222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 22)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے کانوں میں چھوٹے سے وائٹ ٹاپس پہن رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ رقصاں تھی۔ آج اس کا برتھ ڈے تھا۔ کل رات ماموں ممانی اور نور نے اسے ایک چھوٹا سا سرپرائز دیا تھا۔ حیدر نے رات کال کرکے اسے وش کیا اور کتنی دیر اس سے باتیں بھی ہوئیں۔ اب یونیورسٹی کے لئے تیار ہو رہی تھی۔ گرے سلک کی لمبی قمیص جس پر کاپر اور پنک رنگ کے پھولوں کا پرنٹ تھا۔ گلے میں اس سے میچنگ سکارف، آنکھوں میں کاجل اور مسکارا اور ہونٹوں پہ گلابی لپ گلوس لگائے، بال کھلے چھوڑے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی۔ اپنی کلائی میں اس نے گھڑی باندھی اور پھر ایک تنقیدی نظر خود پر ڈال کر اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔

*********************

” مام سے بات ہوئی تھے رات کہہ رہی تھی دسمبر میں پلان ہے انکا پاکستان آنے کا ” عمر نے ساتھ کھڑے کیف کو بتایا۔ وہ دونوں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے۔

” آہاں ! چلو اچھا ہوگیا وہ آئیں گی تو ان کے صاحبزادے کی طرف سے ایک سرپرائز تیار ملے گا ” کیف نے شرارت سے کہا۔

” کونسا سرپرائز ؟ ” عمر نے ناسمجھی سے کیف کی طرف دیکھا۔

” ارے ان کیلئے بہو جو ڈھونڈ لی تم نے ” اس کی بات ہر عمر نے قہقہہ لگایا۔

” زیادہ خوش مت ہو۔۔۔۔۔دیکھنا وہ نہیں مانیں گی تیرے اور زینب کیلئے ” کیف نے اسے تنگ کرنے کیلئے کہا۔

” کیوں نہیں مانیں گی ؟ “

” تو نے دیکھا نہیں مویز میں ہیرہ کی مائیں کبھی نہیں مانتیں اور دو محبت کرنے والوں کے بیچ وہ ایک ولن ہوتی ہیں” کیف نے ڈرامائی انداز میں کہا۔

” کمینے میری مام ایسی لگتی ہیں تجھے ؟ آنے دے ان کو بتاؤں گا کہ ان کا لاڈلا بھانجا کیسے خیالات رکھتا ہے ان کے بارے میں ” عمر نے دھمکی دی۔

” جو مرضی کہو وہ نہیں سنیں گی تمہیں کیونکہ تم سے زیادہ تو وہ مجھ سے پیار کرتی ہیں ” کیف نے اسے چڑاتے کہا۔

” ہونہہ تو بیٹا تمہاری مام بھی تم سے زیادہ مجھ ہی چاہتی ہیں ” اس کی بات پر کیف ایک پل کیلئے چپ ہوا تھا۔

” صحیح کہا ! مجھے چاہا کب ہے انھوں نے” کیف نے بنا کسی تاثر کے کہا تھا۔ جس پر عمر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ کیا بات کر گیا ہے۔

” اچھا چل اب زیادہ ڈرامے نا کر یہ بتا آج رات کہیں باہر چلتے ہیں ” عمر نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے بات بدلی۔ کیف نے سر کو خم دیا اور سامنے دیکھنے لگا اور وہیں اس کی نظریں ساکت رہ گئیں۔ وہ سامنے سے چلتی آرہی تھی اور کیف کو وہ سیدھا اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ عنایہ لبوں پر مسکان سجائے ان کے قریب آرکی۔ کیف کی نظریں ابھی بھی اس کے چہرے پر ٹکیں تھیں۔ عمر اور عنایہ دونوں باتیں کرنے لگے ان کی آواز نے کیف کو ہوش کی دنیا میں پٹخا تھا ورنہ وہ تو کسی اور جہاں میں پہنچا ہوا تھا۔ وہ عمر سے کسی ٹاپک کے بارے میں بات کررہی تھی۔ دفعتاً کیف کو ایک شرارت سوجھی اس نے اپنے لب دانتوں تلے دبائے۔

