Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 49
Rate this Novel
Episode 49
شیشہ پہ گولی لگتے ہی عثمان سے گاڑی بے قابو ہوگئ ۔
گولی لگتے ہی مہناز کی ایک زور دار چیخ نکلی ۔۔
گاڑی بے قابو ہوکے سیدھا فٹھ پاٹھ سے ٹکرائ۔۔
دو نوں کا سر بری طرح سے ڈش بورڈ سے ٹکرایا۔۔
مگر عثمان کو ابھی ہوش سے کام لینا تھا وہ فورا گاڑی سے باہر نکلا اور سر کو پکڑ کے روتی ہوئی مہناز کو بھی باہر نکالا۔۔
عثمان نے فورا ایک میسج دلنشین کے نمبر پہ چھوڑا۔۔
مہناز بیہوش نہیں ہونا ہمیں بھاگنا ہے پلیز ماہی بیہوش نہیں ہونا ۔۔
مہناز کا سر زیادہ زور سے ٹکرایا تھا سر پہ شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ بیہوش ہونے لگی مگر عثمان نے اسکے گال تھتپھا کے اسے گاڑی سے باہر نکالا اسکا ہاتھ پکڑ کے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا جبھی اسے چند گاڑیاں اپنی طرف آتی دیکھائی دی۔۔
عثمان نے مہناز کا ہاتھ مظبوطی سے تھاما اور سائیڈ میں موجود جھاڑیوں کی طرف بھاگا۔۔
!!!!!!!!!!!!
لہروں کے شور کو وہ دونوں بہت سکون سے محسوس کرکے تھے۔۔
زریاب کا ہاتھ دلنشین کے ہاتھ میں تھا ۔
زریاب نے دلنشین کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
کیا سوچا جارہا ہے اپنے ہینڈسم شوہر کو دیکھ کے؟؟
زریاب کے بولنے پہ دلنشین نے مسکرا کے زریاب کے کندھے پہ سر رکھ دیا ۔
دلنشین کی اس حرکت پہ زریاب دل کھول کے مسکرایا ۔۔
زریاب تمہیں کبھی مجھ پہ غصہ نہیں آیا کتنی بار میں نے تم۔ سے بدتمیزی کی ۔۔
امممم ہاں آیا ہے اور سزا بھی دونگا اگر تم سزا کیلے مان جاؤ تو۔۔۔
اچھا جی کیا سزا دینگے آپ بتائے آپ کی خادمہ حاضر ہے۔۔
دلنشین نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے سر جھکا کےکہا۔۔
سوچ لو اب بول دیا تو مکرنا نہیں۔۔
دلنشین ایک بار جو کمیینمنٹ کردے پھر وہ مایا کی بھی نہیں سنتی۔۔
دلنشین نے یہ بول کے خودی قہقہ لگایا اور ساتھ میں زریاب کو بھی قہقہ لگانے پہ مجبور کردیا۔۔
آپکی سزا ہے رخصتی۔۔
فلک آپی اور احسان کیساتھ ساتھ ہماری بھی شادی ہوجائے ۔
زریاب کی بات کا جواب اس سے پہلے دلنشین دیتی موبائل کی بپ پہ دلنشین نے موبائل چیک کیا۔
اوہ نو زریاب جلدی چلو عثمان اور مہناز کی گاڑی پہ کسی نے فائر کیا ہے انکی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہوگیا جلدی چلو۔۔
زریاب بھی دلنشین کی بات پہ ایک دم تیزی سے اٹھ کے گاڑی کی طرف بھاگا۔۔
!!!!!
عثمان اور مہناز درخت کے پیچھے چھپے تھے جب انہیں کچھ لوگوں کے قدموں کی آواز آئ
۔یار وہی لڑکی تھی میں نے دیکھ لیا تھا ۔۔
اس لڑکی کو دیکھتے ہی گولی ماردو باس کا آڈر ہے آج وہ لڑکی بچنی ا نہیں چاہیے
ان آدمیوں میں سے دو لوگوں کی باتیں سن کے مہناز نے رونے لگی جب عثمان نے اسکے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
دنیا کی کوئ طاقت تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جب میں زندہ ہو رونا نہیں پلیز ماہی ۔۔
عثمان نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور شاید مہناز بھی ڈری ہوئی تھی تبھی عثمان کے سینے سے لگ کے چپ چاپ لگی رہی۔
وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی عثمان نے محسوس کرکے اسکی کمر کو سہلایا اور اسے خود سے الگ کرکے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کے کہا۔
ماہی میں نے کہا نہ میں ہو ڈرو نہیں کچھ نہیں ہوگا۔
ابھی یہ الفاظ عثمان نے بولے ہی تھے کے ایک گولی عثمان کے گردن کے پاس سے گزر کے درخت میں آکے لگی۔۔
عثمان نے مہناز کو ہاتھ دوبارہ تھاما اور بھاگنے لگا جبھی دو آدمی ایک دم ان دونوں کے آگے اگئے۔۔
عثمان نے تیزی سے مہناز کو اپنے قریب کیا وہ الٹا قدم اٹھانے لگا تو پیچھے بھی انکے آدمی تھے ۔۔
پیچھے موجود آدمیوں نے ان دونوں کے کھینچ کے الگ کیا اور مہناز کے منہ پہ رکھ کے تھپڑ مارا ۔۔
مہناز اس تھپڑ کی شدت برداشت نہیں کرپائ اور منہ کے بل گری۔۔
مہناز ززز۔
عثمان نے ایک دم اپنے آپکو ان آدمیوں سے چھروایا اور جلدی سے مہناز کو اٹھایا۔۔
مہناز کا ہونٹ پھٹ چکا تھا اور اس میں سے خون نکل رہا تھا۔۔
سالے کمینے تیری ہمت کیسے ہوئی اسکو ہاتھ لگانے کی۔۔
عثمان نے ایک زور دار گھونسا اس آدمی کو مارا جس نے مہناز کو تھپڑ مارا تھا ۔۔
مگر عثمان کو باقی موجود آدمیوں نے پکڑا اور اسے مارنا شروع کردیا۔۔
مہناز بھاگو بھاگو۔۔
عثمان نے مار کھاتے کھاتے کہا۔۔۔۔
وہ اپنا بچاؤ کررہا تھا مگر نگاہ اسکی ان دو آدمیوں پہ تھی جو مہناز کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔
پلیز بھاگو ۔۔۔
عثمان کے کہنے پہ مہناز نے بھاگنا شروع کردیا دو آدمی بھی مہناز کے پیچھے بھاگےبھاگتے بھاگتے وہ گر پڑی۔
ان میں سے جیسی ہی ایک آدمی نے ماہی کو ہاتھ لگانا چاہا۔۔
مگر افسوس ایک گولی ان میں سے ایک آدمی کے دماغ میں سوراخ کرتی ہوئ آر پار ہوگئ ۔
مایا کا نشانہ۔کابھی چونکتا نہیں ۔۔
مایا نے دوسرے آدمی کو بھی مارتے ہوئے کہا۔۔
مہناز نے جب دلنشین کو دیکھا تو روتے ہوئے اس کے گلے لگ گئ۔۔
نہ
دلنشین وہ لوگ لوگ مانی کو۔مار ا۔۔
یہ بول کے ماہی بیہوش ہوگئ۔۔
زریاب مہناز کی بات سن کے اگے کی طرف بھاگا اور دلنشین ماہی کو ہوش میں لانے لگی۔۔
زریاب نے ایک ایک بندے کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا ۔۔
عثمان کو کافی چوٹیں لگی تھی مگر وہ ڈورتا ہوا اس سمت بھاگا جہاں ماہی بھاگی تھی۔
تھوڑی دور اسے ماہی دلنشین کی گود میں بیہوش دیکھ گئ
ماہی اٹھو ماہی۔۔۔
عثمان نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا اور اسے ہوش میں لانے لگا زریاب اور دلنشین دونوں ہی حیران تھے عثمان کا ایسا ریکشن دیکھ کے عثمان کافی مظبوط اعصاب کا مالک تھا ۔۔
زریاب تو کیا دلنشین نے بھی کبھی اسے اس طرح بچوں کی طرح ریکٹ کرتے نہیں دیکھا۔۔
مانی مانی۔
مہناز خالی بیہوش ہے پلیز تم اپنے آپکو سنبھالو ۔۔
اٹھاؤ اسے گھر لے کر چلو۔۔
مایا کے بولنے پہ عثمان نے ماہی کے بیہوش وجود کو اپنی باہنوں میں اٹھالیا۔۔
زریاب اور دلنشین چپ چاپ اسکی ساری کراوئ دیکھ رہے تھے۔
گھر جانے کے بجائے عثمان نے دلنشین کو فلیٹ پہ چلنے کو کہا جہاں اکثر عثمان رہتا تھا ۔
دلنشین اور زریاب بھی کافی پریشان تھے ابھی تک مہناز کو ہوش نہیں آیا تھا۔۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ مہناز عثمان کی گود میں لیٹی تھی بار بار وہ مہناز کے سر کو سہلا رہا تھا۔۔
فلیٹ پہ پہنچ کے عثمان نے احتیاط نے سے اس کے اپنے بیڈ روم میں لیٹا دیا ۔
دلنشین سے اس نے رابعہ کو کال کروادی تھی کے عثمان اور مہناز آج انکے گھر رکے گے۔۔
!!!!!!!
میری بات مانو عثمان ماہی کو ڈاکٹر کو دیکھا دو۔۔
نہیں زریاب ابھی آرام کرے گی ٹھیک ہو جائے گی ڈاکٹر کو دیکھ کے یہ ویسے ہی رونا شروع کردیتی ہے۔۔
عثمان کے بولنے پہ زریاب مسکرایا اور کہا۔۔
اب جب اتنی فکر ہے تو اسے محبت میں کیوں نہیں بدل دیتے عثمان زندگی ہر کسی کو اسکی کھوئ ہوئ محبت واپس نہیں کرتی تمہیں یہ موقع ملا ہے اسے کھونا نہیں۔۔۔
نہیں زریاب میں اسے فورس نہیں کرونگا کے وہ۔میراا ساتھ قبول کرے۔۔
فورس نہیں تو ذبردستی کرنا پڑے گی تمہیں آسانی سے تو مانے گی نہیں اور اسکی زندگی کی خاطر تمہیں اسکا سہارا بننا پڑے گا وہ بھی جلد از جلد ۔۔
مہناز نہیں مانے گی ۔دلنشین تم سب جاننے کے باوجود یہ کہہ رہی ہو ۔
ٹھیک ہے تم سے نہیں مانے گی مگر آنٹی اور اپنی۔ماما کے کہنے پہ تو مانے گی۔۔
وہ۔لوگ جو کوئ بھی تھے مجھے اندازہ ہورہا ہے وہ شاہ کے آدمی تھے جو مہناز کو اس وجہ سے مارنا چاہ نے رہے ہیں کیونکہ امجد جو مارا گیا اور اسکی موت کی وجہ۔مہناز ہے ایسا شاہ۔کو لگتا ہے۔۔
مگر ۔؟؟
اگر مگر نہیں تم کچھ بھی کرو میری رخصتی سے پہلے تیری شادی ہوجانی چاہیے یہ میرا آڈر ہے ۔۔
دلنشین کے بولنے پہ عثمان کیساتھ ساتھ زریاب بھی مسکرا دیا اسے اسکا جواب مل گیا تھا دلنشین نے اسکی دی ہوئ سزا قبول کرلی تھی ۔۔۔
!!!!!!!
ان دونوں کے جانے کے بعد عثمان دوبارہ کمرے میں آیا جہاں اسکی جان دنیا جہاں سے بے خبر ہوکے بیہوش پڑی تھی ۔
عثمان نے ایک نظر اسے دیکھا اور فریش ہونے چلا گیا ۔۔
فریش ہوکے آیا تو اسے بھوک کا احساس ہوا ۔۔
اسنے کچن میں جاکے کچھ بنانے کا سوچا کے ایک دم مہناز کے چیخنے کی آواز ائ۔۔
عثمان ڈورتا ہوا کمرے میں پہنچا تو وہ ڈری سہمی بیڈ پر بیٹھی عثمان کو دیکھتے ہی ڈور کے اس کے گلے لگ گئ ۔
ماہی ماہی کیا ہوا۔؟؟
عثمان وہ آدمی مجھے وہ ماہی کھڑکی طرف اشارہ کرنے لگی۔۔
حادثہ کو گہرا اثر ہوا تھا ماہی پہ۔۔
ماہی ادھر دیکھو میری طرف عثمان نے اسکا چہرہ تھام کے اس کے بال۔اسکے چہرے سے ہٹائے۔۔
ماہی ماردیا ان سب کو میں نے ۔۔
عثمان کے بولنے پہ ماہی ایک دم چپ ہوکے عثمان کو دیکھنے لگی۔۔
تم سچ کہہ رہے ہو عثمان۔۔۔
ہاں عثمان کی جان اب کوئ تمہیں کچھ نہیں کرے گا۔
ماہی اتنی ڈری ہوئی تھی کے اس نے عثمان کے الفاظوں پہ غور ہی نہیں کیا۔۔۔
بھوک لگی ہے کچھ کھاوگی؟
عثمان اسے کسی معصوم بچے کی طرح ٹریٹ کرہا تھا ۔
ماہی نے نہ میں گردن ہلا ئ۔۔
کھالو تھوڑا سا عثمان کے دوبارہ کہنے پہ ماہی نے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
عثمان نے اسے کچن میں موجود ٹیبل پہ بیٹھا کے اسکے لیے پاستہ بنانے لگا۔۔
ماہی گم۔سم سی گھر کو دیکھ رہی جب عثمان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
میرا فلیٹ ہے اکثر جب کراچی میں کوئ آپریشن ہوتا تھا میرا اور دلنشین کا تو یہ ہی رکتا تھا ماما پاپا تو پنڈی میں ہوتے تھے اس لیے ۔۔
تم۔بیہوش تھی اس لیے یہاں لایا گھر لے کے جاتا تو ممانی اور ماما پریشان ہوجاتی۔۔
تمہارا زخم بھی صاف کرنا ہے پہلے کھانا کھالو۔۔۔
ماہی نے چپ چاپ پاستہ کھایا منہ ہاتھ دھونے لگی تو اسکے چہرے پہ تکلیف ہونے لگی۔
عثمان نے بہت آرام سے اسکے ہونٹ کا زخم صاف کیا۔۔
بہت قریب سے مہناز آج عثمان کو دیکھ رہی تھی آج بھی اسکی آنکھوں میں وہی پیغام تھا جیسے اب ماہی پڑھنا نہیں چاہتی تھی ۔
سر کے زخم کو صاف کرتے ہوئے جہاں عثمان کو غصہ آیا وہی ماہی نے تکلیف کے مارے عثمان کا ہاتھ تھام کے اسے زخم صاف کرنے سے روکا۔۔
بس ہوگیا۔۔
یہ۔لو پین کلر کھالو آرام کرو میں برابر والے کمرے میں ہو۔۔
نہیں پلیز تم یہی ۔
مطلب صوفے پہ بیٹھ جاؤ ۔
اچھا اچھا ڈرپوک یہ ہو میں جاو اب سوجاو۔۔
میں لیپ ٹاپ لے کر اجاو۔۔
عثمان بلکل ماہی کے سامنے بیٹھ کے کام کرنے لگا ۔
عثمان نے کام ختم کرکے بیڈ پہ نگاہ ڈالی تو ماہی سو چکی تھی۔۔
عثمان دھیرے سے اسکے پاس آیا اور بہت غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا ۔
بہت آرام سے اسکے ماتھے میں اپنے لب رکھے اور کہا۔
ماہی صرف عثمان کی ہے اب اپنی محبت کو حاصل کرکے رہونگا نہ مانی تب بھی۔۔
جاری ہے۔۔
۔
