Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 13)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 13)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
چاروں اس وقت کیفے ٹیریا میں موجود تھے۔ عنایہ اور کیف آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ کیف آنکھیں چھوٹی کیے پرسوچ نگاہوں سے عنایہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ عنایہ بے زار سی بیٹھی تھی جیسے یہاں بیٹھنا نا چاہتی ہو۔ زینب اسے بہت مشکل سے یہاں منا کر لائی تھی۔
” دیکھو یار تین دن کیلئے اپنے جھگڑے کو چھوڑو اور سر ہمدانی کی دی ہوئی اسائنمنٹ پر دھیان دو ” عمر نے بات شروع کی۔
” ہاں عنایہ ایسے کیسے چلے گا ؟ سر نے تین دن تک کا ٹائم دیا ہے۔۔۔۔ایسے تم دونوں اگر آپس میں ہی جھگڑتے رہو گے تو پریزنٹیشن کیسے دو گے ؟ جانتی ہو نا اسکے مارکس ہمارے فرسٹ سمیسٹر کے ایگزامس میں ایڈ ہوں گے” زینب نے تفصیل سے بتایا۔ عنایہ کو اسکی بات ٹھیک لگی۔
” تو پھر تم دونوں اب بنا کسی جھگڑے کے ساتھ مل کر کام کرو گے نا ؟ ” عمر نے باری باری دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے تائید چاہی تھی۔ کیف نے کندھے اچکا دیے۔ عنایہ نے بھی ایک نظر کیف پر ڈال کر اثبات میں سر ہلا گئی۔
” اوکے گڈ ! ” عمر نے مسکرا کر کہا۔
“اب تم دونوں بات کرو ہم آتے ہیں ” زینب کہہ کر اٹھ گئی۔ وہ اور عمر انھیں اکیلا چھوڑ گئے تاکہ آپس میں بات کرکے اسکا حل نکالیں۔
*******************
” تمہیں کیا لگتا ہے وہ دونوں ایک ساتھ مل کر اسائنمنٹ پر کام کرلیں گے ؟ ” زینب نے ساتھ چلتے عمر سے پوچھا۔ وہ دونوں کیفے سے نکل کر اب باہر گراؤنڈ کی طرف جا رہے تھے۔
” مشکل ہے کہ دونوں بنا لڑے کوئی کام کرلیں۔۔۔۔۔ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر ” عمر نے تاسف سے کہا تھا۔
” ہاں یہ تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو لگ رہا ہے کیفے میں اب تک جنگ نا چھیڑ گئی ہو ” زینب رکی تھی اور عمر کی طرف دیکھتے ہوئے فکر مندی سے بولی۔
” ارے چھوڑو کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ان دونوں کے پیچھے ہم خامخواہ خوار ہوں۔۔۔۔بس سمجھا دیا نا ایک بار۔۔۔۔۔دونوں بچے نہیں ہیں۔۔۔ ” عمر نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔ زینب نے اسکی بات پر اسے گھورا تھا۔
” اچھا اچھا یار پتا ہے عنایہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے لیکن اب ہم انھیں کتنا سمجھا سکتے۔۔۔۔ان کو آپس میں بات کرنے دو پھر دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے” عمر نے اسکے گھورنے پر تفصیلا بتاتا۔ زینب نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا اور آگے بڑھ گئی۔ عمر نے سکھ کا سانس خارج کیا اور جلدی سے اسکے پیچھے ہو لیا۔
*****************
دوسری طرف کیفے میں عنایہ بات شروع کرنے کیلئے مناسب الفاظ تلاش رہی تھی۔ جبکہ دل ابھی بھی کیف سے مل کر اس اسائنمنٹ پر کام کرنے کو راضی نہیں تھا۔ لیکن وہ مجبور تھی۔ کیف بھی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ عنایہ بات شروع کرے کیونکہ اسکی پاؤں مارنے والی حرکت پر ابھی بھی اس کا دل چاہ رہا تھا اس چڑیل کا گلا دبا دے۔
” دیکھو میں جانتی ہوں تمھے میں بالکل اچھی نہیں لگتی اور نا مجھے تم۔۔۔۔۔ لیکن اب ہمیں تھوڑے دنوں کیلئے اس دشمنی کو چھوڑ کر اس اسائنمنٹ پر مل کر کام کرنا ہوگا ” عنایہ تھوڑا آگے کو ہوکر ٹیبل پر رکھے اپنے دونوں ہاتھ باہم ملائے گویا ہوئی۔
” ہممم ٹھیک ہے ” کیف نے بس اتنا ہی کہا تھا۔
” اور اس دوران تم مجھے بالکل تنگ نہیں کرو گے نا کوئی شرارت کرو گے ” عنایہ نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کرتے لہجے میں کہا تھا۔
” اچھا ! اور تم اپنی زبان کے جوہر میرے سامنے کم ہی دکھانا اور اپنے ہاتھ پاؤں بھی کنٹرول میں رکھنا ” کیف بھی آگے کو جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تنبیہ کرنا نا بھولا۔
” اوکے کل پھر لائبریری میں ملتے ہیں ” اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور جانے کیلئے اٹھ گئی۔
” لائبریری کیوں ؟ ہم باہر گراؤنڈ میں بیٹھ کر آرام سے کام کرسکتے ہیں ” کیف بھی کرسی پیچھے گھسیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
” وہاں شور ہوتا ہے بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایسے کام نہیں کرسکتی “
” اور مجھے خاموشی نہیں پسند ” کیف بھی دوبدو بولا۔
” دیکھو ایک بات تم میری مانو گے ایک میں تمہاری سو پلیز ہمیں لائبریری میں ہی اسائنمنٹ بنانی پڑے گی ” عنایہ نے ضبط کرتے ہوئے کہا تھا۔
” ایسا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔اس بار تمہاری مان لیتا ہوں لیکن اگلی بار میری ہی چلے گی ” وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔
” آیا بڑا ہونہہ ” عنایہ نے اسکی پشت کو گھورا تھا۔
********************
” یار منال میں تو تمہارے بھائی کی فین بن گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔he is so smart ” نور اور منال کالج سے چھٹی کے وقت گیٹ کے پاس کھڑی تھیں جب نور نے منال سے کہا۔
” کیوں ؟ ” منال نے تھوڑا حیرت سے پوچھا۔
” یار تمھے نہیں پتا میری آپی اور تمھارے بھائی کا چھتیس کا اکڑا ہے “
” ہیں مطلب ؟ “
” اہ ہو ! دونوں ساتھ پڑھتے ضرور ہیں لیکن انکی آپس میں باکل نہیں بنتی اس دن دیکھا نہیں تھا مال میں جب ہم ملے تھے کیسا رویہ تھا دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ” نور نے آنکھیں بڑی کیے ایسے بتایا جیسے کوئی بہت اہم بات ہو۔
” اوہ ہاں ! “
” ہاں دیکھو ہم دونوں اتنی اچھی سہیلیاں ہیں اور ہمارے بڑے بہن بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن ” نور بڑے مزے سے کہہ رہی تھی۔
” جانی دشمن تو نا کہو۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے دونوں کی بنتی نہیں ہے تو کیا ہوا ؟ ٹھیک ہو جائیں گے کبھی نا کبھی “
” ایک بات تو بناؤ تمہارے بھائی کی کوئی گرل فرینڈز ہے کیا ؟ نور نے اسکی بات کے جواب میں تجسس سے پوچھا۔
” شرم کرو کیسی باتیں کررہی ہو ؟ ” منال نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
” ارے کیا ؟ یہ تو آجکل عام ہے اور ویسے بھی تمھارا بھائی اتنا ہینڈسم ہے لڑکیاں تو مرتی ہوں گی ان پہ “
” ہاں یہ تو ہے ” منال بھی اپنے بھائی کی تعریف پر مسکرائی تھی۔
” پھر کوئی ہے ؟ کوئی منگیتر وغیرہ ؟ ” نور ابھی بھی اپنی بات پر اٹکی تھی۔
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے “
” ہائےےےے شکر ہے ” نور نے چہک کر کہا تھا۔
” تم کیوں اتنا خوش ہورہی ہو ؟ ” منال نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