” عمر ! ” کیف نے اسے پکارا تو دونوں ہی اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

” یار وہ اس ویکنڈ ہم نے ایک انگلش مووی دیکھی تھی نا ؟ اس میں جو وہ خونخوار ڈائن تھی ؟ ” کیف نے نظریں عنایہ کے چہرے پر ٹکا کر کہہ رہا تھا۔ عنایہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” ہاں تو ؟ ” عمر نے پوچھا۔

” یہ باسکٹ آج بالکل ویسی لگ رہی ہے نا ؟ ” بالکل سنجیدگی سے کہتا وہ عنایہ کو شاک لگا گیا جبکہ عمر کو ہنسی آئی تھی لیکن وہ ضبط کرگیا۔

” ویسے آج کوئی خاص موقع تو نہیں ہے یونیورسٹی میں باسکٹ۔۔۔۔۔ پھر تم کیوں لوگوں کو ڈرانے نکلی ہو ” کیف کی اس بات پر عنایہ کا دل دکھا تھا۔ اتنی بھی بری نہیں لگ رہی تھی کہ وہ ایسے اس کا مذاق اڑاتا۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا تھا۔

” کیف ! بکواس نہیں کر۔۔۔۔۔عنایہ اس کی بات کا برا نہیں مانو ” عمر نے عنایہ کے چہرے پر غصے کے تاثرات دیکھ کیف کو ٹوکا اور پھر عنایہ سے کہا۔ عنایہ کوئی جواب دیے بنا وہاں سے پلٹ کر جانے لگی۔ اس کے جاتے ہی کیف ہنسا تھا۔

” کہاں جارہی ہے یہ ؟ کلاس روم تو یہاں ہے ” عمر نے اسے جاتے دیکھ کہا۔

” آ جائے گی ابھی ٹائم ہے لیکچر شروع ہونے میں ” کیف نے ریلکیس سے انداز میں کہا۔

” یار تو بھی عجیب ہے ہر بار پنگا لینا ضروری ہوتا ہے ؟ اسے کہیں برا نا لگ گیا ہو ویسے بھی آج اسکا برتھڈے ہے” کیف جو بڑے مزے میں تھا ایک دم ساری سرشاری اڑن چھو ہوئی تھی۔

” واٹ ؟ اسکا برتھڈے ہے ؟ ” عمر نے اثبات میں سر ہلایا۔

” پہلے نہیں بتا سکتا تھا ؟ ” کیف کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا۔

” لو اس میں بھی میرا قصور ہے( اس نے سر جھٹکا) یہ زینب کہاں رہ گئی، ابھی تک آئی نہیں ” عمر سامنے دیکھتے ہوئے بولا۔

********************

کیف بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا۔ یہاں وہاں نظر ڈورا کر اسے تلاش کیا جب وہ دور اسے جاتی دیکھ گئی۔ کیف جلدی سے اس طرف جانے لگا جب نتاشہ اس کے سامنے آ رکی تھی۔

” کیف میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اس کی بات کیف بیچ میں ہی کاٹ کر بولا۔

” نتاشہ ابھی مجھے ضروری کام ہے بعد میں بات کرتے ہیں ” یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں مسلسل اس طرف تھی جہاں عنایہ گئی تھی۔ کیف اس کے پاس سے گزر کر چلا گیا۔

وہ حیران ہوئی تھی کہ ایسی کیا بات ہے جو وہ اتنی جلدی میں تھا اور اس طرف کونسا کام تھا؟۔

