51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46


امممممممم؟مم اممممممم
دلنشین مسلسل نفی میں گردن ہلا کے زریاب کو اشارہ کررہی تھی کے اپنا ہاتھ میرے منہ پہ سے ہٹائے ۔۔
پلیز میری لڑاکا وائف آواز نہیں نکالنا میں ہاتھ ہٹا رہا ہو۔۔۔
زریاب نے یہ بول کے دھیرے سے اسکے لبوں پہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا تو دلنشین نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے دھکا دیا اور کہا ۔
یہ کیا طریقہ ہے کسی کے کمرے میں آنے کا ہاں مینرز نہیں تم۔میں ؟
یہ کہہ کے دلنشین نے دوبارہ زریاب کو سنبھلنے سے پہلے دھکا دیا۔۔
دوسرے دھکے پہ زریاب سنبھل نہیں پایا اور پیڈ پہ گرگیا دلنشین جیسی ہی اسکے قریب آئ شرارہ اسکے پاؤں میں اٹکا اور وہ ڈھرام سے سیدھا زریاب کے اوپر اور شاید زریاب بھی اسی موقع کے تلاش میں تھا دلنشین کے گرتے ہی اس نے اسکی کمر کو پکڑا اور فورا اپنی پوزیشن بدلی دلنشین زریاب کی اتنی فاسٹ سروس پہ آنکھیں کھولے منہ کھولے بس اسکے گھورنے لگی۔۔
زریاب نے اسکے ہاتھ پہ اپنے ہاتھ پھنسائے اور کہا ۔۔
!!!!!
زارا نے اپنے بالوں کو نہیں باندھا بس اپنے آگے ڈوپٹہ پہلاہا۔۔
شرارہ سنبھالے اپنی کمرے میں موجود چھت کا دروازہ کھولنے لگی ۔۔
دروازے کھول کے جیسی ہی اسنے پہلا قدم اٹھایا ۔۔
ایک دم۔اسکے آگے کسی کا ہاتھ آیا ۔۔۔
زارا نے نگاہ اٹھا کے ہاتھ پھیلانے والے کو دیکھا احسان بلکل فرصت سے اسکے دیکھنے میں مصروف تھے شاید وہ وہاں پہلے سے کھڑا تھا۔۔
زارا نے اپنے ہاتھ آگے کیا تو اسکا ڈوپٹہ آگے سے سرک کیا یہ بات زارا نے نوٹ نہیں کی مگر احسان اپنی بیوی کے حسن کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا شاید اج اسکے دیکھنے کا انداز بدل چکا تھا۔۔
زارا کا ہاتھ تھام کے اس نے اسے آگے کیا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کے اسے باہنوں میں اٹھا لیا۔۔
زارا نے گھبرا کے احسان سے کہا۔۔
احسان کیا کررہے ہیں اتارے نیچے چھت پہ اگر کسی اس پاس والوں نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔
احسان نے اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیا بلکے زارا کے بولنے پہ اور اسکے خود سے لگالیا۔۔
زارا احسان کے اتنے قریب کبھی نہیں ائ۔
اسکی حالت عجیب سی ہورہی تھی اسنے احسان کا کال پکڑ لیا۔۔۔۔
چھت کے پچھلے حصہ میں جہاں اکثر وہ لوگ ملتے تھے احسان نے وہاں جاکے اسے اتارا ۔۔
اس جگہ کو دیکھ کے زارا کافی حیران ہوئ۔۔۔
پوری چھت پہ ایسا اندھیرا تھا کے زارا احسان کی باہنوں میں ہونے کے باوجود اسکا چہرہ دیکھ نہیں پارہی تھی ۔۔
مگر اس جگہ پہ ایک چھوٹا سے خیمہ ٹائپ لگا تھا جسکے اندر ہلکی سی ڈیم لائٹ جل رہی تھی ۔ جو صرف اس خیمہ کے اندر تھی زارا اس خیمہ کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے احسان نے کہا چلو اندر۔۔
زارا نے احسان کو پلٹ کے ایسے دیکھا جیسے وہ یہ کہہ رہا ہو کے جاؤں چھت سے کود جاؤ ۔
احسان یہ کافی چھوٹا ہے اس میں ایک ہی بندہ آسکتا ہے ۔۔
تم نے کیسے جج کرلیا کے یہ اندر سے چھوٹا ہے جب تک پوری طرح سے کسی چیز یہ انسان کے بارے میں معلومات حاصل نہ کرلیا کرو اسکے بارے میں اپنی رائے نہ دیا کرو خاص کر بری۔۔
احسان کا طنز زارا اچھی طرح سمجھ چکی تھی اس لیے خاموشی سے اندر بڑھ گئ ۔
احسان کی بات سچ تھی خیمہ اندر سے اسکی سوچ سے تھوڑا بڑا تھا اصل زارا شاکڈ جب ہوئ جب پورا خیمہ گلاب کی پتیوں سے بھرا تھا زارا نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو اسکے پاؤں بھی گلاب کی بتیوں پہ تھے سامنے ایک چھوٹا سا گدا نما بچھا تھا جس پر بھی گلاب کے پتیاں پڑی تھی زارا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ کرے تو کیا کرے احسان نے اسکے قریب آکے اسکی کان میں سرگوشی کی۔۔۔
آگے چلو مسسزاحسان آج آپکو محبت میں بھروسہ نہ کرنے کی سزا ملے گی۔۔۔
!!!!!!!
