51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

عثمان کے اتے ہی عفان نے کسی کو کال کی اور 5 منٹ کے اندر ارمی کی چار پانچ بڑی بڑی گاڑیاں مجاہد منشن کے اگے اکے رکی۔۔
رابعہ۔تو گاڑیوں کو دیکھ کے پل بھر کیلیے اپنی انکھیں جھپکانا ہی بھول گئ ۔
حمزہ کی ساری باتوں پہ اس نے فوکس کیا مگر یہ بات وہ کیسی فراموش کرگئ کے عفان ارمی کا ایک بہت بڑا افیسر ہے۔۔
رابعہ نے ایک نظر عفان کو دیکھا جو عمر سے بات کررہا تھا اور ایک بار پھر گاڑیوں کو ۔۔
کچھ ماضی کے لمحہ رابعہ کے دماغ میں گردش کرنے لگے۔۔
رابعہ تم کیسا شوہر چاہتی ہو؟؟.عفان۔اور رابعہ کینٹین میں بیٹھے تھے جب عفان نے رابعہ کو اپنی نگاہوں میں سموتے ہوئے کہا۔۔
میں چاہتی ہو میرا ہونے والا شوہر بہت بڑا ارمی افیسر ہو ہم جب بھی کہی باہر نکلے ہماری گاڑی کے پیچھے ارمی کی گاڑی ہو میرے شوہر کا نام سنتے ہی اس ملک کے غدار کانپے اور سب سے لاسٹ ہماری گاڑی پہ ہمارے ملک کا جھنڈا ہو نمبر پلیٹ پہ بھی ارمی لکھا ہو۔۔
رابعہ اپنی بات بول کے چپ ہوئ تو عفان صرف مسکرا کے رہ گیا۔
ماضی کی باتوں پہ رابعہ کے لبوں پہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ ائ اور نجانے کیا سوچ کے اس نے ایک بار پھر پلٹ کے عفان کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا عفان کے دیکھنے پہ رابعہ فورا نگاہیں پھیر گئ۔۔۔
عفان باری باری سب سے ملا حمزہ سے مل کے اس ںے انکا شکریہ ادا کیا کیونکہ عمر اسے بتا چکا تھا کے رابعہ کو منانے کا ذمہ حمزہ بھائ کا تھا۔۔
ارے نہیں یار میرے لیے جیسا عمر ویسے تم شکریہ نہیں بولو حمزہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
مگر عفان سب کچھ بھلا کے اگے بڑھنا رابعہ نے بہت تکلیفیں دیکھی ہیں اپنی زندگی میں اسے خوش رکھنا۔
بے فکر رہے اپ بھائ اپکی بہن خوش رہے گی اگر اس نے مجھے خوش رکھا اخر کی بات عفان نے ذرا شوخ ہوکے کہی جس کا مطلب سمجھتے ہی حمزہ نے اسکے کمر پہ ہاتھ مارا اور کہا تم اور عمر بلکل ایک جیسے ہو ۔۔
ہاں مگر اڑتے اڑتے زرائعوں سے پتہ چلا اپ تو اس معملے میں میرا اور عمر کے بھی بگ بی ہیں۔۔عفان کی بات کا مطلب سمجھتے ہی ایک بار پھر حمزہ کا قہقہ گونجا
عمر ان دونوں کے قریب ایا اور کہا۔۔
کیا بات ہے بھئ بڑے قہقہ نکل رہے ہیں دونوں کے ۔؟؟
کچھ نہیں بس زرا بگ بی سے ہم کلاسس لے رہے تھے بیوی کو کیسے خوش رکھتے ہیں۔۔۔
عمر نے ایک مکا عفان کے کندھے پہ مارا اور کہا۔
بس زیادہ پریشان نہیں کرنا رابعہ کو بہت ڈسٹرب ہے ۔۔عمر کے کہنے پہ عفان نے سڑا ہوا منہ بنایا اور کہا۔۔
لو اگیا ایک اور حمایتی۔۔۔۔۔
عثمان کی نگاہیں کب سے دلنشین کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ تھی نجانے کہاں چھپ کے بیٹھی تھی عمیر سے پوچھنے پہ اسے پتہ چلا وہ گارڈن میں بنے جھولے پہ بیٹھی یے۔۔
عثمان تیزی سے گاڑدن میں پہنچا اور دلنشین کے روبرو اکے کہا۔
یہاں کیا کررہی ہو؟؟
میں جارہا یو تم مجھے سی اوفف کہنے کے بجائے یہاں بیٹھی ہو۔۔
عثمان کے بولنے پہ دلنشین نے سر اٹھایا تو عثمان یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کے وہ رہی تھی۔۔
دلنشین تم رو رہی ہو سریسلی؟؟
ہاں تو میرا اتنا پیارا دوست جا رہاہے مجھے چھوڑ کے رونا تو ائے گا نہ۔۔
ہائے صدقے مجھے نہیں پتہ تھا میں چڑیل کیلیے اتنا امپورڈد ہو۔
یہ کہہ کے عثمان بھاگا دلنشین کے بات سمجھ اتے ہی وہ۔بھی اسکے پیچھے بھاگی مگر عثمان گاڑی میں بیٹھ چکا تھا جب عمیر نے عثمان کا دیا ہوا گفٹ اسے دیا جو عثمان نے عمیر کو جب دلنشین کو دینے کا بولا تھا جب وہ گاڑی میں بیٹھ جائے۔۔
گاڑی اسٹارٹ ہوئ اور عثمان دلنشین کو ہاتھ ہلاتا ہوا چلا گیا۔
عثمان کے جاتے ہی دلنشین نے گفٹ کھولا تو اس میں دلنشین اور عثمان کی پک تھی جسکے سائیڈ میں کچھ لکھا تھا جیسے پڑتے ہی دلنشین روتے روتے بھی مسکرا اٹھی۔۔
عفان کا گھر دیکھ کے عثمان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں مگر رابعہ یہ گھر پہلے بھی دیکھ چکی تھی اس لیے حیران نہیں ہوئ ہاں اس میں تھوڑی بہت چینجنگ کروائ گئ تھی۔۔
پاپااپکا گھر تو بہت خوبصورت ہے میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اللہ مجھے بھی ایسا گھر دے گا ایسے گھر میں اپنی مما اپنے پاپا کے ساتھ رہونگا۔۔
عثمان کی بات پہ مسکرا کے عفان نے اس کے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کو گھر گھماتے ہوئے کہا تھینکیو بیٹا یہ گھر آپ کے دادا نے اپکی دادی کی خواہش پہ بنوایا تھا ۔۔
پاپا دادا دادی اب کہاں ہے ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے؟؟
عثمان کے سوال پر عفان نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں اور ایک نظر رابعہ کو دیکھا اور عثمان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ایک کار ایکسیڈنٹ میں آپ کے دادا دادی کی ڈیٹھ ہوگی تھی تو جب سے ہی آپ کے پاپا اکیلے تھے مگر اب آپ آ گئے ہو نہ اپنے پاپا کی تنہائ دور کرنے۔۔
چلو او میں آپ کو اپکا کمرہ دکھاؤ اور تم تو کمرہ جانتی ہوگی۔
اس نے رابعہ کو مخاطب کرکے کہا۔۔
یہ پہلا جملا تھا جو عفان نے نکاح کے بعد رابعہ سے کہا تھا۔۔
رابعہ نے ہاں میں گردن ہلائ اور بنا نظریں ملائییں عفان کے کمرے کی طرف چلی گی۔۔
عثمان اپنا کمرہ دیکھ کے کافی خوش ہوا عفان نے فون کرکے ہی اسلام اباد کے ہاوس ڈیکوریٹر سے عثمان کا کمرہ بہت خوبصورت ڈیکوریٹ کروایا تھا اس کی ضرورت کی ہر چیز اسکے کمرے میں موجود تھی یہاں تک کہ اس کے کپڑے بھی عثمان کو کمرے میں چھوڑ کے عفان اپنے کمرے میں آیا کمرے کے باہر کمرے ہوکے عفان نے ایک لمبی سانس لی اور اندر داخل ہوا۔
رابعہ واش روم سے فریش ہوکے باہر نکلی تو اسکی نظر عفان پہ پڑی جو بنا شرٹ کے کھڑا تھا اور شاید رابعہ کے نکلنے کا ویٹ کررہا تھا۔۔رابعہ نے عفان کو دیکھ کے نظریں چرائ اور بیڈ پہ رکھا اپنا ڈوپٹہ اوڑھنے لگی۔۔عفان نے ایک نظر اسے دیکھا اور فریش ہونے چلا گیا۔
رابعہ بیڈ پہ گم سم سے بیٹھی جب عفان واش روم سے باہر ایا اور کمرے میں رکھے فون سے اپنے گھر کے ملازم کو فون کیا جو کچن میں ہی ہوتا تھا اور اسکی کے استعمال کیلیے کچن میں فون لگایا تھا۔۔
ایک کپ کافی منگوائ اور ایک چائے ۔۔چائے کا لفظ سن کے رابعہ نے بلا جھجک عفان کو دیکھا جو اسے اگنور کرکے اپنی ٹی شرٹ پہن رہا تھا ٹی شڑت سے جھلکتے بازو اسکی طاقت کو ظاہر کررے تھے۔