*********************

وہ غصے میں منہ پھلائے یونیورسٹی کے اس طرف آگئی جہاں کمپیوٹر اور کیمیسڑی لیب تھی۔ اس وقت یہاں سٹوڈنٹس نا ہونے کے برابر تھے۔ کیف بھی اس کے پیچھے ہی آرہا تھا۔ اس نے اسے آواز دے کر رکنے کا کہا لیکن عنایہ ان سنی کرتی چلتی رہی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کیف کا سر پھاڑ دے۔

” عنایہ سٹاپ اٹ یار ” کیف نے اس کے پیچھے سے کہا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ کر عنایہ کو تھام کر پلر کے ساتھ لگایا اور اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اسکے فرار کی راہیں بند کیں۔

” کیا بدتمیزی ہے یہ ؟ ” اس نے جھنجھلا کر کہا تھا۔ کیف اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات دیکھ کر مسکرا پڑا پھر دھیرے سے اس کے کان کے قریب جھکا تھا۔

” ہیپی برتھڈے عنایہ ” بھاری گھمبیر آواز میں پر عنایہ دھم سادھے کھڑی رہی۔ کیف دھیرے سے اس سے دور ہوا ہاتھ ہٹا کر اس نے دو قدم پیچھے کو لیے۔ نظریں اب بھی عنایہ پر تھیں۔ عنایہ نے اس کی طرف دیکھا تو کیف نے آنکھ ماری اور ایک جاندار مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتا وہاں سے جانے لگا۔ عنایہ ابھی تک پلر کے ساتھ ںے یقین سی کھڑی تھی۔

********************

کلاسروم میں خاموشی کا راج تھا کیونکہ سر اقبال اپنا لیکچر دے رہے تھے۔ ان کی کلاس میں ایسے ہی سب خاموش رہتے تھے۔ وہ بورڑ پر مارکر چلا رہے تھے اور سٹوڈنٹس قلم سے پیپر پر اتار رہے تھے۔ لیکن ان میں عنایہ تھی جس کا دھیان اس لیکچر کی طرف نہیں تھا۔ وہ اپنی سوچوں کی دنیا میں تھی یا یہ کہنا صحیح تھا وہ اب تک اس ایک لمحے میں قید تھی جب کیف نے اسے یوں برتھڈے وش کیا تھا۔ پاس بیٹھی زینب نے اسے کہنی مار کر ہوش دلایا کیونکہ سر اقبال اس سے مخاطب تھے اور وہ کھوئی سی بیٹھی تھی۔

” کیا ہے ؟ ” عنایہ نے بد مزہ سا ہو کر پوچھا تو زینب نے آنکھوں سے سر کی جانب اشارہ کیا جسے سمجھ کے عنایہ فوراً سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔

” مس عنایہ کہاں کھوئی ہوئی ہیں آپ ؟ ” سر اقبال نے سخت لہجے میں استفسار کیا۔ وہ لیکچر کے دوران اچھے سے یہ نوٹ کر چکے تھے کہ عنایہ کا دھیان کہیں اور ہے۔ عنایہ نے انکے سخت لہجے پر تھوک نگلا تھا۔ ساری کلاس اس طرف متوجہ تھی۔ کیف بھی عنایہ پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔

” میں۔۔۔میں وہ۔۔۔۔میں ” عنایہ سر کے چہرے کے سخت تاثرات سے ہی اس قدر گھبرا گئی تھی کہ کوئی جواب ہی نہیں دے پائی۔

” کیا بکری کی طرح میں میں کررہی ہیں ؟ ” سر کے بولنے پر پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں گونجیں۔ عنایہ کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا تھا۔ سر بنا کچھ کہے دوبارہ سے لیکچر دینے لگے تو عنایہ بیٹھ گئی۔ اس نے آس پاس سب کو دیکھا تھا اسے بہت برا لگا۔ کیف پر نظر پڑی تو وہ بھی اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ عنایہ منہ بنا کر اب پورے دھیان سے لیکچر سننے لگی۔

