Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 55
Rate this Novel
Episode 55
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا اس کا کام ہے بس گزرنا اور پیچھے رہنے والے کبھی پچھتاتے ہیں کبھی روتے ہیں اور کبھی فریاد کرتے ہیں کے کاش گزرا ہوا وقت واپس اجائے۔۔
مگر یہ کاش لفظ ہماری زندگی میں اس سر درد کی طرح یے جو گولی کھانے سے ٹھیک تو ہوجاتا ہے مگر وقتی طور پہ کبھی کسی یاد کسی تکلیف کوئ دکھ کوئ۔ بچھتاوا سوچ تھے ہی دوبارہ ابھر آتا ہے۔۔
نہیں آج نہی حاشر پلیز مجھے بہت درد ہوتا ہے پلیززز
فلک جو ابھی اسکی پاگل ماں کی مار کھاکے آئ تھی اور مار بھی صرف اس بات پہ کے اسکا چہرہ صحیح صاف نہیں ہوا تھا۔۔
ارے ڈارلنگ آج تو بہت مزہ آئے گا نیو طریقے سے ٹرائ کرینگے ۔
حاشر نے یہ بولتے ہوئے اسے پکڑ کے اپنے پاس کھینچا۔۔
نہیں حاشر آج آنٹی ۔۔
آنٹی بولنے پہ ہی حاشر نے اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا۔۔
اااااہہہ۔۔
بالوں کے کھینچنے کی تکلیف اوپر سے مار کی تکلیف فلک کے آنسوؤں گرنے لگے ۔
ہزار بار بولا ہے ماما بولا کرو۔۔
حاشر نہیں پلیز آج نہیں میرے بہت درد ہورہا ہے جسم میں پلیزززززز
مگر حاشر نے ایک بار پھر اسکے ساتھ حیوانیت والا سلوک رکھا جیسے وہ اپنے حقوق کا نام دیتا تھا۔۔
کبھی جائز طریقے سے کبھی ناجائز طریقے سے ہر رات وہ اپنے حقوق فلک سے لیتا۔۔
آج حاشر نے فلک نے ساتھ جانوروں جیسے سلوک کیا فلک کی چیخیں باہر اسکی ماں سن کے خوش ہوتی تھی۔۔
اپنے حقوق پورے کرکے حاشر کی بس نہیں ہوئ ۔تھوڑی دیر بعد دوبارہ وہ اس پہ جانوروں کی طرح جھکا تو وہ بیہوش ہوگئ ۔
حاشر کی محبت کا تاج محل کسی آگ کی طرح ثابت ہوا۔۔
اسکی محبت کے وہ وعدہ وہ جزبات وہ احساسات ایک درندگی ثابت ہوئے جسکا نشانہ ہر رات فلک بنتی۔۔
حاشر کے ٹھات دیکھنے کے قابل تھے مگر اس نے فلک کو صرف ایک نوکرانی کو درجہ دیا تھا جو صرف اسکی پاگل ماں کا دیھان رکھتی۔۔
دن میں اسکی ماں اسکے ساتھ جانوروں جیسا سلوک رکھتی رات میں اسکی چیخیں سن کے خوش ہوتی۔۔۔
پورا پورا دن حاشر گھر سے باہر رہتا رات میں اکثر اسکے ساتھ اکی کوئ نیو گرل فرینڈ ہوتی جس کے ساتھ وہ زنا فلک کے سامنے کرتا ۔۔
کئ کئ دفعہ فلک نے اپنی عزت حاشر کے عیاش دوستوں سے اسٹور روم میں چھپ کے بچائ
صبح جب وہ حاشر سے شکوہ کرتی تو وہ یہ ہی کہتا یہاں سب چلتا ہے۔۔
محبت کا نشہ بہت حسین نشہ ہوتا ہے۔۔
جب چڑھتا ہے تو یار کے علاؤہ پوری دنیا گھومتی محسوس ہوتی ہے اور جب اترتا ہے تو سوائے موت کے علاؤہ کوئ سکون کی شہ محسوس نہیں ہوتی۔۔
حاشر کے رویے نے اسکے سلوک نے بھی فلک کیساتھ کچھ ایسا ہی کیا تھا۔۔
دن رات وہ صرف روتی اپنے پاپا کو یاد کرتی جس نے اسکے آگے ہاتھ بھی جوڑے تھے تاکے وہ حاشر سے شادی نہ کرے۔۔
کئ بار فلک نے بھاگنے کی بھی کوشش کریں مگر وہ کبھی گھر کا دروازہ بھی پار نہیں کرپائ۔۔
پکڑے جانے پہ حاشر اسے موت سے بھی بدتر سزا دیتا۔۔ساری رات وہ بھوکے کتے کے آگے ایسے پڑی رہتی کے ایک گز کا فاصلہ ہوتا اسمیں اور کتوں میں۔۔
!!!!!!!!!!!
