222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 24)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

اس چھوٹے سے لان میں رات کے اس پہر ہلکی ہلکی دھند چھائی ہوئی تھی۔ انگیٹھی میں آگ جل رہی جس میں کوئلے دہک رہے تھے۔ عمر ہاتھ میں سیخ تھامے ہوئے تھا اور اس کی مدد سے انگیٹھی میں کوئلوں کو ساتھ ساتھ کررہا تھا تاکہ آگ جلتی رہے۔ دونوں اس وقت عمر کے گھر موجود تھے۔ بار بی کیو کھانے کے بعد اب دونوں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔

” پھر کیا چل رہا آجکل ؟ ” عمر کا اشارہ اس کے عنایہ کی طرف تھا۔ کیف جو موم پھلی کے دانے نکال کر منہ میں ڈال رہا تھا۔ ایک دم رکا پھر مسکرا کر عمر کو دیکھا۔

” کیا چلنا ہے مجھے تو خود پتا نہیں ” کیف پیچھے کرسی پر ٹیک لگائے بولا۔

” کیا مطلب پتا نہیں ؟ فار گاڈ سیک کیف تجھے محبت ہوگئی ہے مانتا کیوں نہیں ؟ “

” جانتا ہوں “

” تو پھر مسئلہ کیا ہے ؟ بتا دے جا کے اسے “

” کیا بتاؤں جا کر اسے ؟ یہ کے تمھے دیکھتے ہی خود کو بھولنے لگتا ہوں ؟ یا یہ کے جب آس پاس ہوتی تو حواسوں پر سوار ہو جاتی ہو اور جب تنہائی میسر آئے تب بھی دل و دماغ پر تمہارے ہی خیال غالب آتے ہیں ” رسانیت سے کہتے اس نے ایک گہری سانس بھری۔

” واہ واہ کیا بات ہے۔۔۔۔۔کیف توں تو گیا ” اس کی بات پر کیف ہلکا سا ہنسا تھا۔

” یہ ہی سب جا کر اسے بھی بول دے ” عمر نے بات جاری رکھتے ہوئے اسے مشورہ دیا۔

” اتنا آسان نہیں ہے ” کیف نے اپنے اور اس کے درمیان رکھے میز پر سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر اپنے لبوں میں دبایا۔

” پھر کیا کرنا چاہ رہا ہے ؟ ” عمر نے موم پھلی کے دانے منہ میں ڈالتے پوچھا۔

” میرے دل اور دماغ کے درمیان جنگ چل رہی ہے “

” کیسی جنگ ؟ “

” دماغ کہہ رہا ہے یہ پیار ویار جیسی بکواس کو چھوڑو اور chill کرو اس کہ برعکس دل۔۔۔۔۔۔ ” کیف نے جملہ ادھورا چھوڑا اور ایک کش لیا۔

” دل ؟؟ دل کیا کہہ رہا ہے ؟ ” عمر نے نظریں اس کے چہرے پر ٹکائے پوچھا۔

” دل کہہ رہا ہے جو ہو رہا اسے ہونے دو ” کیف نے آنکھیں بند کرکے مسکرا کر جملہ مکمل کیا۔ عمر نے اس کی بند آنکھوں کی طرف ایک نظر ڈال کر اندر اپنے شیف کو آواز لگائی اور اس سے دو کپ کافی بنانے کا کہا۔ دیر رات تک دونوں باتیں کرتے رہے تھے۔

**********************

عنایہ باہر لان میں تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی حیدر نے کال کرکے بتاتا تھا وہ آج گھر لیٹ آئے گا۔ وہ اسی کا انتظار کررہی تھی۔ اپنے نائٹ سوٹ پر شال اچھے سے اوڑھے وہ یوں ہی کھڑی تھی کہ اچانک تمام سوچوں کا رخ کیف کی جانب چلا گیا۔ آج جب اس کے اتنے قریب وہ باتیں کررہا تھا نا جانے کیوں عنایہ کو وہ سب سچ لگا تھا۔ شاید اس کے الفاظ ایسے تھے یا اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ اپنے دل کا احوال سنا رہا ہو۔

” کمینہ ! ہر چیز اس کیلئے مذاق ہے۔۔۔۔یہ نہیں سمجھتا اس کی باتوں سے سامنے والے کی دل کی دنیا کا کیا حال ہوتا ہوگا ” وہ بڑبڑائی۔ اپنے بازوؤں کو مزید خود کے گرد سختی سے باندھا جیسے اس لمحے سے خود کو نکالنا چاہا جو کہ صرف ایک فریب تھا۔

*********************

وہ دونوں کلاس لینے کے بعد باہر گراؤنڈ میں آگئی تھیں۔ ایک طرف بینچ پر بیٹھی باتیں کررہی تھیں۔

” حیدر چلا گیا واپس ؟ ” زینب نے پوچھا۔

” نہیں ابھی کچھ دن مزید یہیں ہے ” عنایہ نے سامنے دیکھتے ہوئے بتایا۔

” اچھا ! اس کی شادی کیوں نہیں کرواتے ؟ ” زینب نے یوں ہی بات بڑھانے کیلئے پوچھ لیا۔ اس کی بات پر عنایہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔

” اس کی شادی کا یہاں کیا ذکر ؟ ” عنایہ نے ناسمجھی سے کہا۔

” ویسے ہی پوچھ رہی ” زینب نے کندھے اچکائے۔

” پتا نہیں ابھی “

” ہائے ویسے اچھا خاصا ہینڈسم ہے اوپر سے آرمی میں بھی ہے تم کیوں نہیں سوچتی اس کے بارے میں ” زینب نے اشتیاق سے کہا تھا۔ عنایہ اس کی بات پر اسے تیز نظروں سے گھورا تھا۔

” اپنا مفت مشورہ اپنے پاس رکھو “

” ہاہ کیا ہے اس میں ؟ “

” زینب پلیز میرا موڈ نہیں ہے ” اس نے اداسی سے کہا تھا۔ اسے خود اپنی کیفیت کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔

” کیوں کیا ہوا تمہارے موڈ کو ؟ ” زینب نے پوچھا لیکن عنایہ کچھ کہتی اس سے سے پہلے ہی ایک لڑکی ان کے پاس آئی تھی۔

” زینب تمھے میم عائشہ نے اپنے کیبن میں بلایا ہے ” وہ لڑکی کہہ کر جاچکی تھی۔ زینب بھی جلدی سے بیگ لے کر اٹھی تھی۔

” میں بات سن کر آتی ہوں تم میرا یہیں انتظار کرنا ” زینب جا چکی تھی اور عنایہ وہیں بیٹھی تھی جب کیف اس کے پاس آ بیٹھا۔ عنایہ نے اسے ایک نظر دیکھ کر اپنا چہرہ اس سے موڑ لیا۔

” واٹس اپ باسکٹ ؟ ” وہ نتاشہ کے ساتھ کیفے میں کافی پی کر نکلا تھا جب عنایہ کو یہاں دیکھا تو مسکرا کر اس کی طرف آگیا۔ عنایہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

” او کم اون یار تم اب تک اس بات کیلئے ناراض ہو ” عنایہ نے اسے دیکھا۔

” میرے اور تمہارے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے جس سے میں تم سے ناراض ہوں ” وہ تنک کر بولی تھی جیسے جتایا ہو کہ اپنی حد میں رہو۔ کیف کو اسکا یہ انداز پسند نہیں آیا تھا۔ پوری طرح اس کی جانب مڑ کر بیٹھا تھا اور کھسک کر اس کے پاس ہوا تھا۔ عنایہ نے اس کے پاس ہونے پر اسے دیکھا تھا۔ دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا تھا۔

” اگر رشتہ بن جائے تو ” کیف نے بھاری آواز میں دھیمے سے کہا۔ عنایہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ پھر دماغ میں خیال آیا ضرور پھر سے کوئی بکواس ہی کرے گا۔ اس لیے بنا کچھ کہے دوبارہ سے سامنے دیکھنے لگی۔ جبکہ کیف اس کا ایک ایک تاثر دیکھ رہا تھا۔ عنایہ کو اس کا یوں دیکھنا عجیب لگا۔ اس نے اپنے چہرے پر آنے والی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا پھر جھنجھلا کر بولی۔

