Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 9)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 9)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
“بھائی آپ نے بتایا نہیں آپ نور کی آپی کو کیسے جانتے ہیں ؟ ” کیف گاڑی ڈرائیو کررہا تھا جب ساتھ بیٹھی منال نے پوچھا۔ وہ لوگ مال سے اب گھر جارہے تھے۔
” میری یونیورسٹی میں ہے۔۔۔۔ساتھ پڑھتی ہے میرے “
” او !!! تو اسی لئے آپ انہیں تنگ کررہے تھے، لیکن بری بات ہے بھائی نور بھی ساتھ تھی وہ کیا سوچے گی کہ منال کے بھائی کیسے ہیں ؟ ” وہ بڑے پیار سے اپنے بھائی کو سمجھا رہی تھی۔ کیف مسکرایا تھا۔
” تم فکر نہیں کرو وہ تمہارے بھائی کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سوچے گی اور ویسے بھی میرا اور باسکٹ کا چلتا ہے “
” باسکٹ ؟ ” نور نے گردن موڑ کر کیف کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
” ہاں وہ تمہاری دوست کی آپی ” کیف نے بتایا۔
” ہا ہا ! بھلا یہ کیسا نام رکھا ہے آپ نے انکا ؟ ” منال ہنسی تھی۔ کیف اب اسے اپنی اور عنایہ کی پہلی ملاقات کے بارے میں بتانے لگا۔
*******************
عنایہ نائٹ سوٹ میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھوں اور گردن پر لوشن لگا رہی تھی جب اسے اپنے عقب سے نور کی آواز آئی۔
” یار آپی منال کے بھائی کتنے ہینڈسم ہیں نا ؟ ہائے۔۔۔۔۔۔میرا تو دل آگیا ان پے ” نور بیڈ پر چیت لیٹی کیف کے بارے سوچ رہی تھی۔
” پتا نہیں ان لڑکیوں کو کیا نظر آتا ہے اس میں ” نور کی بات پر عنایہ نے منہ بنایا تھا۔
” نور تمہارا ٹیسٹ خراب ہوگیا یا آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں ؟ ” اسکی بات کے جواب میں عنایہ نے کہا تھا۔
” کیوں کیا ہوا میرے ٹیسٹ اور آنکھوں کو ؟ ” نور فوراً سیدھی ہوئی۔ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے وہ اب عنایہ کی پشت کو دیکھنے لگی۔
” ظاہر ہے تمہے وہ بندر ہینڈسم لگ رہا ہے ” عنایہ پلٹ کر بیڈ تک آئی تھی۔
” ارے آپ نے مجھے بتایا نہیں آپ منال کے بھائی کو کیسے جانتی ہیں؟ ” نور کو اب یاد آیا تو جلدی سے اٹھ بیٹھی۔
” میری کلاس میں ہے وہ “
” ہائے۔۔۔۔۔۔ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ “
” اتنا ضروری تو نہیں ہے وہ کہ میں تمہے اس کے بارے میں بتاتی پھروں “
” کیا ؟؟؟؟ اتنا ہینڈسم بندہ آپکی کلاس میں۔۔۔۔آپ کے ساتھ پڑھتا ہے اور وہ ضروری نہیں ہے ؟” نور کو تو مانو صدمہ ہی ہوا تھا۔
” تم پاگل ہوگئی ہو کیا ؟ اور بھی بہت لوگ پڑھے ہیں تو کیا سب کا بتاؤں گی تمھے ؟ “
” سب کا نہیں صرف کیف مرتضیٰ کا ” نور پھر سے کیف کے خیالوں میں کھوئی تھی۔
” شرم نہیں آتی ؟ اپنی عمر اور اسکی عمر میں فرق دیکھو اور اوپر سے تمہاری دوست کا بھائی بھی ہے ” عنایہ نے خود پر کمفرٹر درست کرتے ہوئے اسے شرم دلانی چاہی۔
” ہااااا میں کب کچھ ایسا ویسا کہہ رہی ہوں ؟ بس تعریف ہی تو کررہی ہوں ” وہ کہہ کر چپ ہوئی۔
” ویسے آپی یہ کتنا اچھا ہے نا منال میرے ساتھ پڑھتی ہے اور ہم دونوں اتنی اچھی دوست ہیں اور منال کے بھائی اور آپ ساتھ پڑھتے ہیں تو آپ لوگ بھی دوست۔۔۔۔۔” وہ رسانیت سے بول رہی تھی کہ عنایہ نے اسکی بات کاٹی۔
” اس چھچھورے سے؟ میں اور دوستی ؟ ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔میرا دماغ ابھی اتنا خراب نہیں ہوا۔۔۔اور اب بس کرو اسکی باتیں۔۔۔ لائٹ اوف کرو۔۔۔مجھے سونا ہے” نور نے اٹھ کر لائٹ اوف کی اور آکر لیٹ گئی۔
” ویسے آپ کو وہ اتنے برے کیوں لگتے ہیں ؟ ” اندھیر کمرے میں پھر سے نور کی آواز گونجی۔
” نور !!!!!!!! ” عنایہ نے اسکا نام کھینچتے ہوئے اسے تنبیہ کی۔
” اوکے اوکے سوری ! ” نور جلدی سے آنکھیں موند گئی۔
*******************
اگلے دن یونیورسٹی میں کیف اور عمر کچھ لڑکوں کے ساتھ باسکٹ بال کھیل رہے تھے۔ نتاشہ اور کچھ لڑکیاں وہیں فاصلے پر کھڑی انہیں کھیلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ یہ کہنا بہتر ہوگا وہ کھیل کو نہیں صرف کیف کو دیکھنے میں مگن تھیں۔ تھوڑی دیر بعد عنایہ کا وہاں سے گزر ہوا تو ان لڑکیوں کو کیف کو گھورتا دیکھ اسے خیال آیا کہ ایسا بھی کیا ہے اس کیف میں کہ ہر کوئی اسکا دیوانہ ہے؟ یہاں زینب اور باقی لڑکیاں اور اب گھر میں نور بھی اسکی دیوانی ہوئی تھی۔ عنایہ نے نظریں گھما کر کیف کی طرف دیکھا جو بال کو زمین پر اچھالتے ہوئے بھاگ رہا تھا۔ وائٹ ٹی شرٹ اور بلیو جینز پہننے، سفید چہرہ اس وقت سرخ ہوا تھا شاید دھوپ کی وجہ سے۔۔۔ماتھے پر بال بکھرے ہوئے۔۔۔جیسے ہی کیف نے بال باسکٹ میں ڈالی اسکے چہرے ہر مسکراہٹ آئی جس سے اسکے گالوں پر پڑنے والے گڑھے سے وہاں کھڑی ہر لڑکی کو اپنا دل سنبھالنا مشکل لگا۔ ایک پل کیلئے عنایہ بھی اسے محویت سے دیکھے گئی۔ کیف کی نظر عنایہ پر پڑی تو اسے یوں دیکھتا پا کر وہ زیر لب مسکرایا۔ پیچھے سے آتی زینب نے اسے ایسے بیچ رستے میں کھڑا دیکھا تو اپنی کہنی مار کر اسے ہوش دلایا۔ عنایہ ایک دم ہوش میں آئی تو لڑکے ابھی بھی ویسے ہی کھیل رہے تھے۔ اپنی اس حرکت پہ وہ خود سے ہی خفا ہوئی۔ اس نے پاس کھڑی زینب کو دیکھا جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” کیوں کھڑی ہو ایسے ؟ چلو نا۔۔۔” زینب نے کہہ کر آگے بڑھی تو عنایہ بھی اس کے پیچھے ہو لی۔
*******************
زینب اور عنایہ کیفے ٹیریا میں بیٹھیں گرما گرم سموسے کھانے میں مگن تھیں جب کیف وہاں آ پہنچا۔ اس نے پیار سے مسکراتے ہوئے زینب سے وہاں بیٹھنے کی اجازت مانگی تو زینب نے فوراً ہی حامی بھر لی۔ یہ جانے بنا کے سامنے بیٹھی عنایہ کو کوئی اعتراض بھی ہوسکتا ہے۔ عنایہ زینب کو گھور کر ہی رہ گئی۔
” میں دراصل تم سے بات کرنا چاہتا تھا باسکٹ۔۔۔۔۔۔ آئی مین عنایہ ” کیف نے گفتگو کا آغاز کیا۔
