Rate this Novel
Episode 5
بتاوگے کیا ہوا ہے رو کیوں رہے ہو؟؟؟
مہناز سے پھر لڑائ ہوئ؟؟
نہیں۔۔۔عثمان نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔۔
پھر کیوں رہو رہے ہو اور اسکول کیوں نہیں آوگے۔۔؟؟
بس میں اپنی ماما کو اور روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا اور اپنے لیے انہیں بھیگ مانگتا نہیں دیکھ سکتا۔۔
ہوا کیا ہے عثمان؟
کھل کے بتاو ۔۔۔
اج جب صبح ماما نے مامی سے میری فیس کے پیسے مانگے تو انہوں نے انہیں بہت ذلیل کیا۔۔ماموں بھی خاموش تماشائ بنے رہے ۔۔
دادو کی طرف سے ہمیں جو حصہ ملا تھا ماموں نے وہ بھی ماما سے بھیلا پھسلا کے لے لیا۔۔۔
دن رات میری ماما نوکرانی کی طرح اپنے ماں باپ کے گھر میں کام کرتی ہیں صرف اس لیے تاکے مجھے کھانا مل سکے اور مہناز کبھی میری مدد کر دیتی ہے چپکے سے تو سونیا (مامی کی چھوٹی بیٹی) فورا مامی سے شکایت کرتی ہے میری وجہ سے وہ بھی پٹتی ہے۔۔
بس دلنشین اب میں پڑھائ چھوڑ دونگا دن رات محنت کرونگا اپنی ماما کیلیے الگ گھر لونگا ۔۔
مگر عثمان تمہارا تو خواب ہے نہ آرمی آفیسر بننا ؟؟
ہاں دلنشین مگر اب میں اپنی ماما کو اور ذلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتا بس۔۔
تم بتا رہے تھے نہ تمہارے چاچو روز اتے ہیں تمہیں دادو کے گھر لیجانے کیلیے تو جاتے کیوں نہیں تم لوگ۔؟؟
ماما بتاتی ہیں چاچو اچھے انسان نہیں ۔۔
عثمان کی بات پہ دلنشین خاموش ہوگئ۔
عثمان نے اپنا بیگ اٹھایا اور خاموشی سے کلاس میں چلا گیا۔۔
عثمان کو گئے ابھی چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کے مہناز اس کے پاس آئ مہناز کی آنکھیں بھی اسکے رونے کی چغلی کھارہی تھی۔
مہناز تم سمجھاتی نہیں ہو اپنی ماما کو کسی یتیم کی ہائے بدعا اگر لگ جائے تو انسان کہی کا نہیں رہتا ۔۔۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے ذیادہ یتیموں کو خوش رکھنے کو کہا ہے یتیموں کا مال کھانے والا ہمیشہ برباد رہتا ہے۔۔۔
میں کیا کرو دلنشین میں اگر اپنی ماما کو کچھ بولتی ہو تو الٹا وہ مجھے مارنے لگتی ہیں یہ بول کے مہناز بھی رونے لگی دلنشین کے دونوں جگری دوست اج رو رہے تھے مگر دلنشین نے سوچ لیا تھا اسے اپنے دوست کیلیے کیا کرنا ہے۔۔
عثمان کے ابو کی ایک کریانہ شاپ تھی جس سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی عثمان کی ماما رابعہ نے اپنے ماں باپ کے فیصلہ کو اہمیت دی اور اپنی محبت سے رخ موڑ لیا محض 21 سال کی عمر میں انکے ماں باپ نے انکی شادی کردی رابعہ کو سسرال ملا تو وہ بھی نہ قدرا ملا عثمان کے والد آصف صاحب اپنے گھر والوں سے کافی الگ تھے رابعہ کو انہوں نے ہاتھوں کا چھالہ بنایا تھا تو وہ بھی اپنی ادھوری محبت کو دل کے کسی کونے میں دفن کرچکی تھی۔۔
ایک کار ایکسیڈنٹ میں آصف صاحب کی ڈیتھ ہوگئ اور رابعہ ایک بار پھر ماں باپ کی دہلیز پہ آگئ مگر اسکی بھابھی سے وہ برداشت نہیں ہوتی تھی سسرال سے جو تھوڑا بہت رابعہ کو حصہ ملا وہ بھی اسکا بھائ کھا گیا ۔۔
