Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 20)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 20)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
کیف جیسے ہی پلٹا تھا عمر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ جیسے یقین نہیں کر پارہا تھا کہ کیف جیسا کھلاڑی ایک لڑکی سے ہار گیا وہ بھی اتنی آسانی سے۔
” کیا تھا یہ ؟ ” عمر نے پوچھا۔ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی یہاں آیا تھا۔
” کیا تھا ؟ ” کیف نے بھونیں اچکا کر کہا وہ سمجھا نہیں تھا عمر کس بارے میں پوچھ رہا ہے۔
” میں اس گیم کی بات کررہا ہوں۔۔۔۔تو نے اسے آخری باسکٹ کرنے کیوں دی ؟ یہیں جم کر کھڑا کیوں رہا ؟ ” عمر نے تھوڑا مشکوک نظروں سے کیف کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
” چھوڑ یار ! میں نے سوچا لڑکی ہے ایویں ہار گئی تو سب اسکا مذاق اڑائیں گے اسی لیے ” کیف نے ایسے کہا تھا جیسے واقعی میں بہت بڑا احسان کیا تھا عنایہ پر۔
” اچھا ؟ تم کب سے اتنے رحم دل بن گئے ؟ وہ بھی عنایہ کیلئے ؟ “
” ابھی فضول بکواس کا موڈ نہیں ہے بعد میں بات کرتے ہیں ” کیف کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔ عمر سوچتی نگاہوں سے کیف کی پشت کو دیکھتا رہا۔
*********************
” یار منہ دیکھنے والا تھا اس کا ” یہ عنایہ تھی جو زینب کو صبح اپنے اور کیف کے درمیان ہوئے میچ کا سارا حوال سنا رہی تھی۔ وہ دونوں لائبریری کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھیں۔ آج کوئی کلاس نہیں ہوئی تھی سوائے سر اقبال کی جنہوں نے آدھے سے بھی کم سٹوڈنٹس کو لیکچر دے کر ہی چھوڑا تھا۔
” یار میں نے مس کردیا کاش جلدی آ جاتی ” زینب نے حسرت سے کہا تھا۔
” مجھے کہہ رہا تھا آور کانفیڈینٹ ہونا اچھی بات نہیں ہے ” عنایہ نے اسکی نقل اتار کر بتایا تو زینب ہنس دی۔
” اچھا تم شرط جیت گئی ہو تو کیا کرواؤ گی اس سے ؟” زینب نے اشتیاق سے اپنے سے دو سٹیپ اوپر بیٹھی عنایہ سے پوچھا۔
” ہاں ! ہممم دیکھتے ہیں کیا کام کروانا ہے اس ہیرو سے ؟ ” عنایہ نے سوچتے ہوئے کہا تھا۔
” یار کچھ انٹرسٹنگ سا کروانا کے مزہ آ جائے ” زینب نے مشورہ دیا۔ اس کی بات پر عنایہ کی آنکھیں چمکیں تھیں۔
*******************
” میرا دماغ خراب ہو چکا ہے۔۔۔۔اسے دیکھتے ہی پتا نہیں کہاں کھو جاتا ہوں۔۔۔۔۔لعنت ہے مجھ پر ایک لڑکی سے ہار گیا وہ بھی اپنی سب سے بڑی دشمن سے ” کیف کاریڈور میں چلتا خود سے باتیں کررہا تھا۔ آس پاس موجود سٹوڈنٹس اسے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے۔ ایک دم چلتے چلتے وہ ایک کلاس روم کے باہر رکا جہاں ایک لڑکا بک تھامے ٹیک لگا کر کھڑا تھا۔
” میں یہاں کیا کررہا ہوں ؟ ” کیف ناسمجھی سے یہاں وہاں دیکھنے لگا۔ اسے پتا نہیں تھا کب وہ خود سے باتیں کرتا اس طرف آگیا تھا۔ حالانکہ اسے جانا کیفے ٹیریا تھا۔ ایک دم کیف کی نظر پاس کھڑے لڑکے پر پڑی جو اب منہ کھلے پھٹی آنکھوں سے کیف کو دیکھ رہا تھا۔
” کیا کوئی بھوت دیکھ لیا ہے ؟” کیف نے اس کے دیکھنے کے انداز پر کہا تھا۔