” میں سوچ رہا تھا یہ سب کرکے کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔ نا تم رکو گی نا میں تو ایسے میں بات آگے بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔۔۔تو بہتر ہے اسے یہیں روک دیں ” اسکی بات سن کر عنایہ تو شاک ہوئی۔ اسے کم سے کم کیف سے اس بات کی توقع نا تھی۔ لیکن پھر اسکے چہرے پر خوشی کے تاثرات ابھرے یعنی وہ اپنی ہار تسلیم کررہا تھا۔ اس کی جانب سے کوئی جواب نا پا کر کیف دوبارہ گویا ہوا۔
” تو میں سوچ رہا تھا ہم دوست بن جائیں۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر کیف نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا۔ جو اس بات پر ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
” کچھ کہو گی نہیں ؟ ” کیف نے مسلسل اسکی جانب سے خاموشی پر پوچھا۔
” کیا مطلب ؟ “
” مطلب ہم دونوں دوستی کرلیں۔۔۔۔دیکھو نا اب ہم دونوں کی بہنیں بھی اتنی اچھی دوست ہیں تو ہم کیوں نہیں ؟ ہم کیوں ایسے ایک دوسرے کے دشمن بنتے پھریں” کیف نے تفصیل سے بتایا۔
” ویری گڈ آئیڈیا ” زینب نے چہک کر کیف کی بات کو سیکنڈ کیا تھا۔ کیف نے اسکو دیکھا اور مسکرا کر سر کو خم دیا اور دوبارہ سے عنایہ کی طرف متوجہ ہوا۔
” مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔۔لیکن اگر تم یہ سب اچھے نوٹ پر ختم کرنا چاہتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ” عنایہ نے بنا اسکی طرف دیکھے اپنا جواب دیا تھا۔
” گڈ تو ہم اب دوست ہیں نا ؟ “
” نہیں !!!! ” عنایہ نے صاف انکار کیا تو کیف کو خیرت ہوئی۔ زینب کو تو اسکے انکار پر غصہ آیا۔ اس لیے اس نے ٹیبل کے نیچے سے عنایہ کو اپنا پاؤں مارا۔ عنایہ نے اسکی اور دیکھا تو زینب نے آنکھوں کے اشارے سے اسے کیف کی آفر قبول کرنے کا کہا تھا۔
” میں سوچوں گی ” عنایہ نے یوں اتنی جلدی مان جانا مناسب نا سمجھا اس لیے یہ طریقہ اپنایا۔
” اوکے نو پرابلم ! ٹیک یور ٹائم۔۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔تم ہاں ہی کرو گی ” کیف نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پر اعتماد سا کہا اور وہاں سے اٹھ گیا۔
” ہاؤ سویٹ نا ؟ ” زینب کیف کے جاتے ہی بولی۔
” سویٹ مائے فٹ دیکھا نہیں تم نے ؟ اسے اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔اسے پتا تھا کہ مجھے سے یہ جنگ اسے مہنگی پڑے گی اس لیے ایسے کررہا تھا تاکہ اسکا بھرم بھی رہ جائے اور مجھ سے جان بھی چھوٹ جائے “
” رہنے دو رہنے دو۔۔۔۔۔ پھنے خان ہو نا تم کہیں کی جو وہ تم سے ڈرے گا۔۔۔۔۔۔وہ اتنے پیار سے کہہ رہا تو مان جاتی نا اتنے نکھرے کیوں دکھا رہی تھی ؟ “
” تم تو منہ بند رکھو اپنا کیا ضرورت تھی مجھے اسکی آفر قبول کرنے کا کہنے کی ؟ “
” افف عنایہ ! حد ہوتی ہے ابھی دو سال ہم نے ساتھ پڑھنا ہے تو کب تک یوں جھگڑتی رہو گی کیف سے؟۔۔۔۔اچھا ہے نا وہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا تھا تو تم بھی مان جاتی پھر سکون سے رہتے۔۔۔ ویسے بھی تم دونوں کی کوئی ذاتی دشمنی تو ہے نہیں۔۔۔یونیورسٹی میں تو یہ سب عام ہے ” زینب نے اسے سمجھایا۔
” ہمممممم ! ” عنایہ کو زینب کی بات ٹھیک لگی۔
******************