” کیا مسئلہ کیوں گھور رہے ہو ؟ ” کیف مسکرایا۔

” آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی “

کیف نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے شعر کہا اور پھر اس کے پاس سے اٹھ گیا۔

” کیا عجیب انسان ہے ” عنایہ پیچھے سے کہے بنا نا رہ سکی۔

**********************

آج سر ہمدانی نے سرپرائز ٹیسٹ لینا تھا۔ عنایہ عمر اور زینب گھاس پر بیٹھے تینوں اپنی اپنی کتابوں اور نوٹس کو لیے تیاری میں مگن تھے۔ آج دھوپ بہت کڑک نکلی تھی۔ دسمبر شروع ہوچکا اور اس وقت یہ دھوپ عنایہ کو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ سرسری سی نظر اسے نے آس پاس ڈورائی تو ایک درخت کے پاس کیف کھڑا نظر آیا اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی کھڑی تھی۔ یہ وہ ہی لڑکی تھی جو ایک بار ان کے پاس آکر کیف سے دوستی کرنے کا پوچھ رہی تھی۔ اس لڑکی کو کیف کے پاس دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔ کیف جو کب سے عنایہ کو نظروں کے حصار میں رکھے سامنے کھڑی لڑکی سے باتیں کررہا تھا۔ عنایہ کے تاثرات سے حیران ہوا تھا۔ کیف اس لڑکی کی کسی بات پر زور سے ہنسا تھا۔ اور عنایہ کو تو جیسے آگ لگ گئی تھی۔ اسکا دل اب پڑھائی سے اچاٹ ہوچکا تھا۔ سارا دھیان تھوڑے فاصلے پر کھڑے کیف اور اس لڑکی پر تھا۔ وہ ان دونوں کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتی اور پھر نظریں پھیر لیتی۔ اس بات سے بالکل بے خبر کے کیف اس کے سارے آتے جاتے چہرے کے تاثرات سے محظوظ ہو رہا تھا۔

” کیا وہ جیلس ہورہی ہے ؟ ” کیف نے بے ساختہ سوچا۔ اس لڑکی سے ایکسکیوز کرتا کیف وہاں سے ہٹ چکا تھا۔ عنایہ نے ترچھی نظروں سے پھر اس طرف دیکھا لیکن کیف کو وہاں نا پا کر وہ دائیں بائیں گردن گما کر متلاشی نظروں سے اسے دیکھنے لگی لیکن وہ نہیں دکھا۔

**********************

کیف نے کلاس بھی نہیں لی تھی۔ عنایہ کو وہ اس کے بعد نظر نہیں آیا تھا۔ وہ لاشعوری طور پر اسے ہی سوچتی رہی تھی۔ کلاس لینے کے بعد وہ اور زینب کیفے جارہے تھے جب عنایہ نے زینب کو کیفے جانے کا کہا اور خود اسے لائبریری کا بہانہ بنا کر کیف کو ڈھونڈنے لگی۔ ایک دو لوگوں سے اسکا پوچھ بھی چکی تھی۔ لیکن کسی کو نہیں پتا تھا کہ کیف کہاں ہے۔

” مجھے ڈھونڈ رہی ہو ” اپنے پیچھے سے آتی آواز پر وہ ساکت ہوئی تھی۔ اور پھر اسے پلٹ کر دیکھا تھا جو اپنے محصوص انداز میں بھر پور مسکان لبوں پر سجائے کھڑا تھا۔

” میں کیوں تمھے ڈھونڈنے لگی ؟ ” اس نے بروقت خود کو سنبھالا تھا۔

” اچھا ؟ ” کیف نے آئی برو اچکائی اور اس کے قریب ہوا۔ عنایہ نے اس کے پاس آنے پر اپنے قدم پیچھے لیے تھے۔

” جن جن سے تم نے میرا پوچھا وہ سب مجھے بتا چکے ہیں کہ تم مجھے ڈھونڈ رہی ہو ” کیف نے بول کر اپنی مسکراہٹ دبائی تھی۔ جبکہ عنایہ نے اپنے دل کے ہاتھوں اس کے سامنے شرمندہ ہونے پر خود کو کوسا(بیڑا غرق ہو، یہ کیا کردیا)۔

” وہ مم۔۔۔۔۔ہاں وہ مجھے تمہارے نوٹس چائیے تھے ” اس نے جلدی سے بہانہ گھڑا۔

” اچھا ! مس عنایہ کو میرے نوٹس چائیے تھے ؟ ” مصنوعی خیرت لیے کہا۔

” ہاں کیوں ؟ میں نہیں لے سکتی تم سے نوٹس “

” باقی سب کا تو سمجھ آتا ہے لیکن تمہارا نہیں (کیف نے اپنا گال کھجایا) مجھے تو کچھ اور لگ رہا ہے کہیں تم مجھے پسند تو نہیں کرنے لگی ” شرارت بھرے انداز میں اس نے کہا۔

” کیا کہا ؟ میں اور تمھے پسند ؟ ہونہہ( استہزایہ کہا) مجھے ان تتلیوں کی طرح بالکل نہیں سمجھنا جو ہر وقت تمہارے آگے پیچھے منڈلاتی ہیں۔۔۔ جو ہر وقت بہانہ ڈھونڈتی ہیں تمہارے اردگرد رہنے کا، میں عنایہ ہوں سب سے الگ ” اترا کر کہتی وہ اس کے پاس سے گزر کر جا چکی تھی۔

” الگ تو ہو ” کیف نے دھیمے سے اس جاتے دیکھ کہا۔

” کیا چل رہا ہے یہ سب ؟ ” نتاشہ جو سامنے سے آتی ان دونوں کو دیکھ چکی تھی اس نے کیف سے پوچھا۔ کیف اس کی طرف گھوما تھا۔

” آ کچھ نہیں ” کیف نے ہلکے سے شانے جھٹکے تھے۔

” اچھا ! مجھے تو لگ رہا ہے جیسے بہت کچھ ہے ” وہ مشکوک لہجے میں بولی۔

” نہیں یار تمھے پتا تو ہے وہ مجھ سے چڑتی ہے بس اسی وجہ سے اسے تنگ کررہا تھا “

” ویسے ایک بات ہے کیف یونیورسٹی کی ساری لڑکیاں تمھے پہ مرتی ہیں سوائے اسے چھوڑ کر یہ وہ پہلی لڑکی ہے جو تمھے گھاس بھی نہیں ڈالتی ” نتاشہ نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا تھا۔

” اوہ کم اون نتاشہ تمھے ایسا لگتا ہے سیریسلی ؟ “

” آف کورس ! نظر آتا ہے تمہارا جادو اس پر نہیں چلا ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تھی۔ کیف آنکھیں سکیڑے چپ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ لیکن یہ بات اسے چبھی تھی۔

” ایسا کرتے ہیں شرط لگاتے ہیں تم اسے پٹا کر دکھاؤ باقی لڑکیوں کی طرح یہ بھی اگر تمہارے آگے پیچھے نظر آنے لگے یا یہ تمہاری محبت میں گرفتار ہو جائے تو مان جاؤں گی تمھے ” وہ اس کے کچھ نا بولنے پر مزید گویا ہوئی۔ نتاشہ کا انداز چیلچنگ تھا۔

” اوکے ڈن ! ” کیف بنا سوچے سمجھے کہہ گیا۔ اس کے مان جانے پر نتاشہ فخریہ مسکرائی تھی۔ آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ جیسے جو وہ چاہتی تھی وہ ہو گیا ہو۔

” گڈ لک ! ” وہ کہہ کر وہاں سے جا چکی تھی۔ پیچھے کیف گہری سوچ میں مبتلا ہوا (نا جانے اس نے یہ صحیح کیا تھا یا نہیں)۔

***********************

وہ نور کے سامنے نظریں جھکا کر بیٹھی تھی۔ دونوں اپنے بیڈروم میں تھیں۔ عنایہ اسے نیچے سے گھسیٹ کر اوپر لائی تھی۔