*******************

” کیا ہوا ہے تمھے ؟ ” زینب نے سامنے بیٹھی عنایہ سے پوچھا جو اداسی سے اپنا چہرہ ہتھیلی پر گرائے بیٹھی تھی۔

” یار آج کا دن ہی برا ہے ” عنایہ نے اداس لہجے میں کہا۔

” بہن آج تمہارا برتھڈے ہے اور وہ ہی برا ہے “

” ہاں ! تم نے دیکھا نہیں سر نے مجھے ڈانٹا تو سب مجھ پر ہنس رہے تھے “

” اوفف عنایہ ! سر اقبال تو روز ایسا کرتے ہیں کسی نا کسی کی شامت تو روز آتی ہے۔ اس میں کوئی اتنی بڑی بات نہیں “

” ہاں لیکن پھر بھی مجھے اچھا نہیں لگا ” اسے خود نہیں پتا تھا زیادہ برا اسے کس بات پر لگا تھا سر کے ڈانٹ پر سب کے ہنسنے پر یا صرف کیف کے ہنسنے پر۔

” اچھا چھوڑو بھی اب اور بتاؤ کیا ٹریٹ دے رہی ہو مجھے اور عمر کو ؟ “

” عمر کو آنے دو پھر دیکھتے ہیں ” عنایہ نے ساری سوچوں کو جھٹک کر جواب دیا۔

**********************

عنایہ یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس کھڑی اکرام (ڈرائیور) کا انتظار کررہی تھی. یونیورسٹی کا آف ٹائم ہو چکا تھا۔ زینب بھی تھوڑی دیر پہلے ہی گئی تھی۔ کافی سٹوڈنٹس جا چکے تھے۔ عنایہ سینے سے بک لگائے ہوئے تھی جو اس نے لائیبریری سے آج ہی ایشو کروائی تھی۔ دفعتاً اپنے پیچھے سے آتی آواز پر وہ غصے سے پلٹی تھی۔

کیف بھی فری ہر کر یونیورسٹی سے نکلنے لگا تھا جب عنایہ کو دیکھ اس کی جانب آگیا۔

” بکری تم گئی نہیں؟ ” کیف نے شرارتی لہجے میں دھیمے سے اس کے کان کے پاس کہا تھا۔

” کیا بدتمیزی ہے یہ ہاں ؟ کیوں مجھے تنگ کررہے ہو ” اسے تو اسکا بکری کہنا آگ ہی لگا گیا تھا۔

” اتنا غصہ ؟ ” کیف کو مزہ آرہا تھا اسے یوں غصے میں دیکھ۔ عنایہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور اس سے رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی۔ کیف مسکرایا اور دوبارہ سے اس کے کان کے قریب جھکا تھا۔

” بہت پیاری لگ رہی ہو ” اس کی سرگوشی پر عنایہ کے دل کی دھڑکن بڑھی تھی۔ اب کی بار وہ پلٹی تو وہ مسکرا کر سن گلاسز آنکھوں پر لگاتا اس کے پاس سے گزر کر چلا گیا۔ پیچھے عنایہ یوں ہی ادھ کھلے منہ سے کھڑی ہی رہ گئی۔

**********************

وہ الماری سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ پیک کررہا تھا جب اسکا روم میٹ اور اسکا دوست سعد کمرے میں داخل ہوا تھا۔

” ارے واہ ابھی سے پینکنگ شروع کردی ” سعد نے حیدر سے کہا جو اپنی شرٹ بیگ میں ڈال رہا تھا۔

” تو اور نا کروں ؟ ” حیدر نے رک کر اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں نہیں جناب کریں ہم نے کب روکا ہے ؟ ” سعد کہتے ہوئے اپنے بیڈ پر دراز ہوگیا تھا۔ حیدر دوبارہ سے اپنے کام پر لگ گیا جب سعد دوبارہ گویا ہوا۔