عثمان محض تین سال کا تھا جب آصف صاحب اس دنیا سے گئے ۔۔آصف صاحب کے بھائ کی گندی نگاہوں سے رابعہ پہلے دن سے واقف تھی انکی عدت پوری ہوئ تو انکا دیوار اپنا رشتہ لے کے رابعہ کے بھائ بھابھی کے گھر پہنچ گیا رابعہ کی خوبصورتی کا وہ پہلے سے دیوانہ تھا مگر رابعہ بیگم نے اسکے منہ پہ نہ صرف رشتہ ٹھکرایا بلکہ سسرال جاکے اسکی شکایت اسکی بیوی سے کی دیور سے تو فلحال رابعہ کی جان چھوٹ چکی تھی مگر اب سب سے بڑی مصیبت بھابھی کا بھائ دلاور تھا جسکی نیت رابعہ کو دیکھ کے پھسل چکی تھی وہ دولت مند ضرور تھا ۔مگر ایک نمبر کا عیاش تھا رابعہ سے اگر اسکی شادی ہوتی تو وہ اسکی 4 بیوی ہوتی اور اس شادی کے بدلے دلاور اپنی بہن کو اچھی خاصی رقم دینے والا تھا ۔۔
احسان؟؟
جی دادو ۔۔
شبنم بیگم نے ہال میں بیٹھے احسان کو مخاطب کرکے کہا۔۔
کتنے سال کی ٹریننگ ہے بیٹا؟؟
دادو 2 سال کی ہے مگر ایک سال اور میں اور زریاب اسپیشل ٹریننگ لینگے۔۔
اچھا تمہاری ماریہ پھپو کی شادی اسی سال کے اندر ہے اور بسمہ پھوپو کی اگلے سال یاد رکھنا تم دونوں۔۔
ارے ہاں ہاں دادو اب بے فکر رہے ہم دونوں شادیوں میں ضرور آئینگے۔۔
ہمم شبنم بیگم کی گودھ میں لیٹتے ہوئے کہا۔۔
ارے دادو ہمارا بھی کوئ بندوبست کرے شادی وادی کا۔۔
احسان نے گودھ میں لیٹے لیٹے آنکھیں موندیں موندیں کہا۔
بدمعاش شرم کر ابھی بہن گھر میں ہے اور تجھے شادی کی پڑی ہے۔۔
ارے دادو تو بہن کیساتھ اسکے چھوٹے معصوم بھائ کو بھی نمٹانے کی سوچیں ۔۔
میرے آنے والے بچے اپکو دعائیں دینگے۔۔۔
افف اپا یہ بہت بدمعاش ہوگیا ہے ۔۔خالدہ بیگم نے بھی انہیں جوائن کرتے ہوئے کہا۔۔
فلک فلک ۔۔
سائرہ کی آواز پہ خالدہ اور شبنم بیگم دونوں چونکی جب کے شبنم بیگم کی گودھ میں آنکھیں بند کرکے لیٹا احسان کے لب سائرہ کی آمد پہ دھیرے سے مسکرائے۔۔
ارے سائرہ بیٹا کیسی ہو اور یہ کیا لائ ہو؟؟
خالدہ بیگم نے اسکے ہاتھ میں پلیٹ دیکھ کے کہا۔۔
ارے دادو یہ ماما نے پلاو بھیجا ہے۔۔
اتنے سے پلاو میں سب کیسے کھائنگے ؟؟
کسی کو کھلانے کیلیے دل تو پڑا کرو دعا آنی کا دل تو بہت بڑا ہے تم کس پہ گئ ہو۔۔
احسان نے انکھیں بند کرے کرے کہا۔
سائرہ نے ایک نظر احسان پہ ڈالی اور گھور کے کہا۔۔
وہ کیا ہے یہ میں اپنی دوست کیلیے لائ تھی اور رہا سوال تمہارا تو تم۔جاو گھر میں پٹیلا بھر کے بنا ہے اگر پھر بھی دل نہ بھرے تو میں نے کبوتروں کے پنجروں میں بھی ڈالے ہیں کھالینا۔۔
شبنم اور خالدہ بیگم کا سائرہ کی بات سن کے قہقہ نکلا ۔
شبنم بیگم اور خالدہ بیگم نماز پڑھنے اٹھی اور سائرہ فلک کے کمرے میں سائرہ فلک سے دو سال چھوٹی تھی مگر ان دونوں کی خوب جمتی تھی۔۔
دونوں بڑے بیگمات کے جاتے احسان وہی ہال۔کے صوفے پہ۔لیٹے لیٹے ٹی وی دیکھنے لگا۔۔
رات کے کھانے میں سب خوش گپوں میں مصروف تھے۔مگر چپ تھی تو صرف دلنشین جسکے دماغ میں صرف عثمان چل رہا تھا باقی سب تو کھانے سے انصاف کررہے تھے مگر دو لوگ تھے جسکی نظریں دلنشین پہ تھی ۔
کھانے کے بعد سب ادھر ادھر مصرف تھے دلنشین نے کافی کا کپ اٹھایا اور چھت پہ چلی گئ۔۔
کسی کی آہٹ پہ زریاب نے جلدی سے سگریٹ بھجائ اور فورا منہ میں ببل ڈال لی۔۔
دلنشین یہ جانے بغیر کے زریاب چھت پہ ہے دلنشین نے اپنے بال کیچر سے اذاد کیے اور جھولے پہ بیٹھ کے کچھ سوچنے لگی۔۔
چاند کی روشنی میں دلنشین کا عکس کسی اپسرا سے کم نہیں لگا رہا تھا
زریاب کا اب دلنشین کو دیکھنے کا انداز بدل چکا تھا بلیک کلر کی ٹی شرت اور ٹراوزر میں دلنشین زریاب کا۔دل بے ایمان کررہا تھی
دونوں نے ہی ابھی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تھا دونوں ہی۔لابالی تھے ایس خیال جنت کا تھا مگر دلنشین اپنے اپکو 13 سال کی ہرگز نہیں سمجھتی تھی۔
زریاب کا ارادہ جھولے کے پیچھے سے دلنشین کو ڈرانے کا تھا مگر اس بیچارے کو کیا پتہ تھا کے ایسا مزاق اسے کتنا بھاری پڑنے والا تھا۔۔
دلنشین جو اپنی سوچوں میں گم تھی اپنے پیچھے کسی کی آہٹ پہ ایک دم الرٹ ہوئ اس سے پہلے زریاب اسے پیچھے سے ڈراتا دلنشین نے ایک دم اپنے سیدھے ہاتھ کی کونے پیچھے کرکے زور سے زریاب کی ناک پہ ماری جھولے سے نیچھے جھک کے الٹی ہوکے اپنی سیدھی ٹانگ زور سے زریاب کے منہ پہ ماری اس سے پہلے زریاب ابھی سنبھالتا دلنشین نے دوبارہ ایک اور لات زریاب کو مارنا چاہی مگر زریاب نے اسکی ٹانگ پکڑ کے گھمائ مگر اس چکر میں دلنشین جھولے نیچے گری اور زریاب اسکے اوپر گرا۔۔۔۔
دلنشین نے جب زریاب کو اپنے اوپر جھکے دیکھا تو غصہ میں الٹے ہاتھ آڑا کرکے اچانک زریاب کی گردن پہ۔مارا زریاب تکلیف کی شدت سے اسکے اوپر سے ہٹا تو دلنشین فورا کھڑی ہو۔۔
افف جنگلی بلی کیا کررہی ہو میں صرف مزاق کررہا تھا تمہیں ڈرانے کا زریاب نے تکلیف سے اپنی گردن پکڑتے ہوئے کہا۔۔
دلنشین نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو جوڑا بناتے ہوئے کہا۔
ہو 13 سال کی مگر ہرگز بچی نہیں سمجھنا مجھے اپنی حفاظت کرنا خوب اتی ہے آئندہ ایسی حرکت کرنے سے پہلے اس ٹریلر کو یاد رکھنا اور اگر پوری فلم دیکھنا کا شوق ہو تو لینا دوبارہ پنگا چرسی کہی کا ۔۔۔
زریاب جو اپنی گردن سہلا رہا تھا دلنشین کے چرسی بولنے پہ گھور کے دلنشین کو دیکھا اور کہا۔””
کیا کہا پھر سے کہو؟؟
زریاب نے اپنے سامنے کھڑی اس 13 سال کی لڑکی کو دیکھا جو جسامت سے ،ذہانت سے 13 سال کی نہیں لگ رہے تھی۔۔
میں نے کہا چرسی ۔۔۔
دلنشین نے دوبارہ اپنی بات دہراتے ہوئے کہا۔۔
مطلب کیا ہے تمہارا؟
زریاب تو اپنی چوری پکڑی جانے میں ببھر گیا۔۔
میرا مطلب یہ ہے کے تو جو کبھی کمرے کی کھڑکی کبھی پول کے سائید کبھی واش روم میں جو سوٹٹے لگاتے ہوئے اپنے اپکو شارخ خان سمجھتے ہونہ تو یہ سوچ تم اپنے دماغ سے نکال دو کے تو سگریٹ پیتے ہوئے کیا لگتے ہو اسے پہ تمہیں یاد دلایا کے چرسی لگتے ہو ۔۔
یہ بول کے دلنشین نے باقاعدہ زریاب کی نقل اتاری سگریٹ پیتے ہوئے۔۔
زریاب نے ایک آئیبرو اچکا کے اسے دیکھا اور کہا۔
اب تمہیں میں بتاتا ہو چرسی کہتے کیسے ہیں۔۔
یہ بول کے زریاب جیسے ہی دلنشن کی طرف غصہ میں بڑھا تبھی ایک زور دار آواز گونجی۔۔
وہی روک جاو چرسی۔۔۔
جاری ہے۔۔
