Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 48
Rate this Novel
Episode 48
اوہ آئ ایم سو سوری م۔۔۔۔۔
عثمان مہناز پہ گرتے ہی بوکھلا گیا۔۔۔
عثمان جیسی ہی مہناز کے اوپر سے اٹھنے لگا اسکے کرتے میں مہناز کی گیلے بال الجھ گئے۔۔
آ آ آ اسی۔۔۔
ایک تکلیف دے آواز مہناز کی نکلی جیسی سن کے عثمان دوبارہ مہناز پہ جھک گیا۔۔
کیا ہوا؟؟
عثمان میرے بال اٹک گئے شاید۔
مہناز کے بولنے عثمان نے اپنے گریبان کی طرف نگاہ ڈالی تو اسکے آگے کے بٹن میں مہناز کے بال الجھے ہوئے تھے۔۔
اوہہ ایک منٹ ہلانا نہیں۔۔
عثمان نے اپنی قمیض اتار دی۔
یہ عمل دیکھ کے مہناز نے اپنی آنکھیں فورا بند کرلی۔۔
عثمان فورا مہناز کے اوپر سے اٹھا اور سامنے بیٹھ کے مہناز کے بال نکالنے لگا اپنے کرتے کے بٹن سے۔۔
یہ کام کرتے ہوئے عثمان کے ہاتھ کافی کانپ رہے تھے کیونکہ مہناز کی گردن نیچے تھے اور بنا ڈوپٹہ کے مہناز کا سارا گلہ دیکھ رہا تھا۔۔
ارے یار کہاں پھنس گیا۔۔
عثمان نے دل میں کہا۔۔
مہناز قینچی کہاں ہے؟یہ نکل نہیں رہے بال تمہارے ۔۔
تو کیا تم میرے بال کاٹوں گے۔۔
مہناز ایک دم چیخ پڑی ۔۔
ارے نہیں ماہی تم بتاؤ قینچی کہاں ہے؟
مہناز نے سامنے ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا عثمان وہاں سے قینچی اٹھا کے لایا اور وہ بٹن ہی کرتے سے الگ کردیا جس میں مہناز کے بال۔الجھے تھے۔۔
بٹن الگ کرتے ہی عثمان نے فورا اپنا کرتا پہنا ۔۔
بٹن میں سے نکال لو اپنے بال اور جلدی تیار ہوجاو جانا ہے۔۔
عثمان نے نگاہ جھکا کے یہ بات مہناز سے کہی اور کمرے سے چلا گیا۔۔
مہناز جو عثمان کی قربت سے کافی گھبرائ ہوئ تھی ایک دم اس نے لمبی سانس لی اور اپنے بال بٹن میں سے الگ کرنے لگی بال نکالتے ہی وہ بٹن ڈسبن میں پھیکنے لگی مگر کچھ سوچتے ہوئے اس نے بٹن اپنی مٹھی میں دبا لیا۔۔
!!!!!!!!!!!!!
آپکو میں نے منع کیا ہے عمیر بھائ مجھے لینے نہیں آیا کرے میں صنوبر کیساتھ آجاتی ہو ۔
تاشہ نے عمیر کی گاڑی میں بیٹھ کے کافی غصہ میں ی ہی بات کہی۔
تمہیں پسند نہیں میرا آنا تمہیں لینے۔۔
بلکل نہیں پسند میں اب بچی نہیں ہو یونی جاتی ہو ا جا سکتی ہو خود پلیز آج کے بعد مت آئیے گا لینے مجھے۔۔
تاشہ یہ کہہ کے رخ موڑ کے شیشہ کے پار دیکھنے لگی۔۔
ادھر عمیر کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ وہ اس سرپہری لڑکی کا دماغ درست ابھی دو منٹ میں کردے۔۔
؟
!!!!!!!!!
عثمان تیار ہوکے اپنی گاڑی کے پاس کھڑا مہناز کا ویٹ کرنے لگا ۔۔
پہلے تو مہناز نے جانے سے صاف منع کردیا تھا مگر دلنشین نے جب اسکی اچھی خاصی عزت افزائی کی تب مہناز نے بنا نخرے کیے جانے کی حامی بھرلی ۔
دس منٹ سے عثمان مہناز کا ویٹ کررہا تھا اس سے پہلے وہ اندر جاتا عثمان کے نمبر پہ کال آنے لگی جسے سننے کے چکر میں عثمان اتنا مصروف ہوا کے اس نے دیھان ہی نہیں دیا کے مہناز اسکی گاڑی کے پاس کھڑی ہے۔۔
عثمان بات کرتے کرتے پلٹا تو مہناز کو تیار دیکھ کے کال پہ بات کرنا بھول گیا ۔
بیجیز کے بلیک سوٹ میں مہناز کا سراپا لاجواب تھا کانوں کی میں سلور کلر کی جھمکیاں ڈالے ہاتھوں میں تھوڑی تھوڑی سلور کی چوڑیاں پہنے وہ گاڑی کے پاس کھڑی تھی۔۔
عثمان نے بنا سامنے والے کی پوری بات سنے کال کٹ کی اور ڈور کے مہناز کیلیے گاڑی کی فرنٹ سیٹ کا گیٹ کھولا
مہناز خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔
جو ایک دوسرے بات کیے بنا رہتے نہیں تھے دن بھر کی ساری باتیں جب تک کر نہیں لیتے تھے تب تک سوتے نہیں تھے اور آج دونوں خاموش تھے ایسے جیسے اجنبی ہو۔۔
عثمان نے ہاتھ بڑا کے ساوئند سسٹم اون کیا اور جو گانا اس نے پلے کیا نہ چاہتے ہوئے بھی مہناز نے اس سے گھوم کر دیکھا
“یہ نظر بھی عجیب تھی
جس نے دیکھے تھے منظر سبھی ۔۔
دیکھ کے تجھے ایک نظر ۔۔
پھر نہ دیکھا کسی کو کبھی۔۔۔
میرا پہلا جنون۔۔۔۔
میرا پہلا جنون ۔۔۔
عشق آخری ہے تووووووو۔
میری زندگی ہے تو۔۔۔۔۔
آخری لائن پہ عثمان نے ایک نگاہ مہناز پہ ڈالی۔۔
مہناز نے جیسے یہ گانا سنا ایک بار پھر امجد کی یادوں نے گھیر لیا یہ وہ آخری مصرا تھا جو امجد نے اس کیلیے گایا تھا۔۔
ایک بار پھر مہناز کی آنکھوں میں امجد کو یاد کرکے آنسو بہنے لگے۔۔
عثمان دیکھ چکا تھا اسے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے۔۔
مگر وہ مجبور تھا اس کے پاس اب حق نہیں تھا اسکے آنسوؤں پونچنے کا ۔۔۔
عثمان نے گاڑی کا گھیر بدلنے کیلیے جیسی اسے ٹچ کیا تو اسکا ہاتھ گانا بند کرتی مہناز کے ہاتھ سے ٹچ ہوا۔۔
مہناز نے فورا اپنا ہاتھ پیچھے کیا عثمان نے پھر ایک بار مہناز کو دیکھا۔
مگر مہناز نگاہ گھوما گئ۔۔۔۔
ایک بار پھر اسکی محبت اسکے سامنے تھی اب وہ اتنا پتھر دل نہیں تھا کے محبت سے مکر جاتا جس محبت کو وہ پچپن میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جانب میں ختم کرکے گیا تھا اسے نہیں پتہ تھا ایک بار پھر وہ اسکے اندر ابھرنے لگے گی۔۔
“سچ کہوں تیرے نام پہ۔
دل ڈھرکتا ہے یہ آج بھی۔۔
دیکھ کے تجھے ایک دفعہ ۔۔
پھر نہ دیکھا کسی کو کبھی۔۔۔
شام ہے سکون۔کی۔۔
تو شام ہے سکون کی۔۔
چین کی گھڑی ہے تو۔۔۔
میری زندگی ہے تو””
!!!!!!!
آگے پیچھے ہی وہ لوگ ریسٹورنٹ پہنچے تھے ۔۔
کھانا بہت ہی اچھے ماحول میں کھایا گیا جب زارا نے وہ سوال کردیا جسکی توقع وہاں کسی کو بھی نہیں تھی۔۔
عثمان بھائ آپ سے ایک سوال پوچھنا تھا؟؟
ہاں بھابھی پوچھے۔۔۔
آپ اور مہناز کب کھلا رہے ہیں اپنی نکاح کے چھوارے ۔۔
زارا کی بات سن کے جہاں عثمان کو پھندا لگا وہی مہناز بھی کافی شرمندہ ہوئ جبکہ احسان نے گھور کے زارا کو دیکھا جو انتہائ مظلوم شکل بنا کے احسان کو دیکھ کے کندھے اچکانے لگی۔
جبکہ دلنشین بہت سیریس تھی اور زریاب اسے بھی زارا سے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔۔۔۔
بھابھی جب بھی کچھ ایسا ہوا سب سے پہلے آپکے گھر چھوارے کا پورا بورا بھجوانگا فلحال ایسی کوئ بات نہیں ہے ۔
ایک دم جیسے سناٹا سا چھا گیا کھانے کی ٹیبل پہ ۔۔
کھانے کھا کے سب اپنے اپنے راستوں پہ نکل گئے۔۔۔
زریاب دلنشین کیساتھ لانگ ڈرائیو پہ چلا گیا تھا اور احسان اور زارا شاپنگ پہ ۔۔
عثمان اور مہناز گھر کی طرف چل پڑے۔۔
دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔۔
جب اچانک انکی کار پہ کسی نے فائز کی۔۔
جاری ہے۔۔