” کس سے باتیں کررہے ہو کیف بھائی ؟ ” اس لڑکے نے کیف سے پوچھا۔ یہ لڑکا تھوڑا ڈبو ٹائپ تھا اور اسے اچھے سے یاد تھا یونیورسٹی کے پہلے دن کیف نے اس کی کتنی درگت بنائی تھی تب سے وہ کیف سے ڈرتا آرہا تھا اور کیف کو بھائی کہہ کر ہی مخاطب کرتا تھا۔
” مجھے خود نہیں پتا کس سے باتیں کررہا ہوں ؟ ” اس کی بات کے جواب پر کیف نے نڈھال ہو کر کہا تھا۔ کیف نے سامنے کھڑے معاویہ کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اس سے فاصلہ بنائے کھڑا تھا۔
” بات سن ! ” کیف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا تو وہ بدک کر دور ہوا۔
” ابے میرے بھائی ڈر کیوں رہا ہے کچھ نہیں کرتا میری بات تو سن ” کیف نے اس بار تھوڑے پیار سے کہتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ وہ گھبرا کر آگے پیچھے دیکھنے لگا کہ کوئی تو اس شیر کے چنگل سے اسے بچا لے۔
” یار ڈرو نہیں کچھ نہیں کرتا بس سیدھا ہو کر میرے ساتھ چلو ” کیف نے اسے ریلکیس کرنا چاہا۔ کیونکہ اسے اس وقت یہ ہی بندہ صحیح لگ رہا تھا جو سے بتا سکتا تھا کے اس کے ساتھ ہو کیا رہا تھا۔ باقی کسی پر وہ فلحال بھروسہ نہیں کرسکتا تھا۔
” جی کیف بھائی ” اس لڑکے معاویہ نے گھبرائی سی آواز میں کہا۔
” دیکھو کوئی شخص آپ کو پہلے بہت برا لگتا ہو بالکل زہر لیکن پھر ایک دم وہ ہی شخص آپ کو اچھا لگنے لگ جائے اتنا اچھا کہ اس سے نظر ہٹانا مشکل ہو جائے اور اس کی غیر موجودگی میں بھی وہ آپ کو اپنے آس پاس دکھنے لگے تو اسکا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ ” کیف نے پوری بات رازداری سے ساتھ چلتے معاویہ کو بتائی۔ جو ساتھ ساتھ اپنا سر ہلا رہا تھا جیسے بات کو سمجھ رہا تھا۔ کیف نے رک کر اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹایا اور پھر یہاں وہاں نظر ڈورا کر سامنے معاویہ کو دیکھا۔
” کیا لگتا ہے تمھے ؟ ” کیف کی آواز پر معاویہ اپنی سوچ سے ایک دم نکلا تھا۔
” وہ۔۔۔۔۔۔وہ کیف بھائی ” وہ سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگا جیسے جو وہ کہنے جا رہا تھا وہ کہیں سن کر اسے تھپڑ ہی نا مار دے۔
” کھل کے بولو کچھ بھی نہیں کہوں گا ” کیف کی بات پر معاویہ کو حوصلہ ملا تھا۔
” آپ کی باتوں سے لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ معاملہ کسی لڑکی کا ہے ” اس نے تیزی سے کہہ کر اپنا چہرہ کیف سے ڈیٹھ انچ دور کرلیا تھا۔ جیسے اس کی تسلی دینے کے باوجود وہ اسے تھپڑ ضرور مارے گا۔
” ارے واہ تم تو بہت تیز نکلے میں تو خامخواہ تمھے بے وقوف سمجھتا تھا ” کیف کی تعریف پر وہ ایک دم فخریہ مسکرایا تھا اور یہاں وہاں گردن اکڑا کر دیکھنے لگا۔ جیسے دائیں بائیں کھڑے لوگ بھی سن لیں کہ وہ بے وقوف نہیں ہے۔
” اگر کسی کو اس بات کا پتا چلا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” کیف نے اسے گھور کر بات ادھوری چھوڑی جسکا مطلب وہ فوراً سمجھ گیا تھا اور ایک دم جو اکڑ رہا تھا پھر سے بھیگا بلا بن گیا۔
” جی جی میں کسی کو نہیں بتاؤں گا ” اس نے اپنی طرف سے پوری یقین داہنی کرائی تھی۔
” اچھا اب کام کی بات پر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ذرا بتاؤ یہ کیا معاملہ ہے ؟ “
” جہاں تک میں سمجھا ہوں کیف بھائی یہ تو پیار کا معاملہ لگتا ہے “
” واٹ ؟ پیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بکواس ” کیف نے بد مزہ ہو کر دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ لیے۔
” آپ کی باتوں سے تو یہ ہی لگ رہا ہے آپ چاہیں تو کسی سے بھی پوچھ لیں “
” اچھا ؟ تم نے بتا دیا کافی ہے۔۔۔۔۔اب نکلو ” کیف کا موڈ ایک دم خراب ہوا تھا اور معاویہ کی تو جیسے جان میں جان آئی تھی وہ فوراً نو دو گیارہ ہوا تھا۔
********************
” کسے ڈھونڈ رہی ہو ؟ ” وہ باہر گراؤنڈ میں یہاں وہاں دیکھتی عمر کو تلاش کررہی تھی۔ ان دونوں کے بیچ اس دن کے بعد سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ بس سر اقبال کی کلاس میں ایک بار نگاہوں کا تصادم ہوا تھا۔ عمر کی آواز اپنے پیچھے سے آتی سن وہ پلٹی تھی۔
” کسی کو بھی تو نہیں ” زینب نے کہا۔
” اچھا ؟ مجھے لگا شاید اسی بندر کو ڈھونڈ رہی ہو جو ہر وقت تمھے ہونقوں کی طرح دیکھتا رہتا ہے ” اس کی بات پر وہ بے ساختہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
” خوش فہمی ہے۔۔۔۔۔میں تو عنایہ کو ڈھونڈ رہی تھی ” زینب نے جواباً کہا۔
” اوکے پھر میں چلتا ہوں ” وہ کہہ کر پلٹ کر جانے لگا تو زینب نے فوراً اسے پکارا تھا۔ وہ بنا پلٹے اس کے بلانے پر مسکرایا تھا۔ وہ وہیں کھڑا رہا تو زینب چلتے ہوئے اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” وہ میں تمھے ہی ڈھونڈ رہی تھی ” زینب نے اعتراف کیا۔
” جانتا ہوں ” عمر نے مسکراتے لبوں اور مسکراتی آنکھوں سے کہا۔
” پتا تھا تو پھر کیوں پوچھ رہے تھے ؟ ” زینب نے نروٹھے پن سے کہا تھا۔
” کیونکہ مجھے اچھا لگتا ہے تمہارے لبوں سے یہ سننا کے تمہاری آنکھیں مجھے تلاش رہی تھیں ” عمر نے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کر اسکی اور جھک کر کہا تھا۔ اس کی بات پر زینب کا چہرہ پل میں گلابی ہوا تھا۔ وہ اپنی نظریں جھکا گئی۔ اور عمر اس کے چہرے کے بدلتے رنگ پر مبہوت ہوا تھا۔ زینب نے نگاہیں اٹھا کر عمر کر طرف دیکھا تو اسے یوں خود کو دیکھتا پا کر سٹپٹا گئی اور یہاں وہاں دیکھنے لگی۔
” عمر پلیز ” زینب نے اسکے یوں دیکھنے پر التجائی انداز میں کہا تھا۔
” ہاں ! چلو کیفے چلیں ” عمر اسکی آواز پر ہوش میں آیا تھا۔ زینب نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں کیفے کی طرف چل دیے۔
********************
” سنو ! تم نے کیف کو دیکھا ہے کہیں ؟ ” عنایہ نے کیفے میں کھڑی ایک لڑکی سے پوچھا۔ وہ یہاں کیف کو ہی ڈھونڈتے ہوئے آئی تھی۔
” نہیں ! ” اس لڑکی کے جواب پر عنایہ نے کمر پر ہاتھ رکھ لیے۔ وہ کتنی دیر سے کیف کو ڈھونڈ رہی تھی۔ یونیورسٹی کا بھی اوف ہونے والا تھا۔ اس سے پہلے ہی وہ اسے شرط کے بارے میں یاد کروانا چاہتی تھی لیکن وہ تو مل کر نہیں دے رہا تھا۔ اس نے کلائی پر پہنی ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھا پھر کل بات کرنے کا سوچ کر وہ کیفے سے نکل گئی۔