نور ! مجھے۔۔۔۔۔۔۔” یہ اعتراف اس کے لیے بے حد مشکل تھا۔

” ارے کیا ہوا ہے آپی بتا بھی دو ” نور ہتھیلی پر چہرہ گرائے کب سے اس کے بولنے کی منتظر تھی۔

” مجھے محبت ہوگئی ہے ” اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ نور جو بیزار سی بیٹھی تھی ایک دم سیدھی ہوئی۔

” کیا ؟ کب کس سے ؟ ” وہ چیخی تھی۔ عنایہ نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔

” کیف سے ” اس نے ایسے بتایا تھا جیسے بہت بڑا جرم سرزد ہوا ہو۔ ہاں یہ جرم ہی تو تھا بھلا اپنے دشمن سے بھی کسی کو محبت ہوتی ہے۔

” کیا ؟ سچ میں ؟ ” وہ چیختے ہوئے بیڈ سے اٹھی تھی۔

” اوہ بلے بلے اوہ شاوا شاوا ” وہ باقاعدہ بھنگڑے ڈال رہی تھی اور عنایہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھے گئی۔

” نور ! ” عنایہ نے غصے سے اسے پکارا تھا۔

” اوہ سوری ! اصل میں مجھے بہت خوش رہی ہے مجھے یقین تھا ایسا ضرور ہوگا ” وہ چہکتے ہوئے بتا رہی تھی۔

” بدتمیز تمھے خوشی ہو رہی ہے اور میرا یہاں برا حال ہوا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔ناجانے کب سے مجھے وہ اچھا لگنے گا اور پھر یوں منہ اٹھا کر محبت بھی ہوگئی؟ ایسا ہوتا ہے کیا ؟ ” وہ بالکل خوش نظر نہیں آرہی تھی۔

” ہائے میری بھولی آپی ایسے ہی تو محبت ہوتی ہے۔۔۔جب کوئی انجانا ان دیکھا اجنبی آپ کو ایک دم سے اپنا سا لگنے لگتا ہے ” وہ کھوئی سی فلمی انداز میں اسے بتا رہی تھی۔

” کیا جوڑی سجے گی آپ اور وہ ہینڈسم ” نور دونوں کو تصور میں ایک ساتھ سوچتے ہوئے مزید بتانے لگی۔ عنایہ نے بھی ایک پل کیلئے خود کو کیف کے ساتھ تصور کیا۔ وہ مسکرائی۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ نور اس کے قریب ہو کر بیٹھی تھی۔

” ہاں بالکل آنکھیں بند کریں اور تصور کریں خود کو ان کے ساتھ ” اس کی بات پر عنایہ نے فوراً آنکھیں بند کیں تھی اور تصور کیا لیکن یہ کیا ؟ اس کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑی تھی۔ وہ تصور میں اسکا مذاق بنا رہا تھا۔ عنایہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اور بیڈ سے اٹھ کر بے چینی سے یہاں وہاں چکر لگانے لگی۔ اسے ہوش تو اب آیا تھا۔ یہ وہ کیا کرگئی تھی۔ اسے خود پر غصہ آیا۔ کیف کو جانتے ہوئے بھی کہ وہ کیسا تھا پھر بھی وہ یہ کر بیٹھی تھی۔

نور بڑے آرام سے بیڈ پر دراز ہو چکی تھی۔ اسے پتا تھا ایک دن ایسا ضرور ہوگا۔ اور اپنی پیشگوئی سچ ہونے پر وہ خود پر فخر محسوس کررہی تھی۔

اوفف یہ کب اور کیسے ہوگیا ہے ؟ وہ دائیں سے بائیں سر پر ایک ہاتھ رکھے چکر کاٹ رہی تھی۔

” میں ایسے کیسے اس فلرٹ سے محبت کر سکتی ہوں، اس دل پھینک آوارہ سے ” اسکا غصہ تھا کہ کم ہونے پر نہیں آرہا تھا۔ اسکا بس چلتا تو خود کو ہی مار ڈالتی۔

” او ہو آپی کیا ہوگیا ؟ اتنا بھی برا نہیں۔۔۔ ویسے ہینڈسم بہت ہیں ” پاس ہی بیڈ پر بیٹھی نور نے اس ہینڈسم کا چہرہ یاد کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

” تم دیکھنا نور۔۔۔۔ تم دیکھنا۔۔۔۔اسے اگر پتا چلا تو میرا کتنا مذاق اڑائے گا۔۔۔ ” اب اسے نئی فکر لاحق ہوئی۔

” لیکن کیوں مذاق اڑائیں گے؟ “

” کیونکہ میں نے خود بہت اکڑ کر کہا تھا کہ میں بالکل ویسی لڑکی نہیں ہوں جو اسے دل دے بیٹھے جیسے باقی سب ہیں اگر اسے پتا چل گیا تو ؟ “

” لیکن اسے بتائے گا کون ؟ ” نور نے پوچھا۔

” ہاں یہ تو ہے اسے بتائے گا کون۔۔۔۔۔۔لیکن اگر۔۔۔۔۔۔۔۔اگر میرے دل کی بات میرے چہرے سے عیاں ہوگئی تو ؟ ” وہ ایک دم ٹہلتے ٹہلتے رکی تھی۔

” تو آپ خود بتا دیں نا اپنے دل کی بات ” نور لیٹے لیٹے اپنے بالوں کو اپنے ہاتھ میں لپیٹ رہی تھی اور بضد ہوئی۔

” تم پاگل ہو میں ایسا مر کر بھی نا کروں “

” لیکن کیوں یار ؟ ” وہ ایک دم اٹھ بیٹھی تھی۔

” کیونکہ محبت مجھے ہوئی ہے اسے نہیں ” عنایہ واپس سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔

” ہونہہ ” نور نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔

********************

اگلے دن یونیورسٹی میں عنایہ پورا دن کشمکش کا شکار رہی تھی۔ اس نے سوچا وہ زینب کو بتا دے یا پھر ایک دفعا اپنی فیلنگز کو پرکھ لے کہ آیاں یہ محبت ہی ہے یا کچھ اور۔ لیکن اس بات پر اسی وقت یقین ہوگیا تھا جب اسے پتا چلا آج کیف یونیورسٹی نہیں آیا تھا۔ اور وہ اسے مس کرنے لگی تھی۔ اس کی موجودگی اس کا اسکے آس پاس رہنا اسے تنگ کرنا سب ایک دم سے یاد آنے لگا۔

اب تو پکا تھا کہ وہ اسے چاہنے لگی ہے۔ پورا دن وہ اداس سی رہی تھی۔

*********************

” تم کل کیوں نہیں آئے ؟ ” وہ کلاس لے کر نکلا تھا جب عنایہ بھی اس کے پیچھے ہی آئی تھی۔ حالانکہ کل بہانے سے وہ عمر سے بھی پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن اس کی ہمت نہیں ہوئی۔ کیف کے چہرے پر ایک مسکان نمودار ہوئی تھی وہ اسکی جانب پلٹا تھا۔

” کیوں تم مجھے مس کر رہی تھی ؟ “

” نہیں ! ” اس نے تیزی سے کہا تھا ( پتا نہیں بار بار اپنے دل کے ہاتھوں وہ مجبور ہو کر یہ سب کررہی تھی، نا بھی پوچھتی تو کیا تھا ؟ اسے کیا جتنے مرضی دن نا آئے)۔

” وہ تو یونیورسٹی کی ساری لڑکیاں بوکھلائی بوکھلائی پھیر رہی تھیں تمہاری یاد میں اس لیے ” اس نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا۔

” اچھا ؟ لیکن مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ان سب کا نام لے کر تم اپنی کیفیت بتا رہی ہو ” کیف نے اس کے پاس جھک کر سرگوشیانہ لہجے میں کہا تو عنایہ بدک کر پیچھے ہوئی تھی۔

” پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ” وہ وہاں سے جانے لگی تھی جب کیف نے اسکی کلائی اپنی گرفت میں لی تھی۔

” ہاتھ چھوڑو میرا ” عنایہ نے اپنی کلائی اسکی گرفت سے آزاد کروانی چاہی لیکن بے سود۔

” نہیں پہلے تم مانو کہ تم مجھے مس کر رہی تھی “

نہیں ! ” وہ بضد تھی۔

” تو ٹھیک ہے میں بھی نہیں چھوڑوں گا ” وہ ہٹ دھرمی پر اتر آیا۔

” ہاتھ چھوڑو میرا ” عنایہ بنا پلٹے اب کی بار غصے سے بولی۔

” پہلے کہو تم نے مجھے مس کیا ” کیف نے مسکراتی آنکھوں سے کہا۔ عنایہ نے آس پاس دیکھا اسے ڈر تھا کوئی انہیں یوں دیکھ نا لے۔

” میں نے تمھے مس کیا ” وہ دانت پیستے ہوئے چبا چبا کر بولی۔ کیف نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ تیزی سے چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ وہ بھر پور مسکان چہرے پر سجائے وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھ رہا تھا جب وہ پلٹی تھی۔

” میں نے تمھے مس بالکل نہیں کیا اونہہ ” منہ بسور کر کہتی وہ کیف کو کیوٹ لگی۔ کیف نے ہاتھ اٹھا کر flying kiss پاس کی۔ اس کی اس حرکت پر وہ مزید وہاں ایک پل نہیں رکی تھی۔

********************

یونیورسٹی کا آف ٹائم ہوا تو کیف سیٹی پر دھن بجاتا اپنی ہیوی بائیک کی طرف بڑھا لیکن نظر روڑ کے اس پار اٹھی تو جیسے تھم گئیں۔ اس گاڑی کے پاس ایک لڑکا کھڑا کچھ کہہ رہا تھا جس پر عنایہ نے ہنستے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب اس کے کندھے پر ماری جس پر اس نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تو عنایہ اندر بیٹھی اور پھر اس کی نظروں کے سامنے سے وہ گاڑی جا چکی تھی اور کیف وہیں کھڑا رہا۔

*********************

کیف مسلسل پنجنگ بیگ پر مکے برسا رہا تھا۔ ہاتھوں پر کالے رنگ کے گلوز پہنے تھے۔ آنکھوں کے پردوں پر بار بار ایک ہی منظر ابھر رہا تھا۔ عنایہ کے ساتھ وہ لڑکا۔ وہ کون تھا ؟ عنایہ کے ساتھ اسکی اتنی بے تکلفی اسے تکلیف دے رہی تھی۔ سارہ دن مصروفیت کے باوجود اسے وہ منظر نہیں بھولا تھا اور اب اسے وقت ملا تھا اس پر سوچنے کا۔ وہ ایک دم رکا۔ اپنے ہاتھوں سے گلوز اتار کر پھینکے۔ اور جلدی سے اپنا موبائل بیڈ پر سے اٹھایا۔ ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے دوسرے ہاتھ سے اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں کو سمیٹا۔

********************

عمر کی انکھ لگے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اس کے فون پر کال آنے لگی۔ وہ باہر اپنی فیملی سے بات کرتا رہا تھا اور اب جا کر کہیں اسے سونے کا موقع ملا تھا۔ لیکن اس کال سے وہ سخت بد مزہ ہوا تھا۔ اس نے بھی قسم اٹھا لی تھی نا اٹھانے کی۔ اسکا فون مسلسل بجتا چلا جا رہا تھا۔ عمر نے پاس رکھا دوسرا تکیہ اٹھایا اور اپنے منہ پر رکھ لیا لیکن کال کرنے والا بھی کوئی ڈھیٹ تھا۔ فون بجنا بند نا ہوا تھا تو عمر نے جھنجھلا کر کال پک کی تھی۔

” کیا موت پڑی ہے تجھے اس وقت ؟ ” عمر شدید تپا ہوا تھا اپنی نیند ڈسٹرب ہونے پر۔

” کمینے کب سے فون کر رہا ہوں ” کیف نے بھی غصے میں جواب دیا۔

” کیف ! میں بہت تھکا ہوا ہوں، مجھے سونا ہے ” عمر نے کہا۔

” بعد میں سونا پہلے میرا کام کر۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ پتا کرنا ہے “

” بھونک کیا تکلیف ہے ؟” عمر کو پتا تھا جب تک اسکا کام نہیں ہوگا آج رات کی نیند تو اس پر حرام ہے۔ اس لیے بہتر تھا اسکا کام کرکے ہی آرام سے سوئے۔

” عنایہ کے ساتھ وہ لڑکا کون تھا ؟ “

” کون سا لڑکا ؟ “

” جس کے ساتھ وہ آج یونیورسٹی کے بعد گئی تھی “

” مجھے کیا پتا کمینے ؟ تو مجھ سے کیوں پوچھ رہا ہے؟” عمر کا پارہ اس کی بات پر مزید چڑھا تھا۔

” عمر ! میرا دماغ اس وقت بہت خراب ہے یہ نا ہو تو میرے ہاتھوں ضائع ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔تو بہتر ہے جو کہا ہے وہ کر ” کیف نے تھوڑا سختی سے کہا اس بار۔

” تو پاگل شخص مجھے کیسے پتا کون تھا ؟ “

” زینب سے پتا کرکے بتاؤ اسے ضرور پتا ہوگا ” کیف نے بہت آرام سے کہا تھا۔

” تیرا دماغ تو ٹھیک ہے ؟ رات کے اس پہر میں اسے کال کروں اور پوچھوں کہ زینب آج یونیورسٹی کے بعد عنایہ کے ساتھ لڑکا کون تھا ؟ “

” ہاں باکل یہ ہی پوچھنا ہے “

” تیرا دماغ چل گیا ہے کمینے۔۔۔۔تو مجھے کال کرسکتا ہے اس وقت اور میں تجھے لیکن رات کے اس پہر میں اسے کال نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔وہ کیا سوچے گی ؟ “

” تیرے جیسا دوست ہونے سے بہتر ہے انسان کا دشمن ہی ہو ” کیف نے کہہ کر کال کاٹ دی۔ دوسری جانب عمر نے فون کو گھورا اور تکیہ درست کرکے لیٹنے لگا۔

” یہ آدمی محبت میں بالکل پاگل ہو چکا ہے ” عمر آنکھیں بند کرنے سے پہلے بڑبڑایا۔

***********************

کیف نے اپنا فون غصے سے واپس بیڈ ہر پٹخا تھا۔ سگریٹ اور لائٹر اٹھا کر اپنے کمرے کے ملحقہ ٹیرس پر آگیا تھا۔ اس نے سگریٹ جلا کر اپنے لبوں پر دبایا۔ ایک ہاتھ ریلنگ پر ٹکائے ایک ہاتھ سے سگریٹ کے کش لینے لگا۔ چاروں طرف دھند چھائی تھی۔ اتنی سردی میں وہ بنا کسی سویٹر کے صرف ایک ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس تھا۔

” کون ہو سکتا کے وہ ؟ ” کیف نے آنکھیں بند کیں تو اسے وہ پی سی ہوٹل والی رات یاد آئی جب وہ اسے بتا رہی تھی کہ وہ کسی سے محبت کرتی ہے۔ کیف نے فوراً آنکھیں کھولیں تھی۔

” یہ میں کیسے بھول سکتا ہوں ؟ ” کیف بڑبڑایا۔

” تو وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے ؟ ” اس نے خود سے سوال کیا۔ دل میں ایک دم بے چینی بڑھی تھی۔ کیف نے ایک اور گہرا کش لیا تھا۔ اور دھند میں چھائے آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ اپنی سوچوں میں محو تھا جب ایک خیال آیا۔ وہ کیف مرتضیٰ تھا۔ ہر چیز حاصل کرسکتا تھا۔ وہ جس سے مرضی محبت کرتی ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ختم ہوتی سگریٹ کو کیف نے ہاتھ سے نیچے پھینک دیا پھر دونوں ہاتھ ریلنگ ہر ٹکائے کھڑا رہا۔

” وہ صرف میری ہے۔۔۔۔۔۔۔ صرف میری ” آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے وہ جنون سے بولا تھا۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *