51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53 (part 2)


عثمان کمرے میں آیا تو مہناز اپنے ڈوپٹہ سے الجھ رہی تھی۔۔
عثمان نے ایک نظر اسکو دیکھا اور چینج کرنے چلا گیا ۔
واپس آیا تو ابھی بھی وہ اسی حالت میں۔ تھی عثمان کو لگا کے وہ ابھی رو دیگی ۔
نہ چاہتے۔ہوئے بھی عثمان نے آگے بڑھ کے اسکے ہاتھ جھٹکے سے ڈوپٹہ سے ہٹائے اور خود اسکے ڈوپٹے کی پنز کھولنے لگا
عثمان کے چوڑے سینے میں مہناز پوری سمائ ہوئ تھی ڈوپٹہ کی پن پیچھے سے کھولنے میں عثمان کو اسکے تھوڑا اور قریب آنا پڑا۔۔
مہناز عثمان سے قد میں چھوٹی تھی اسلیے جب عثمان کے دونوں ہاتھ ڈوپٹے کی پیچھے کی پن کھولنے لگے تو عثمان کی تھوڑی بار بار مہناز کے ماتھے سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔
عثمان نے جھٹکے سے پن نکالی تو پن کیساتھ ساتھ مہناز کے بال بھی کھل گئے ۔
عثمان دو منٹ کیلیے حیران ہوا اسکے گھنے لمبے بال دیکھ کے مگر فورا اس نے اپنے آپکو سنبھالا اور اپنے کپڑے اٹھا کے کے چینج کرنے چلا گیا۔
مہناز نے اپنی جیولری اتاری اور عثمان کے باہر آنے کا ویٹ کرنے لگی۔
عثمان نے باہر آکے اپنی قمیض کی آستینیں فولڈ کی اور بیڈ پہ بیٹھ کے موبائل چیک کرنے لگا مہناز نے اسکی پشت کو گھورا اور کپڑے چینج کرنے چلی گئ۔۔
ڈھیلی سی قمیض اور ٹراؤزر پہنے جب وہ باہر آئ تو دیکھ کے حیران ہوئ کے عثمان بیڈ پہ ہی سوگیا۔۔
شاید تھکا ہوا تھا جبھی بیڈ پہ ہی سوگیا تھا شاید
کچھ سوچتے ہوئے مہناز نے دلنشین کو واٹس اپ کیا ۔
!!!!!!.
دلنشین جو ابھی ابھی کافی کا کپ لے کے بیٹھی تھی چینج کرکے اپنے نمبر پہ مہناز کے نام کا میسج دیکھ کے اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اور پھر ٹیکس کھولا۔۔
دلنشین بات سنو۔۔
دلنشین نے میسج دیکھتی ہی اسے کال کریں اور کافی روڈلی پوچھا۔۔
اب کیا ہوا کونسا گناہ ہوگیا عثمان سے۔۔
دلنشین میں بھی تمہاری دوست ہو ۔۔۔
ہاں تو تبھی تو تمہاری زندگی سنوارنے کیلیے عثمان کو منایا تھا تمہارے ساتھ کیلیے ورنہ۔وہ تو اس حق میں ہی نہیں تھا کے زبردستی کرے تمہارے ساتھ وہ ساری زندگی تمہیں دیکھتے ہوئے گزرنا چاہتا تھا۔۔۔
دلنشین مجھے بہت افسوس ہے اپنے رویہ پہ مگر ابھی میں نے تمہیں کسی اور چیز کیلیے کال کری ہے ۔
اب کیا ہوا بتاو۔۔
وہ ۔دلنشن و۔۔
بول بھی دو ہکلن۔۔
یار وہ عثمان بیڈ پہ سوگیا ہے ۔
بارش اتنی تیز ہورہی ہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اور اس عثمان نے لائٹس بھی بند کردی۔۔
مجھ سے صوفے پہ سویا نہیں جائے گا تم جانتی ہو نہ مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے خاص کر جب باہر بارش ہورہی ہو۔
مہناز کی بات سن کے دلنشین کا دل کیا وہ اپنی اس دوست کا گلا دبا دے۔۔
بیڈ پہ جو سویا ہے ایک کام کرو اسے لات مار کے نیچے پھینک دو۔۔
دلنشین اب تم میری ساتھ زیادتی کررہی ہو۔
اچھا اور تم۔جو کررہی ہو مہناز ۔۔
مجھے آج سچ سچ ایک بات کا جواب دینا اگر مجھے کچھ سمجھتی ہو۔۔
ہاں پوچھو۔۔۔
بچپن کی بات کو لے کر عثمان سے نفرت کرتی ہو؟؟
عثمان سے محبت نہیں تمہیں؟؟
سچ بولنا مہناز آج جھوٹ نہیں۔۔
جن سے ایک بار محبت ہو جائے دلنشین آن سے کبھی نفرت نہیں ہوتی۔۔
تو پھر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ کیوں قبول نہیں کرتی اسکا ساتھ کیوں اسے تنگ کررہی ہو۔۔
جانتی ہو مہناز وہ ایک پل کیلیے بھی تمہیں نہیں بھولا ماہی یقین کرو میں گواہ ہو اسکے ہر درد کا جاؤ چیک کرو اسکا فلیٹ اس میں موجد الماری میں تمہیں تمہاری پچپن کی ہر۔ چیز ملے گی۔۔
اگر تمہارا کوئ قصور نہیں تھا تو اسکا بھی نہیں تھا فائزہ آنٹی نے جو ان کے ساتھ کیا اگر رابعہ آنٹی مرجاتی تو یہ عفان انکل انہیں نہیں اپناتے پھر۔۔
سکہ کے دونوں پہلو دیکو ماہی۔۔
جب شوہر کے پہلو میں بیوی ہو اور سونے پہ سہاگا من پسند ہو تو زیادہ ٹائم نے لگتا اسے منانے میں۔۔
سمجھ رہی ہو نہ میری بات ۔۔
تمہارے ساتھ تمہارا شوہر ہے اور پاکستان آرمی کا اندر کور میجر ڈر تو تمہیں چھو کے بھی نہیں گزرنا چاہیے ۔
جاؤ مہناز یہ پل محسوس کرو اب اس سے زیادہ کیسے سمجھاؤں ۔۔
نہیں میڈم میں سمجھ گئی ویسے زریاب بھائ کی صحبت کافی اثر کررہی ہے تجھ پہ ۔
مجھ پہ اسکی محبت کا اثر ہے مجھے بھی تو ناپسند تھا وہ بھی اس بات پہ جسکی کوئ وجہ ہی نہیں تھی۔۔
اچھا اچھا میڈم میں سمجھ گئی دعا کرنا میرا لیے ۔۔
مہناز نے تقریبا گھبراتے ہوئے کہا ۔۔
اب جا منا اسے جیسے منانا بہت مشکل ہے۔۔
دلنشین نے طنزیہ کہا اور کال بند کردی۔۔
کال بند کرتے ہی مہناز کا تھینکس کا میسج آیا اور ساتھ میں ہارٹ ایموجی بھی۔۔
دلنشین نے مسکراتے ہوئے اسکا میسج پڑھ کے دھیرے سے کہا۔۔
“پاگل”
!!!!!!!!
مہناز نے بلینکٹ نکالا اور اسے اچھے طریقے سے عثمان کو اڑا دیا خود بھی دھیرے سے عثمان کے پاس اکے لیٹ گئ۔۔
سردی اسے بھی لگ رہی تھی مگر فلحال وہ ابھی عثمان کے قریب نہیں جاسکتی تھی ۔۔
یہی سوچ کے کہی اسکی نیند کچی نہ ہو۔
ماہی عثمان کے چہرے کو تکنے لگی۔۔
ماضی کی کچھ باتیں اسے یاد آئ ۔
یار مانی میں چاہتی ہو تو جب بڑے ہو تو ہلکی ہلکی سی ڈارھی رکھو۔
اچھا اچھا ڈارھی رکھ کے تمہیں اچھا لگاونگا ۔؟
ہاں نہ تم پہ ڈارھی بہت اچھی لگے گی ۔
ماضی کی باتوں پہ مہناز نے مسکرا کے عثمان کی بریڈ پہ ہلکا سا ہاتھ پھیرا عثمان کو تکتے تکتے وہ۔کب سو گئ اسے پتہ نہیں چلا ۔۔
اپنی ٹھوڑی پہ گرم گرم ہوا محسوس ہوئ تو اسکی نیند میں خلل پڑا۔
اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تو اسے تقریبا جھٹکا لگا۔۔
مہناز اسکے ساتھ بلینکٹ کے اندر بلکل اسکے سینے سے لگ کے سورہی تھی۔۔
دو منٹ کیلیے عثمان کو لگا وہ خواب دیکھ رہا ہے۔۔
اس نے دوبارہ غور سے دیکھا تو مہناز واقعی اسکے سینے سے لگی سو رہی تھی۔۔اسکا ہاتھ عثمان کی کمر پہ تھا اور سر اسکے سینے پہ ۔۔
عثمان نے ایک نظر باہر دیکھا تو بارش ہورہی تھی۔
اسے سمجھ آگیا مہناز کا اسکے قریب آنا مگر یہ بات ہی حیران کن تھی کے وہ ڈر میں اسی کا ساتھ چاہ رہی تھی۔۔
عثمان نے اسکے چہرے پہ سے بال ہٹائے تو وہ تھوڑا کسمسائ۔۔
عثمان فورا سنبھلا۔۔
عثمان نے پھر دوبارہ غور سے اسے دیکھا وہ لڑکی شروع سے ہی اسکی زندگی تھی۔۔
اچانک اسکی نگاہ اسکی نوز پن پہ۔پڑی۔۔
عثمان نے اپنے انگھوٹا اسکی نوز پن پہ پھیرا۔۔
مہناز اسکے اتنے قریب تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
کل اسے تھپڑ مارنے کا اسے بہت افسوس تھا مگر غصہ اس سے زیادہ تھا۔
اس نے مہناز کا ہاتھ اپنی کمر پہ سے ہٹانا چاہا تو مہناز اور اسکے اندر سمٹنے لگی۔۔
شاید سردی کی وجہ سے عثمان نے ایک لمبی سانس لی اور اسے دیکھا اب وہ اسکے اتنی قریب تھی تو نے نیند کس کمبخت کو انی تھی۔۔
عثمان نے بہت آرام سے اسکا سر تکیے پہ رکھا ایسا کرنے سے وہ اس پہ جھک گیا۔
اسکے ادھ کھلے لب عثمان کا دل ایک بار پھر بیمان کرنے لگے۔۔
اسکی شفاف گردن گہرا گلا اسے بہت کچھ کرنے پہ اکسانے لگا۔۔
عثمان نے بہت احتیاط سے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اسکے کھلے لبوں کو چھوا اسکی گردن کو چھوا۔۔
مگرا س سے زیادہ وہ مہناز کی رضا مندی سے کرنا کا خواہشمند تھا۔۔
عثمان نے اسے دوبارہ اپنے سینے سے لپٹایا اور ویسے ہی سونے لگا جیسے ماہی اس سے چپکی تھی۔۔
ادھر عثمان کی آنکھیں بند ہوئ ۔
ادھر اسکے سینے سے لگی مہناز کے لب دھیرے سے مسکرائے۔۔
جاری ہے۔۔