51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

دیکھتے دیکھتے کافی لوگ جمع ہوگئے۔۔۔
عمیر اور ان لڑکوں کے اس پاسس۔۔
تو نے ہاتھ کیسے لگایا اسے؟؟
عمیر پاگلوں کی طرح ان لڑکوں کو مار بھی رہا تھا اور پوچھ بھی رہا تھا۔۔
مال کے اونر اور وہاں کے سیکیورٹی گارڈ نے ان لوگوں کو الگ کیا عمیر ان دونوں کی اچھی خاصی حالت خراب کرچکا تھا۔۔
ائ ایم سو سوری سر ۔۔مال کا اونر عمیر سے سوری کرنے لگا۔۔
ان کو ابھی کے ابھی پولیس کے حوالے کرو ورنہ میں اپنا تو کیا ہر برانڈ کا کانٹریکٹ اپکے مال سے کینسل کروادنگا عمیر نے تقریبا چیختے ہوئے مال کے اونر کو وراننگ دی تھی
مال کا اونر عمیر کو دیکھ کے پہچان چکا تھا کے وہ کون ہے ۔۔
اس لیے اس سے معافی مانگنے لگا۔۔
مگر عمیر وہ تاشہ کو اپنے اس پاس جمع ہجوم میں دیکھنے لگا اور پھر ہجوم سے نکلتے ہی تاشہ اسے نظر ائ جو کونے میں پلر سے لگ کے رونے میں مصروف تھی۔۔۔
عمیر نے اگے بڑھ کے تاشہ کا ہاتھ پکڑ کے جیسی ہی اگے کیا وہ عمیر کی باہنوں میں بیہوش ہوگئ
عمیر نے بنا لوگوں کی پراوہ کیے اسے اپنی باہنوں میں اٹھایا اور مال سے باہر نکل گیا۔۔
کمرے کا دروازہ بند کرتے ہیں عثمان نے چاندی کی طرف منہ کرکے کہا۔۔
کیسی ہے میری بہن ؟؟
میں ٹھیک ہوں بھائی آپ سنائیں بڑے دنوں بعد آپ آئے ۔۔
یاد نہیں آتی آپ کو اپنی بہن کی۔۔چاندنی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا۔۔
ایسی بات نہیں ہے چاندنی میں ایک کیس کے سلسلے میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہوبس اسی سلسلے میں تم سے ملنے آیا ہوں وقت نہیں ہے میرے پاس ایک مہینے کے اندر ہمیں اس کیس کو حل کرنا ہے چاندنی ورنہ اس ملک کی کافی بیٹیاں اس دلدل میں پھنس جائے گی جہاں اج تم پھنسی ہو۔۔۔
عثمان بولتے بولتے ایک دم رکا جب کچھ یاد انے پہ کہا۔۔
یہ ہماری گڑیا کہاں ہے ؟؟
نظر نہیں آرہی ۔۔
عثمان نے چاندنی کی تین ماہ کی بیٹی کو کمرے میں ڈھونڈتے ہوئے کہا۔۔
وہ اس کو رمشا لے گئ اپنے ساتھ تھوڑی دیر کیلے اسے کسی کام سے مارکیٹ جانا تھا اپنے ساتھ لے گی بہت مشکل سے ظہرہ مائ نے اجازت دی تھی۔۔
یہ بولتے ہوئے چاندنی کی اواز اور انکھیں دونوں بھر ائ۔۔
فکر نہیں کرو چاندنی بس کچھ وقت اور میں لے جاونگا تمہیں اور منی کو ہمیشہ کیلیے۔۔
عثمان کی تسلی پہ چاندنی مسکرائ اور کہا۔۔
انشاءاللہ۔۔اپ بتائے بھائ کیا کام ہے اپکو؟؟.
