222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 25)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

کیف یونیورسٹی پہنچا تو عمر سامنے ہی اسے زینب کے ساتھ دکھ گیا تھا۔ عمر کی نظر اس پر پڑی تو زینب سے ایکسکیوز کرتا وہ کیف کے پاس آیا۔

” پتا کیا کون تھا ؟ ” کیف نے بے چینی سے پوچھا۔

” کزن ہے اسکا ” عمر نے بتایا۔

” بس کزن ہی یا کچھ اور ؟ ” کیف نے جس انداز سے پوچھا عمر کھٹکھا تھا۔

” کیا مطلب ؟ “

” مطلب وہ اس کو پسند کرتی ہے “

” تجھے کس نے کہا یہ ؟ “

” اس نے خود ایک بار بتایا تھا “

” ایسا ہوتا تو زینب مجھے بتا دیتی ” عمر نے کندھے اچکا کر کہا۔

” تو نے عنایہ کی فیملی کے بارے میں پوچھا ؟ ” کیف نے آج صبح ہی عمر کو کال کرکے کہا تھا کہ اسے عنایہ کی ساری انفورمیشن چاہیے جتنی ہو سکے وہ زینب سے پتا کرکے بتائے۔

” ہاں وہ۔۔۔۔۔۔۔کیف یار عنایہ کے پیرنٹس نہیں ہیں۔۔۔وہ اپنے ماموں کے پاس رہتی ہے ” کیف چونکا تھا۔ عمر نے ساری ڈیٹیل بتا دی جو جو زینب نے بتائی تھی۔ کیف کو جان کر دکھ ہوا تھا۔

” میں اس کی کزن سے ملا تھا ایک بار لیکن مجھے لگا تھا وہ دونوں بہنیں ہیں ” کیف نے نور کی اور اپنی ملاقات یاد کرتے ہوئے بتایا۔

” لیکن اچھی بات تو یہ ہے وہ اپنے ماموں کے گھر بہت خوش ہے اور ان کی فیملی کا حصہ ہے ” عمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر کہا تھا۔ لیکن کیف مسکرا نہیں سکا۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم نظر آتا تھا۔

********************

” مجھے تم سے بات کرنی ہے ” عنایہ لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی جب کیف اس کے سامنے آ بیٹھا۔

” کہو میں سن رہی ہوں ؟ ” عنایہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا پھر دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

” یہاں نہیں تم یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر آؤ پانچ منٹ میں “

” اوہ ہیلو! میں کیوں آؤں وہاں ؟ جو بھی کہنا ہے یہیں کہو “

” عنایہ! کہا ہے نا یہاں بات نہیں ہوسکتی ” وہ سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ عنایہ نے حامی بھر لی۔

*********************

وہ یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر آئی تو کیف دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اپنے فون پر مصروف نظر آیا۔

” ہاں کہو! ” اس کے سامنے بازو باندھے سننے کیلئے کھڑی تھی جب کیف نے اپنا فون پاکٹ میں رکھا اور اسکا ہاتھ تھام کر چلنے لگا۔

” کیا کررہے ہو کیف ؟ ” وہ اسکے ساتھ چلتے چلتے اپنا ہاتھ چھوڑوا رہی تھی لیکن اسکی گرفت مضبوط تھی۔ کیف نے خالی کلاس روم میں لا کر اسکا ہاتھ چھوڑا اور دروازہ بند کرکے اس کی جانب مڑا۔

” کیا مسئلہ ہے تمہارا ؟ ہمیشہ ایسے کیوں کرتے ہو ؟ باہر بھی بات ہوسکتی تھی ” وہ غصے سے بولی۔ کیف سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

” ہو گیا تمہارا ؟ اب میں بولوں ؟ ” عنایہ جو کچھ اور بھی بولنا چاہتی تھی کیف کی بات پر چپ ہوگئی۔

” تم اس رات مجھے کچھ بتا رہی تھی نتاشہ کی وجہ سے وہ بات ادھوری رہ گئی۔۔۔وہ ہی ادھوری بات جاننا چاہتا ہوں “

” ہیں ؟ کب ؟ ” عنایہ نے اچنبھے سے پوچھا۔

” پی سی ہوٹل بھوربن ” کیف نے یاد دہانی کروائی۔ عنایہ نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھا۔

” مجھے یاد نہیں ” وہ کہہ کر جانے لگی جب کیف اس کے سامنے آکر اسکا راستہ روک چکا تھا۔

” تمہیں اچھے سے یاد ہے اور یہ بھی کہ میں کیا پوچھ رہا ہوں ” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا۔

” تم کیا کرو گے جان کر ؟ “

” جان جاؤ گی لیکن پہلے تم بتاؤ ” کیف نے ایک قدم اس کی اور بڑھایا تھا۔

” نہیں! پہلے تم بتاؤ تمھے اچانک سے کیا شوق چڑھا ہے ” عنایہ نے کہتے ہوئے اپنا ایک قدم پیچھے کی اور لیا تھا۔

” تم کسی اور سے محبت نہیں کرسکتی ” کیف بے خودی میں بولا۔

” ہاں؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کیلئے یہ بات غیر متوقع تھی۔ وہ منہ کھولے اسے دیکھے گئی۔ کیف مسکرا کر مزید فاصلہ ختم کرتا اس کے قریب ہوا۔ عنایہ اس کے پاس آنے پر پیچھے رکھی کرسی سی ٹکرائی اور اس پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی۔ نظریں سامنے کیف پر تھیں۔ کیف جھکا تھا اور کرسی کے دونوں اطراف اپنے ہاتھ جمائے اسے اپنے حصار میں لیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ایک کی آنکھوں میں حیرانگی تھی اور دوسرے کی آنکھوں میں محبت، ان لمحوں میں ایک داستان لکھی جارہی تھی۔

” بولو میں صحیح کہہ رہا ہوں نا ؟ ” کیف نے تائید چاہی۔

” مجھے نہیں پتا تم کیا بات کررہے ہو ” عنایہ نے گھبرا کر اسکے حصار سے نکلنا چاہا لیکن کیف ایک انچ نہیں ہلا۔

” تم اس رات اپنے پیرنٹس کی بات کررہی تھی ” اس کے بالکل صحیح اندازے پر عنایہ ہکا بکا رہ گئی۔

” تت تمھے کیسے۔۔۔۔۔۔؟ “

” کیونکہ تمہاری آنکھیں سب صاف صاف کہہ دیتی ہیں اور ان آنکھوں میں مجھے صرف اپنا عکس نظر آتا ہے ” کیف نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا تھا۔ عنایہ پوری آنکھیں کھولے بالکل شاک سی ہوئی تھی(اسے کے دل کا حال وہ اتنی آسانی سے جان گیا)۔ کیف زیرلب مسکرایا اور اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکرا کر اسے ہوش دلایا۔ عنایہ ہوش میں آتے ہی تیزی سے اسکے حصار سے نکلی تھی اور اس بار کیف نے اسے جانے دیا۔

********************

وہ دونوں کیفے ٹیریا میں بیٹھی تھیں۔ زینب بڑے مزے سے سموسے کھا رہی تھی۔ جبکہ عنایہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔ زینب نے اسے کھوئے کھوئے دیکھا تو فوراً پوچھا۔

” کیا ہوا ہے کہاں گم ہو ؟ ” اس کی آواز پر عنایہ ہوش میں آئی تھی۔

” ہاں۔۔۔۔کچھ نہیں ” عنایہ نے اردگرد دیکھا۔ پھر زینب کی جانب جھک کر دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔

” زینب! مجھے محبت ہوگئی ہے ” زینب جو سموسہ کھارہی تھی ایک دم اچھو لگا اور کھانسنے لگی۔ عنایہ نے اپنے پاس پڑی پانی کی بوتل اسے دی۔ زینب نے جلدی سے پانی پیا۔

” سچ بتاؤ واقعی میں ؟ ” زینب خوش نظر آرہی تھی۔

” ہاں! ” عنایہ کہہ کر سیدھی ہو بیٹھی۔

” ہائے جلدی جلدی بتاؤ کون ہے وہ ؟ ” زینب سامنے والی چیئر سے اٹھ کر اسکے پاس والی چئیر پر آ بیٹھی۔

” تم یقین نہیں کرو گی “

” ہیں کیوں نہیں کروں گی ؟ ایسا بھی کون ہے جو۔۔۔۔۔”

” کیف! ” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عنایہ بول پڑی جس پر زینب کو تو جیسے جھٹکا لگا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے عنایہ کو دیکھنے لگی۔ پھر ایک دم ہنسنے لگی۔

” نائس جوک ” وہ ہنستے ہوئے بولی۔

” پاگل لڑکی سچ ہے یہ ” عنایہ نے منہ بنا کر کہا تھا۔

” ہیں ؟ اپنا کیف ؟ ہائے مجھے یقین کیوں نہیں آرہا ؟ “

” میں نے تو کہا تھا تم یقین نہیں کرو گی ” عنایہ اپنا چہرہ ہاتھ پر گرائے بولی۔

” کب کیسے ہوا یہ ؟ مجھے سب جاننا ہے ” زینب نے اسکے بازو ہر ہاتھ رکھ کر فرمائش کی جیسے کوئی چھوٹا بچا کہانی سننے کیلئے کرتا ہے۔ عنایہ نے ساری بات مختصر کرکے اسے سنائی۔