۔عثمان عثمان۔۔
مہناز نے اٹھ کے اسے پکارنا شروع کردیا۔۔
پنڈی میں پوسٹنگ کی وجہ سے وہ دو مہینے سے پنڈی میں تھے۔۔
اسنے ایکسرسائز روم میں جھانکا تو عثمان وہی تھا پش آپ کرہا تھا ۔
بلیک ٹی شرٹ میں اسکے جھلکتے کسرتی بازوں کا لاجواب تھے ۔
عثمان نے مہناز کو دیکھا جو نیند میں جھومتے گیٹ سے ہی لک کے کھڑی ہوگئ۔
ماہی ادھر آؤ ۔۔
عثمان کے بولنے پہ ماہی آکے عثمان کے سامنے بیٹھ گئ مگر ابھی بھی اسکی آنکھیں بند تھی ۔۔
عثمان نے اسے اپنے سامنے لیٹا لیا۔۔
مہناز وہی کارپیٹ پہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گئ۔۔
عثمان اس کے اوپر آیا اور اس پہ جھک جھک کے پش آپ کرنے لگا۔۔
کبھی اسکے لبوں کو چومتا کبھی آنکھوں کو کبھی ایک گال کو کبھی دوسرے گال کو۔۔
مہناز پہ جو نیند کا غلبہ تھا وہ دومنٹ میں رفو چکر ہوگیا۔۔
وہ اٹھ کے بھاگنے لگی تو عثمان نے اسے کمر سے تھام کے اپنے اوپر گرا لیا ۔
اسکی گردن میں اپنا منہ دے کے اسکی جسم کی خوشبو سونگھنے لگا۔۔۔
عثمان یہ بیڈروم نہیں ہے ہٹے اوپر سے۔۔
شوہر کو بیوی کو پیار کرنے کیلیے بیڈروم کی ضرورت نہیں شرافت سے مجھے خودی ایک کس دو ۔
ایسا بول کے عثمان نے مہناز کے آگے اپنے لب کیے۔۔
مہناز جو اب مانی کی قربت سے شرمانے لگی تھی ماہی نے اسکو ایک دم خود سے دور کیا اور کہا۔۔
بہت زیادہ بدتمیز ہوگئے ہو بڑے ہوکے ۔
کہاں بدتمیزی دیکھانے دی تم نے کل رات ادھر آؤ پلیز ماہی تھوڑی دیر ۔
ماہی نے نفی میں گردن ہلائی اور بھاگی۔
عثمان اسے پکڑنے بھاگا تو وہ واش روم میں بند ہوگئ۔
یہ چیٹنگ ہے ماہی جان۔۔
کوئ چیٹنگ نہں پتہ ہے نہ آج کراچی جانا ہے تین دن بعد تاشہ کا نکاح ہے ۔
مجھے تیار ہونے دے آپ جائے نیچے بوا کو ناشتہ کا بولے۔۔
عثمان کو ماہی کی بات ٹھیک لگی اور فلحال اس نے رومینس سے بائیکاٹ کرکے ناشتہ کی طرف توجہ کی۔
!!!!!!!!
کوئ ضرورت نہیں اسے فون کرنے کی زارا جب اسے ہمارا خیال نہیں ہے تو ہمیں بھی نہیں ہونا چاہیے۔۔
اور کس نمبر پہ کال کروگی جو پچھلے 4 مہینوں سے بند ہے ۔۔
زبردستی کسی کیساتھ واسطہ نہیں رکھتے۔۔
نومیر جو کے کسی کام سے گھر آیا تھا لائبہ اور زارا کی باتیں سن کے بول پڑا۔۔
نومیر کے جاتے ہی لائبہ ایک بار پھر رونے لگی فلک اسکی پہلی اولاد اور ایک ہی بیٹی تھی۔
امی آپ پریشان نہیں ہو میں آج احسان سے بولونگی ۔
پتہ نہیں زارا میری بیٹی کہاں ہوگی کس حال میں ہوگی۔
اللہ اسے اپنی حفظ امان میں رکھے اس پہ رحم کرے۔
(امین)..
زارا بھی کافی اداس تھی اور فلک پر غصہ بھی ایسے بھی تھا ۔ایسا بھی محبت میں کیا مگن ہونا کے اپنوں کو ہی بھول جائے۔
زارا جب بھی غصہ میں ہوتی یہ ہی بولتی۔۔۔
احسان رات میں گھر آیا تو اس نے نومیر کی بات بتائ۔۔
صحیح کہہ رہے ہیں پاپا زارا ایسا بھی کیا مگن ہونا کے ایک کال بھی نہیں کریں حد ہے اور سونے پہ سہاگا جو۔ نمبر دیا وہ بھی بند کردیا تو مطلب صاف ہے کے وہ ملنا نہیں چاہتی تو پھر امی کو صبر کرنا چاہیے۔
احسان تو ایک طرفہ بات کیوں سوچ رہے ہو ہوسکتا ہے حاشر بھائ نے فلک کیساتھ کچھ غلط کرا ہو جبھی وہہ۔م
اوہ پلیز زارا یہاں کوئ ڈارمہ نہیں چل رہا اور اب فلک کے ٹوپک پہ بات نہیں ہوگی۔۔
!!!!!!!
ہر رات کی طرح آج بھی وہ اندھیرے میں کھلے آسمان کے نیچے سسک سسک کے نماز پڑھ رہی تھی۔۔
اسامہ کو تو جیسے اسکا دیدار کرنے کی عادت ہوگئ تھی ایک عجیب سے کشش تھی اس میں۔۔
اسامہ کو اکثر اپنے برابر والے گھر میں سے کسی لڑکی کی تکلیف میں چیخنے چلانے کی آوازیں آتی مگر یہاں امریکہ میں کوئ کسی کے پرسنل میٹر میں نہیں۔ بولتا تھا۔۔
ایک رات اسنے کسی لڑکی کو اپنی برابر والے گھر کی ٹیرس پہ سسکتے بلکتے دیکھا اسکا پورا وجود سجدے میں ہلتا تھا مگر اندھیرے کی وجہ سے وہ کبھی اس لڑکی کو دیکھ نہیں پایا تھا اسے حیرانگی ہوتی تھی اتنی سردی میں یہ کیسے کھلے آسمان کے نیچے نماز پڑھتی ہے جب کے انسان کو کھڑکی میں کھڑا ہونا بھی محال تھا اور وہ تہجد میں کھلے آسمان کے۔ نیچے سجدوں میں بلکتی تھی۔
جب تک وہ جاتی نہیں تھی اسامہ وہی کھڑا رہتا تھا مگر آج اسے صبح ہوگئ اور وہ لڑکی وہی سجدے میں پڑی رہی ۔
کسی نے آکے اسے زور سے ہلایا تو وہ ہڑبڑا کے اٹھی شاید اسکا شوہر تھا۔۔جسکی شکل ٹھیک سے اسامہ دیکھ نہیں پایا۔۔
جسے نے اسے اٹھا کے اسکے منہ پہ گیلا تولیہ پھینکا تھا۔۔
وہ لڑکی خاموشی سے اٹھ کے ریلنگ پاس آئ اور تولیہ پھیلانے لگی۔۔
اسامہ نے جب اس لڑکی کو دیکھا تو ایک دم اسے جھٹکا لگا اگر بر وقت وہ اپنی ریلنگ نہیں تھامتا تو وہ نیچے گر جاتا۔۔
انسو ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے بہنے لگے اور دھیرے سے صرف ایک نام پکارا۔۔
“فلک”
!!!!!!!!!!
کہاں جارہے ہو ؟؟
اسلام آباد جا رہا ہو اجاونگا نکاح کے بعد۔۔
اقراء نے بے بسی سے عمیر کو دیکھا اور کہا۔
بیٹا وہ اور زمان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تم بتاؤ میں کیسے بات کرتی بھابھی سے کے وہ تاشہ کا ہاتھ میرے بیٹے کے ہاتھ میں دیں دے۔۔
تمہارے بولنے سے پہلے زمان اپنی فیملی کیساتھ آگیا تھا تاشہ کا رشتہ لے کر۔۔۔
نومیر نے بیگ کی زپ بند کری اور اقراء کو دیکھتے ہوئے کہا۔
آپ تو ماں ہیں نہ میری پھر بھی میری آنکھوں میں دیکھ نہیں پائ کے تاشہ میرے لیے کیا ہے۔۔؟
آپکو احساس نہیں ہوا ماں میری محبت کا۔۔،؟
یہ بول کے عمیر کی آنکھیں بھیگنے لگی ۔۔
اقراء کے پاس عمیر کی کسی بات کا جواب نہیں تھا۔۔
میں اجاونگا نکاح کے بعد پلیز ابھی جانے دیں اتنا حوصلہ نہیں کے دیکھ پاؤ اسے کیسے کا ہوتے ہوئے۔۔
یہ بول کے عمیر نے اقراء کے ماتھے کو چوما اور چلا گیا۔۔
!!!!!!!!!!!!
کہاں رہ گئ ہے تاشہ بھابھی اتنی دیر ہوگئ اسے؟؟
پتہ نہیں اقراء میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔
ابھی وہ دونوں باتیں کررہے تھے کے جو ڈرائیور تاشہ کو پالر سے لینا گیا تھا وہ زخمی حالت میں اندر داخل ہوا ۔۔
کیا ہو اچانک بابا یہ آپکی حالت اور تاشہ کہاں ہے۔؟؟
بی بی جی تاشہ بی بی کو میں جب پالر سے لے کر نکلا کچھ لوگ گاڑیوں میں ہمارا پیچھا کرنے لگے ۔۔
ایک دم گاڑی انہوں نے میرے آگے لگا دی مجھے بہت مارا اور تاشہ بی بی کو اپنے ساتھ لے گئے۔۔
یہ خبر سننی تھی کے جنت بیہوش ہوگئ مجاہد مینشن میں ایک کہرام۔مچ گیا۔
عثمان دلنشین احسان زریاب سب ہی تاشہ کا پتہ لگانے میں ناکام ہوچکے تھے تیمور بھی تاشہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے پاگل ہوچکا تھا۔
جنت کا رو رو کر برا حال تھا حمزہ الگ غمزدہ تھا۔عمر بھی ہر جگہ اسے تلاش کرچکا تھا مگر ناکام تھا
مہناز زارا کبھی دلنشیںن کو سنبھالتی کبھی جنت کو ۔
سب تھک ہار کے واپس اچکے تھے لانج میں ایک قیامت کا سماں تھا جب دلنشیںن نے کہا۔
عثمان کہی یہ شاہ کا کام تو نہیں ؟؟
اس سے پہلے عثمان جواب دیتا مہناز بول پڑی ۔
مگر دلنشیںن شاہ بھائ یہ کام کیوں اور کیسے کرینگے وہ تو فلک آپی کیساتھ امریکہ کا جا چکے ہیں۔۔
مہناز کے منہ سے جملہ ادا ہونا تھا کے عثمان جھٹکے سے کھڑا ہوگیا دلنشیںن نے فورا اپنے دل پہ۔ہاتھ رکھا ادھر احسان کے گرتے وجود کو زریاب نے سنبھالا ۔
عفان کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ۔۔
جبکہ عثمان غصہ میں مہناز کے قریب پہنچا۔۔
!!!!!!!!!!!
تاشہ کا بیہوش وجود ایک عالیشان بستر پہ پڑا تھا۔۔
اسکا پاس بیٹھا نفوس مسکرا کے اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو دیکھا رہا تھا اور پھر اسنے تاشہ کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بس ایک جملہ کہا۔۔
“جنون ہے میرا ۔۔
بنوں میں تیرے قابل۔۔
تیرے بنا گزرا ۔۔
اے دل ہے مشکل۔۔
جاری یے۔۔
