Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
عمیر کا بولنا تھا کے کمرے میں تھپڑ کی اوازگونجی اور وہی عمیر جو خیال میں تاشہ کو روک چکا تھا ایک دم ہوش میں اکے بند دروازے کو دیکھنے لگا جہاں سے ابھی ابھی تاشہ گئ تھی۔۔
عمیر نے ایک لمبی سانس لی اور پھر خود ہی سے مخاطب ہوکے کہا۔۔
“واقعی کیا یہ تھپڑ مار سکتی ہے”
ویسے اچھا ہوا یہ خواب تھا۔۔
کیا سوچا ہے پھر رابعہ جاوگی ملنے اقبال سے ؟
اج عفان اور رابعہ واپس جارہے تھے جب عفان نے رابعہ سے پوچھا۔۔۔
نہیں عفان میں نہیں جاونگی۔۔۔
بس جب مجھے میرے بیٹے سمیت اس گھر سے نکالا تھا جب میرے بھائ نے کچھ نہیں کہا تو اب واسطے بحال کرنے سے کیا فائدہ کیونکہ اب اگر بھابھی یہ بھائ نے مجھ سے کوئ بدتمیزی کی تو عثمان سےبرداشت نہیں ہوگا اور وہ کچھ الٹا سیدھا کردے گا بھائ بھابھی کیساتھ کیونکہ اب عثمان 13 سال کا بچہ نہیں ہے۔۔
کچھ پتہ چلا امجد کا ؟
نہیں مایا ابھی تک تو نہیں مگر بہت جلد پتہ چل جائے گا ۔
صائمہ نے کچھ اگلا ؟مانی نے بھی مایا سے سوال کیا۔۔
ابھی تک تو نہیں مگر اج جو میں کرونگی اسکے بعد وہ کبھی چپ رہنے کی غلطی نہیں کریگی۔۔مایا نے مسکرا کے کافی کے کپ کو اپنے لبوں سے لگایا ۔۔
ایسا کیا کروگی تم؟
سامنے بیٹھے مانی نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
تم جانتے ہو میری تھرڈ ڈگری ٹارچر پھر بھی پوچھ رہے ہو۔
مایا مر جائے گی وہ ۔۔۔
ایسے نہیں مرے گی جب تک اپنے یار کا پتہ نہیں دے گی تب تک موت بھی اس سے دور رہے گی کیونکہ کے موت کا دوسرا نام مایا ہے
مانی نے مایا کو غور سے دیکھا اور کہا ۔
ویسے ایک بات ہے تم جسکی زندگی میں بھی دلہن بن کے شامل ہوگی اس بچارے نے تو تمہارے خوف سے ہی مرجانا ہے ۔۔
تمہیں کچھ ذیادہ فکر نہیں مجھے دلہن بنانے کی۔۔۔
ہاں تو تمہاری شادی ہوگی تو میں ارام سے اکیلے راج کرونگا اپنے اسے تارچڑ ہاوس میں اپنی من مانی کرونگا ۔۔
مانی تم اتنے بیزار ہو مجھ سے مایا نے افسردگی سے کہا۔
ہاں نہ میری جانی یہ کہہ کے مانی نے ہمیشہ کی طرح مایا کی گردن میں اپنا ہاتھ ڈال کے اسکا سر اپنے سر سے لگایا اورمسکرایا مایا بھی مانی کی اس حرکت پہ مسکرائ ۔۔
دونوں میں ہی ایک دوسرے کی جان تھی دونوں ایک دوسرے کیلیے جان دے بھی سکتے تھے اور لے بھی سکتے تھے۔۔۔
اب تم بتاو حاشر میں کیا کرو پاپا نے مجھے ایک مہینے کا ٹائم دیا ہے۔۔
اج یونی میں فلک نے گھر میں ہوا سارا ڈرامہ حاشر کو سنایا جیسے سن کے حاشر نے کوئ خاص ریکٹ نہیں کیا۔۔
حاشر تم اتنے ریلکس کیسے ہو میں تو ٹینشن سے مری جارہی یو۔۔
فلک نے جب حاشر کو اتنا ریلکس اپنی کار میں بیٹھا دیکھا تو غصہ میں بول پڑی اور جب حاشر نے پھر بھی کوئ پریشانی ظاہر نہیں کی فلک کی بات سن کے تو وہ کار سے نکلنے لگی جب حاشر نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اندر کھینچا اور اسکے لبوں پہ جھک گیا۔ ۔۔
اب ہوئ تمہاری ٹینشن دور۔۔۔؟؟
حاشر نے فلک کے لبوں کو ازاد کرتے ہوئے کہا۔۔
ایک مہینے کا ٹائم بہت دے دیا فلک تمہارے بابا نے میں ایک دو دن میں اپنے پیرینٹس کو لے اونگا۔۔
اب بلکل بھی مجھے تمہارا لٹکا ہوا منہ نظر نہ ائے۔۔۔
حاشر کی بات سن کے فلک حاشر کے سینے سے لگ گئ۔۔
مسلسل فون کی رنگنگ سے عثمان کی انکھ کھلی کال اٹھاتے ہی عثمان کے ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور وہ جتنی رش ڈرائیونگ کرسکتا تھا کرکے ظہرہ مائ کے کوٹھے میں پہنچا۔۔۔
چاندنی کے کمرے میں پہنچ کے عثمان کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئ ۔
چاندنی کے گلے سے بے تحاشہ خون نکل رہا تھا ایک ڈوپٹہ اسکے گلے پہ رمشہ رکھ کے کھڑی تھی اور مسلسل رو رہی تھی۔۔
چاندنی یہ سب کس نے کیا ؟؟
اٹھو تم فورا تمہیں کچھ نہیں ہوگا چاندنی ۔۔ہم ابھی ہسپتال جارہے ہیں۔۔
عثمان کی انکھوں سے انسو جاری تھے اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے کسی طرح سے بھی وہ چاندنی کو بچا لے۔۔
عثمان نے اگے بڑھ کے جیسی ہی چاندنی کو گودھ میں اٹھانا چاہا چاندنی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا۔۔
سوری بھائ اپکی مدد نہیں کرپائ اپنے جس کی تصویر مجھے دے دی یہ اسی کی مہربانی ہے چاندنی نے اپنے گلے سے نکلتے ہوئے خون کی طرف اشارہ کیا۔۔
اس کو دیکھ کے میں نے اسے باتوں میں لگایا مگر جیسی اپکو کال کرکے پلٹی اس نے میری گردن پہ چھری چلا دی۔۔
مگر بھائ اپ کی بہن نے پھر بھی اپکا ایک کام کردیا یہ بول کے چاندنی کی سانسیں ایک دم پھولنے لگی اس نے رمشہ کو اشارہ کیا تو وہ ایک پرس لائ اور عثمان کے حوالے کردیا۔۔
بھائ میری زندگی تو یہ ہی برباد ہوئ اور موت بھی یہی ائے گی مگر میری منی کو بچالو بھائ یہ بول کے چاندنی کی سانسیں رک گئ ادھر چاندنی کی سانسیں تھمتے ہی رمشا نے تیزی سے سوئ ہوئ منی کو عثمان کے حوالے کیا اور کہا۔۔
لے جاو عثمان بھائ اسے یہاں پہ ظہرہ مائ کوٹھے پہ نہیں ہے کل صبح ائے گی اگر انکے انے سے پہلے اپ یہاں سے نہیں گئے تو وہ منی کو چاندنی جگہ استعمال کرے گی بھائ لے جاو منی کو ۔۔
رمشہ کے کہنے پہ عثمان ہوش میں ایا اس منی کیساتھ ساتھ چاندنی کو بھی اس کوٹھے سے نکالا رمشہ کی مددسے ۔۔۔
وہ رات عثمان پہ بہت بھاری تھی سردخانے میں چاندنی کی لاش کو رکھنے کے بعد اس نے ایک کال کرکے کسی کو بلایا اور منی کو اسکے حوالے کیا اور عزت سے اپنی بہن کا نماز جنازہ پڑھا کے اسے دفنا دیا ۔۔۔
یار اج کمشنر صاحب نے ہمیں یہ کہاں بلایا ہے ؟؟
زریاب اور احسان ایک انجان جگہ پہ تھے جہاں انہیں انکے کمشنر صاحب نے بلایا تھا۔۔
زریاب نے جگہ دیکھ کے اپنے ساتھ بیٹھے احسان سے کہا۔۔
پتہ نہیں یار اگر کوئ بات کرنی تھی تو تھانے میں کرلیتے چل اندر جاکے معلوم ہوگا معملہ کیا ہے۔۔
او او زریاب اوراحسان ۔۔
تم لوگ سوچ رہے ہوگے کے یہ کس جگہ تم لوگوں کو بلایا ہے ۔۔
احسان اور زریاب جیسی اس تہہ خانے نما جگہ میں داخل ہوئے تو سامنے ایک بڑی سے میز پہ انہیں انکے کمشنر صاحب بیٹھے دیکھائ دیے۔
ہاں سر ایسی کونسی بات ہے سر جو ااپنے ہمیں یہاں بلایا۔۔
یہاں بلانے کی وجہ ایک خاص مشن ہے جو تھانے میں ڈسکس نہیں ہوسکتا ۔۔
ایسا کونسا مشن ہے سر جو تھانے میں ڈسکس نہیں ہوسکتا۔۔زریاب نے ایک بار پھر سوال پوچھا۔۔
یہ ایک سیکریٹ مشن ہے جسکے لیےمیں نے تم دونوں کو چنا ہے کیونکہ مجھے صرف تم دونوں پہ بھروسہ ہے۔۔
دو سیکریٹ ایجنٹ کے ساتھ مل کے تم لوگوں کو یہ کیس حل کرنا ہے اس مشن کے بارے میں کسی کو کوئ بھی خبرنہیں ہونی چاہیے ۔۔
مایا اور مانی نام تو سنا ہوگا تم لوگوں نے اج فائنلی تم دونوں ان دونوں سے ملوگے کیونکہ وہ اس مشن کے سیکریٹ ایجینٹ ہے ۔۔
مایا اور مانی یہ نام سن کے احسان کافی ایکسائٹیڈ ہوا جبکہ ان دونوں کا نام سن کے زریاب کے تیور چڑھ گئے۔۔
پانچ منٹ بعد دو نفوس کمرے میں داخل ہوئے جسے دیکھ کے کمشنر صاحب نے کہا۔۔
زریاب احسان میٹ مایا مانی۔۔
کمشنر صاحب کی بات سن کے زریاب اور احسان نے جیسی ہی گردن گھما کے مایا مانی کو دیکھا تواحسان کے تو منہ سے چائے نکل کے باہر گری اور زریاب تو سکتے کی حالت میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔۔
جاری ہے۔۔
