Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 16
Rate this Novel
Episode 16
عثمان عمر کے ساتھ گھر آ گیا تھا گھر کے سبھی افراد نے اس بچے کی او بھگت کی۔ ۔ گھر کے سب افراد نے اس کو تسلی دی اور دلنشیں تو ادھی رات تک عثمان کے ساتھ بیٹھی رہی کیونکہ اسکو اپنی۔ماما کے بغیر نیند نہیں آتی تھی ۔۔۔
دل نشیں نے اس کو بھرپور تسلی دی اس کو کہا کے کل تک انشاءاللہ انٹی گھر آجائیں گی ۔۔۔
جنت نے جب اکے عمیر کے کمرے میں جھانکا تو عمیر تو سو چکا تھا مگر دل نشین عثمان جاگ رہے تھے دلنشین کے آنکھیں بتا رہی تھی اس کو بہت نیند ارہی ہے مگر وہ عثمان کی خاطر جاگ رہی تھی جنت نے جب یہ دیکھا تو وہ کچن میں جا کے عثمان کے لیے دودھ کا گلاس لے آئی ۔۔۔
جنت جو عثمان سے باتیں کر رہی تھی اپنی ماما کو کمرے میں آتا دیکھ کر ایک دم خاموش ہوگی۔ ۔
عثمان میں آپ کے لیے دودھ کا گلاس لائ ہو آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔۔
انٹی میری ماما گھر اجائے انکے ساتھ ہی کھاونگا۔۔
وہ کل اجائینگی انشاءاللہ چلے اب یہ دودھ پیے اور سونے کیلیے لیٹے اچھے بچوں کی طرح۔۔
عثمان نے دوبارہ کوئ بحس کیے جنت کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لیا اور پینے لگا ۔
چلو دلنشین اب تم بھی سونے کی تیاری کرو صبح اسکول جانا ہے۔۔
میں کل اسکول نہیں جاونگی ڈیڈو کو میں بول چکی ہو دلنشین نے اپنی ماں کو بنا دیکھے یہ بات کہی اور عثمان کو اللہ حافظ کہہ کرسونے کیلیے چلی گئ۔۔
جنت جب کمرے میں ائ تو حمزہ گلاسس لگائے لیپ توپ پہ بزی تھا جنت کو ایک نظر دیکھ کے اس نے لیپ ٹوپ بند کیا اور کروٹ لے کر لیٹ گیا حمزہ کا رویہ دیکھ کے جنت سمجھ چکی تھی کے حمزہ دلنشین کیلے اسسے ناراض ہے۔۔
جنت خاموشی سے اکر لیٹی کروٹ اسکی حمزہ کی طرف تھی جنت جانتی تھی حمزہ۔جاگ رہا ہے کیونکہ وہ جب تک۔نہیں سوتا تھا جب تک وہ جنت کو اپنی باہنوں میں نہ لے لے۔۔
حمزہ؟
حمزہ ؟حمزہ؟
تین بار اواز دینے پہ بھی جب حمزہ نے پلٹ کر جنت کو نہیں دیکھا تو جنت نے زبردستی اسکا رخ اپنی طرف موڑا اسکا ہاتھ سیدھا کیا اس پہ اپنا سر رکھا اور اس سے لپٹتے ہوئے کہا۔
ناراض ہیں مجھ سے؟
کیا نہیں ہونا چاہیے۔۔؟؟
حمزہ میں ماں ہو اسکی اسکے اچھے کیلے ہی اسے ڈانٹی ہو۔۔
صرف ڈانٹنے وقت ہی تمہیں یہ کیوں یاد اتا ہے کے تم اسکی ماں ہو۔۔۔
دلنشیں کیساتھ تم ہمیشہ روڈ رہی ہو تمہاری زیادہ تر توجہ زریاب پہ رہی وہ بھی ہماری اولاد ہے مگر ہر اولاد کو اسکی حیثیت اسکی جگہ کا احساس دلاو کبھی پیار سے کبھی اسکے لاڈ اٹھا کے کبھی اسے ڈانٹ کے۔۔
تاشو تیمور کیساتھ تو تمہارا رویہ کبھی روڈ نہیں ہوا پتہ ہے تمہاری توجہ زریاب کی طرف ذیادہ ہے اسی وجہ سے دلنشین زریاب سے خار کھاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے جسکی وجہ سے زریاب کو اگے مسئلہ ہو۔۔
مسئلہ کیسا مسئلہ ؟؟
جنت کے پوچھنے پہ حمزہ نے اسے زریاب کی فیلنگ بتائی جو وہ دلنشین کیلیے رکھتا ہے۔۔
دلنشین تمہاری پہلی اولاد ہے جنت اسکا حق اسکو دو۔۔
ٹھیک ائندہ اپکو شکایت نہیں ملے گی ۔۔۔یہ کہہ کے جنت نے جیسی ہی مڑنے کیلیے کروٹ بدلی۔
حمزہ نے تیزی سے اسے اپنی طرف گھمایا اور کہا مجھے میراحق ہر روز چاہیے یہ بول کے حمزہ نے اسے اپنی باہنوں میں سمیٹا اور سوگیا۔۔
رابعہ عمر کیساتھ گھر اچکی تھی مگر وہ چپ تھی مسلسل چپ عثمان سے بھی وہ کترا رہی تھی۔۔۔
عثمان بھی اپنی ماما کا رویہ نوٹ کررہا تھا۔۔
دلنشین اسے لے کر اپنے کمرے میں اگئ تاکے ا اسکا دماغ رابعہ کی طرف سے ہٹے۔۔
جنت رابعہ کو دوائ دینے کے غرض سے کمرے میں ائ تو رابعہ رو رہی تھی۔۔
کیا بات ہے رابعہ کیوں رو رہی ہو ؟؟.جنت رابعہ کو ایسا روتا دیکھ کر ایک دم گھبرا گئ۔۔