ہاں یہ دیکھو چاندنی اس تصویر کو غور سے دیکھو اسکا نام امجد ہے مجھے میرے خبری نے خبر دی ہے یہ ریڈ لائٹ ایریا کا شوق رکھتا ہے عثمان نے اسے ایک تصویر دیکھاتے ہوئے کہا۔
یہ رکھو موبائل چاندنی اس پہ صرف میرا نمبر سیف ہے جس دن بھی یہ یہاں ائے تم نےخالی مجھے مس کال دینی ہے ابھی میں دو مہینے تک کراچی میں ہو۔۔
ٹھیک ہے بھائ ۔۔
اب میں چلتا ہو یہ رکھو تھوڑے پیسے اپنے پاس منی کے لیے تمارے لیے نہیں ہے منع نہیں کرنا۔۔۔
یہ کہہ کے عثمان چلا گیا اور چاندنی ایک بار پھر تصویر کو غور سے دیکھنے لگی۔۔
عثمان ایک کیس کے سلسلے میں گاہک بن کے ریڈ لائٹ ایریا ایا تھا جہاں ظہرہ مائ کے کوٹھے پہ اسے جس کمرے میں بھیجا گیا تھا وہ 17 سال کی چاندنی تھی جسے اسکا عاشق کوٹھے پہ بیچ گیا تھا عثمان نے چاندنی کا اپنی بہن مانا اور اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا مگر کوٹھے پہ سب کے سامنے یہ ہی بات شو ہے کے عثمان خاص چاندنی کیلیے اتا ہے۔۔
نومیر میرے سامنے کا بچہ ہے بہت سلجھا ہوا ہے سسرال والوں کی بھی کوئ لمبی چوڑی پنچائت نہیں ہے ایک ماں ہے بس باقی کی۔فیملی ساری باہر ہے۔۔
جنت مجھے لڑکے کی پک دیکھاو لائبہ نے پک دیکھی تو اسے بھی عمان اچھا لگا فائننشلی بھی بہت اسٹرونگ ہے لائبہ ہماری فلک بہت خوش رہے گی بہت ڈیسنٹ فیملی ہے۔۔۔
نومیر کیا خیال ہے تمہارا پھر لائبہ کو تو سمجھ میں اگیا ہے لڑکا کیوں لائبہ۔۔۔
ہاں جنت بلکل مجھے پسند اگیا ہے اور سب سے اہم بات فلک تمہارے سامنے رہے گی ہمیں چھان بین کی بھی ضرورت نہیں۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے جنت پھر انہیں تم اس ویک اینڈ کا بول دو انے کا ایک بار میں فلک سے بھی پوچھ لو ویسے مجھے پتہ ہے میری بیٹی میرا کہا ٹالے گی نہیں نومیر نے بہت فخریہ انداز میں کہا۔
۔ کہاں جانے کی بات ہورہی ہے پاپا ؟؟
فلک یونی سے آئی تھی تو ڈرائنگ روم سے اپنے پاپا کی آواز سن کے سیدھا وہی آگئی ارے جنت اپپو اپ بھی ہو۔۔
کیسی ہیں آپ ؟؟
فلک نے جنت کے گلے سے لگ کے انکے برابر میں بیٹھ کے کہا۔۔
بھئ آپ کی جنت اپپو آپ کے لئے ایک بہت ہی پیارے سے لڑکے کا رشتہ لائی ہیں۔بس اسے ہی دیکھنے جانے کی بات ہورہی ہے۔۔
۔
نومیر نے فلک کے سر پہ ہاتھ رکھ کے یہ بات کہی مگر فلک کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ کر دو منٹ کے لیے جنت کے مسکراتے لب ساکن ہو گئے۔
مگر پاپا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی فلک نے ایک ہلکا سا ایشو ظاہر کیا۔۔۔
شادی تو کرنی ہے شادی تو بادشاہ کی بیٹی کی بھی ہوتی ہے۔۔
نومیر نے مسکرا کے فلک کے ایشو کو مزاق کا رنگ دیا۔۔
میں نے آپ سے کہا مجھے شادی نہیں کرنی فلک نے نومیر کی بات سن کے اپنی ٹون بدلی۔۔
فلک نے جب اپنی ٹون چینج کرکے اپنے پاپا سے بات کی تو لائبہ نے اسے غصہ میں ٹوک کے کہا۔۔
یہ کس انداز میں تم بات کررہی ہو اپنے پاپا سے۔۔۔
ماما زندگی میری ہے فیصلہ کرنے کا بھی حق میرا ہے یہ بابائے ادم کا زمانہ نہیں جو خاموشی سے ماں باپ کے پسند کے لڑکے سے شادی کرلو۔۔
