Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 54 ( part 1)
Rate this Novel
Episode 54 ( part 1)
افف یار کہاں پھنسا دیا زارا کب پسند کروگی برائیڈل ڈریس۔۔
مجھے کمشنر صاحب سے ملنے بھی جانا ہے پچھلے دو گھنٹوں سے تم ایک لہنگا ہی دیکھ رہی ہو۔۔
احسان جو پچھلے دو گھنٹوں سے اسے مال میں لے کر رائیڈل ڈریس کے پیچھے خوار ہو رہا تھا اب اس کی اچھی خاصی ہٹ چکی تھی۔۔
خودی لائے تھے تم میں نے تو نہیں کہا تھا۔۔
ہاں ہاں بھئ غلطی ہوگئ مجھ سے اب بخشو اور جلدی کرو ۔۔
احسان کے زرا سے غصہ کرنے پر زارا کی آنکھوں میں انسو جمع ہونے لگے ۔
لو اب اسمیں رونے کی کیا بات ہے احسان نے چر کے کہا ۔
ارے یار تم دونوں ہر جگہ لڑنے لگ جاتے ہو ۔
زریاب اور دلنشین جو انکے ساتھ آئے تھے جیولری کی دکان میں گئے تھے ۔۔
یار مجھے کمشنر صاحب نے ارجنٹ بلایا کے اور اسکی شاپنگ ہی پوری نہیں ہورہی دو گھنٹے سے ۔
اچھا اچھا تو جا میں اور دلنشین ہیلپ کردینگے زارا کی۔
شکریہ یار ۔۔
احسان نے جاتے ہوئے ایک نظر اپنی روٹھی بیوی کو دیکھا اور ایک دم آگے بڑھ کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے چلا گیا
زریاب اور دلنشین کے سامنے زارا اچھی خاصی شرمندہ ہوئ
سالہ کمینا مجھے عمران ہاشمی بولتا ہے۔۔
زریاب یہ بولتا ہوا آگے بڑھ گیا اور پیچھے کھڑی زارا اور دلنشین مسکرانے لگی ۔
ابھی وہ لوگ شاپنگ میں ہی مصروف تھے کے ایک دم مال میں بھگڈر مچ گئ۔۔
یہ لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں /؟زارا نے پریشان ہوکے دلنشین سے پوچھا۔۔
یار دیکھنا پڑے گا۔۔۔
یہ بول کے وہ تینوں اگے بڑھے تو تین چار آدمی ایک آدمی کو گھیرے کھڑے تھے۔۔
وہ آدمی انکی متین کرہا تھا مگر وہ لوگ اسے مسلسل مار رہے تھے۔۔
دلنشین یہ سب دیکھ کے آگے بڑھنے لگی تب زریاب نے اسے آگے بڑھنے سے روکا۔۔
پانچ منٹ بعد ماسک لگائے ایک آدمی اندر آیا جسکے اس باس دو گارڈ تھے اس نے دو فائر اسے منتیں کرتے ہوئے آدمی کو مارے ۔۔
مال میں موجود جتنے بھی لوگ یہ تماشہ دیکھ ررہے تھے سب کی چیخیں نکل گئ۔۔
وہ آدمی جب جانے لگا تو اس کی جیب سے کچھ گرا جس پر دلنشین کی نظریں پڑھ چکی تھی۔۔
دلنشین نے موقع ملتے ہی نے وہ گری ہوئ چیز اٹھالی۔۔
!!!؟
صبح سے مہناز عثمان کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہ رہی تھی مگر ناکام رہی۔۔
اتناتیار ہونے پہ بھی اس نے مہناز پہ ایک نگاہ بھی نہیں ڈالی اور رہی سہی کسر عثمان جب پوری کردی جب وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کے پنڈی چلا گیا کام کے سلسلے میں۔۔
!!!!!!
دلنشین مسلسل لائٹر ہاتھ میں لے کے اسے دیکھ رہی تھی اسے یاد ہی نہیں آرہا تھا کے یہ لائٹر اس نے پہلے کہا دیکھا تھا۔۔
شام میں آج ان تینوں کی مایوں تھی۔۔
سبز اور یلو کلر کے غرارے میں مہناز بہت بے دلی سے تیار ہوئ تھی اسے اندازہ ہوگیا تھا کے اس بار عثمان کو منانا مشکل تھا مگر وہ عثمان کے اس رات کے رویہ سے کنفیوز تھی وہ سمجھ رہی تھی عثمان اور اسکے درمیاں سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہ اسکی سوچ تھی۔۔
دلنشین فلک زارا تینوں نے ایک جیسی ڈریسنگ کری تھی ۔۔
آج مہندی مایوں کا فنکشن ایک ساتھ رکھا گیا۔۔
حاشر کی فیملی کے آتے ہی رسم۔مایوں شروع کی گئ۔۔
حاشر اب باقاعدہ مہناز سے مل رہا تھا اس نے مہناز کو شادی کی مبارک باد بھی ۔۔
مہناز نے اسے غور سے دیکھا مگر بولی کچھ نہ نہیں۔
مہناز نے دلنشیںن سے کہا تھا کے وہ عثمان سے پوچھے وہ کب آئے گا ۔۔
مگر جب دلنشین نے جب اسے کہا کے وہ تو برات والے دن آئے گا تو اسے اپنا اتنا تیار ہونا بے معنے لگنے لگا۔۔
باری باری تینوں جوڑیوں کی رسم ادا ہوئی۔
کھانا سے فارغ ہوکے حاشر کی فیملی جا چکی تھی دور کے مہمان بھی جانے کی تیاری کررہے تھے۔۔
جب دانس کا فنکشن اسٹارٹ ہوا۔۔
عمیر کی نظریں مسلسل تاشہ کو دیکھ رہی تھی جو صنوبر کی فیملی کیساتھ ہی مگن تھی ۔
تیمور بھی ثانیہ کو انکی والدہ کو چھوڑنے گیا۔ہوا تھا ۔
بہت اصرار کرنے پہ مہناز نے ڈانس کرنے کی حامی بھری۔۔
ساری ینگ جنرشن ڈانس وغیرہ میں مصروف تھی اس لیے باقی گھر کے سارے بڑے اندر چلے گئے تھے ۔
سانگ پلے ہوا اور مہناز نے نہ چاہتے ہوئے بھی ڈانس کرنا شروع کیا۔
یہ نظر بھی عجیب تھی اس نے دیکھے منظر سبھی””
گانے کے اس مصرے مہناز نے گھوم کے اپنی دونوں آنکھوں پہ اشارہ کیا۔۔
دیکھ کے تجھے ایک دفعہ پھر نہ دیکھا کسی کو کبھی۔۔
مہناز گول گول گھومی ۔
میرا پہلا جنون میرا پہلا جنون ۔۔
عشق آخری ہو تو۔۔۔
ایک دم۔لائٹس بند ہوئ اور ایک فوکس لائٹ پہلے مہناز پہ پڑی اور پھر ایک عثمان۔۔
عثمان کو دیکھ مہناز حیران رہ گئ ۔۔
وہ تیزی سے اسکے گلے لگ لگنے کیلے بڑھی مگر پھر کچھ سوچ کے وہی رک گئ۔۔
عثمان نے آگے بڑھ کے اسکی کلائ تھامی اور اسے گول گول گھمایا اور سانگ ایک بار پھر پلے ہوا۔۔
میری زندگی ہے توو۔۔
میری زندگی ہے تو۔۔۔
سچ کہوں تیرے نام پہ دل ڈھرکتا ہے یہ آج بھی۔۔۔
احسان نے زارا کا ہاتھ تھام کے گھومیا۔
چین کی گھڑی ہے تو۔
ساتھ میں گنگنایا۔۔۔
زریاب نے بھی دلنشین کا ہاتھ پکڑ کے اس مصرے پہ گھومایا۔
عشق آخری ہے تو ۔۔۔۔
میری زندگی ہے تووو۔۔
تینوں کپل ایک ساتھ ڈانس کررہے تھے ۔۔
فلک اندر جا چکی تھی غصہ میں کیونکہ بہت بولنے پہ حاشر نہیں رکا تھا تو وہ اکیلے رک کر کیا کرتی۔۔
عثمان نے مہناز کو تیزی سے اپنے پاس کرکے اسے پیٹ سے تھام کے تھرکنا شروع کیا اور مہناز کا یہ عالم تھا کے اس نے عثمان کو نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا ۔۔
دلنشیںن نے عثمان کو مہناز کی اداسی بتا دی تھی اسے بتایا تھا وہ کے ا اپسیٹ ہے اس لیے آج آکے اسے اسے سرپرائز دیا تھا۔۔
فنکشن ساتھ خیریت سے نبٹا تھا سب ہی خوش تھے سوائے فلک کے۔۔
عثمان کمرے میں آیا تو مہناز اپنا ڈوپٹہ اتار کے واش روم میں جارہی تھی کپڑے چینج کرنے۔۔
عثمان سے فلحال نظریں ملانے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔
وہ جیسی ہی عثمان کے پاس گزر کے جانے لگی۔
عثمان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
مہناز کے کپڑے اسکے ہاتھ سے نیچے گرے اور اسکی چوڑیاں ایک دم۔بج اٹھی۔۔
مہناز نے ایک دم اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے مگر نگاہ اٹھا کے اسے نہیں دیکھا ۔۔
اوپر دیکھو میری طرف ماہی۔۔۔
عثمان کے بولنے پہ مہناز نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا۔۔
مجھ سے تو نفرت ہیں نہ تو تمہیں تو پھر میرے جانے پہ اداس کیوں تھی۔۔
کیوں میرے ساتھ ایک بیڈ پہ سوئی میرے سینے سے لگ کے۔۔
عثمان کے کہنے پہ مہناز نے گھور کے اسے دیکھا اور پوچھا۔۔
تم جاگ رہے تھے؟؟
نہیں جب تو سورہا تھا مگر پھر تمہاری خشبو سے جاگ گیا ۔
یہ بول کے عثمان مسکرانے لگا ۔
مہناز نے اسے گھورا اور اسے سے دور ہونے لگی جب عثمان نے اسے دوبارہ تیزی سے خود سے لگا کے بیڈ پہ گرا۔
سوچنا بھی نہیں اب مجھ سے دور جانے کا ماہی ۔۔
یہ بول کے عثمان نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تو وہ اور خود میں سمٹ گئ۔۔۔
ادھر اوپر دیکھو مجھے ماہی۔۔
مہناز جسکی انکھیں حیا سے بوجھل تھی بہت مشکل سے اسے نگاہ اٹھا کے عثمان کو دیکھا۔۔
مجھ سے محبت ہے تمہیں ماہی؟؟
عثمان کے سوال پہ ماہی نے مسکرا کے اسکے گال پہ ہاتھ رکھے اور کہا۔۔۔۔
نہیں مانی۔۔
کیا کہا پھر سے کہو۔
مانی۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے مہناز ترس گیا تھا تمہاری منہ سے لفظ سننے کیلے۔۔
ویسے تم بڑی ہوکے اتنی خوبصورت ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا اسکا میں تو سمجھ رہا تھا وہی روتی بسورتی کلو مسانی مہناز ہوگی جو مانی مانی کرتی رہتی تھی۔۔
اچھا میں کلو مسانی تھی۔۔؟
یہ بول کے مہناز نے عثمان کے سینے پہ مکا مارا تو عثمان نے مسکراتے ہوئے اسکے گال پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔
زور سے پڑا تھا تھپڑ ہے نہ؟؟
ہاں مارا تو زور سے تھا مگر غلطی بھی میری تھی مانی بس چھوڑو وہ باتیں میں دہرانا نہیں چاہتی۔۔
مہناز نے یہ کہہ کے عثمان کے سینے پہ اپنا سر رکھ دیا ۔
عثمان نے ایک دم جگہ بدل اور مہناز پہ جھکتے ہوئے کہا۔
آج تو جازت ہیں نہ ؟؟
عثمان کی آنکھوں نہیں آج شدتوں کا چاہتوں کا طوفان تھا۔۔مہناز زیادہ دیر تک اسکی آنکھوں میں۔ دیکھ نہیں پائ اور نگاہ۔جھکا گی ۔
عثمان نے اسکی آنکھیں پہ اپنے لب رکھے دھیرے دھیرے وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو چومنے لگا ۔
اسکے لبوں سے اپنی پیاس بجھانے لگا۔۔
کبھی گردن چومتا کبھی ماتھا ماہی آج خود کو سب سے خوش قسمت لڑکی سمجھ رہی تھی عثمان نے اسے بہت مان بخشا تھا۔۔
مہناز نے کیے اب برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا جب عثمان نے شولڈر سے نیچے شرٹ کری ۔
شرم حیا کی ساری دیواریں گر چکی تھی۔۔
عثمان اپنے ہر عمل سے آج اس پہ اپنی چھاپ چھوڑی چکا تھا۔۔
عثمان کے محبت بھر اس عمل سے مہناز نے مظبوطی سے عثمان کے کندھوں کو تھاما تھا ۔۔
عثمان نے کہ مہناز کے لب ایک بار پھر چوم کے اسکی اور اپنی جان ایک کرچکا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
