51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50

سب ہی میٹنگ میں موجود تھے ۔۔
مایا مانی احسان زریاب سب ہی گہری سوچ میں غرق تھے۔۔
عثمان اور مہناز پہ جو کل حملہ تھا وہ معمولی نہیں شاہ کی طرف سے صاف اشارہ تھا کے وہ انکے ہر عمل پہ نگاہیں رکھا ہوا ہے۔۔
مہناز کی جان کو بھی تو خطرہ ہے کیپٹن۔۔
جب تک رہے گا جب تک شاہ پکڑائ میں نہ اجائے۔۔
امجد تھا جو ہمیں اس تک پہنچا سکتا تھا مگر وہ بھی اپنی جان سے گیا ۔
مہناز ان لوگوں کا ٹارگٹ کیوں ہے یہ بات اب بھی میری سمجھ سے باہر ہے۔۔
عفان صا حب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔۔
ہو سکتا ہے امجد نے مہناز کی وجہ سے شاہ سے بغاوت کی ہو اس وجہ سے۔۔
نہیں زریاب یہ وجہ نہیں امجد تو مر گیا ہے اور ہمیں کوئ ثبوت بھی دے کر نہیں گیا یہ بات بھی شاہ جانتا ہوگا ۔۔
یہ وجہ نہیں ہوسکتی مہناز کو مارنے کی۔۔
مایا نے زریاب کی بات کا جواب دیا ۔
جو بھی ہے اب مہناز کی حفاظت ہمارے زمہ ہے۔
احسان نے بھی باتوں میں حصہ لیا ۔
ہماری نہیں صرف مانی کی۔۔
مایا نے مانی کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
مایا کی بات کا مطلب وہاں بیٹھا ہر انسان سمجھ چکا تھا مگر عفان صاحب انہوں نے خالی مانی سے ایک بات کہی۔۔
محبت کرنا محبت آسان ہے مگر اس آگ میں جلنا بہت مشکل اب وقت آگیا ہے مانی بچپن کی لگائی تمہاری یہ آگ ٹھنڈی ہوجائے۔۔
میرے علاؤہ جسکی چاہے مدد لے سکتے ہو۔
عفان کی بات کا مطلب سمجھ کے مانی نے ایک لمبی سانس لی ۔
ایک منٹ انکل یہاں موجود کوئ بھی انسان اس مانی پاگل کی مدد نہیں کرے گا بچپن میں کی گئی بیوقوفی کا انجام یہ خود بھگتے گا ۔
اس نے مہناز کو اس بات کی سزا دی تھی انکل جس کی وہ حقدار نہیں تھی ۔
مانی نے سب کی طرف باری باری دیکھا اور کہا ۔
ٹھیک میں بھی وعدہ کرتا ہو اگلے 5 دن میں مہناز میری بیوی ہوگی۔۔
شرافت سے نہیں تو بدمعاشی سے۔۔
مانی کی بات پہ سب نے خوش ہوکے تالیاں بجائ عفان نے آگے بڑھ کے مانی کو گلے لگایا اور کہا۔۔
یہ جنگ لازمی جیتنا ۔۔۔…
!!!!!¡!!!
یہ نہ ممکن ہے امی آپ منع کردے پھپھو کو۔۔
کیوں منع کردو کیا برائ ہے عثمان میں۔م
میں نے کتنا ظلم کیا تمہاری پھپھو پہ اسکے باوجود انہوں نے ہمیں سہارا دیا اور اب جب عثمان تمہیں قبول کرنا چاہتا ہے تو مسئلہ کیا ہے۔۔
تو آپ اپنے گناہوں کی تلافی کے بدلے مجھے عثمان کو پیش کررہی ہیں۔۔
مہناز زززز۔۔
فائزہ بیگم کے ایک دم غصہ کرنے پہ مہناز خاموش ہوگئ۔۔
ایک بہن نے زمانے میں رسوا کیا دوسری نکاح کی رات کو ہی بیوہ ہوگئ۔۔
جانتی ہو ایسی لڑکیوں کو معاشرہ کس لقب سے نوازتا ہے میرے لیے اور آزمائش نہ پیدا کرو مہناز مان جاؤ پلیززز۔
فائزہ بیگم نے باقاعدہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔
مہناز نے اپنی ماں کے جڑے ہاتھوں کو تھاما اور نیچے بیٹھتی چلی گئ۔
عثمان بہت اچھا لڑکا ہے مہناز انشاء اللہ تمہیں۔ بہت خوش رکھے گا ۔۔
مان جاؤ میری جان اپنی ماں کی خاطر۔۔۔
!!!!!!
