51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56

کیا کہا تم نے مہناز ؟
حاشر ہی شاہ ہے؟؟
تمہیں پتہ ہے ہم کس شاہ کی بات کررہے ہیں جو امجد کا گہرا دوست تھا اسی شاہ کی بات کررہی ہو تم؟؟
ہاں ۔۔
مہناز نے گردن ہلائ۔۔
تمہیں معلوم تھا فلک آپی کی شادی سے پہلے کے جن سے انکی شادی ہورہی ہے وہ شاہ ہے ؟؟؟
ج ی۔جی۔۔۔
تو یہ بات تم نے مجھے کیوں نہیں بتائ؟؟
مہناز کی بات سن کے عثمان اتنی بری طرح ڈھارا کے بلا جھجک مہناز کا ہاتھ اپنے دل پہ گیا۔۔
میں کچھ پوچھ رہا ہو تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا مہناز؟؟
عثمان نے اسکے بازوں کو سختی سے پکڑ کے جھنجھوڑ ڈالا۔
مہناز عثمان کے اس رویے سے رونے لگی۔۔
مجھے جواب چاہیے مہناز ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا۔۔۔
وہ جب مہندی میں ن میں نے انہیں دیکھا تو میں انہیں پہچان گئ ۔۔
انہوں نے مجھ سے اکیلے میں خاص ریکوسٹ کی تھی کے وہ فلک سے بہت محبت کرتے ہیں انہوں نے سارے برے کام چھوڑ دیے ہیں اگر فلک کے گھر والوں کو میری پہلی پہچان پتہ چلی تو وہ فلک کا رشتہ مجھ سے توڑ دینگے۔۔
بس اس وجہ سے مانی میں نے یہ یییہ ۔۔باا۔تت چھپائ۔۔
مہناز کی روتے روتے ہچکی بند گئ ۔۔
عثمان نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور ایک زور دار مکا سامنے رکھی کانچ کی ٹیبل پہ مارا جسکی وجہ سے اسکا سارا ہاتھ زخمی ہوگیا جسمیں سے تیزی سے خون بہنے لگا۔۔
عثمان کا ہاتھ دیکھ کے مہناز کا ہاتھ فورا اپنے منہ پہ گیا وہ جیسے عثمان کی طرف بڑھنے لگی عثمان نے غصہ میں کہا ۔۔
قریب بھی مت انا ورنہ جان لے لونگا تمہاری ۔۔
تم نے کیا سوچ کے مجھ سے چھپایا کیا سمجھا شاہ کون ہے؟؟
ہزار بار تمہارے آگے میں ذکر کیا اپنا مشن تک تمہیں بتایا مگر تمہیں تو شاہ بھائ بہت معصوم لگ رہے تھے نہ ۔۔
تمہیں اندازہ ہے وہ شخص ہے ۔کیا۔۔
تم مجھ پہ بھروسہ کرنے کے بجائے اس انسان پہ بھروسہ کرکے اسکی بات مان لی جس سے تم صرف دو بار ملی ہو۔۔
تمہیں پتہ ہے نہ امجد کیا کام کرتا تھا اور شاہ اسکا دوست اسکا باس ہے اندازہ نہیں ہوا تمہیں کے جب وہ امجد کو یہ کام چھوڑنے نہیں دے رہا تھا تو خود سدھرتا۔۔
عثمان ایک بار پھر چیخا۔۔
سب کو ہی سانپ سونگھ گیا تھا۔۔
لائبہ کا تو رو رو کر برا حال تھا احسان بھی شاکڈ کیفیت میں تھا۔۔
عثمان بس کرو اب۔۔
حمزہ اور عفان نے اگے بڑھ کر کہا۔۔