” ارے ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ اپنی آپی کیلئے کہہ رہی ہوں۔۔۔سوچو دونوں ایسے لڑتے جھگڑتے پیار میں پڑ جائیں تو کتنا مزہ آئے گا ” نور نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے کہا تھا۔ اسکی بات پی منال ہنسی تھی۔
” توبہ ہے نور کیا کیا سوچتی ہو ” منال نے کہہ کر سامنے دیکھا تو اسکا ڈرائیو اسے لینے آگیا تھا۔
” اچھا مجھے لینے آگئے میں چلتی ہوں ” منال جلدی سے اسکے گلے ملی تھی۔
” اوکے اللہ حافظ ! ” نور نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔
*******************
اگلے دن یونیورسٹی میں عنایہ فری لیکچر میں لائبریری میں بیٹھی کیف کا انتظار کررہی تھی جب وہ آتا دکھا۔ اسکے آتے ہی اس نے جلدی سے کتابیں کھول لیں۔ کیف بالکل اسکے سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ دونوں کے درمیان لمبی سے میز رکھی تھی۔ لائبریری میں آگے پیچھے والی میزوں پر دو تین ہی سٹوڈنٹس موجود تھے۔ عنایہ نے ایک بک اٹھا کر اسکے سامنے رکھی تھی۔
” تم marketing strategy پر کام کرو اور میں online marketing پر ” عنایہ کہہ کر اپنے سامنے رکھی کتاب پر جھک گئی۔
” کیوں ؟ online marketing پر میں کیوں نہیں کرسکتا ؟ تم strategy کرو گی ” کیف کو اس ٹاپک پر کوئی مسلئہ تو نہیں تھا لیکن وہ عنایہ کی کیوں سنتا۔ عنایہ نے ناگوار سی نظر اس پر ڈالی تھی۔(ایک تو اس شخص کو میری ہر بات سے اختلاف کرنا ہوتا ہے)۔
” میں کل رات الریڈی اس ٹاپک پر کام شروع کر چکی ہوں اسی لیے “
” تو میں کیا کروں ؟ تمھے مجھے بتانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔اور کل تم نے ہی کہا تھا ایک تم میری مانو گی اور ایک میں تمہاری so now it’s my turn “
” اوکے فائن تم online marketing پر کر لو ” عنایہ نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا۔ کیف نے مسکرا کر کندھے اچکائے تھے اور کتاب عنایہ کے سامنے سے اٹھا کر اپنے آگے رکھ لی اور جو کتاب عنایہ نے اسے دی تھی وہ واپس عنایہ کے سامنے رکھ دی۔
عنایہ نے اسکے اس ردعمل کو ایسے دیکھا جیسے آنکھوں سے ہی جلا کر بھسم کردے گی۔ لیکن سامنے بیٹھا شخص بڑے مزے سے کام پر لگ چکا تھا بنا عنایہ کے چہرے کے تاثرات دیکھے۔ عنایہ نے پاس پڑی فائل سے نئے پیپر نکالے اور اپنا کام شروع کردیا۔ اسے رہ رہ کر کیف پر غصہ آرہا تھا۔ اس نے رات میں ہی اس اسائنمنٹ ہر کام شروع کردیا تھا اور اب کیف نے اسکا ٹاپک ہی چینج کر دیا۔
” کتنی محنت کی تھی اوفف ” عنایہ نے اداسی سے لکھنا شروع کردیا۔ کیف مگن سا کام پر لگا تھا جب یوں ہی نظریں اٹھا کر سامنے عنایہ کو دیکھا تھا۔ وہ اداس سا منہ بنائے پیپر پر لکھ رہی تھی۔ بچوں کی طرح لب باہر نکالے وہ کیف کو بےحد کیوٹ لگی۔ کیف ایسے ہی اسے دیکھے گیا اور اسکے لب بے اختیار مسکرا اٹھے۔ کیف ایسے ہی عنایہ کو دیکھنے میں گم رہتا لیکن اپنے نام کی پکار پر فوراً ہوش میں آیا تھا۔ اس نے دیکھا دو لڑکیاں جو کسی اور ڈپارٹمنٹ کی تھیں شاید اسی سے مخاطب تھیں۔
” کیا ہم یہاں بیٹھ جائیں ؟ ” ایک لڑکی نے بڑی ادا دیکھاتے ہوئے کیف سے پوچھا تھا۔
” یا شیور ! ” کیف نے حامی بھری تو وہ دونوں فوراً سے بیٹھ گئیں۔ ایک لڑکی کیف کی رائٹ سائڈ پر اور دوسری لیفٹ سائڈ پر اور یوں کیف اب ان کے درمیان میں تھا۔ کیف نے زرا حیرانی سے دونوں کو دیکھا تھا۔ عنایہ نے ان لڑکیوں کو ایسا کرتے دیکھ نفی میں سر ہلایا اور دوبارہ سے اپنے کام پر لگ گئی۔
” آپ بہت اچھا گاتے ہیں ” کیف کی لیفٹ سائڈ پر بیٹھی لڑکی نے بات شروع کی۔
” تھینک یو ! ” کیف نے مسکرا کر داد وصول کی۔
” آپکو پتا ہے میں تو آپکی سنگنگ کی بہت بڑی فین ہوں” اب کی بار رائٹ سائڈ والی لڑکی نے کہا تھا۔ کیف جواباً بس مسکرا ہی سکا تھا۔
” نہیں نہیں میں اس بھی بڑی فین ہوں ” لیفٹ سائڈ والی تھوڑا تیز سا بولی تو کیف نے قدرے غیرآرام دہ سا پہلو بدلا۔
” نہیں مجھ سی بڑی نہیں ہے یہ ” دوسری والی نے اپنی سہیلی کو گھور کر دیکھا تھا اور پھر کیف سے بولی۔ عنایہ حیرانگی سی ان لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی جو باقاعدہ آپس میں لڑنے لگ گئی تھیں۔
کیف بیچارہ بیچ میں بیٹھا اس ہونے والی افتاد پر پریشان ہوا تھا۔ جبکہ عنایہ کو اس کے چہرے کے تاثرات نے مزہ دیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اپنا چہرہ ٹکایا اور سامنے چلتے اس فلمی سین کو انجوائے کرنے لگی۔
” ایک منٹ ” کیف نے ہاتھ اٹھا کر دونوں کو روکا تھا وہ دونوں لڑکیاں بروقت خاموش ہوئی تھیں۔ کیف جلدی سے دونوں کے درمیان سے اٹھا تھا اور عنایہ کی طرف جا کر اسکے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
” اب continue کرسکتی ہیں ” کیف نے ریلکیس ہو کر مسکرا کر کہا تھا۔ جبکہ عنایہ اسکی چلاکی پر عش عش کر اٹھی تھی مطلب بجائے ان کو روکنے کہ کہہ رہا ہے اب جاری رکھیں۔ وہ دونوں لڑکیاں پھر سے شروع ہو چکی تھیں۔ اور کیف اب بڑے مزے سے یہ سب دیکھ رہا تھا دفعتاً لائبریری انچارج وہاں آئی اور دونوں لڑکیوں کو اچھا خاصا ڈانٹا اور لائبریری سے نکال دیا جبکہ کیف اور عنایہ کو وہ وارنگ دے کر جا چکی تھیں۔
” کیا تھا یہ سب ؟ ” عنایہ نے کیف کی طرف چہرہ موڑ کر تیکھے لہجے میں استفاد کیا۔
” کیا کیا تھا ؟ ” کیف نے کندھے اچکائے الٹا سوال کیا تھا۔
” میں اس سب کی بات کررہی ہوں جو ابھی یہاں ہوا “
” اوہ ! اسکی تو مجھے عادت ہے لڑکیاں یوں ہی لڑتی رہتی ہیں میرے لیے ” بڑے مزے سے اطلاع دی گئی تھی۔
” میں یہ نہیں کہہ رہی۔۔۔تم نے ان کو روکنے کی بجائے مزید لڑنے دیا “
” یار اب اتنا مزہ آرہا تھا تو کیسے روکتا ؟ “
” اتنا مزہ آرہا تھا تو وہیں بیٹھے رہتے نا دونوں کی بیچ یہاں کیوں آئے ” عنایہ نے منہ بگاڑ کر کہا تھا۔
” نہیں وہاں سے زیادہ یہاں سے دیکھنے کا مزہ آرہا تھا جیسے تم میرے آنے سے پہلے مزے لے رہی تھی ” اسکی بات پر عنایہ نے لبوں پر آنی والی مسکراہٹ چہرہ جھکا کر چھپانی چاہی لیکن کیف دیکھ چکا تھا۔
” ویسے بات سنو۔۔۔۔۔۔۔ ” کیف نے اسے بلایا تو عنایہ نے چہرہ اٹھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” میں بہت ہینڈسم ہوں نا ؟ ” کیف نے جھک کر اپنا چہرہ اسکے قریب کیے جی جان سے مسکرا کر پوچھا تھا اور عنایہ ایک پل کیلئے اسکے اتنے قریب ہونے پر یک ٹک اسے دیکھے گئی۔ کیف بھی اسکی آنکھوں میں کھونے ہی لگا تھا کہ عنایہ فوراً سے پیشتر ہوش میں آئی اور اپنا چہرہ اسکے چہرے سے دور کیا۔ کیف بھی اسکے دور ہونے پر ہوش میں آیا تھا اور تیزی سے وہاں سے اٹھ کر دوبارہ اپنی پہلی والی جگہ پر جا بیٹھا۔
” اوفف یہ کیا حرکت تھی عنایہ۔۔۔۔۔۔۔ ” عنایہ اپنی آنکھیں میچ بڑبڑائی۔ کیف نے ایک نظر عنایہ پر ڈالی اور تیزی سے اپنا کام مکمل کرنے لگا اب اسے جلدی جلدی یہ سب ختم کرکے یہاں سے نکلنا تھا۔
*******************