ہاں بھی برخوردار یہاں بیٹھے کیا کرہے ہو؟
عفان صاحب لان میں ہی آگئے جہاں عثمان بیٹھا تھا۔۔
کچھ نہیں پاپا بس سوچ رہا ہو ماما نے ممانی سے رشتے کی بات تو کردی مگر مہناز مجھے ناپسند کرتی ہے اب اگر اس سے زبردستی کری جائے تو یہ غلط ہوگا۔۔
تم اس سے محبت کرتے ہو؟
عفان کے سوال پہ عثمان نے حیران ہوکے عفان کو دیکھا ۔۔
او کم ان مجھے دلنشین سب بتہ چکی ہے کس طرح سے تم دونوں بچپن میں ایک دوسرے کیساتھ تھے کیسے تم نے اسکو اس گناہ کی سزا دی جو اس نے کری نہیں۔۔
آج کیا ہوا وہ تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہتی اور جس غصہ میں تم نے اس سے واسطہ ختم کیا تھا دیکھ لو آج وہ دونوں نند بھاوج ایک ہیں برا کون بنا صرف تم۔۔
ہمیں کبھی بھی کسی بھی انسان کو اس گناہ کی سزا دینی ہی نہیں چاہیے جو اس نے کیا ہی نہیں ہو۔۔
کیونکہ اب بعد میں ہم کتنا بھی اسے یقین دلائینگے کے ہم اپنے کیےپہ شرمندہ ہیں مگر کوئ فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ وقت گزر چکا ہوتا ہے۔۔
مجھے پتہ ہے مہناز بھی تم سے محبت کرتی ہے امجد کا۔ہاتھ اسنے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تھاما۔۔
یہ بھی جانتا ہو تم کبھی بھی اس سے انجان نہیں رہے بھلے دنیا دکھاوے کیلیے تم نے ے اسکا ساتھ چھوڑا مگر ہمیشہ سائے کیطرح اس پہ نگاہ نے رکھی۔۔
پاپا یہ سب آپکو کیسے پتہ؟؟
بیٹا تم اندر کور آفیسر بعد میں ہو پہلے میرے بیٹے ہو اور ایک باپ اپنے بیٹے پہ شکرے کی نظر رکھتا ہے۔۔
چلو شاباش اب اندر چلو ٹھنڈ ہورہی ہے۔۔
عثمان ایک دم۔عفان کے گلے لگ گیا ۔۔
بھلے وہ سوتیلے باپ بیٹے تھے مگر دنیا کی کوئ آنکھ انکا یہ رشتہ ثابت نہیں کرسکتی تھی۔۔
عفان نے عثمان کی کمر تھتھپائ اور کہا۔۔
بس اب سارے معاملہ اللہ پہ چھوڑ دو۔۔
یہ بول کے عفان جانے لگا جب عثمان نے پوچھا۔۔
پاپا ماما بھی تو ایسی ہی تھی جب آپ سے شادی ہورہی تھی انکی آپ نے کیسے ہینڈل کیا تھا ماما کو۔۔۔
عثمان کے سوال پہ عفان مسکرایا اور کہا۔۔
تھوڑا روب جھاڑ کے۔۔
اور تھوڑا محبت دیکھا کے ۔۔
عفان نے مسکراتے ہوئے عثمان کو دیکھ کے آنکھ ماری۔۔
!!!!!¡
اقراء یہ پاگل ہوگیا ہے اللہ اللہ کرکے نکاح ہوا ہے اسکا اب میں جاکے بگ بی سے بولو کے رخصتی بھی دیں دے وہ بھی فلک اور احسان کی شادی پہ۔۔
ارے پاپا ریلکس آپکی شیرنی قابو میں ہے میرے آپ کرکے تو دیکھے بات ۔۔
ارے عمر آپ کرکے تو دیکھے بات ۔۔
ہاں تم بھی مجھے ہی بولو۔
!!!
مہناز نے عثمان کا دماغ ٹھکانے لگانے کا سوچا اور اسے کمرے کی طرف بڑھی اور شاید یہ ہی اسکی غلطی تھی۔۔
مہناز بنا دروازہ ناکک کیے عثمان کے کمرے میں گھسی تو وہ بنا شرٹ کے بیڈ پہ لیٹ کے ایل سی ڈی دیکھ رہا تھا۔۔
مہناز کو دیکھ کے وہ سیدھا ہوکے بیٹھاا وہ سمجھ گیا تھا کے وہ کیوں آئ ہے۔۔
کیا تماشہ لگا کے رکھا ہے تم نے میں کوئ گڑیا ہو جو چابی سے چلتی ہو۔۔
کیا سمجھا ہے مجھے میں انسان نہیں مجھے تکلیف نہہیں ہوتی جب چاہا مجھے چھوڑ دیا جب چاہا مجھ سے ہمدردی ہوگئ تو رشتہ بھیج دیا۔۔
واہ مسٹر عثمان واہ۔۔
مہناز نے تقریبا روتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔۔
عثمان کو اسکا غصہ ابھی برداشت کرنا تھا مگر اسکے آنسوؤں اس سے برداشت نہیں ہورہے تھے ۔۔
عثمان نے بیڈ سے اتر کے اپنی شرٹ پہنی اور مہناز کو جیسی ہی کچھ کہنے لگا۔ ۔
ایک دم ڈھرام سے دروازہ کھول کے دلنشین اندر آئ وہ عثمان کو مبارک بعد دینے آئ تھی مگر اندر کی سیٹویشن دیکھ کے وہ چپ ہوگئ ۔
اوہ آئیے آپ بھی آپکی ہی تو کمی تھی اس تماشہ میں آپ بھی شامل ہو بنائے اپنی دوست کا تماشہ ملکے اپنے دوست کیساتھ ۔
مہناز نے دلنشین کو بھی غصہ سے دیکھ کے کہا۔۔
مہناز میری جان تم غلط سمجھ رہی ہو ادھر دیکھو عثمان تم سے واقعی محبت کرتا ہے اس نے جو کچھ پچپن میں کہا وہ اس کی بیوقوفی تھی۔۔
مجھے پتہ تھا ساتھ تم نے اسی کا دینا ہے اور کیا کہا بیوقوفی ۔۔
ایک 14 سال کا لڑکا بیوقوف نہیں ہوتا تم شاید بھول رہی ہو یہ یہ بھول گیا ہے اپنے کہے الفاظ چلو میں یاد دلاتی ہو تم دونوں کو ۔
پہلی بات ہم دوست تھے نہیں ہیں دوسری بات جسی ماں ویسی بیٹی تم بھی تو مامی کی بیٹی ہو اج نہیں کل نہیں انکی بولی بولوگی مگر اب میں کسی کو اتنا حق نہیں دونگا میرا اور تمہارا ہر رشتہ ہر تعلق یہی ختم تم بھی اپنی ماں جیسی ہوگی مجھے نفرت تمہارے باپ سے تمہاری ماں سے اور تم۔سمیٹ تمہارے سارے گھر والوں سے۔۔۔
مہناز کے منہ سے اپنے کہے لفظ سن عثمان شرمندہ ہوا۔۔
یاد آیا کچھ۔۔۔
تو اج کیا ہوا آج بھی میں اپنی ماں جیسی ہو یہ پھر مجھ میں سرخاب کے پر لگ گئے ۔۔
مہناز نے غصہ میں عثمان کو دیکھ کے کہا ۔
عثمان جو سینے پہ۔ہاتھ باندھے مہناز کی ساری باتیں سن رہا تھا مسکراتے ہوئے کہا۔۔
نہیں دل آگیا ہے تم پر یہ بات بول کے عثمان نے مہناز کو انکھ۔ماری۔۔
عثمان کی اس حرکت پہ دلنشین نے بہت مشکل سے اپنی۔ہنسی چھوپائ۔
تم اپنے دل۔کو جان سے ماردو۔۔
مہناز۔۔۔دلنشین ایک دم بول پڑی۔
یہ۔مجھے جان سے ماردو کیونکہ مرجاونگی مگر تم سے شادی نہیں کرونگی کیونکہ نفرت ہے تم سے سنا عثمان نفرت۔
یہ بول کے مہناز جانے لگی تب اچانک عثمان نے اسکا۔ہاتھ پکڑ لیا اور دلنشین سے کہا ۔
جاتے ہوئے دلنشین زرا دروازہ باہر سے لاکڈ کرکے جانا اسکی۔جان۔میں آج ہی لے لو۔۔۔۔
دلنشین نے مسکراتے ہو اسے گڈ لک کہا اور کمرے نکل گئ۔۔
جاری ہے