Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 34) Part - 2

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 34) Part - 2

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

فائنل سمیسٹر کے ایگزامس شروع ہوچکے تھے۔ ان دنوں میں اتنی مصروفیت ہونے کے باوجود بھی کیف اور عنایہ روز رات کو تھوڑی دیر ضرور بات کیا کرتے تھے۔ دوسری جانب نتاشہ بھی فلحال سب پیچھے رکھے اپنے ایگزامس کی تیاری میں مگن تھی۔

*******************

آج آخری پیپر تھا اور ساتھ ہی یونیورسٹی کی طرف سے ایم بی اے اور ماسٹرز کرنے والے تمام سٹوڈنٹس کا فیئر ویل ڈنر بھی اناؤنس ہوا جو کہ اس ہی ویکنڈ پر منعقد ہونا تھا۔

کیف کو سر اقبال نے اپنے آفس کسی کام سے بلایا تھا وہاں سے وہ جیسے ہی نکلا تھا سامنے ہی نتاشہ اسکا انتظار کررہی تھی اسے دیکھتے ہی وہ اس کی طرف آئی تھی۔

” کیف ! کیا تم مجھ سے ناراض ہو ؟ ” نتاشہ نے پوچھا تھا۔

” نہیں میں تم سے کیوں ناراض ہونے لگا ” اس نے نرمی سے جواب دیا تھا۔

” تو پھر تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے ؟ یہاں تک کہ ہمارے بیچ پہلے جیسا کچھ بھی نہیں رہا، ایسا کیوں ہے کیف ؟ ٹھیک ہے تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے لیکن ہم اچھے دوست تو ہیں نا ” وہ مصنوعی اداسی سے کہہ رہی تھی۔

” ایسا کچھ نہیں ہے نتاشہ ہم ابھی بھی دوست ہیں” کیف نے اسے یقین دلایا۔

” نہیں! ایسے نہیں۔۔۔۔۔جو بھی ہوا تم اسے بھول جاؤ اور میں چاہتی ہوں ہم پہلے کی طرح اچھے دوست بن کر رہیں اور کیوں نا ہم تینوں مل کر کہیں سیلیبریٹ کریں ہماری اس دوستی کو ” وہ اب کی بار تھوڑا مسکرا کر بولی۔

” ہاں شیور تم جب چاہو۔۔۔۔۔۔ عمر کیساتھ مل کر پلان کرتے ہیں ” کیف اسے انکار نہیں کر پایا اور ویسے بھی وہ اس کی بہت اچھی دوست تھی۔ اور اس یونیورسٹی میں جب وہ پہلے دن ملے تھے تب سے وہ نتاشہ کو جانتا تھا۔ بہت اچھی یادیں تھی ان تینوں کی یہاں۔

” ٹھیک ہے تو پھر ڈن ہوگیا ہے ” اس نے بھر پور مسکان لبوں پر سجائے کہا۔ اسکی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک تھی۔ کیف نے بھی مسکرا سر کو خم دیا۔

*********************

عنایہ نور کی فرمائش پر اس کیلئے پاستہ بنانے کیلئے کچن میں موجود تھی۔ ساتھ ہی صائمہ بیگم بھی رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھیں۔ گو کہ رات کے کھانے میں ابھی وقت تھا۔ صائمہ بیگم نے اسکی طرف دیکھا جو بڑی مہارت سے اپنا کام کرنے میں لگی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرائیں۔ اتنی ہونہار سگھڑ لڑکی ان کی بہو بنے یہ بات ان کیلئے باعث مسرت تھی۔ وہ پلی بڑی بھی ان کے سامنے تھی اپنی دیکھی بھالی بچی تھی اور پیاری تو وہ تھی ہی۔ ان کے لاڈلے بیٹے کیلئے عنایہ سے بہترین جیون ساتھی اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔ اور حیدر بھی تو اسے چاہتا تھا۔

