اسکی پشت کو گھورتے ہوئے اپنے اوپر انسووں کی باندھی باڑ کھول دی ۔۔
کب اسکے آنسوؤں بہنے لگے اسے پتہ نہیں چلا ۔۔
زریاب نے اپنے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا اور احسان کے گھر چلا گیا۔۔
!!!!!!!!!!
چھوڑنا میں تو پہلے بھی کہتا تھا وہ تیرے قابل نہیں مگر تجھ پہ تو دلنشین کا بھوت سوار تھا۔ ۔
چل چھوڑ اللہ جو کرتا ہے ہمارے اچھے کیلیے کرتا ہے ۔۔
ہاں تو اب مجھے فلسفے مت سنا خود تو تجھے تیری محبت مل گئ ۔۔
مجھے دیکھ لے کیسے ملی کتنی اذیت میں تھا میں اب بس کردے زریاب دل سے عمر انکل کا فیصلہ مان۔ ۔
ہاں میں نے بھی اب یہ ہی سوچا جو نصیب میں ہی نہیں اسکے لیے لڑنا کیسا۔۔۔
!!!!!!!!!
زریاب یہ دیکھو یہ ریڈ کلر کا شرارہ کیسا ہے تمہیں تو ویسے بھی ریڈ کلر پسند ہے نہ؟؟
ہاں ماما اچھا ہے آپ دیکھ لے جو آپکو پسند ہو میں گاڑی میں ویٹ کررہا ہو۔۔
اس نے یہ بول کے ایک نظر اپنے برابر میں کھڑی نقاب میں موجود مہک پہ ڈالی اور مال سے باہر نکل گیا ۔
!!!!
زارا کمپلیٹ ہوگئ مہندی؟
فلک جسکا ایک پاؤ زارا کے گھر تھا تو دوسرا بازار میں کل اسکے بھائ اور کزن کا نکاح تھا ۔۔
کل کیلیے ایک خوبصورت ڈریس اسے حاشر نے بھیجوایا تھا۔
مگر فلک نے اسے کھول کر نہیں دیکھا تھا وہ ناراض تھی اس سے کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی اور وجہ تھی کل اسکا نکاح میں نہیں آنا ایک بہت ضروری کام سے اسے آوٹ آف سٹی جانا تھا ۔۔
تم نہیں لگوارہی مہندی؟
زارا نے مہندی لگواتے لگواتے خیالوں میں گم فلک سے پوچھا۔۔
نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ۔۔۔
بھائ کا نکاح ہے بیسٹ فرینڈ کا۔نکاح ہے کزن کا نکاح ہے اور تم مہندی نہیں لگواوگی۔۔۔
زارا کی بات پہ فلک نے ایک ائبرو اٹھا کے اسے غور سے دیکھا اور کہا۔
لگوارہی ہو اب مزید کسی کا نکاح نہیں گنوانا۔۔
دونوں دوستوں کے ہاتھوں میں مہندی کا رنگ کافی گہرا چڑھا تھا دونوں کی ہتھیلیوں میں میں انکے ہونے والے شوہروں کے نام درج تھے۔۔۔
فلک کے موبائل پہ دوبارہ حاشر کی کال آنے لگی جسے ایک بار پھر فلک نے ڈسکنٹ کردی۔
!!!!!!!!!
کچھ پتہ چلا خاور اس لڑکی کا؟
شاہ نے غصہ میں خاور کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
نہ شاہ جی پورا شہر چھان مارا مگر اسکا کہی پتہ نہیں چلا احسان اور زریاب پہ بھی نگاہ رکھی ہوئ ہے مگر کوئ فائدہ نہیں ہوا۔۔
میرے لیے وہ لڑکی بہت خطرناک ہے خاور کیونکہ ایک وہی ہے جسنے شاہ کو دیکھا ہے۔۔۔
!!!!!!!!!.
بلیک قمیض شلوار میں عثمان بے حد حسین لگ رہا تھا اور آج خوش بھی تھا اسکے بیسٹ فرینڈز کا نکاح جو تھا ۔۔
بہت مشکلوں سے ہزاروں دھمکیوں کے بعد مہناز نکاح میں جانے کیلیے مانی تھی ۔
رابعہ نے ایک خوبصورت سا شرارہ اسے لے کر دیا تھا نکاح میں پہننے کیلیے جسے دیکھ کے مہناز نے تھوڑا اعتراض کرا وہ شرارہ پہنے پہ مگر فائزہ کے سمجھانے پہ وہ مان گئ۔۔۔
عثمان ٹی وی لانج میں بیٹھا گھر کی لیڈیز کا ویٹ کررہا تھا مستقل چینل چینج کرکے وہ تھک چکا تھا۔۔
اچانک چوڑیوں کی آواز پہ اسکی سیڑھیوں پہ نگاہ گئ جدھر سے سجی سنوری مہناز کو دیکھ کے عثمان کے ہاتھ سے ریموٹ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔۔
ڈارک سی گرین کلر کے شرارے میں ہلکا۔پھلکا سا تیار ہوئ ہوئ بالوں کو اسٹریٹ کرکے کمر پہ چھوڑے ہلکی سی جیولری پہنے ہاتھوں میں چوڑیاں ڈالے اپنا شرارہ سنبھالے وہ نیچے اتر رہی تھی اس نے شاید ٹی وی لانج میں بیٹھے عثمان کو نہیں دیکھا تھا کبھی ادھر کبھی ادھر اپنی پممز ڈھونڈ رہی تھی جو عثمان کے برابر والے صوفے کے سائیڈ میں رکھے تھے۔
یااللہ یہ پھپھو نے اتنا ہیوی شرارہ پہنا دیا اوپر سے میرے پممز بھی نہیں ملے رہے۔۔۔
وہ ادھر ادھر ڈھونڈ نے مگن تھی جب اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرکے جیسے ہی پلٹی تو عثمان کے سینے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
عثمان نے جھک کے اس کے آگے اسکے شوز رکھے اور کہا۔۔
اتنی بڑی ہوگی ہو یہ بول کے عثمان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور دوبارہ کہا۔۔
آج بھی چیزیں رکھ کے بھول جاتی ہو جسے ڈھونڈ کے دینا آج بھی عثمان کا۔کام ہے ۔۔
مہناز نے ایک نظر عثمان کو دیکھا اور پھر جھک کے اپنے شوز اٹھاتے ہوئے عثمان سے کہا۔۔
میں کسی عثمان کو نہیں جانتی جو بچپن کا ساتھی تھا وہ اپنا ساتھ بچپن میں ہی روندھ کے چلا گیا ہر وہ نشان مٹا کے چلا گیا تھا جس پہ چل کے میں اس تک پہنچتی لہزا بار بار مجھے اسے شخص کا نام یاد دلانے کی ضرورت نہیں جسے میں اپنے دل کیساتھ ساتھ دماغ سے بھی نکال چکی ہو تم اب صرف میری پھپھو کے بیٹے ہو بس اور کچھ نہیں یہ بول کے مہناز س کے سائیڈ میں سے نکل کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ کے شوز پہنے لگی۔۔
عثمان وہی بت بنے کھڑا رہا مہناز کے الفاظ کسی خنجر کی طرح اسکے دل پہ لگے تھے اس نے تو سوچا تھا مہناز کا دوبارہ اپنے وجود کا احساس دلانا کافی آسان ہوگا مگر یہ صرف اسکی سوچ تھی۔۔
!!!!!!!!!!!
احسان نے جیسے ہی نکاح کے پیپر پہ سائن کیے ایک آنسو اسکے گال پہ پھسلا جسے اسےبہنے دیا وہ شکرانے کے آنسوؤں تھے اللہ نے اسے آج سب سے بڑی خوشی سے جو نوازا تھا ۔۔
مگر زارا نکاح کے پیپر پہ سائن کرکے دو منٹ کیلیے ڈری تھی کیونکہ اب احسان اسکے ساتھ کیا رویہ رکھتا یہ سوچ سوچ کے وہ ڈر گئ تھی۔۔
جس طرح اس نے احسان کو ٹھکرایا تھا وہ کافی ازیت تھی مگر وہ مجبور تھی کیا احسان اسکی یہ غلطی معاف کریگا یہ سوچ سوچ کے زارا پریشان تھی۔۔
احسان اور زارا کا نکاح ہوا تو پھر زریاب اور مہک کی باری آئی وائٹ کاٹن کے سوٹ میں زریاب کوئ اداس سا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔۔
زریاب نے آج سوچ لیا تھا مہک سے نکاح کے بعد وہ دلنشین کی ہر یاد اپنے دل سے نکال دے گا۔۔۔
زریاب بنت عمر کیا آپکو دلنشین بنت حمزہ سے نکاح قبول ہے۔۔
زریاب جو اپنی ہی دھن میں بیٹھا تھا اپنی دلہن کا نام سن کے ایک دم اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔۔
زریاب کے کھڑے ہوتے ہی حال میں موجود سب ہنسنے لگے احسان نے اسٹیج پہ چڑھ کے زریاب کو کندھے سے پکڑ کر دوبارہ بیٹھایا اور کہا۔۔
ابے کیا کررہا ہے سب ہنس رہے ہیں۔۔
احسان انہوں نے ابھی مہک کی جگہ دلنشین کا نام لیا ہے
زریاب نے قاضی صاحب کی طرف اشارہ کرکے کہا۔۔
زریاب اس وقت کوئ معصوم سے بچہ لگ رہا تھا جسے اسکی من پسند چیز ناامید ہونے کے بعد ملنے والی ہو۔۔
برخوردار جسکے ساتھ نکاح ہوگا اسی کا تو نام لینگے نہ قاضی صاحب عمر کے بولتے ہی زریاب نے پہلے شاکڈ ہوکے احسان کو دیکھا پھر عمر کو جب اسکی نظر حمزہ پہ پڑی تو اس نے آنکھ مار کے کہا۔۔
کیسا لگا دلہے میاں یہ جھٹکا۔۔۔
جاری ہے۔۔