عثمان بس کرو اب ان باتوں کا فائدہ نہیں ہے۔
اسمیں مہناز کا کوئ قصور نہیں یہ ہماری قسمتیں ہیں ۔۔
ایک بیٹی نکاح سے پہلے غائب ہوگئ اور دوسری نے اپنے آپکو جہنم میں دھکیل دیا۔۔
دلنشیںن اسکو بولو اپنی شکل گم کرے یہاں سے ۔۔
مہناز کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔
مہناز کی اتنے سخت جملے پہ اور بلک بلک کے رونے لگی۔۔
بس کردو مانی اب کچھ مت بولنا مہناز کو ۔۔
احسان بھی بول پڑا ۔
زارا بھابھی کو لے کر اوپر جاؤ ۔
ہاں عثمان بس کرو جو ہونا تھا وہ ہوگیا پہلے ہم تاشہ کو ڈھونڈ لے اب فلک آپی کو مسئلہ ہے تو اسامہ کو ان سب سے آگاہ کرنا ہوگا یہ ہم سب کو امریکہ جانا ہوگا۔۔
یہ کیا گارنٹی ہے کے وہ امریکہ میں ہے۔؟؟
نیویارک شہر کی فلائٹ تھی انکی عثمان یہ تو میں نے بھی دیکھا تھا اب وہ وہاں ہے یہ نہیں یہ کنفرم نہیں۔۔
احسان نے کہا۔۔
تم لوگ سب سے پہلے تاشہ کو ڈھونڈو۔فلک کو تھوڑا اور مزرا چکھنے دو اسکی لازوال محبت کا۔۔
نومیر جو اتنی دیر سے خاموش تھا بول کے سیدھا باہر نکل گیا ۔لائبہ بھی اسکے پیچھے گئ۔۔
دیکھتے دیکھتے صرف پانچ لوگ وہاں رہ گئے۔۔
جن کو اب امریکہ جانا تھا۔۔
جنت جنت مل جائے گی ہماری تاشو فکر نہیں کرو جب ہم نے کسی کیساتھ برا نہیں کیا تو ہمارے ساتھ بھی نہیں ہوگا۔۔
حمزہ نے جنت کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
حمزہ ہم زمان کی فیملی کو کیا جواب دینگے۔
وہ سمجھ جائینگے زمان بہت محبت کرتا ہے ہماری تاشہ سے وہ ہماری تاشہ کو سہارا دے گا۔
حمزہ۔ایک جواں لڑکی پورا دن سے غائب ہے اب رات ہونے والی ہے کون اپنائے گا اسے حمزہ۔۔
جنت اچھا سوچو گی تو اچھا ہوگا الللہ کی ذات بہت بڑی ہے انشاءاللہ ہماری بیٹی جہاں ہوگی اللّٰہ کی حفظ وامان میں ہوگی۔۔
!!!!!!!!
تیمور صبح سے نکلا ابھی گھر پہنچا تھا تاشہ اور اوہ ایک ساتھ دنیا میں آئے تھے کبھی وہ تاشہ سے رات میں ملے بغیر نہیں سویا۔۔
ابھی جب وہ اسکے کمرے میں گیا تو خالی کمرہ دیکھ کے اسکے آنسو گرنے لگے ۔۔
جبھی اسکے موبائل پہ رنگ ہوئ۔۔
ہاں ثانیہ۔۔۔
ملی تاشہ۔۔۔
نہیں یار کہاں ڈھونڈو میں اسے ۔۔۔
یہ بول کے تیمور تاشہ کے سامنے بلک پڑا ۔
تیمور تیمور ایسے رو رو نہیں مل۔جائے گی انشاللہ تاشہ تم اللہ سے دعا کرو پلیز۔۔
ہممممم۔
اچھا چلو اب تم آرام کرو میں کل کال کرونگی۔۔
اپنا خیال رکھنا ۔
تیمور نے کال کٹ کی اور ادھر تاشہ کے بیڈ پہ ہی سوگیا۔۔
!!!!!!!!