دلنشین کے گھورنے پہ زریاب نے اسکے گالوں پہ اپنے لب رکھے اور گنگنایا۔
“ایسے نہ مجھے تم دیکھو۔۔
سینے سے لگالونگا ۔۔۔
تم کو میں چرا لونگا تم سے ۔۔
دل میں بسالونگی””
زریاب کے کس کرنے پہ دلنشین کاپورا چہرہ ایک دم سرخ ہوگیا بولنا وہ بہت کچھ چاہ رہی تھی مگر اسکی زبان آج اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔
زریاب اسکے چہرے پہ بکھرے حیا کے رنگ دیکھ کے کافی انجوائے کررہا تھا ا۔۔
زریاب یہ کیا کرہے ہو ابھی تاشہ کافی لے کر اجائے گی اور اتنا فری کس سے پوچھ کے ہو رہے ہو۔۔ ہٹو اوپر سے۔۔
دلنشین کے لہجہ کی لڑکھڑاہٹ زریاب اچھے سے محسوس کرسکتا تھا۔۔
تاشہ نے ہی مجھے کہا جائے میرے پیارے جیجو یہ کافی آج اپنی بیوی کو اپنے ہاتھوں سے پلائے۔۔
زریاب کی بات پہ دلنشین نہ کا منہ کھل گیا۔۔
زریاب نے مسکرانے اسے دیکھا دونوں کی نظریں ایک دوسرے ٹکرائ مگر دلنشین زیادہ دیر تک زریاب کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پائ کیونکہ اسکی آنکھوں میں موجود قربت کا نشہ واضح تھا ۔۔
دلنشین فورا نگاہ جھکا گئ۔۔۔
زریاب نے دھیرے سے اسکی آنکھوں کو باری باری چوما اور پھر اسکی گردن پہ جھک گیا ۔۔
دلنشین کے پرفیوم کی خوشبو زریاب کو اور اکسانے لگی وہ دیوانہ وار دلنشین کی گردن پہ اپنے ہونٹ رکھنے لگا۔۔
دلنشین کی حالت عجیب ہورہی تھی وہ چاہ۔کر بھی زریاب کو اس عمل سے روک نہیں پارہی رہی تھی۔۔
!!!
زارا جھجھکتے ہوئے گدے پہ بیٹھی احسان بھی خیمے کے اندر داخل ہوا اور خیمہ پہ موجود پردہ گرادیا۔۔
اب دونوں ایک دوسرے کے روبرو تھے۔۔
زارا احسان کی نگاہوں سے کافی نروس ہورہی تھی بار بار کبھی اپنی ایک انگلی مرورتی کبھی دوسری احسان اسکی ساری کاروائی دیکھ رہا ۔
تبھی اسکی نظر زارا کی جھمکے پڑی جو ہیوی ہونے کی وجہ سے لٹک رہا تھا اور زارا کا کان سرخ کرچکا تھا۔۔
احسان تھوڑا اور زارا کے قریب ہوا اس نے ہاتھ جیسی ہی بڑھایا جھمکا اتارنے کیلیے زارا فورا پیچھے ہوئے۔۔
مگر احسان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے آگے کیا اور کانوں کے جھمکے اتار دیے ۔
دھیرے سے اسنے زارا کے کان کی سرخ لو کو چھوا ۔
اور کہا ۔
کیوں میرے ساتھ ایسا کیا مجھے موقع بھی نہیں خاموشی سے کسی اور کی دلہن بن گئ تھی اگر بروقت وہ سب نہ ہوتا دلنشین حقیقت نہ معلوم کرتی توجانتی ہو میں مرجاتا زارا اگر تم۔کسی اور کی ہوجاتی۔۔
احسان کی بات سن کے زارا نے فورا اسکے لبوں پہ اپنے مہندی سے لبریز ہاتھ رکھے اور کہا ۔۔
میں مجبور تھی احسان پاپا نے مجھے سوچنے کیلیے دو دن کا ٹائم دیا تھا آپ کیلیے فرض ضروری تھا محبت نہیں اپ۔کو ایک پل کیلیے بھی یہ یاد نہیں رہا کے میں زارا کو کھو دونگا۔۔
یہ بول کے زارا روتے روتے احسان کے سینے سے لگ گئ۔۔
میں بہت بڑے مسئلے میں پھنس گیا تھا زارا اگر اندازہ ہوتا زارا سے بے دھیانی میں اتنی ازیت میں گزرنا پڑتا تو یقین جانو میں وقت سے پہلے سب کردیتا مگر قسمت میں ہمارے اللہ نے ہمارا ملنا ایسے ہی لکھا تھا۔۔
احسان نے اسے خود سے الگ کیا اور اسکے آنسوؤں صاف کرے ہوئے کہا۔۔
تم بھی تو مجھے یاد دلا سکتی تھی ۔۔
احسان نے کے اس شکوے پہ زارا۔ ے گھور کے احسان کو دیکھا احسان اسکی کاجل سے لبریز آنکھوں کو دیکھ کے سردار ہوا اسکے گلابی ہونٹ جو ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے احسان نے بہت پیارے سے زارا کا چہرہ تھاما اور اسکے لبوں پہ جھک گیا ۔۔
اپنی پیاس بجھاتے بھجاتے بھجاتے وہ زارا کا اپنی گودھ میں بیٹھا چکا تھا۔۔۔
!!!!!!!!!!
زریاب نے گردن سے دلنشین کے ہونٹوں کا فیصلہ کب طے کیا دلنشین سمجھ نہیں پائ۔۔
زریاب نے دلنشین کے لبوں کو تھوڑی دیر بعد آزاد کیا اور غور سے دلنشین کا چہرہ دیکھنے لگا بند آنکھیں ہلکے ہلکے گیلے لب زریاب ایک بار پھر اسکے لبوں پہ۔جھک گیا۔۔
زریاب نے جب اپنی۔پیاس بجھالی تو اس نے دلنشین کو آزاد کیا اور کہا ۔
میرے یارم شکریہ مجھےاپنانے کیلیے ،اج مجھے اپنے اتنے قریب آنے دینے کیلیے ۔۔
زریاب کے الفاظ پہ دلنشین نے اپنی آنکھیں کھولیں تو زریاب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
اوپر سے ہٹے زریاب دلنشین نے اتنے آہستہ کہا کے مشکل سے ہی زریاب سن پایا زریاب دلنشین پہ سے ہٹا تو دلنشین اٹھ کے بیٹھی کندھوں سے نیچے ہوتی چولی دلنشین نے اوپر کی زریاب اسکی جھکی آنکھیں اسکے سرخ چہرہ دیکھ کے حیراں ہونے کیساتھ ساتھ خوش بھی تھا اسے نہیں پتہ تھا کے کوئ لڑکی شرماتے ہوئے اتنی حسین بھی لگ سکتی ہے۔۔
دلنشین کا دیپ گلا ہونے کی وجہ سے زریاب کی نظریں بار بار بھٹک رہی تھی مگر اس نے فلحال کچھ بھی کرنے سے اپنے آپ کو روکا۔۔
ایک جیولری کا باکس نکالا اس میں سے ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ رنگ نکال کے اسکے ہاتھ میں پہنانے کے بعد اسکے ہاتھ کی دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں جوڑا اور اسمیں موجود اپنے نام پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
دلنشین زریاب کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی مگر بولی کچھ نہیں۔ آج اس نے زریاب کو کچھ بھی کرنے سے نہیں روکا شاید رشتہ جو ایسا تھا۔۔
زریاب نے ایک بار پھر دلنشین کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کمرے سے چلا گیا۔۔
!!!!
احسان نے زارا کے لب آزاد کرکے اسکے گردن پہ اپنے لب رکھے اسکی کمر کو مظبوطی سے تھاما ہوا تھا۔۔
زارا نے سہارے کیلیے احسان کے کندھے کو تھاما ہوا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد احسان نے زارا کے لب آزاد کیے اور زارا کو دیکھا جو زور سے اپنی آنکھیں بند کری ہوئ تھی زارا کو دیکھ کے احسان نے مسکرا کے اسے گودھ سے نیچے اتارا اور کہا۔
زارا آنکھیں کھول کے مجھے دیکھو۔۔
زارا نے دھیرے سے آنکھیں کھول کے احسان کو دیکھا مگر احسان کا مسکراتا چہرہ دیکھ کے وہ پھر نگاہ جھکا گئ۔
احسان کو اسکی ۔اس ادا پہ ٹوتھ کے پیار آیا وہ تیزی سے زارا کے گلے لگ گیا ۔۔
زارا نے بھی احسان کو آج تھام لیا۔۔
یقین جانو زارا تم زندگی ہو میری تم سے محبت اور عشق دونوں ہے ۔۔
یہ بول کے زارا سے الگ ہوا تو زارا بھی مسکرانے لگی۔۔
ایک خوبصورت سی گولڈ کی چین احسان نے زارا کی گردن میں پہنائے اور اسکی گردن پہ اپنے لب رکھ دیے آج احسان اپنے ہر عمل سے زارا پہ یہ واضح کررہا تھا کے زارا اسکے لیے کیا ہے۔
احسان اب میں جاو کوئ انہ جائے کمرے میں پلیز۔۔
اچھا ٹھیک ایک کس دو اور جاو۔۔
ابھی اتنی دیر سے اپپپپ زارا پورا جملہ بول بھی نہیں پائ کے احسان دوبارہ اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد احسان اسے جیسے لایا تھا ویسے ہی اسکے کمرے میں چھوڑ آیا مگر واپسی پہ اسکے ماتھا چومنا نہیں بھولا۔۔۔
جاری یے۔۔