Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 45 (part 2)
Rate this Novel
Episode 45 (part 2)
(احسان اور زارا کے نکاح سے تین دن پہلے)
پاپا مجھے آپ سے بات کرنی ہے.
جنت اور حمزہ لان میں بیٹھے تھے جب دلنشین نے ان دونوں کو مخاطب کرکے کہا ۔
ہاں بولو بیٹا ۔۔
پاپا میں اپنی مرضی سے زریاب سے شادی کرنا چاہتی ہو ۔۔ہر ابھی خالی نکاح کردے۔۔۔
دلنشین مجھے پتہ ہے بیٹا تم یہ میرا دل رکھنے کیلیے بول رہی ہو ۔۔
جنت نے دلنشین کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔
نہیں ماما ایسی بات نہیں آپکی قسم ۔۔
تو پھر کیا تمہیں زریاب پسند ہے ؟؟
پیچھے سے آتی عمر کی آواز پہ وہ گھومی۔۔
ہاں بڈی کہہ سکتے ہیں اب وہ اتنا بھی برا نہیں پوری زندگی سر کھپا سکتی ہو اسکے ساتھ۔۔۔
مگر ابھی یہ بات زریاب کو کوئ نہیں بتائے گا
میرے پاس ایک پلین ہے۔۔۔
دلنشین نے سب کو اپنا پلین سنایا جیسے سن کے عمر نے صرف اتنا کہا۔۔
صحیح ٹکرائ ہے بیٹا تجھے ۔۔۔
گھر میں سب کو ہی پتہ تھا زریاب کا نکاح دلنشین سے ہے سوائے زریاب کو اور مہک بھی کوئ اور نہیں دلنشین تھی۔۔
!!!!!!!
زریاب کو احسان نے دوبارہ بیٹھایا اور قاضی صاحب نے نکاح شروع کیا۔۔
قاضی کے بولا ہوا جملہ ابھی پورا بھی نہیں ہوا کے زریاب نے تیزی سے قبول ہے قبول ہے کہنا شروع کردیا۔۔
سب ایک بار پھر ہنسنے لگے۔۔
زریاب کا نکاح ہوتے ہی دلنشین۔ کا نکاح ہوا آج کسطرح وہ تیار ہوئ تھی زریاب کی خیر نہیں تھی
دلنشین نے نکاح نامے پہ سائن کیا تو جنت اور اقراء دونوں نے باری باری اسکا ماتھا چوما ۔۔
دلنشین خود اپنا دلہن کا سراپا آئینے میں۔ دیکھ کر حیران تھی ریڈ اور میرون کلر کے شرارے میں ہیوی جیولری پہنے ناک میں خوبصورت سی نتھ پہنے دلنشین کا حسسن لاجواب تھا ۔۔
جنت نے کئ بار اسکی نظر اتاری تھی۔۔۔
دلنشین اور زارا دونوں کوا یک ساتھ لایا گیا اور سانگ پلے ہوا
“پہلے جب دیکھا تھا تجھ کو ۔۔
رات بھی وہ یاد ہے مجھ کو۔۔
تارے گنتے گنتے سو گیا۔م
زریاب کی انکھیں دلنشین کو دیکھ کے جھپکنا بھول چکی تھی تو ادھر احسان زارا کو دیکھ کے خالی مسکرائے جارہا تھا۔۔
دونوں دلہنوں کو انکے دلہوں نے ہاتھ تھام کے اوپر چڑھایا۔۔
زریاب مسلسل اپنی برابر میں بیٹھی دلنشین کو گھورے جارہا تھا اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کے وہ اسکی بیوی ہے۔۔
ارے بیٹا گھورنا بند کردے تیری ہی ہے ساتھ جائے گی گھر۔۔
حمزہ کی ہوٹنگ پہ زریاب شرمندہ سا ہوا اور سائیڈ میں رکھا دلنشین کے ہاتھ پہ۔اپنا ہاتھ رکھا دلنشین نے فورا ہلکی سی سرگوشی کی۔۔
زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں روتلو ۔۔
اوور تو اب ایسا ہوگا کے تم بھاگو گی اب مجھ سے بہت ستایا ہے تم نے۔۔
دلنشین نے اپنی کاجل سے لبریز آنکھیں بڑی کرکے زریاب کا گھورا تو وہ مسکرانے لگا۔۔
دلنشین نے زریاب کی مسکراہٹ دیکھ کے دل میں کہا۔۔
واقعی یہ شخص چاہے جانے کے قابل یے۔۔۔
کانپ کیوں رہی ہو زارا میڈم ۔۔
ابھی تو میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں تمہاری طرف ابھی تو میں نے کچھ کہا بھی نہیں اور تم کانپنے لگی۔۔
زارا نے احسان کو دیکھا تو وہ ایسے ہی دیکھ رہا تھا زارا فورا نگاہ جھکا گئ۔۔
بہت بہت مبارک ہو بھئ تم دونوں کو ۔۔
عثمان نے اسٹیج پہ چڑھتے ہوئے کہا۔۔
یہ بھابھی آپکے لیے۔۔
عثمان نے ایک خوبصورت سا جیولری باکس زارا کو دیا جیسے زارا نے شکریہ کہہ کر تھام لیا۔۔
ارے زریاب وہ تم نے مایا کو دیکھا ہے یار پتہ نہیں کہاں غائب ہوگئے ۔
عثمان نے دلنشین کو دیکھتے ہوئے زریاب سے کہاں۔۔۔
ہاں یار پتہ نہیں کہاں غائب ہوگئ۔۔
اچھا کہاں غائب ہوگئ بیٹھے رہو اکیلے ابھی غائب ہوکے دیکھاتے ہو یہ بولتے ہوئے دلنشین جیسی ہی اٹھنے لگی زریاب نے فورا پینترا بدلہ اور کہا۔۔
اوہ بھائ یہ تجھے دیکھ نہیں رہی اتنی خوبصورت پیاری مایا۔۔
افسوس کیساتھ زریاب مجھے تجھ سے تیرا نکاح ایک حسین سائن سے ہوا ہے۔۔۔
عثمان اااااانننن۔
دلنشین کے ہلکے چیخنے پہ عثمان نے دوسرا جیولری باکس دلنشین کے آگے کیا اور اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے زور سے سے ہلایا اور ہمیشہ خوش اور آباد رہنے کی دعا دی۔۔
بائے دا وے یہ مہناز کہاں ہے؟
یہ ہی ہو میڈم۔۔۔
مہناز کی آواز پہ جیسی ہی عثمان پلٹا اسکا ٹکراؤ اسٹیج پہ چڑھتی مہناز سے ہوا اگر بروقت عثمان مہناز کو نہ تھمتا تو دونوں گرتے ۔۔۔
اتنی دیر سے جو میوزک سلو بج رہا تھا اسکی آواز اچانک تیز ہوگی ۔۔
مہناز بلکل عثمان کی قمیض کا کالر پکڑ ے ہوئ تھی ۔۔
عثمان تو مہناز کی آنکھوں میں ہی کھو گیا ۔۔
“آنکھ اٹھی محبت نے پھر انگرائ لی
دل۔کا سودا ہوا چاندنی رات میں ۔۔
تیری نے نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا۔
لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں”
اہممممم زریاب اور احسان کے گلے کھنکھارنے پہ وہ دونوں فورا الگ ہوئے عثمان تو فورا نیچے اتر گیا جبکہ مہناز شائے انداز میں دلنشین سے ملنے لگی۔۔
!!!!!!!!
کافی تھک گئ ہو تاشہ ایک کپ کافی پلا دو۔۔۔
ہاں آپی میں ابھی کافی لاتی ہو آپ ریلکس کرے۔۔۔
اچھا وہ تاشہ وہ جو تمہاری دوست ہے صنوبر اسکا جو بھائ ہے زمان کافی ہینڈسم ہے۔۔
ہاں آپی اور بہت ذہین بھی پتہ ہے میری بہت ہیلپ کرتے ہیں فزکس میں آپکو پتہ ہے مجھے تو اینجل کہتے ہیں۔۔
دلنشین بہت غور سے زمان کے تذکرے پہ تاشہ کے چہرے کی خوشی دیکھ رہی تھی ۔۔
اچھا جی اینجل جلدی سے کافی لادو۔۔
اچھا اپی۔۔
!!!!!!!!!
دس منٹ کے اندر مجھے چھت پہ ملو یہ پھر اپنے کمرے کا وہ دروازہ کھلا رکھنا جو چھت کی طرف جاتا ہے اور خبر دار اگر دلہن کا کا لباس بدلہ ۔۔
زارا کو احسان کا ٹیکس ملا وہ جو جیولری اتار رہی تھی اسکے ہاتھ۔ وہی تھم گئے۔۔
چلو اب ہوگا ریمانڈ ۔۔
ہاں مگر میں کیوں ڈر رہی ہو میں نے تو وقت دیا تھا ہاں ہاں مجھے ڈرنا نہیں ہے۔۔
یہ۔ بولتے ہوئے زارا نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور چھت پہ جانے لگی۔۔
!!!!!!!!!!!
دروازہ کھلنے پہ دلنشین نے کہا۔۔
ارے یار تاشو کافی رکھ کے زرا یہ زپ اوپن کرنا چولی کی کھل نہیں رہی ۔۔
دلنشین مرر کے پاس کھڑی ہوکے زپ اوپن کرنے کی کوشش کررہی تھی تاکہ کپڑے چینج کرسکے۔۔
ضرور زوجہ محترمہ ۔۔
اپنے پیچھے زریاب کی آواز سن کے اس سے پہلے دلنشین چیختی زریاب اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔
جاری ہے۔۔ ۔