فلک زبان کو لگام دو اپنی لائبہ کی اوازپورے ڈرائنگ روم میں گونجی۔۔
نومیر نے فلک کے رنگ دھنگ دیکھ کے جہاں حیران تھا وہی اسکو چپ بھی لگ گئ۔۔
فلاک بیٹا آپ صحیح کہہ رہی ہو ۔۔
آپ کو اپنی پسند ناپسند ظاہر کرنے کا پورا حق ہے لیکن بیٹا ماں باپ جو فیصلہ کرتے ہیں وہ غلط نہیں ہوتا اولاد کے لئے آپ دیکھ تو لو ایک بار عمان کو ۔
عمان نام سن کے فلک کے دماغ میں چھن کرکے کسی کا چہرا ایا اس نے غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچی۔
ان کے سٹیٹس کو ان کی فیملی کو پھر فیصلہ کرنا اور اگر آپ کو یقین ہے اپنی اپپو پہ تو میں آپ کو گارنٹی دیتی ہو عمان بہت اچھا پیارا اور ڈیسنٹ لڑکا ہے اس کی فیملی بہت اچھی ہے جنت نے جب معاملہ گرم ہوتا ہوا دیکھا تو فلک کو سمجھانا چاہا جنت کی بات سن کر فلک نے ایک لمبا سانس کھینچا۔۔
اور کہا۔۔
اگر اتنا ہی اچھا ہے اب وہ عمان تو آپ اپنی دلنشین کی شادی اس سے کیوں نہیں کردیتی میرے لیے رشتہ کیوں لائ آپ میں نے کہہ دیا کہ شادی نہیں کرنی تو نہیں کرنی ہے۔۔
فلک غصہ میں ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئ اور نومیر اور جنت بلکل خاموش ہوگئے۔۔۔۔
نومیر نے گاڑی روکتے ہی بنا تاشہ پہ نگاہ ڈالے تیزی سے گھر کے اندر چلا گیا پورے راستے جسطرح کی رش ڈرائیونگ عمیر کررہا تھا تاشہ کو اندازہ تھا وہ کتنے غصہ میں ہے۔۔
گھر پہنچنے پہ تاشہ کو سناٹا ملا تو اس نے سکھ کا سانس لیا اقراء برابر میں قران خوانی میں گئ تھی اس لیے انہیں کسی نے اندر اتا نہیں دیکھا ۔۔
تاشہ نے اوپر سیڑھیاں چڑتے ہوئے عمیر کو دیکھا مگر جب عمیر نے غصہ میں سیڑھیاں چڑتے ہوئے زور سے مکا دیوار پہ مارا تو تاشہ نے ڈر کے فورا اپنے منہ ہاتھ رکھا اور اپنے کمرے میں چلی گئ۔
اخری بار پوچھ رہی ہو امجد کہاں ملے گا ۔۔؟؟
مایا نے ایک زور دار تھپڑ اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کے منہ پہ مارا ۔۔
تو جتنا بھی زور لگالے مگر مجھ سے اگل وا نہیں سکے گی اج نہیں تو کل مجھے امجد یہاں سے نکال لے گا اسکے بعد تیرے ساتھ میں کیا کرونگی۔تجھے اندازہ نہیں اس چہرہ کو اگر تیزاب سے نہیں رنگا نہ تو میرا نام صائمہ نہیں۔۔
مایا نے اسکے بولنے پہ ایک اور تھپڑ اسکے منہ مارا اور کہا۔۔۔
یہ مایا کو ٹارچر سیل ہے جانی اللہ کے حکم سے صرف موت تجھے یہاں سے ریہائ دلا سکتی ہے اور رہا سوال میرے چہرے پہ تیزاب پھینکے کا تو اج تک میرے گھر والے میرا اصل چہرہ نہیں دیکھ پائے تو تو پھر ابھی بچی یے یاد کرلے اچھے سے اپنے یار کا ٹھکانہ ورنہ قبر تو بک ہے تیری یہ بول کے مایا ٹارچر سیل سے باہر نکلی جب مانی نے اسے جو اطلاع دی مایا نے اسے گھور کے دیکھا اور ایک لمبی سانس لی اور کہا۔۔
مانی یار یہ بہت مشکل ہے تم جانتے ہو ایسے کیسے مطلب تم سمجھو بات ۔۔
یار وہ فائدہ اٹھائے گا اس بات کا ۔۔
نہیں اٹھائے گا ائ نووو۔۔
ٹھیک ہے بلا والوں پھر مجھے کیا کچھ الٹی سیدھی حرکت اس نے کری تو یقین جانو تمہارے سر پہ ٹانکے لگواتے ہوئے مجھے زرا افسوس نہیں ہوگا۔۔۔
جاری ہے