********************
مرتضیٰ صاحب لاونج میں داخل ہوئے تو سامنے کا منظر دیکھ کر جتنے حیران ہوتے اتنا کم تھا۔ ان کی زوجہ اور بیٹی ایک ساتھ موجود تھے۔ ویسے تو وہ اس وقت جب گھر آتے تھے تو ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ رابعہ بیگم گھر میں موجود ہوں۔ اور آج تو وہ منال کے ساتھ بیٹھی مسکرا بھی رہی تھیں۔ منظر کچھ یوں تھا منال اپنے ہاتھوں میں پکڑے آئی پیڈ پر رابعہ بیگم کو کچھ دیکھا رہی تھی اور وہ مسکرا کر دیکھ رہی تھیں اور انکا ہاتھ ساتھ جڑ کر بیٹھی منال کے بالوں کو سہلا رہا تھا۔ یہ منظر مرتضیٰ صاحب کیلئے بالکل نیا تھا۔ انھوں نے گلا کھنگال کر دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا تو دونوں نے ہی چونک کر ان کی جانب دیکھا۔
” آگئے آپ ؟ کھانا لگواوں ؟ ” یہ رابعہ بیگم کی طرف سے دوسرا جھٹکا تھا ان کیلئے۔ انھوں نے آنکھ کے اشارے سے منال سے پوچھا۔(یہ کیا معاملہ ہے بھئی)۔ منال ان کے انداز پر بے ساختہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ رابعہ بیگم نے ناسمجھی سے اپنی بیٹی کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑے اپنے مزاجی خدا کو۔ پھر معاملہ سمجھ کر مسکرا کر صوفے سے اٹھی تھیں۔
” آپ لوگ باتیں کریں میں ذرا کھانا لگواتی ہوں ” وہ اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی کچن کی طرف جا چکی تھیں۔ مرتضیٰ صاحب نے جلدی سے نشت سنبھالی وہ اب وہاں بیٹھے تھے جہاں تھوڑی دیر پہلے رابعہ بیٹھی تھیں۔
” یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ ” انھوں نے منال سے پوچھا۔
” یہ تو آپ ماما سے ہی پوچھیں ” اس نے مسکرا کر شانے اچکا دیے۔
” آپ بھی تو بتا سکتی ہیں ” انھوں نے کہا۔
” نہیں ماما سے خود پوچھیں ” وہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی۔ مرتضیٰ صاحب کشمکش میں وہیں بیٹھے رہ گئے۔
*******************
” تم اتنے برے بھی نہیں ہو جیسے میں سمجھتی تھی ” اس نے اپنے بالکل قریب کھڑے کیف سے کہا تھا۔
” اچھا تو کیسا سمجھتی تھی تم مجھے ؟ ” کیف نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” آکڑو مغرور اور بدتمیز شخص ” عنایہ نے صاف گوئی سے کہا تھا۔
” اچھا !!! اب کیسا لگتا ہوں پھر ؟ ” کیف نے مسکرا کر کہا تو اسکے گال پر پڑنے والے ڈمپل پر عنایہ کھو سی گئی تھی۔
” بائے دا وے i like your dimple ” عنایہ نے اسکے گال پر اپنی انگلی ٹکا کر کھوئے سے لہجے میں کہا تھا۔ کیف پھر سے مسکرایا اور اس کی وہی انگلی تھام کر اسے مزید قریب کیا۔ اور اس سے پہلے کیف اور کچھ کہتا اپنے پاس سے آتی تیز میوزک کی آواز پر عنایہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔ اس کے بال سارے اس کے چہرے کے اردگرد پھیلے تھے۔ اس نے یہاں وہاں دیکھا تو وہ اپنے بیڈ روم میں موجود تھی۔ عنایہ نے سائڈ ٹیبل پر پڑے فون کو اٹھایا جس پر میوزک بج رہا تھا۔ اس نے ٹائم دیکھا تو شام کے سات بج رہے تھے اور یہ الارم یقین نور نے اسے جگانے کیلئے لگایا تھا۔ وہ یونیورسٹی سے آتے ہی سو گئی تھی اور اب جاگی تھی۔ اس نے جلدی سے اپنے بال سمیٹے اور انہیں باندھا۔ دماغ میں اپنے خواب کا خیال آیا تو فوراً ہاتھ نیچے گرا لیے۔
” اوفف یہ کیسا خواب تھا ؟ ” اس نے سوچا۔