رات کے کسی پہر تاشہ کی آنکھ کھلی۔۔
سر میں درد کی شدید لہر اٹھی۔۔
دو منٹ کیلیے اس نے آنکھیں کھول کے اوپر چھت کو دیکھا اور جیسے کچھ یاد آنے پہ ایک دم جھٹکے سے اٹھی۔۔
اس پاس نگاہ دورانے پہ اس نے دیکھا یہ ایک۔اعلیشان کمرہ تھا۔
تاشہ نے تیزی سے اٹھ کے بند دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔
کھولو کوئ ہے۔۔
پلیز مجھے یہاں سے نکالو پلیز دروازہ کھولو۔۔
ماما پاپا۔۔
زمان۔۔
تاشہ نے روتے روتے سب کے نام۔لیے
کھولو دروازہ پلیز کھولو۔۔۔
تاشہ زور زور سے دروازہ پیٹتے پیٹتے وہی بیہوش ہوگئ ۔
کچھ دیر بند دروازہ کھلا آنے والے نے تاشہ کو اپنی باہنوں میں اٹھایا اور بیڈ پہ بہت آرام سے لیٹایا۔۔
غور غور سے تاشہ کو دیکھنے لگا۔۔
سائیڈ میں سے پانی کا۔گلاس اٹھا کے چند پانی کی بوندیں اسکے چہرے پہ ٹپکائ۔۔
تاشہ چہرے پہ پانی پڑتے ہی جیسی ہی ہوش میں آنے لگی سامنے والے نہ اپنا چہرہ فورا چھپایا۔۔
تاشہ نے اپنی آنکھیں کھولی مگر اپنے سامنے کسی مرد کو دیکھ کے ایک دم ڈر کے چیخنے لگی۔۔
تم کون ہو اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔
دیکھو پلیز مجھے جانے دو پلیز میرا نکاح ہے آج پلیز۔۔
تاشہ آسکے اگے ہاتھ جوڑ کے رونے لگی۔
نقاب پوش نے جیسے ہی ہاتھ بڑھا ہے اسکے آنسو صاف کرنا چاہے۔۔
تاشہ نے ایک دم اسکا ہاتھ جھٹکا اور پاس پڑی چادر کو لپیٹتے ہوئے کہا۔۔
دور رہو مجھ سے پلیز میرے قریب مت انا اللّٰہ کا واسطہ ہے مجھے جانے دو۔۔
مگر سامنے والے نے کوئ ریکٹ نہی کرا ۔۔
تاشہ کوغور غور سے دیکھنے لگا۔۔
“ایک بار میری بن جاؤ پہلے پھر جانے کیا خود لے کر جاؤنگا گھر”
تاشہ نے جب سامنے والے کی آواز سنی تو اسکے ہاتھ سے چادر چھوٹ کے نیچے گری اس نے غور سے اسکی گہری ہری آنکھوں میں دیکھا ۔۔
تاشہ کو لگا کے ایک دم اسے کسی نہ زمین بوس کردیا۔۔
تاشہ نے ہاتھ بڑھا کے جیسے ہی سامنے والا کا نقاب نیچے کیا۔
اس نے صرف ایک ہی لفظ کہا۔۔
“عمیر”
اور وہی عمیر کے ہاتھوں میں جھول گئ ۔۔۔
!!!!!
رابعہ اور فائزہ پنڈی شفت ہوچکے تھے اس لیے انہیں یہاں مچے کہرام کی خبر نہیں تھی وہ دونوں شاید آجاتی آج کل میں تاشہ کے نکاح کیلیے مگر عفان نے فلحال انہیں یہ کہہ کے روک دیا کے نکاح ابھی رک گیا ہے۔۔۔۔۔
زریاب دلنشیںن عثمان سب نے ہی اپنے مخبر پورے کراچی شہر میں پھیلا دیے تھے۔
انہیں تاشہ کو ڈھونڈنا تھا ہر حال میں آج کے دن مگر انہیں کیا پتہ تھا کے انکے گھر کی لڑکی پہ نقب لگانے والا انکے گھر کا ہی فرد ہے ۔
حمزہ چھت پہ بیٹھا تھا جب عمر اس کے پاس ایا۔۔
بگ بی۔۔۔؟؟
ہممم۔۔
ادھر دیکھے میری طرف۔۔
حمزہ کے دیکھنے پہ عمر ڈور کے اسکے سینے سے لگ گیا اور کہا ۔
بگ بی آپ حوصلہ رکھے تاشہ ساتھ خیریت سے عزت سے گھر اجائے گی میرا دل کہتا ہے پلیز ایسے مایوس نہ ہو۔۔
عمر میں نے کیا بگاڑا ہے کسی کا جو میری بیٹی کیساتھ یہ سب ہورہا ہے ۔؟؟
بگ بی ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہوتی ہے انشاءاللہ تاشہ بہت جلد ہمیں مل جائے گی اور آپ یقین کرے جس نے اس کو اغواہ کیا ہے اسکا میں حال برا کردونگا۔۔
!!!!!!!