جنت بھابھی میرا کیا قصور ہے میں نے ایسا کونسا گناہ کردیا جو میرے ساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے میرے بھائ نے میری بھابھی مجھے میرے بچے کی نظروں میں گرا دیا میں کیسے عثمان کا سامنا کرو بھابھی رابعہ یہ سب بول کے ایک بار پھر بلک پڑی رابعہ کو روتا دیکھ جنت کی بھی انکھیں بھیگنے لگی۔۔
میری ماما کسیی ہے انکا کردار کیسا یہ جاننے کیلیے مجھے کسی کی صفائ۔کی ضرورت نہیں میری ماما بہت اچھی ہیں۔۔
عثمان کے ایسے کمرے میں اکے اچانک بولنے پہ رابعہ اور جنت دونوں نے چونک کے عثمان کو دیکھا ۔۔
عثمان چلتے ہوئے رابعہ کے پاس ایا اور اپنی۔ماما کے انسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
اپکو مجھ سے کترانے کی ضرورت نہیں ماما مجھے زمانے سے نہیں جاننا کے میری ماما کیسی ہے بس اپ مجھے خودسے دور نہیں کرے یہ بول کے عثمان بھی رونے لگا جنت کو کافی حیرانگی اور عثمان کی باتیں سن کے ۔۔
رابعہ نے عثمان کو اپنے سینے سے لگایا اور بے تحاشہ چومنے لگی۔۔۔
مجھے ناز ہے اپنی ماما پہ اپ بس جلدی سے ٹھیک۔ہوجائے ۔
۔
سارے بچے نیچے لان میں بیٹھے تھے اور رابعہ ارام کررہی تھی اور باقی ساے بڑے حال میں تھے وہاں رابعہ کے اگے کی زندگی ڈسکس ہورہی تھی عمر نے عفان اور رابعہ کا ماضی سب کو بتا دیا تھا ساتھ میں عفان کی خواہش بھی۔۔
سب ہی اس رشتے پہ راضی تھے مگر رابعہ سے بات کرنے کی ذمہ داری سںب نے حمزہ پہ ڈالی باقی رہا سوال عثمان کا اسکو سمجھانے کا ٹھیکہ عمر نے لیا۔
رابعہ نے سلام پھیرا تو دروازہ ناکک ہوا۔۔
اجائے ۔۔۔
اجازت ملتے ہی حمزہ جنت کمرے میں داخل ہوئے۔۔
کیسی ہو رابعہ ؟؟
حمزہ۔نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسکی طبیعت پوچھی۔۔
اللہ کا شکر ہے بھائی۔۔
رابعہ اج میں ایک بھائ کی حیثیت سے تم سے بات کرنے ایا ہو ۔۔
جی بھائ بولے رابعہ نگاہ جھکا کے بیٹھی تھی۔۔
دیکھو رابعہ یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کے میں تمہیں واپس اب تمہارے گھر بھیج دو یہ کہی اور میرے لیے جیسے اقراء بسمہ ویسی ہی تم ہو مگر رابعہ ایک عورت کو زندگی کے کسی حصہ میں کبھی نہ کبھی ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے عثمان اتنا پیارا بچہ ہے میرے دل کی خواہش ہے اسے بھی باپ۔کا پیار ملے میں میں نے ایک بڑے بھائ کی حیثیت سے تمہارے لیے ایک رشتہ دیکھا یے اور اسی رشتہ کے سلسلے میں اس دن یہ لوگ تمہارے گھر ائے تھے۔۔
میں چاہتا ہو تم شادی کرلو کیپٹن خان عمر کا بہت اچھا دوست ہے ماں باپ کی ڈیٹھ کے بعد بھی وہ لڑکا کسی بری صحبت میں نہیں پڑا کیپٹن خان سے میں بات کرچکا ہو وہ عثمان سے مل چکے ہیں ہاسپتال میں اینفیکٹ انہوں نے ہی تمہیں بلڈ دیا تھا عثمان اور کیپٹن خان کی۔کافی اچھی بونڈنگ بھی ہوگئ ہے اب تم بتاو تمہارا کیا فیصلہ ہے مگر رابعہ جو بھی فیصلہ کرنا عثمان کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنا اس بچے کو بھی ہرخوشی کا حق ہے بیشک وہ میرے بچوں کے جیسا نہیں میرا بچہ ہی ہے مگر تم ماں ہو اسکی میں کیا کہنا چارہا ہو تم سمجھ رہی ہونہ بات۔۔
حمزہ بول کے چپ ہوا تو رابعہ بلک بلک کے روپڑی اب شاید اسے بھی کسی کے ساتھ کی ضرورت تھی جبھی اس نے کہا۔۔
بھائ اب میرے بڑے بھائ ہیں اپکا جو بھی فیصلہ ہے مجھے منظور ہے مگر عثمان اگر راضی ہوگا تو۔۔۔۔
اسکی فکر نہیں کرو تم اج عمر اس سے بات کرے گا ۔۔
اگر عثمان راضی ہو گیا تو مجھے اعتراض نہیں اپکا حکم سر انکھوں پہ۔۔
رابعہ کے جواب پہ حمزہ نے اسکے سر پہ ایک بار پھر ہاتھ رکھا اور اسکی خوشیوں کی دعا دی۔۔
اب تم بتاو عثمان اپکا کیا فیصلہ ہے؟؟.