” پرسوں حیدر واپس آرہا ہے ” انہوں نے بات شروع کی۔

” جی نور نے بتایا مجھے ” اس نے دھیمی مسکان لیے کہا۔

” اس بار سوچ لیا اس کی شادی کرکے واپس بھیجوں گی ” ان کی بات پر عنایہ کے چلتے ہاتھ رکے تھے۔

” اور میں نے تو لڑکی بھی دیکھ رکھی ہے ” اب کی بار وہ اسکی اور پلٹ کر بولی تھیں جبکہ عنایہ بالکل تھم گئی تھی۔ صائمہ بیگم اس کے قریب گئیں اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لیے کچن میں رکھے میز کرسی کی طرف بڑھ گئیں۔ انھوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ عنایہ کرسی کھینچ کر بیٹھی تو وہ بھی بالکل اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ چکی تھیں۔

” عنایہ! میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ تم میری بیٹی بن کر اسی گھر میں رہو ” انہوں نے محبت بھرے لہجے میں اپنی خواہش ظاہر کی۔ ان کے ایسے کہنے پر ہی عنایہ کو شرمندگی محسوس ہوئی۔ یہ سب اس نے ایسے نہیں سوچا تھا۔

” ویسے تو حیدر نے کہا تھا کہ تم سے میں بات نا کروں لیکن اب تو وہ آرہا ہے تو مجھ سے رہا ہی نہیں گیا ” وہ شریر سا ہنس دیں۔

” کیا تم میرے حیدر کی بیوی بن کر اسی گھر میں رہو گی ؟ ” عنایہ نے تھوک نگلا۔

” تم بتاؤ تمہاری کیا مرضی ہے ؟ کیا تم یہ رشتہ قبول کرو گی ؟ ” وہ مزید پوچھنے لگیں۔ عنایہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔ وہ ٹکر ٹکر صائمہ بیگم کو دیکھتی رہی۔

” کیا ہوا ؟ ” اس کے بالکل چپ رہنے پر انہوں نے بے ساختہ پوچھا۔

” مم۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔۔ممانی وہ میں “

” مجھے پتا ہے تم انکار نہیں کرو گی۔۔۔۔۔لیکن تمہارے ماموں ہی کہہ رہے تھے کہ تم سے پوچھے بنا نہیں ہوگا کچھ ” وہ ایسے اترا کر کہہ رہی تھیں جیسے انہیں بہت مان تھا کہ وہ واقعی میں انکار نہیں کرے گی۔ اور عنایہ کو لگا اسے جس بات کا ڈر تھا وہ ہی ہوا۔ ممانی کو یہ ہی یقین تھا کہ وہ کبھی انکار نہیں کر پائے گی۔

” چلو ان کیلئے ہی صحیح تم بتا دو تمہاری مرضی ” انہوں نے اس کی جھولی میں رکھا ہاتھ نرمی سے دبا کر پوچھا تھا۔

” میں کیا کہوں ؟ میرا مطلب ہے۔۔۔مم۔۔۔۔وہ حیدر آ جائے۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔آپ اس سے پوچھ لیں ” وہ بے ربط الفاظ میں بولی۔ اس کی بات سن کر وہ بھر پور مسکرائیں تھیں۔ مطلب وہ انکار نہیں کر رہی تھی۔ یہ تو وہ پہلے سے جانتی تھیں۔ وہ آگے سے کچھ کہتیں اس سے پہلے ہی نور کچن میں شور مچاتی ہوئی داخل ہوئی۔ عنایہ فوراً سے پاستہ مکمل کرنے کے بہانے سے اٹھ گئی۔ اسے لگا ابھی کیلئے وہ بچ گئی ہے لیکن یہ محض اس کی غلط فہمی تھی کیونکہ اس کے اس جواز کو صائمہ بیگم اس کی ہاں ہی سمجھ بیٹھی تھیں۔

*******************

عنایہ اپنے کمرے موجود یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی۔ وہ پریشان نظر آرہی تھی۔ ممانی تو پوری تیاری کیے ہوئے تھیں۔ اسے اندازہ نہیں تھا یہ سب ایسے اچانک سے ہوگا۔ وہ تو حیدر کے لوٹنے کا انتظار کررہی تھی تاکہ اسے سب بتا سکے۔ کیونکہ ایک وہ ہی تھا جو اسے سمجھ سکتا تھا،ایک وہ ہی تھا جو اس معاملے میں اس کی مدد کرسکتا تھا۔ ایک ہاتھ کمر پر دھرے ایک ہاتھ سے اپنے کھلے بال سامنے سے تھامے، اپنے لب بھینچے وہ سوچ رہی تھی کہ کیا کرے۔

” کیا کیف سے بات کرے ؟ ” اس کے دماغ میں آیا لیکن پھر فوراً ہی یہ خیال جھٹک دیا۔

” نہیں کیف سے نہیں کہیں وہ پھر جذبات میں آکر کچھ غلط نا کردے ” وہ بیڈ کی طرف گئی اور اپنا فون اٹھایا اور زینب کو کال کرنے لگی۔

********************

دوسری طرف کیف عمر اور نتاشہ کیف کے فارم ہاؤس میں موجود تھے۔ تینوں نے مل کر خوب انجوائے کیا تھا۔

کھانا کھانے کے بعد وہ لوگ لیونگ ایریا میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔

” ارے یار کیف نے اس لڑکے کو جو مزہ چکھایا تھا نا مجھے لگتا ہے وہ آج بھی رات کو لائٹ آن کرکے سوتا ہوگا ” عمر نے ہنستے ہوئے کہا۔ اس کی بات پر نتاشہ اور کیف بھی ہنس دیے۔ وہ لوگ یونیورسٹی کا ایک قصہ یاد کررہے تھے کہ کیسے کیف نے ایک لڑکے کے ساتھ پرینک کیا تھا۔

” کیف کے پاس ہمیشہ ہی اچھے آئیڈیاز ہوتے تھے ” نتاشہ نے اسکی اور دیکھ کر کہا جو ایک ٹانگ صوفے پر رکھے اور ایک نیچے کیے بیٹھا تھا۔ اچانک عمر کے موبائل پر میسج ٹون بجی تو اس نے اپنا فون دیکھا۔

” یار کافی ٹائم ہوگیا ہے اب چلنا چاہیے ” عمر نے فون سے نظر ہٹا کر ان دونوں کو کہا۔

” ہاں ہاں ہمیں پتا ہے کس بات کی جلدی ہے ” نتاشہ نے اسے فون کی طرف اشارہ کرکے چھیڑا۔

” نہیں یار گیارہ بج گئے ہیں کافی ٹائم گزر گیا پتا نہیں چلا ” عمر بولا۔

” ہاں صحیح کہہ رہے ہو ” کیف نے بھی تائید کی۔

” ارے ارے اس کی تو سمجھ آتی ہے کہ اس نے اپنی منگیتر سے بات کرنی ہے لیکن تمہیں کس چیز کی دیر ہورہی ہے ” نتاشہ نے کیف سے کہا۔ کیف اس کی بات کا جواب دیتا اس سے پہلے ہی عمر بول پڑا۔

” تم دونوں بیٹھ کے بحث کرتے رہو لیکن سوری مجھے جانا ہے ” عمر جلدی سے اٹھ گیا۔

” عمر ساتھ چلتے ہیں ” کیف نے اسے روکا۔ اسے بھی لگا کافی دیر ہوگئی ہے۔

” کیف ! کیا میرے لیے تم تھوڑی دیر اور نہیں رک سکتے؟ اور ویسے بھی اتنی دیر بھی نہیں ہوئی” نتاشہ نے معصوم سی صورت بنا کر اسے کہا۔ جس پر عمر نے کیف کی اور دیکھتے ہوئے کندھے اچکا دیے۔

” ٹھیک ہے لیکن زیادہ دیر نہیں” کیف نے حامی بھر لی۔

” ٹھیک ہے تم دونوں روکو لیکن میرا جانا ضروری ہے” عمر کہہ کر جا چکا تھا۔ کیف کے مان جانے پر نتاشہ بے حد خوش نظر آرہی تھی۔

*********************

عنایہ لان میں تنہا کھڑی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد سب کمروں میں سونے کیلئے جا چکے تھے۔ عنایہ کافی بنانے آئی تھی لیکن آج اسکا دل نہیں کیا کافی پینے کا اور نیند بھی آنکھوں سے اوجھل تھی۔ اس لیے وہ لان میں آگئی۔ کتنی ہی دیر وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب اپنے پیچھے قدموں کی آواز پر وہ پلٹی تھی۔ فیصل صاحب اس کے پیچھے کھڑے تھے۔ عنایہ انہیں دیکھ کر مسکرائی۔

” آپ سوئے نہیں ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔ فیصل صاحب چلتے ہوئے اس کے پاس آئے۔

” میری بیٹی بھی تو جاگ رہی ہے ” انہوں نے کہا۔

” میں بس یوں ہی نیند نہیں آرہی تھی “

” نیند نا آنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ” ان کی بات پر عنایہ آسودہ سا مسکائی۔

” جانتا ہوں آپ کی ممانی نے آپ کی اور حیدر کی شادی کی بات کی ہے آپ سے” عنایہ نے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔ مطلب وہ بھی جانتے تھے سب۔

” میں بھی اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا ” وہ بولے تو عنایہ کا دل سکڑ گیا۔ اس کا دل کیا وہ یہاں سے غائب ہو جائے اگر ماموں نے اسے کہا کہ وہ ہاں کردے یا وہ کچھ ایسا کہیں گے جس سے وہ انہیں انکار نہیں کر پائے گی۔

” افف اب کیا ہوگا ” اس نے بے اختیار آنکھیں میچی تھیں۔

” دیکھیں بیٹا اس رشتے کو لے کر آپ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔۔۔۔۔آپ کی مرضی کو پوری اہمیت حاصل ہے، میں چاہتا ہوں آپ مجھے اور صائمہ کو اپنے ماں باپ کی جگہ رکھیں “

” ماموں ! آپ اور ممانی میرے لیے ماما بابا سے بھی بڑھ کر ہیں ” وہ جلدی سے بولی۔ فیصل صاحب مسکرائے تھے۔

” اس میں کوئی شک نہیں میں جانتا ہوں آپ ہمیں ان سے بڑھ کر چاہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن بیٹا میں نہیں چاہتا آپ صرف اسے وجہ سے ہاں کردیں کہ آپ یہ سمجھیں ہمارے آپ پر احسان ہیں۔۔۔۔۔ایسا بالکل نہیں سوچنا “

” ماموں ” عنایہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔

” اگر آپ اسے رشتے کیلئے انکار بھی کرتی ہیں تب بھی آپ میری بیٹی رہیں گی۔۔۔۔مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آپ ہمیشہ اس گھر میں میری بیٹی بن کر رہیں لیکن میں چاہتا ہوں آپ وہ کریں جو آپکا دل کہتا ہے ” ان کی اتنی محبت سے کہی اس بات پر عنایہ کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے اچھا نہیں کیا تھا۔ یہ سب غلط تھا۔ اس کی آنکھوں سے اشک بہنے لگے۔

” اگر آپ کو حیدر نہیں پسند تو۔۔۔۔۔۔۔۔” انہوں نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنا چاہا جس پر عنایہ تیزی سے بولی۔

” نہیں ماموں ایسا نہیں ہے۔۔۔حیدر بہت اچھا ہے اور آپ سب بھی بہت اچھے ہیں لیکن ماموں میں اچھی نہیں ہوں ” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔

” نہیں میری عنایہ تو بہت پیاری ہے ” انہوں نے دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھاما۔

” نہیں! مم۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اپنا چہرہ جھکا کر مزید رونے لگی تو فیصل صاحب ایک دم پریشان ہوئے۔

” کیا ہوا ہے عنایہ ؟ ” انہوں نے اسکا جھکا سر اٹھایا۔

“میں ایسا نہیں چاہتی تھی لیکن یہ ہوگیا۔۔۔میں نے آپ سب کا مان توڑا ہے ماموں۔۔۔۔۔میں اچھی نہیں ہوں ” وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ فیصل صاحب صحیح معنوں میں اب پریشان نظر آنے لگے۔

” مجھے کسی اور سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہے ” وہ شرمندہ سا بولی تو فیصل صاحب ایک پل کیلئے بالکل چپ ہوگئے۔

” پلیز ماموں آپ مجھ سے ناراض مت ہوں ” وہ جلدی سے انکا ہاتھ تھام گئی۔ ان کو ایسے چپ دیکھ کر عنایہ کے اشکوں میں روانی آئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس نے اپنے بابا کو آج پھر سے کھو دیا ہے۔

” او ہو میرے بچے اس میں رونے کی کیا بات ہے ؟ آج اگر تمہارے بابا زندہ ہوتے تب بھی آپ ایسے ہی اپنی خواہش کا اظہار کرتی ناں ؟ تو آپ نے مجھ سے بھی کیا اور میں بھی یہ ہی چاہتا تھا۔۔۔۔۔میری بیٹی کا پورا حق ہے کیونکہ یہ زندگی آپ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور وہ ہی ہوگا جیسا آپ چاہیں گی ” فیصل صاحب نے پیار سے کہا تو عنایہ ان کے سینے سے لگ گئی۔ انہوں نے مسکرا کر اسکا سر تھپکا۔

” بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ” انہوں نے اسے تسلی دی۔

********************

دونوں ایک ہی صوفے پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ کیف نے اپنی گود میں کشن رکھا ہوا تھا۔ نتاشہ کی نظر اس کے فون پر گئی جو وہیں صوفے پر پڑا تھا۔

” کافی نہیں پلاؤ گے ؟ ” نتاشہ نے کہا۔

” شیور وائے ناٹ ” اس نے خانساماں کو آواز دینی چاہی لیکن نتاشہ نے ٹوک دیا۔

” نہیں مجھے تمہارے ہاتھوں کی بنی ہوئی پینی ہے ” اس نے فرمائش کی۔

” لیکن نتاشہ مجھے۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ انکار کرتا نتاشہ بول پڑی۔

” کیف تم بہت اچھی کافی بناتے ہو یہ بات صرف میں اور عمر جانتے ہیں اور مجھے تمہارے ہاتھوں کی بنی ہی پسند ہے ” وہ مسکرا کر بتا رہی تھی۔ کیف کو ناچار اس کی بات ماننی پڑی۔ اور وہ کافی بنانے کیلئے اٹھ گیا اور اسکا فون وہیں پڑا رہا۔ اس کے جاتے ہی نتاشہ کی آنکھیں چمکیں۔

********************

عنایہ کمرے میں آئی تو فریش ہونے واشروم میں چلی گئی۔ نائٹ سوٹ پہن کر وہ لائٹ آف کرکے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔ نور اوندھے منہ لیٹے سو رہی تھی۔ اس کے چہرے پر اب کوئی پریشانی نا تھی بلکہ ایک الوہی سی خوشی تھی۔ وہ فیصل صاحب کو کیف کے بارے میں سب بتا چکی تھی اور وہ مان گئے تھے۔ وہ اب یہ جلدی سے کیف کو بتانا چاہتی تھی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا اور کیف کو کال کی۔ دوسری طرف نتاشہ جو کیف کا فون اٹھا چکی تھی اور اسی وقت عنایہ کے نمبر سے آتی کال دیکھ کر وہ جتنا اپنی قسمت کی اس مہربانی پر حیران ہوتی کم تھا۔ اس نے جلدی سے فون سائلنٹ موڈ پر کیا۔ عنایہ کی کال ابھی بھی آرہی تھی۔ نتاشہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور لیونگ روم کے کارنر میں موجود واشروم کی جانب بڑھ گئی۔ واشروم میں آکر اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور ایک گہری سانس لی۔ فون کی طرف دیکھا جس کی سکرین پر عنایہ کے نام کے نیچے مسڈ کال لکھا تھا۔ اسی وقت دوبارہ سے کال آنے لگی تو نتاشہ نے کال پک کی۔

” میں نے کال نہیں کی تو تم بھی نہیں کرو گے؟ ” دوسری طرف سے کال ریسیو ہوئی تو عنایہ مصنوعی خفگی سے بولی۔

” ہیلو ! ” نتاشہ نے اس کی بات کر جواب میں ایک ادا سے کہا۔

” کون ؟ ” عنایہ سیدھے ہو بیٹھی۔

” کال تم نے کی ہے ” نتاشہ بولی۔ عنایہ نے فون کان سے ہٹایا اور نمبر چیک کیا۔ کیف کو ہی تو کال کی تھی اس نے۔

” مجھے کیف سے بات کرنی ہے ” عنایہ ہچکچا کر بولی تھی۔ اسے لگا شاید کیف کی بہن یا اس کی مدر نے کال پک کی ہو۔

” وہ ابھی مصروف ہے ” نتاشہ نے کہا۔

” کیا آپ بتا سکتی ہیں وہ کب تک فری ہوگا ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔

” پتا نہیں ” نتاشہ کہہ کر فون بند کر چکی تھی۔ جبکہ عنایہ یوں اچانک فون بند ہونے پر حیران ہوئی تھی۔ دوسری طرف نتاشہ کیف کا فون سویچ آف کر چکی تھی۔ اس کے لبوں پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔ وہ واشروم سے نکل کر باہر ڈائنگ ٹیبل کی طرف آئی اور ایک کرسی پر کیف کا فون رکھ دیا تاکہ وہ اسے آسانی سے نا ملے اور چلتے ہوئے صوفوں کی طرف آئی جہاں کیف کافی بنا لایا تھا اور اب صوفے پر سے کشن اٹھا اٹھا کر اپنا فون ڈھونڈ رہا تھا۔

” کیا ہوا ؟ ” وہ کافی کا مگ اٹھا کر وہیں بیٹھ چکی تھی۔

” میرا فون ادھر ہی تھا کہاں گیا ؟ ” اس کے ماتھے پر بل تھے۔

” ادھر ہی ہوگا ” اس نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔

” نتاشہ میرے خیال سے بہت دیر ہوگئی ہے اب ہمیں چلنا چاہیے ” کیف یہاں وہاں فون تلاش کرتا ہوا بولا۔

” ہاں ہاں میں بھی سوچ رہی تھی کافی پی کی نکلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔میں تمہارے فون پر رنگ کرتی ہوں ” اس نے حل بتایا۔ کیف نے سر ہلایا تو نتاشہ نے اپنے بیگ سے فون نکال کی کیف کے نمبر پر کال کی۔ کیف اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جو فون کانوں سے لگائے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔

” تمہارا سیل آف جارہا ہے ” اس نے بتایا تو کیف حیران ہوا۔کیونکہ فون کی بیٹری تو اچھی خاصی تھی۔

” اچھا میں نکلتی ہوں ” کافی ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ تو کیف بھی سیدھا ہوا جو ٹیبل کے نیچے جھکا فون دیکھ رہا تھا۔

” تھینکس فار دی ڈنر اینڈ کافی ” نتاشہ نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا تو کیف نے سر کو جنبش دی۔ نتاشہ باہر کی جانب بڑھ گئی۔ پھر مین ڈور کے پاس رک کر وہ پلٹی تھی تو وہ ابھی بھی اپنا فون ڈھونڈ رہا تھا۔ نتاشہ طنزیہ مسکرائی اور پھر کیف کو آواز دی۔

” کیف میرے خیال میں تم جہاں جہاں گئے تھے وہاں وہاں جا کر فون چیک کرو مل جائے گا کچن میں اور ڈائننگ ٹیبل پر ” اس نے وہیں کھڑے کہا اور پھر واپس پلٹ کر مین ڈور عبور کر گئی۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *