Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 28
Rate this Novel
Episode 28
فلک نے کمرے میں جاکے زور سے اپنا بیگ دیوار پہ مارا اور سر تھام کے بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
دس منٹ بعد تقریبا لائبہ کمرے میں غصہ میں ائ اور کہا ۔
; فلک یہ جو تم نے نیچے ڈرائنگ روم میں تماشہ کر رہا ہے یہ کس قسم کا تماشا تھا کون ہے وہ مجھے اس کا نام چاہیے ۔۔؟؟؟
لائبہ کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ فلک کا حشر نشر کردے اج پہلی بار لائبہ نے نومیر کے چہرے پہ شرمندگی دیکھی تھی۔۔
ماما کون ہے کیا مطلب یہ بولتے ہوئے فلک کی زبان لڑکھڑائ۔۔۔
یہ جو تمہاری زبان کی لڑکھڑاہٹ ہے نہ اس بات کا ثبوت ہے کے میں نے کوئ غلط سوال نہیں پوچھا۔۔
ماما جنت اپپو ہمارے گھر کی ہیڈ نہیں ہیں جو وہ اپنا ایسا اڈر چلانے اگئی ہم پہ اپنی بیٹی پہ تووووو۔۔
فلک ۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ نے یہ بول کے رکھ کے فلک کے منہ پہ تھپڑ مارا اور اسکا منہ پکڑ کے کہا۔۔
زبان سنبھال کے بات کرو فلک جانتی ہو تم جنت میرے لیے کیا ہے اور نومیر بھی میں اس انسان کی دنیا ہلا دو جو انکو کوئ دکھ یہ تکلیف دے اور اج جو تمہاری وجہ سے تمہارے لہجے سے ان دونوں کو تکلیف پہنچی ہے دل تو میرا چاہ رہا ہے اچھی خاصی تمہاری طبیعت درست کرو مگر صرف تمہارے پاپا نے مجھےصرف اتنا کہہ کے تمہارے پاس بھیجا ہے کے فلک سے بول دو ایک مہینہ ہے اسکے پاس جس کے بل بوتے پہ اج اس نے اپنے پاپا کا مان توڑا ہے ایک مہینے کے اندر اندر تمہیں لے جائے ورنہ دوسرے مہینے میں تمہاری شادی وہاں ہوگی جہاں ہم چاہینگے۔۔
یہ بول کے لائبہ نے فلک کا منہ چھوڑا اور کمرے سے چلی گئ فلک کو اب جو کرنا تھا ایک مہینے کے اندر اندر کرنا تھا اسے زرا سا بھی یہ احساس نہیں تھا کے ایک کل کے ائے ہوئے لڑکے کے پیچھے اس نے اپنے ماں باپ کو دکھ دیا ہے۔
اور بھول جاتی ہے اولاد کے جو اپنے ماں باپ کا دل دکھاتے ہیں وہ کبھی اباد نہیں رہتے۔۔۔۔۔
حمزہ کمرے میں ایا تو جنت اداس سی کھڑکی ہے پاس کھڑی تھی ۔۔
حمزہ نے ایک نظر اسکی پشت پہ ڈالی اور فریش ہونے چلا گیا واپس ایا تب بھی وہ اسی پوزیشن میں کھڑی تھی حمزہ نے اسے کمر سے تھام۔کے جب خود سے لگایا تب جنت کی سوچوں کاتسلسل توٹا۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو ایسا ؟؟
جو تمہیں میرے انے کا پتہ نہیں چلا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔
کھانا لاو اپکے لیے۔۔
بلکے نیچے چلے سب کے ساتھ ہی کھاتے ہیں میں بھی کیا بچوں جیسا سوال کررہی ہو اپ سے۔۔
جنت نے خودی سوال کیا پھر خودی اسکا جواب دے کے حمزہ کے حصار سے نکلنے لگی جب حمزہ نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے پیار سے اپنے قریب کیا اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے پوچھا ۔۔
کیا بات ہے “جان حمزہ” کس بات پہ پریشان ہو اتنی؟؟؟
حمزہ کے پوچھنے پہ جنت کی انکھیں بھیگنےلگی اسنے حمزہ کے سینے پہ اپنا سر رکھا اور نومیر کے گھر ہوئ ساری بات اسے بتا دی۔۔
جنت اگر دیکھا جائے تو غلطی تمہاری ہے تم فلک کے اتنی کلوز ہو پھر تم یہ بیوقوفی کیسے کرگئ۔تمہیں پہلے اس سے پوچھنا تھا جنت اپنے طور پہ پھر فلک کیلیے عمان کا پرپوزل لے کے جاتی۔۔۔
تم ٹینشن نہیں لو اج کل کے بچے کافی جزباتی ہیں ۔
حمزہ کی بات سن کے جنت کو بھی حمزہ کی بات کافی حد تک ٹھیک لگی۔۔
کیا بات ہے تاشہ تم ابھی تک سوئ نہیں ؟؟
دلنشین جو اپنے کمرے میں جارہی تھی تاشہ کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کے اندر چلی گی جب تاشہ کو کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل لگاتے ہوئے دیکھا۔۔۔
یار دلنشین اچھا خاصا ہم دونوں جب مال جارہے تھے تمہیں نہیں لینا تھا عمیر بھائ کو ساتھ اوپر سے تم ہم دونوں کو مال کے اندر چھوڑ کے چلی گئ۔۔
یار ایک ضروری کام سے جانا پڑ گیا تھا اور اگر عمیر چلا گیا تو اس میں کیا مسئلہ ہوگیا تمہیں لیے کے اکثر تو وہ جاتے رہتے ہیں۔۔
جاتے رہتے ہیں مگر اج جو ہوا ایسا پہلے نہیں ہوا تاشہ نے افسردہ ہوکے کہا۔
ایسا کیا ہوا مال میں؟؟
دلنشین کے پوچھنے پہ تاشہ نے ساری بات بتادی جیسے سن کے دلنشین کا اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا۔
صحیح کیا عمیر نے تاشہ انکی جگہ میں ہوتی تو جان سے ماردیتی انکو۔۔
دلنشین کا غصہ دیکھ کے تاشہ بھی پل بھر کیلیے چپ ہوگی ۔۔
ویسے برا نہیں ماننا تاشہ جب ہم گھر کے مردوں کیساتھ کہی باہر جاتے ہیں تو کم از کم ڈریسنگ تو ڈھنگ کی کرے تاکے کسی کو ہم پہ انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے۔۔۔
اب خیر چھوڑو جو ہوگیا سو ہوگیا اب تمہارے اسطرح منہ لٹکانے سے مال میں ہوا واقع بدل تو نہیں جائے گا۔۔
مگر دلنشین انہوں نے جو گھر میں کیا اسمیں انکو کافی چوٹ ائ ہوگی اتنا اندازہ مجھے ہے۔۔تاشہ نے پریشان لہجے میں کہا جسے سن کے دلنشین نے اسے دوبارہ گھورا اور کہا۔۔
اب گھر میں کیا کیا عمیر نے؟؟؟
تاشہ نے دلنشین کو جب بتایا عمیر کا دیوار پہ مکا مارنا تو وہ بول پڑی۔۔
بھئ اب اسکا غصہ ایسا یے تو کیا کرسکتے ہیں۔۔
یار مگر انکے ہاتھ میں بہت درد ہورہا ہوگا تاشہ کے کہنے پہ دلنشین نے اسے گھور کے دیکھا اور کہا۔۔
اگر اتنی ہی فکر ہے انکی تکلیف کی تو جاکے لگادو مرہم ۔۔۔
یہ کہہ کے دلنشین اپنے کمرے میں چلی گی ۔۔
تاشہ نے بہت سوچ بچار کے بعد ہمت کرکے ڈرارر میں سے ٹیوب نکالی اور عمیر کے کمرے کی طرف چل پڑی۔۔۔
تاشہ نے ڈو تین بار دروازہ ناک کیا مگر جب کوئ اواز نہیں ائ تو مجبورا تاشہ نے کمرے کا لاک گھمایا تو دروازہ کھل گیا ۔۔
کمرے میں گپ اندھیرے تھا تاشہ نے لائٹ جلائ تو سامنے اسے عمیر بنا شرٹ کے اڑھا ٹیڑھا سوتا دیکھائ دیا۔۔ایسا تاشہ سمجھی۔۔
تاشہ کو عمیر کو اس حالت میں دیکھنا عجیب لگا اس نے فورا واپس جانے میں عافیت جانی مگر عمیر جو جاگ رہا تھا مگر لائٹ اون ہونے پہ اس نے اپنی ڈریسنگ میں دیکھا جہاں کمرے میں انے والا بندہ صاف دیکھائ دیتا تھا۔۔
ڈریسنگ میں تاشہ کو دیکھ کے حیران ہوا جانے کیلے تاشہ جیسی ہی مڑی ویسے ہی عمیر نے کروٹ لیے کے تاشہ کو اواز دی۔۔
رکو !!!
عمیر کی اواز پہ تاشہ کے ہاتھ سے ٹیوب گرتے گرتے بچی ۔۔
اس وقت میرے کمرے میں کیا کرہی ہو ادھر او۔۔۔
عمیر کے بولنے پہ تاشہ پلٹی اور دھیرے دھیرے چل کے عمیر کے پاس ائ۔۔
عمیر اسکے چہرے کی گھبراہٹ سے اندازہ لگا سکتا تھا کے وہ اس وقت کتنی گھبرائ ہوئ ہے۔
۔
وہ عمیر بھائ اپکے ہاتھ پہ چوٹ لگی ہے اس لیے یہ ٹیوب لائ تھی لگانے۔۔۔
اچھا بیٹھو اور لگاو عمیر کے کہنے پہ تاشہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور ڈرتے ڈرتے اس کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔
عمیر نے اپنا ۔زخمی ہاتھ اسکے اگے کیا جسے دیکھ کے تاشہ کو بہت افسوس ہوا اور افسوس کا یہ عالم تھا کے تاشہ کی انکھ سے انسو گرنے لگے۔۔
رونے کی ضرورت نہیں ہے تاشہ ہاتھ ٹھیک ہے میرا اب۔۔
ائ ایم سو سوری عمیر بھائ سب میری وجہ سے ہوا نہ میں ایسی ڈریسنگ میں جاتی باہرنہ وہ۔لڑکے بدتمیزی کرتے نہ اپکی لڑائ ہوتی اور نہ اپ میرا غصہ اس دیوار پہ اتارتے نہ اپکا ہاتھ زخمی ہوتا ۔
تاشہ کی ایسے کہنے پہ عمیر کو اس پہ توٹھ کے پیار ایا۔۔۔
۔
کوئ بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے یہ بہت بڑی بات ہے ائندہ احتیاط کرنا۔۔
جی۔۔
یہ رکھ لے ٹیوب لگالیے گا دوبارہ۔
تاشہ یہ بول کے کمرے سے جانے لگی جب عمیر نے اسے اواز دی ۔۔
تاشہ ایک منٹ۔۔
عمیر تاشہ کے روبرو ایا اور اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مجھ سے شادی کروگی تاشو؟؟؟
جاری ہے۔