” ویسے تمہارے چہرے پر آئی یہ چمک کچھ اور ہی داستان سنا رہی ہے “

” کیسی چمک ؟ ” حیدر نے مصروف سا کہا۔

” یہ جو گھر جانے کی خوشی میں ہے “

” ظاہر ہے اس بار کافی دیر بعد جا رہا ہوں لاسٹ ٹائم بھی تجھے پتا ہے مشن کی وجہ سے جا نہیں سکا تھا “

” ہاں یہ تو ہے لیکن پھر بھی کچھ تو بات ہے ” وہ معنی خیز سا بولا۔ حیدر اس کی بات کا مطلب سمجھ کر مسکرایا تھا۔

*********************

یہ خوبصورت سا منظر اسلامآباد کے ایک خوبصورت سے اوپن ڈائنگ ریسٹورنٹ کا تھا جہاں کیف اور عمر موجود تھے۔ کیف کافی دیر سے خاموش تھا جو بات عمر نے باخوبی نوٹ کی تھی۔ ابھی بھی وہ کسی سوچ میں گم تھا جب عمر کے پکارنے پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔

” کیا بات ہے کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں تم چپ سے ہو اور مسلسل کسی سوچ میں کھوئے ہوئے ہو ؟ “

” عمر ! یار وہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے ” کیف نے آخر کار تھک ہار کر اس بات کا اعتراف کرہی لیا تھا۔

” کون نتاشہ ؟ ” عمر چونک کر سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ نتاشہ کے نام پر کیف نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔

” میں عنایہ کی بات کررہا ہوں ” عمر جو گلاس سے پانی کا گھونٹ بھر چکا تھا۔ بری طرح کھانسنے لگا۔

” واٹ ؟ کونسا کھیل ہے اب یہ تیرا ؟ دیکھ کیف۔۔۔۔۔” عمر کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کیف نے گاڑی کی کیز اٹھا کر اس کو دے ماری تھیں۔

” کمینے ! میری بات سن پہلے پھر اپنی بھونکنا “

” بول ” عمر نے بولنے کا کہا۔

” مجھے نہیں پتا یہ کیا کے اور کیوں ہے ؟ بس اتنا جانتا ہوں جب اس کو دیکھتا ہوں تو سب بھولنے لگتا ہوں۔۔۔۔نظریں اس کے چہرے سے ہٹتی نہیں۔۔۔۔۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ میرے ساتھ ایسے کیسے ہوسکتا ہے مجھے وہ ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اور اب یوں اچانک سے میرے حواسوں پر چھانے لگی ہے ” کیف رسانیت سے کہہ رہا تھا اور عمر کو تو شاک پر شاک لگ رہا تھا۔ اس کیلئے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ کیف مرتضیٰ کو بھی ایسے کوئی احساس محسوس ہوسکتے ہیں۔

” ڈونٹ ٹیل می you are in love with her “

“محبت ؟ وہ بھی مجھے ؟ اس چڑیل سے ؟ پاگل ہے تو یہ بس اٹرایکشن ہے اور کچھ نہیں تو جانتا ہے مجھے یہ پیار محبت سب فلمی باتیں لگتی ہیں ” یہ بات وہ زبان سے ادا تو کررہا تھا لیکن دل نے دہائی دی تھی۔

” ہونہہ اٹرایکشن (عمر طنزیہ مسکرایا اور واپس کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی) بیٹا کیف یہ جو محبت ہوتی ہے نا تیرے جیسوں کو جب ہوتی ہے نا تو تباہی ہوتی ہے “

” کیا مطلب ؟ “

” مطلب تو بیٹا آپ کو پتا چل ہی جائے گا لیکن فلحال اس بات پر پارٹی ہونی چاہیے کہ کیف مرتضیٰ کو بھی محبت جیسے جذبات نے آخرکار گھیر ہی لیا ” عمر کی بات وہ بس اسے تکتا رہا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *