Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
(15سال پہلے)
یار عفان آج کچھ نیو سٹوڈینٹ آئے یونی میں فرسٹ ایئر کے کیا کہتا ہے ۔اج تھوڑی تفریح ہوجائے۔۔۔
گہری گرے آنکھوں والے عفان نے مسکرا کے اپنے دوست کو دیکھا اور کہا آئیڈیا برا نہیں ہے لیکن یہ کام پہلے لیکچر میں کرینگے میں نے سنا ہے آج فزکس کے سر نہیں ائے ہیں اور نیو اسٹوڈینٹ ان کو پتہ ہی نہیں ہوگا پہلی کلاس کس سرکی ہے اور کون سے سے ائینگے تو کیوں نہ سر بن کے ہی نیو بچوں کی کلاس لی جائے ۔۔۔
عفان خان جس کے پاپا آرمی میں آفیسر تھے
مگر عفان وہ بہت بڑا بزنس مین بننا چاہتا اور اس کی اس خواہش کو لے کر اکثر باپ بیٹے میں اختلافات رہتے لیکن لیکن مس نجمہ یہی چاہتی تھی جو ان کا بیٹا چاہے وہی ہو۔۔
22 سال کا لااُبالی سا عفان یونی کی جان تھا پڑھنے میں ہوشیار ہر ایک کے کام آنا غریب اسٹوڈینٹ کی مدد کرنا بس اگر کوئی بری عادت تھی تو صرف مزاق کرنا اس کی اس مذاق کرنے کی عادت سے پوری یونی پریشان تھی لیکن اکثر اس کے سارے دوست اس کے مذاق کو ہنس کر ٹال دیتے اور کچھ ایسا ہی حال یونی کے ٹیچروں کا بھی تھا ۔۔
یار رابعہ یہ یونی جانے کا نام سن کے تم اتنی گھبرا کیوں رہی ہو اکثر لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے وہ وہ یونی جا کے پڑھیں رابعہ کی دوست عائشہ نے کافی سڑے ہوئے منہ بنا کے اس سے یہ بات کہی ۔۔
۔
یار گھبرانے کی بات نہیں عائشہ کالج کے ماحول کی بات الگ تھی یونی کا ماحول پتا نہیں کیسا ہو ؟ ہو ٹیچروں کیسے ہو ؟
رابعہ نیگیٹو سوچو گی تو نیگیٹو۔ ہوگا اور تم تو ویسے بھی اتنی خوش نصیب ہوکے کے تمہارے پاپا نے خود تمہیں اتنی دور دوسرے شہر پڑھنے بھیجا ہے انہیں تم پر بھروسہ ہے یار انکا بھروسہ قائم رکھوں اور یونیورسٹی جاؤ ایسا کچھ نہیں ہوتا جیسے انسان خود ہوتا ہے ویسا ہی اسے ماحول ملتا ہے ۔
تم یہ سوچو تمہارے پاپا تم سے کتنا پیار کرتے ہیں انہوں نے تمہیں اسٹڈی جاری رکھنے کی اجازت دی ۔۔۔
ہاں شاید عائشہ تم صحیح کہہ رہی ہو میں خاماخائ میں اتنی ٹینشن لے رہی ہو چلو دیکھتے ہیں کل کیا ہوتا ہے ۔۔۔
لائٹ پین کلر کا سوٹ پہنے اور اسی رنگ کا ہ سکارف پہننے کالی سیاہ انکھوں میں بھر بھر کر کاجل لگائے پیروں میں کھوسے ڈالے گھبرائ سی وہ یونیورسٹی کے گیٹ کے اندر داخل ہوئ آج اسکا یونی کا پہلا دن تھا اور وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی ۔
میں ائ کمن سر ؟؟
رابعہ کلاس کے اندر جیسی داخل ہوئ تو یہ دیکھ کے ہی اس کے اوسان خطا ہو چکے تھے کہ کلاس اسٹارٹ ہو گئی ہے اور سر بلیک بورڈ پہ کھڑے بہت غصہ میں کچھ لکھ رہے ہیں۔۔۔
جی جی تشریف لائے یہ تو آپ کے بابا جانی کی یونی ہے محترمہ ۔۔۔۔۔سر جو کے عفان بنا ہوا تھا اسکو اوپر سے نیچے تک دیکھ کے کہا
۔۔
عفان کے بولنے پر رابعہ نے نگاہ اٹھا کے عفان کو دیکھا جہاں صرف غصہ تھا مگر بناوٹی مگر عفان کے دل کی ڈھرکن بناوٹی نہیں تھی جو رابعہ کو دیکھ کے ایک الگ انداز میں ڈھرکی دل نے روکا منع کیا مزاق کرنے کو مگر عفان نے دماغ کا کہا مانا ۔۔
اگر رابعہ تھوڑا دماغ سے کام لیتی تو اسے اندازہ ہوجاتا کے سامنے کھڑا سر کے حلیہ میں عفان اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں سرخ ہوچکا ہے۔۔
سوری سر ائندہ ایسا نہیں ہوگا رابعہ نے تقریبا روتے ہوئے یہ بات کی پوری کلاس اسکی ریگگنگ ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھ رہی تھی کیونکہ کے کسی میں بھی ہمت نہیں تھی عفان سے پنگا لینے کی ۔۔
مگر اج لیٹ انے کی تمہیں سزا ملے گی ۔۔
سزا کا لفظ سنتے ہی رابعہ نیچے منہ کرکے رونے کیساتھ ساتھ یہ سوچنے لگی کے نجانے اسکی سزا کیا ہوگی جبھی اچانک اس پہ عفان نے کچھ پھینکا جس پہ نظر پڑتے ہی رابعہ کی دلخراش چیخیں پوری کلاس میں گونجنے لگی وہ ادھر سے ادھر پوری کلاس میں بھاگ رہی تھی۔وہ بھی اس پہ پھینکی گئ ایک نقلی چھپکلی سے ۔
پوری کلاس ہنس ہنس کے پاگل ہورہی تھی۔ جبھی اس کی نظر سر کے نقلی بھیس میں موجود عفان پہ پڑی جو زمین پہ نقلی چھپکلی اٹھانے کیساتھ اپنا سر والا حلیہ جو نقلی ڈراھی مونچھوں کی صورت میں تھا اتار رہا تھی رابعہ کو جب سارا ماجرا سمجھ میں ایا نجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے ائ کے اس نے اگے بڑھ کے عفان کے ہاتھ سے وہ نقلی چھپکلی لے کے دور اچھالی اور گھما کے ایک تھپڑ اسکے منہ پہ رسید کیا اور اسکا گریبان پکڑ کے کہا۔۔۔۔
جاری ہے