عثمان بھی تاشہ کو ڈھونڈ کے تھک گیا تھا آسمان کھا گیا یہ زمین نکل گئ اسکے مخبر بھی اسے ڈھونڈنے میں ناکام ہوچکے تھے۔۔
کمرے میں گھستے ہی اسے مہناز سامنے صوفے پہ روتے دیکھائے دی۔۔۔۔
عثمان کو دیکھ کے مہناز ایک دم کھڑی ہوگئ مگر عثمان نے اسکی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالی۔۔
سردی کا موسم تھا عثمان نے اپنے زخم پر اب تک کوئ ٹریٹمنٹ نہیں کروائی تھی۔۔
جیکٹ اتارتے ہوئے عثمان کو بے حد تکلیف ہورہی تھی مگر وہ ضبط کررہا تھا..
مہناز نے اکے اسکی ہیلپ کرنی چاہی تو عثمان نے اسکا ہاتھ جھٹک کے چیخ کے کہا۔۔
ہاتھ مت لگانا مجھے سمجھی تم۔۔۔
مانی میری ایک بار باتتتت۔
چپ ایک دم چپ کچھ نہیں سننا میں نے جاؤ یہاں سے دماغ خراب مت کرو میرا خدا کے لیے۔۔
عثمان یہ بول کے دوبارہ اپنی جیکٹ اتارنے لگا ۔
جیک اتار کے اسنے شرٹ اتارنے کی کوشش کی مگر اس سے اتر ہی نہیں رہی تھی۔۔
مہناز جو دور کھڑی تھی ایک دم قریب آئ مانی نے اس دو بار جھٹکا مگر وہ بھی ضد پہ آڑی رہی ۔
آگے بڑھ کے اسنے دوبارہ عثمان کی شرٹ اتاری ۔۔
عثمان غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا اسے اندازہ ہوگیا تھا کے وہ کافی دیر سے رو رہی ہے۔شرٹ اتار کے اس نے عثمان کے ہاتھ کی ڈریسنگ کری اور خاموشی سے عثمان کے چوڑے سینے سے لگ گئ۔۔
وہی عثمان کا غصہ ہوا میں اڑ گیا مگر وہ بولا کچھ نہیں ۔۔
آئ ایم سو سوری مانی مجھے اندازہ نہیں تھا کے میری ایک بات چھپانا تم سے مجھے اتنا بھاری پڑ جائے گا جب شاہ بھا۔۔
ابھی مہناز پوری بات کرتی کے عثمان نے اسے ایک دم آنکھیں دیکھائ۔۔
میرا مطلب ہے شاہ ۔۔
انہوں نے مجھے ریکوسٹ کری انہوں نے کے وہ بھی سدھر گئے ہیں امجد کی طرح جبھی میں خاموش رہی۔۔
اچھا سدھر گیا ہے جبھی 10 لڑکیوں کو لے گیا ہے پاکستان سے اور انکے ساتھ وہ کیا کرے گا یہ تم صرف سوچ سکتی ہو ماہی اور 10 نمبر پہ فلک آپی تھی۔۔
آئ ایم سوسوری۔۔مانی
اچھا چلو اب رونا بند کرو ۔
عثمان نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھاما اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
کچھ کھایا تم نے؟؟
نہیں تمہاری ڈانٹ کھالی بہت ہے۔۔
یہ بول کے ماہی اٹھنے لگی جب مانی نے اسکا ہاتھ دوبارہ تھاما اور کہا۔۔
تمہیں پتہ ہے مجھے ایسی ہی آتا ہے غصہ۔۔
پیار بھی تو کتنا کرتا ہو تم سے ۔۔
ماہی گردن نیچے کرکے دوبارہ رونے لگی۔۔
تم نے مجھے سب کے سامنے ڈانٹا۔۔
اچھا بابا سوری ادھر دیکھو میری طرف۔۔
ماہی نے آنسوں سے لبریز آنکھیں اٹھائ۔
تو مانی نے اسکی دونوں آنکھوں کو چوما اور اسکے لبوں کو چوم کے کہا۔۔
اب جاؤ جلدی سے کھانا لے کر آؤ بہت بھوک لگی ہے۔
عثمان نے اسکی ماتھے پہ ایک بار پھر اپنے لب رکھ کے سوری کہا۔۔۔
!!!!!!!.