عمر عفان اور رابعہ کا ماضی اسکے اگے رکھ چکا تھا عفان سے عثمان مل چکا تھا اسکے نیچر کو بھی دیکھ چکا تھا عمر اسے یہ بات بتا چکا تھا کے عفان نے بنا تم۔سے ملے بنا رابعہ کو دیکھے شادی۔کیلیے ہاں کردی تھی ۔..
انکل کیا وہ میری ماما کو خوش رکھینگے میرے ساتھ میرے پاپا کی طرح رہینگے ؟؟عثمان کے سوال کا جواب اس سے پہلے عمر دیتا عفان نے دے دیا
ازما کے دیکھ لو عثمان۔۔۔۔
عفان کی امد عمر کے علم میں تھی۔۔عفان عثمان کے قریب ایا اور اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے کہا۔۔
مجھے بھی فیملی چاہیے عثمان کیا اپ میرا ساتھ دوگے میری فیملی بننے میں۔۔
عفان کے بولنے پہ ایک نظر عثمان نے عفان کو دیکھا اور پھر اسے کھڑا کرکے اسکے سینے سے لگ کے کہا۔۔
“ضرور پاپا”
عفان نے اسکو اپنے سینے میں بھینچ لیا اور عمر کی طرف دیکھ کے ویکٹری کانشان بنایا۔۔۔۔
گھر میں اج رابعہ اور عفان کا نکاح تھاجو سادگی سے رکھا گیا تھا۔۔
رابعہ نے تو عفان کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی نہ کسی نے اسے فورس کیا عفان کے منع کرنے پہ عثمان نے بھی رابعہ کو عفان کی سچائ نہیں بتائ ۔۔
دلنشین اج عثمان کیلیے بہت خوش تھی فائنلی اسکے دوست کو بھی پاپا مل گئے تھے۔۔
ریڈ اور وائٹ کلر کے جنت کے ڈیزائنر سوٹ میں رابعہ ایک بار دلہن بن کے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
اقراء اور جنت نے اسے مل کر تیار کیا تھا ۔۔
اقراء کو رابعہ بلکل اپنی جیسی لگی تھی اسکے ساتھ بھی تو اسکے اپنوں نے غیروں جیسا سلوک کرا تھا۔۔
نکاح خواہ کے اتے ہی نکاح پڑھایا گیا دعا کے بعد عفان وائٹ کاٹن۔کے سوٹ میں شان سے چلتا ہوا رابعہ کے برابر میں اکے بیٹھا مگر رابعہ نے نہ تو سائن کرتے ہوئے اسکے نام پہ غور کیا اور نہ اب نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا مگر عفان نے اسکے سراپے پہ۔بھر پور نگاہ ڈالی تھی۔۔
ابھی بھی وہ۔اسے دیکھنے میں مصروف تھا جب عثمان اسٹیج پہ ایا اور رابعہ سے کہا۔۔
ماما اپکو پاپا کیسے لگے دیکھ کے بتائے اپنے تو دیکھا نہیں دیکھے تو میرے پاپا کتنے خوبصورت ہیں۔۔
عثمان کے کہنے پہ رابعہ نے گھور کے عثمان کو دیکھا مگر اصل جھٹکا اسے تب لگا جب اس نے عفان کی اوازسنی۔۔۔
کیسی ہو شننے؟؟
اواز تھی یہ۔پھر کچھ اور رابعہ نے ساکن نظروں سے گھوم کے اپنے برابر میں بیٹھے شخص کو دیکھا۔۔
عفان اج 15 سال بعد اسکے سامنے موجود تھا مگر اسکے شوہر کے روپ میں ۔۔
عثمان کو دلنشین نے اسٹیج سے نیچے بلوالیا۔
عثمان کے اترنے پہ ایک بار پھر رابعہ نے عفان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا کیا کچھ نہیں ان گہری گرے انکھوں میں شکوہ ،غصہ ،تڑپ ،،
رابعہ نے اپنی انکھیں بند کی اور دل سے دعا کی ۔۔
اے اللہ مجھے حوصلہ دینا۔۔
جاری ہے۔