پانچ منٹ بعد ملازم کوفی اور چائے لے کر کمرے میں داخل جب عفان نے کہا۔۔
عثمان بابا کے کمرے میں بھی جا کہ اس سے پوچھو اس سے بھوک تو نہیں لگ رہی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔۔
اوکے سر میں دیکھتا ہوں ۔۔
ملازم کے جانے کے بعد عفان نے لیپ ٹاپ کھولا اور کچھ ضروری کام کرکے بند کر دیا ہے جب رابعہ نے بہت ہمت جمع کرکے عفان سے بولا ۔۔۔
مجھے بہت افسوس ہے عفان انٹی انکل کی ڈیتھ کا۔۔
رابعہ کا بولنا تھا کے عفان کو تو ہ
پتنگے لگ گئے وہ تیزی سے اٹھ کے رابعہ کے پاس آیا اور کہا تم جیسوں کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے اپنے ہمدردی کے یہ لفظ اپنے پاس رکھنا میں نے تم سے شادی کی تو وجہ صرف عثمان تھا تم جو میرے ساتھ کر چکی ہوں میں اس کی تمہیں کسی قیمت پر بھی معافی نہیں دوں گا۔۔
میری بات سنو میں مجبور تھی اور میں کوئ کمنٹمنٹ تو نہیں کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔
رابعہ بھی عفان کا رویہ دیکھ کے اسکے روبرو اچکی تھی۔۔
اوہ۔ اوہو میڈم کی بے حسی تو دیکھو سلام ہے میڈم آپ کی بے حسی کو ۔۔
تو یہ بات تم مجھے بول کے جاتی نہ مجھے بولا کیوں نہیں
۔۔ بس نہیں بول کے گئی میری مرضی رابعہ کے تیور دیکھ عفان کے چہرے کے تاثرات بھی ایک۔دم سخت ہوگئے۔۔
اور ویسے بھی تم نے تو شادی عثمان کے لیے کی ہے نہ تو میرے ہونے سے نہ ہونے سے تمہیں گھر میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے چ میں نے بھی اپنے بیٹے کے لیے شادی کے لیے حامی بھری تھی مجھے کوئی شوق نہیں تھا دوسری شادی کرنے کا اور خاص کرکے تم سے تو بلکل نہیں۔۔۔
رابعہ ر کو غصہ کرتے دیکھ کے پل بھر کے لئے عفان کا دل چاہا کہ سب کچھ بھلا کے رابعہ کو اپنے سینے سے لگا لیں مگر دماغ اسکو سزا دینے پر مجبور کر رہا تھا اور سونے پہ سہاگہ رابعہ کی ابھی کی ہوئی باتیں عفان کو اور غصہ دلانے کے لئے کافی تھا اس نے رابعہ کا ہاتھ پکڑا اور اسکی کمر کی طرف لیجاکے موڑتے ہوئے کہا ۔۔
عفان کا ہاتھ موڑنا تھا کے رابعہ چیخ پڑی
ہاتھ مت لگاو مجھے عفان!!
اسکی چیخیں اس سے پہلے کمرے سے باہر جاتی اور نوکر انکی پرائوسی کے مزے لوٹتےعفان نے تیزی سے اپنا ہاتھ اسکے لبوں پہ رکھ کے اسے گھمایا اور اپنے دانت اسکی گردن پہ گاڑتے ہوئے کہا۔
بھول رہی ہو تم شاید اب میں پہلا والا عفان نہیں رہا جو تمہاری ہر جائز ناجائز بات پہ مسکراتا تھا تم نے مجھے ناجائز ٹھکرایا تھا ایک بار بھی مجھے میرے حق کیلے اواز اٹھانے نہیں دی میں تمہارے اگے گڑگڑایا تڑپا مگر تم نے مجھے ایک کھلونا سمجھا جیسے صرف اپنی عزت کیلیے توڑ دیا مگر دیکھو اج وقت کا پہیا کیسا گھوما اج تم میرے سامنے کھڑی گڑگڑا رہی ہو مگر یاد رکھنا مسسز عفان کسی قیمت پہ اج میں تمہیں خود سےازادی نہیں دینے والا ،تمہارے مجھ پہ کیے گئے ستم ظریفی کی تمہیں معافی نہیں ملے گی ۔۔
یہ بول کے عفان نے جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور اسکے لبوں پہ جھک گیا اسکی کمر کو اتنی مضبوطی سے تھاما تھا کے تکلیف کے باعث اسکی انکھوں سے انسو نکلنے لگے۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