” استغفر اللہ ۔۔۔۔۔۔۔کیسے کیسے خواب آنا شروع ہو گئے ہیں مجھے ” عنایہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور اپنے بیڈ سے اٹھ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” اتنے برے دن آگئے ہیں عنایہ کہ وہ چھچھوندر اب خوابوں میں بھی آنا شروع ہوگیا ” اس نے اپنا عکس دیکھتے ہوئے سوچا۔
*********************
یونیورسٹی میں آج ویسی ہی گہما گہمی تھی جیسے ہوا کرتی تھی۔ کل جو سٹوڈنٹس چھٹی پر تھے وہ یقیناً آج سب آئے تھے۔ عنایہ اور زینب کلاس کی جانب جا رہی تھیں جب زینب نے شرط کا ذکر کیا۔
” کہاں یار ؟ کل موقع نہیں ملا آج ضرور بات کروں گی ” عنایہ نے ساتھ چلتی زینب سے کہا۔
” تو سوچ لیا کیا کرواؤ گی ؟ “
” ہاں ! اور زینب دیکھنا بہت مزہ آنے والا ہے۔۔۔۔۔یہ ہی موقع ہے اپنے سارے بدلے پورے کرنے کا ” عنایہ نے سرشاری سے کہا تھا۔
” تو مجھے بھی بتاؤ نا ؟ “
” ہاں آؤ کلاس میں چل کر بتاتی ہوں ” عنایہ نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لیے جلدی سے کلاس میں گئی۔
*******************
” فراز بات سنو ! کیف کو دیکھا ہے کہیں ؟ ” عنایہ نے اپنے کلاس فیلو کو روک کر پوچھا تھا۔
” نہیں ! کیوں کیا ہوا کوئی کام تھا ؟ ” فراز نے جواباً پوچھا۔
” نہیں ویسے ہی اس سے اپنے نوٹس لینے تھے ” وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ گراؤنڈ میں آکر اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی تھی۔ اس نے صبح اسے کلاس میں دیکھا تھا۔ اس نے تینوں لیکچر لیے تھے۔ لیکن کلاس کے بعد سے وہ اسے نظر نہیں آیا۔
******************
کیف لائبریری کے باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ عمر کو اندر سر ہمدانی نے ایک کام سے بلایا تھا اور کیف اسی کا انتظار کررہا تھا۔
” ارے کیف تم یہاں ہو ؟ ” فراز اوپر آیا تو اس نے کیف کو دیکھتے ہی پوچھا۔
” ہاں کیوں کیا ہوا ؟ ” کیف نے جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ریلکیس سا کہا۔
” یار وہ عنایہ تجھے کب سے ڈھونڈ رہی ہے ” کیف نے جلدی سے اپنے ہاتھ باہر نکالے اور ایک دم سیدھا ہوا۔
” دیکھو وہ نیچے ” فراز نے گرل پر ہاتھ رکھ کر اسے بتانا چاہا۔ عنایہ ابھی بھی وہیں کھڑی آتے جاتے لوگوں سے کیف کا ہی پوچھ رہی تھی۔
” میں اسے آواز دے کر بتا دیتا ہوں ” اس سے پہلے فراز عنایہ کو آواز دیتا کیف نے جلدی سے اسکا بازو پکڑ کر اسے گرل کے پاس سے ہٹایا۔
” ارے پاگل ہو۔۔۔۔۔۔خبردار جو اسے میرا بتایا تو۔۔۔۔۔۔”
” لیکن کیوں ؟ ” اس کے کیوں پر کیف نے یہاں وہاں دیکھا۔
” یار تمھے پتا تو ہے میری اس سے بالکل نہیں بنتی اور ابھی بھی میرے سے کوئی جھگڑا ہی کرنے آئی ہوگی اور میرا اس وقت لڑنے کا کوئی موڈ نہیں ” کیف نے بہانہ بنایا۔
” لیکن وہ تو کہہ رہی تھی اسے تم سے اپنے نوٹس لینے ہیں “
” ایسا کہا اس نے ؟ ” کیف نے پوچھا۔
” ہاں ! ” فراز نے سر اثبات میں ہلایا۔
” اچھا عمر اندر ہے اسے کہنا مجھے یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر ملے ” یہ کہہ کر کیف تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا۔
********************