” افف زینب وہ کیا سوچتا ہوگا میرے بارے میں؟ مجھے سمجھ نہیں آیا اسے کیسے میری آنکھوں سے سب پتا چل گیا ؟ کیا اتنا آسان ہیں آنکھیں پڑھنا ؟ ” وہ پریشان کن بولی۔ جبکہ زینب منہ کھولے سب سن رہی تھی ایک دم اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے۔

” او مائے گاڈ he loves you ” زینب آنکھیں پھیلائے بولی۔ اسکی بات پر عنایہ نے اسے دیکھا۔

” ہونہہ اپنے سے کچھ بھی ” عنایہ اداسی سے بولی۔

” ارے پاگل don’t you notice change in his behavior ” زینب نے پوچھا۔ عنایہ ایک پل کو سوچنے لگی۔ یہ تو واقعی میں وہ کافی عرصے سے نوٹ کررہی تھی۔

” ہاں لیکن اس نے کچھ کہا تو نہیں ہے “

” ہر بات کہنا ضروری تو نہیں ہوتا نا ؟ جیسے تم نے بھی تو نہیں کہا لیکن وہ جان گیا اسی طرح تم بھی سمجھو نا “

” لیکن مجھے کیوں نہیں لگتا ؟ ” عنایہ ابھی بھی یقین نہیں کرپارہی تھی۔ زینب مزید اس کے قریب ہوئی تھی۔ پھر آس پاس پورے کیفے میں نظر دوڑائی۔

” ارے یار تم نے جیسے بتایا کہ وہ تم سے آج جس انداز میں بات کررہا تھا اس سے صاف ظاہر ہے ” عنایہ مطمئن نہیں ہوئی تھی۔

” افف!” زینب نے اپنا ماتھا پیٹا پھر ایک دم کچھ یاد آیا تو فوراً بولی۔

” تبھی میں کہوں عمر کیوں پوچھ رہا تھا تمہارے بارے میں ؟ “

” ہیں کیا پوچھ رہا تھا ؟ ” زینب نے اسے آج صبح اپنی اور عمر کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو سنائی تو عنایہ حیران ہوئی۔

” سچ میں تمھے لگتا ہے ؟ مجھے تو لگ رہا کہیں میرا مذاق اڑانے کی منصوبہ بندی نا کررہا ہو ” وہ روہانسی ہوئی۔ جبکہ زینب نے تاسف سے اسے دیکھا تھا۔ اسکا اتنا سمجھنانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ عنایہ کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی تھی۔

********************

یہ اگلے روز کی بات تھی عنایہ لائبریری میں اپنے نوٹس بنا رہی تھی جب معاویہ اس کے پاس آیا تھا۔ سر ہمدانی سے اس نے ایک ٹاپک سمجھنا تھا جو انہوں نے مصروفیات کی وجہ سے معاویہ کو عنایہ کے پاس بھیج دیا۔ معاویہ ویسے تو کمپیوٹرز میں ایم اے کررہا تھا لیکن ایک سبجیکٹ انکا کامن تھا اسی وجہ سے سر ہمدانی نے اسے عنایہ کے پاس سمجھنے کیلئے بھیج دیا کیونکہ سر ہمدانی عنایہ کو سب سے برائٹ انٹیلیجنٹ سٹودنٹ مانتے تھے انھیں یقین تھا وہ اسے اچھے سے سمجھا دے گی۔ وہ اسکے پاس والی کرسی پر بیٹھا تھا اور عنایہ اپنے نوٹس چھوڑ کر اسے سمجھا رہی تھی۔ کیف جو کافی دیر سے عنایہ کو ڈھونڈ رہا تھا زینب کے بتانے پر وہ لائیبریری آیا اور سامنے ان دونوں ایک ساتھ دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ وہ چلتا ہوا ان کے پاس آیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ وہ باکل معاویہ کے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹھا تھا اور یوں عنایہ ان کے درمیان میں تھی۔ دونوں نے ہی سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ کیف کی چبھتی نظریں معاویہ پر جمی تھیں جبکہ عنایہ کے دل کی دھڑکن بڑھی تھی۔ اب تو وہ سب جانتا تھا اس لیے وہ تھوڑا گریس برت رہی تھی۔ عنایہ واپس سے اسے سمجھانے لگی۔ معاویہ نے مسلسل خود پر نظریں محسوس کیں تو چہرہ اٹھا کر کیف کو دیکھا۔ کیف نے اسے آنکھوں سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ جلدی سے سمجھ کر اٹھ گیا۔

” عنایہ تھینک یو اتنا کافی ہے ” وہ کہہ کر تیزی سے نکل گیا۔ عنایہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔

” اسے کیا ہوا اچانک سے ؟ پورا سمجھا بھی نہیں اور چلا گیا عجیب ” وہ بولی۔

” اسے اچھے سے سمجھ آگیا تھا اس لیے چلا گیا ” کیف نے کہا۔ عنایہ نے اسکی بات سنی اور دوبارہ سے جھک کر نوٹس بنانے لگی اور کیف اسے دیکھنے لگا۔

” تم کیا یونیورسٹی میں پروفیسر لگ گئی ہو ؟ ” کیف کا انداز ہی بدلہ ہوا تھا۔ عنایہ نے سر واپس سے اٹھا کر اسے دیکھا۔

” سر ہمدانی نے بھیجا تھا اسے ” عنایہ کہہ کر دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

” ہاں سر کی فیورٹ جو ہو لیکن وہ کہیں گے تو کسی کو بھی ایسے سمجھانے بیٹھ جاؤ گی؟”

” تمھے کیا مسئلہ ہے ؟ ” عنایہ پوچھے بنا نا رہ سکی۔

” مجھے ہی تو مسئلہ ہے آئندہ مجھے تمہارے آس پاس یونیورسٹی کا کوئی بھی لڑکا نظر نہیں آئے ” کیف نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تنبیہ کی۔ اور عنایہ تو جتنا حیران ہوتی کم تھا۔

” اچھا اور جو لڑکیاں ہر وقت تمہارے آس پاس ہوتی ہیں ان کا کیا ؟ ” وہ ایک دم سب بھولائے اپنی جلن کا احساس اپنی زبان پر لے آئی۔ کیف نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔

” تم جیلس ہوتی ہو ؟ ” کیف نے اسکے خوبصورت چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے کہا۔ اس کے یوں کہنے پر عنایہ کو احساس ہوا کہ وہ کیا کہہ گئی ہے۔ اس لیے فوراً خود کو سنبھالا۔

” جی نہیں! اور تمھے کیوں فرق پڑتا ہے جو بھی ہو میرے ساتھ ؟ “

” یہ کافی نہیں کہ مجھے فرق پڑتا ہے کیوں پڑتا ہے یہ جاننا ضروری نہیں ” اسکا یہ کہنا تھا کہ عنایہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔ وہ اپنا چہرہ جھکا گئی(افف سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہتا) عنایہ نے بے اختیار سوچا۔

” ایسے نہیں ہوتا جو بات ہو صاف صاف کہہ دینی چاہیے” اس نے اپنا جھکا چہرہ اُٹھایا اور دو ٹوک کہا لیکن کیف کی طرف ایک نگاہ بھی نہیں ڈالی تھی۔ ناجانے کیوں اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہِمت نہیں تھی۔

” میری طرف دیکھ کر پوچھو کیا پوچھنا ہے ؟ ” کیف نے گھمبیر لہجے میں استفسار کیا۔

” عنایہ کیا ہے شرما کیوں رہی ہو یہ ہی موقع ہے پوچھ لے بس تھوڑی ہمت کر ” وہ یہاں وہاں دیکھتے ہوئے اپنے دل میں خود سے مخاطب تھی۔

” تمہارے دل میں کیا ہے ؟ ” اس نے ہمت کرتے ہوئے پوچھا۔

” تم! ” فوراً جواب آیا تھا۔

عنایہ پھر سے چہرہ جھکا کر زیر لب مسکرائی تھی۔

” تو ؟ ” عنایہ نے بات بڑھانے کیلئے کہا۔

” تو بس! ” عنایہ نے پھر سے چہرہ اٹھا کر اسکی اور دیکھا جو آنکھوں میں ڈھیروں چاہت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔

” بس ؟ ” عنایہ کو لگا وہ اپنی محبت کا اظہار کرے گا۔

” ہاں اور کیا ؟ ” کیف نے شانے اچکائے۔

” مطلب بس اتنا ہی ؟ ” وہ خفگی سے بولی(کچھ تو کہے مجھ سے اچھا سا)۔

” اور کیا ؟ اس سے زیادہ مجھے نہیں آتا ” کیف کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔

” ہاں ؟ ” اس نے منہ کھولے اسے دیکھا۔

” یس سویٹ ہارٹ میں چلتا ہوں بعد میں ملتے ہیں ” وہ جا چکا تھا۔

” ہاں یہ کیا؟ ایسے کون کرتا ہے اپنی محبت کا اظہار ؟ ( اس نے اپنے سامنے پڑی چیزیں سمیٹی تھیں) کوئی بات نہیں۔۔۔۔تم سے محبت کا اظہار نا کروایا تو میرا نام بھی عنایہ نہیں ” وہ کچھ سوچتے ہوئے ایک عظم سے بولی تھی۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *