Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 24
Rate this Novel
Episode 24
امی اپکو میں نے کہا ہے نہ یہ سب اپ نہیں کرا کرے میں کردیا کرونگی اکے۔۔
مہناز نے اپنی امی سے جھاڑو لیتے ہوئے کہا۔۔
بیٹا تم ویسے ہی اسکول پڑھا کے اتنی دیر سے اتی ہو پھر کھانا پکاتی ہو ،پھر ٹیوشن کے بچے اجاتے ہیں میں کرلونگی ۔۔
نازنین نے باقی کی جھاڑو مکمل کرنی چاہی مگر مہناز نے جھاڑو پہلے ہی لے کر لگانی شروع کردی۔
مہناز ایڈوانس ملا ؟؟نازنین نے بہت شرمندگی سے مہناز سے پوچھا۔۔۔
ہاں امی مل گیا ہے ایڈوانس اج کرایہ دے دونگی میں اور راشن بھی لے اونگی اپ پریشان نہ ہو۔۔
جیتی رہو بیٹا ۔۔۔
نازنین نے مہناز کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرا اور صحن میں بچھی چرپائ پہ بیٹھ گئ۔۔۔.
جہاں سب کی زندگی بدلی تھی وہی مہناز کی زندگی بھی بدل گئ تھی ۔۔
مہناز میٹرک میں تھی جب انکے گھر ایک قیامت برپا ہوئ ۔۔
مہناز کا شوہر اقبال ایک ایکسیڈنٹ میں اپنی کی جان بازی ہارگئے۔۔
نازنین کچھ دن میں سوگ میں رہی مگر اسکے اب ہاتھ خالی ہوچکے تھے جو بھی اقبال کماتا تھا وہ سب نازنین اپنے بھائ کی او بھگت میں یہ پھر اپنی عیاشیوں میں اڑا دیتی تھی کچھ جمع پونجی اب اسکے پاس نہیں بچی تھی۔۔
دلاور نے بھی چند اپنی بہن کی مدد کی پھر اسکے بھی رنگ دیکھنے لگے اسکی تیسری بیوی جو نازنین سے خار کھانے کیساتھ ساتھ اسکی لالچی فطرت سے بھی اچھی طرح واقف تھی بہت جلد اس نے نازنین کی اوقات اسے بتا دی۔۔
گھر میں جب فاقو کی کی نوبت انے لگی تب مہناز نے گھر سے باہر قدم نکالا اور اسکول نیں جاب کرنی شروع کی پرانہ محلہ تھا سب جانتے تھے اس لیے بہت سے بچے ٹیوشن پڑھنے انے لگے بہت اچھا نہیں مگر گزرا ہو رہا تھا۔۔
دلنشین بھی 6 سال سے ملک میں نہیں تھی ورنہ وہ بھی اپنی دوست کی مدد ضرور کرتی ۔۔
مگر پھر رہی سہی کسر سونیا نے پوری کردی محلے کے ایک بگڑے ہوئے کیساتھ وہ گھر سے بھاگ گئ مگر جاتے جاتے وہ اپنی ماں اور بہن۔کے گھر سے چھت بھی چھین گئ گھر کی فائل نکال کے کب اسنے اس لڑکے کو دی پتہ نہیں چلا۔۔
جب نازنین اور مہناز گھر پہ نہیں تھے اونے پونے اس نے مکان کا سودا کیا اور گھر سے بھاگ گئ دوسرے دن اکے جب مکان کے خریدار نے انہیں گھر سے نکلا تو نازنین تو بیہوش ہوگی بہت مشکل سے وہ دن مہناز نے کاٹے اس دن مہناز کو شدت سے عثمان کی۔یاد ائ کئ بار اس نے دلنشین کو کال کرنے کی۔کوشش بھی کری مگر ہر بار اسکا نمبر بند اتا۔۔
اور ان سب حالات جو نازنین اور مہناز نے سہے نازنین سمجھ چکی تھی یہ سب رابعہ کیساتھ برا کرنے کا نتیجہ ہے۔۔
دلاور کا بڑا بیٹا امجد جو ہر برے کام کا بادشاہ تھا لڑکیوں کو دوسرے ملک بیچنا ڈرگز سپلائ کرنا اور بہت سے برے کاموں میں وہ بہت اگے تک نکل چکا تھا مگر مہناز کی قسمت خراب تھی کے امجد کی نظر اس پہ تھی کئ بار وہ دلاور کو رشتہ لے کر بھیج چکا تھا مگر ہر بار نازنین اپنے بھائ کو منہ پہ منع کردیتی اور امجد خاموش ہوجاتا مگر امجد کی یہ خاموشی مہناز کی زندگی بدلنے والی تھی۔۔
ماما مان جائے وعدہ ایک گھنٹہ لگے گا..
نہیں تاشہ ایک بار منع کردیا تو کردیا سمجھ میں کیوں نہیں اتی تمہیں شام کو گھر میں پارٹی ہے اور تمہیں مہندی لگانے کا شوق چڑھا ہے کیا دماغ توخراب نہیں ہوگیا تمہارا گھر میں پارٹی ہے کسی کی مہندی کا فنکشن نہیں۔
جنت نے تاشہ کی بے جا فرمائش پہ اسکی اچھی خاصی کلاس لی جس پہ سامنے بیٹھا تیمور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔۔
تم کس خوشی میں ہنس رہے ہو بلڈی چور اب انا مجھ سے کچھ مانگنے بتاونگی تمہیں میں تاشہ نے جنت کی ڈانٹ کا سارا غصہ تیمور پہ کشن مار کے اتارا۔۔۔۔
عمیر جو فریش ہوکے بوا کو (پرانی ماسی)کو چائے کا بولتا ہوا اکے ہال میں بیٹھا جب تاشہ کو تیمور کو کشن مارتے ہوا دیکھا تو پوچھ بیٹھا ۔۔
ارے ارے کس بات پہ غصہ ارہا ہے تاشو تمہیں؟؟
عمیر بھائ اس بیچاری کو مہندی لگانی ہے اج ابھی ماما بہت پیارے پیارے مہندی کے ڈیزائن بہت خوبصورت الفاظ کی صورت میں اسے دے کے گئ ہیں یہ بول کے تیمور اور زور زور سے ہنسنے لگا۔۔
تاشہ نے جب تیمور کو عمیر کے سامنے اسکا مزاق اڑاتے دیکھا تو رونے جیسے اسکی صورت ہوگی اور بس یہ ہی عمیر کی کمزوری تھی وہ تاشہ کو اداس یہ اسکی انکھ میں اداسی نہیں دیکھ سکتا تھا پچپن کی محبت اب جوانی کا عشق بن چکی تھی۔۔
تیمور بس کرو اب پٹوگے ورنہ تم میرے ہاتھوں سے اور تاشہ تم چھوڑو اسکی باتوں کو میں چلتا ہو تمہیں مہندی لگوانے ریڈی ہوجاو فورا۔۔
کوئ ضرورت نہیں تمہیں اسکی بیکار کی خواہش پوری کرنے کی جنت جو کچن سے نکلتے ہوئے عمیر کی بات سن چکی تھی اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔
ارے تایو جانے دے میں لے کر جارہا ہو وعدہ ایک گھنٹہ میں اجائے گے اور ویسے بھی پارٹی تو شام کی ہے نہ یہ بول کے عمیر نے تاشو کو انکھ سے اشارہ کیا تو وہ اوپر بھاگی تیار ہونے ۔۔
عمیر تم ہر بار اسکی ہر خواہش پوری کرتے ہو۔۔جنت نے عمیر سے خفا ہوتے ہوئے کہا۔۔
اگے بھی کرونگا تائیو ۔۔عمیر نے کافی ہلکی اواز میں کہا جو جنت سن نہیں پائ۔۔
عمیر نے تاشو کو اسکے بتائے ہوئے پالر کے باہر اتارا اور خود کھڑے ہوکے اسکا ویٹ کرنے لگا۔۔
تقریبا سوا گھنٹے بعد پالر کی ایک لڑکی نے عمیرسے کہا میڈم اپکو اندر بلا رہی ہیں۔۔
لڑکی کے کہنے پہ عمیر کافی جھجھکتے ہوئے اندر گیا مگر اسے زیادہ اندر نہیں جانا پڑا تاشہ کافی احتیاط سےچلتی ہوئ باہر کی طرف ارہی تھی ہاتھوں کیساتھ ساتھ میڈم نےپیروں پہ بھی مہندی لگوالی تھی۔۔
تاشہ نے عمیر کو دیکھ کے ایک اسمائل دی اور کہا۔۔
عمیر بھائ میں نے پاوں پہ بھی لگوالی اچھی لگ رہی ہے نہ؟؟
مگر عمیر وہ تاشہ کی بات سن کب رہا تھا وہ تو اسکے مہندی بھرے ہاتھوں میں کھو گیا۔۔
عمیر بھائ کہاں کھو گئے۔۔
اااا کہی نہیں ۔عمیر نے تاشو کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
تو پھر چلے ۔۔
ہاں چلو مگر ایک منٹ ایسے تم چلوگی تو تمہارے پاوں کی اور مہندی خراب ہوجائے گی۔۔
تو پھر اب تاشہ نے پریشان ہوکر کہا۔۔۔۔
عمیر نے اگے بڑھ کے تاشہ کو گودھ میں اٹھا لیا اب تاشہ بچی نہیں تھی عمیر کی اس حرکت پہ وہ گھبرائ مگر بولی کچھ نہیں عمیر کی دل کی ڈھرکن تاشہ بااسانی سن سکتی تھی۔۔
عمیر تاشہ کو دیکھنے میں مصروف تھا اور تاشہ نیچے نگاہیں کرکے اپنے اپ کو کوس رہی تھی۔کے اس نے مہندی پاوں میں کیوں لگوائ۔۔
دلنشین کسی سے فون پہ بات کرتی ہوئ بے دیھانی میں اراہی تھی جں اسکی ٹکر سامںے سے اتے ہوئے زریاب سے ہوئ ۔۔
افف اندھے ہو دیکھ کے نہیں چل سکتے ؟؟
یہ بات میں تم سے بھی بول سکتا ہو۔۔
کوشش کرا کرو زریاب میرے سامنے کم ایا کرو دلنشین نے اپنا ڈوپٹہ سنبھالتے ہوئے زریاب کو وارننگ دیتے ہوئے کہا۔۔
کیوں تم کیا شرعی پردہ کرتی ہو زریاب نے بھی اسکی تپانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔۔
اگے سے ہٹو میرے جاہل انسان تمہارے منہ لگنے کا مجھے کوئ شوق نہیں۔۔
مگر مجھے تو شوق ہے تمہارے ہر جگہ لگنے کا زریاب کی بات کا مطلب سمجھ کے دلنشین کا غصہ اسمان کو چھونے لگا اور شاید وہ اپنے غصہ کا اظہار بھی کردیتی زریاب پہ تبھی اچانک کسی کے پکارنے پہ دلنشین نے سامنے دیکھا تو عثمان کھڑا مسکرا رہا تھا ارمی یونفارم میں عثمان کو دیکھ کے دلنشین کے لب کھل کے مسکرائے اور یہ منظر زریاب سے چھپ نہیں سکا دلنشین زریاب کو اگنور کرتی ہوئ عثمان سے جاکے ملی۔۔
جاری ہے۔۔