تاشہ کو ہوش آیا تو اپنے سامنے نومیر کو دیکھ کے اسے شدید غصہ آیا ۔۔
وہ اٹھ کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تبھی عمیر نے اسے پیٹ سے تھام کے دوبارہ بستر پہ پھینک کے کہا۔۔
بولا نہ جب تک میری نہیں یوجاتی میں نہیں جانے دونگا ۔۔
آج شام میں ہمارا نکاح ہے ایک بار میرا نام تمہارے نام سے جڑ جائے پھر بھلے ناراض ہوتی رہنا ۔۔
عمیر نے ہنس کے یہ بات کہی مگر تاشہ کا پارہ ہائے ہوا اور اس نے رکھ کے زور دار چماٹ عمیر کو مارا ابھی وہ ایک تھپڑ سے سنبھلا نہیں تھا کے ایک اور چماٹ پڑا۔۔مگر عمیر مسکراتا رہا۔۔
کیا سمجھا ہے مجھے ۔۔
تم جو بولو گے میں کرونگی تاشہ نے ایک دم اسکا گریبان پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
میں زمان سے محبت کرتی ہو اور اسی کی زندگی میں شامل ہونگی یاد رکھنا تمہارا تو وہ حشر ہوگا کے دومنٹ میں محبت کا بھوت اتر جائے گا ۔۔
مجھے بلکل بھی کمزور نہیں سمجھنا۔۔
پاپا اور زریاب بھائ تمہیں چھوڑرینگے نہیں تیمور اور عمر بھی تمہیں بخشنے والے نہیں۔۔
آئ سمجھ چھوڑ کے او مجھے ابھی کے ابھی۔۔
یہ بول کے تاشہ کمرے سے باہر جانے لگی ۔
جب کے عمیر جو اسکی بکواس اتنی دیر سے سن رہا تھا آگے بڑھ کے اسے دوبارہ بیڈ پر پھینکا۔۔
اس سے پہلے تاشہ سنبھلتی عمیر اسکے لبوں پہ جھک چکا تھا۔۔
تاشہ مسلسل نفی میں گردن ہلاتی رہی مگر وہ نہ مانا جب تک اسکے حلق میں خون کا ذائقہ نہ گھلنے لگا۔۔
عمیر نے اسکے لب چھوڑے تو اس میں سے خون نکل رہا تھا۔۔
عمیر نے اسکا منہ دبوچتے ہوئے کہا۔۔
عزت کی بات سمجھ نہیں۔ آتی تمہیں۔ محبت کرتا ہو تم سے عزت سے اپنانا چاہتا تھا مگر تم قابل نہیں اب حلال طریقے سے نہ سہی حرام طریقے سے ہی بنوگی تو تم میری ہے ۔۔
یہ بول کے عمیر نے شرٹ اتاری اور تاشہ پہ جھکا۔۔
جاری ہے۔۔